نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 3582 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 10 لاکھ 43 ہزار 277 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 75 ہزار 373 ہے
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 67 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 23 ہزار 529 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 1355 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 9 لاکھ 44 ہزار 375 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 49 ہزار 798 کوروناٹیسٹ کیےگئے
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں ایک کروڑ 61 لاکھ 58 ہزار 330 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 3398 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 3 لاکھ 58 ہزار 387،سندھ میں 3 لاکھ 87 ہزار 261 کیسز
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 45 ہزار 306،بلوچستان میں 30 ہزار 627 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد 88 ہزار 344،گلگت بلتستان میں 8 ہزار 318 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 25 ہزار 34 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 7.19 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates

قرب خداوندی

خصوصی ایڈیشن

تحریر : مفتی محمد اویس اسماعیل


قربانی کا لفظ بنیادی طور پر 3 الفاظ کا مجموعہ ہے ۔ ق، ر، ب جو کہ عربی میں قرب بنتا ہے ۔ اردو میں یہ لفظ قریب ہونے ، قربت حاصل کرنے کے معانی میں استعمال ہوتا ہے ۔ مثلاً: نماز قربِ خداوندی کا ذریعہ ہے ۔ یعنی نماز بندے کو اپنے خالق سے قریب کردیتی ہے ۔ اسی طرح کہا جاتا ہے فلاں حاکمِ وقت کے مقرب لوگوں میں شامل ہے ۔ یعنی وہ اس کے نہایت قریبی اور خاص لوگوں میں سے ہے ۔ قربانی کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس کے ذریعے خدا کی خوشنودی اور اس کا قرب حاصل کیا جائے اور جب کوئی خدا کے قریب ہوتا ہے تو خدا اس کے قریب ہوتا ہے اور خدا جس کے قریب ہوجائے پوری کائنات اس کی ہوجاتی ہے ۔ حضرت ابراہیمؑ کی سیرت سے یہی سبق ملتا ہے کہ جب انہوں نے اﷲ کیلئے ہر طرح کی قربانی دی تو اﷲ تعالیٰ نے انہیں انسانیت کا امام بنا دیا۔ (البقرہ2:124)

قربانی کا حکم اگرچہ ہر امت میں رہا ہے جیسا کہ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:ترجمہ ’’ ہم نے ہر امت کیلئے قربانی مقرر کی تاکہ وہ چوپایوں ،  مخصوص جانوروں پر اﷲ کا نام لیں جو اﷲ تعالیٰ نے انہیں عطا کیے ہیں۔‘‘ (الحج 22، 34) لیکن سیدنا حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی عظیم قربانی کی وجہ سے یہ سنت ابراہیمی قرار پائی۔ اس قربانی کا آغاز حضرت ابراہیم ؑ کے ایک خواب کے ذریعے ہوا  پس جب ان دونوں باپ بیٹے نے خدا کے حکم پر سرِ تسلیم خم کردیا اورحضرت ابراہیمؑ نے پیشانی کے بل اپنے بیٹے کو لٹایا تو ہم نے پکارا اے ابراہیم! تم نے اپنے خواب کو سچ کردکھایا بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ ایک بہت بڑا امتحان تھا اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیے میں دیدیا اور ہم نے ان کا ذکرِ خیر پچھلوں میں باقی رکھا۔سلامتی ہو ابراہیم پر ہم نیکوکاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ (الصافات37: 102، 110) خدا کوحضرت ابراہیم ؑ کی اپنے حکم پر سر جھکادینے کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ اسے ابراہیمی سنت بنا کر رہتی دنیا تک جاری کردیا۔ 

سیدناحضرت ابراہیم ؑ کی یہ قربانی محض اپنے ایک بیٹے کی قربانی نہیں تھی بلکہ اس سے پہلے بھی و ہ خدا کی راہ میں مختلف قربانیاں دے چکے تھے اور ہر قربانی دراصل خدا کے حکم کے آگے سرجھکا دینے کا ایک عمل تھا اور یہی سبق ہمیں قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت یاد دلایا جاتا ہے کہ یہ محض ایک جانور کی قربانی نہیں بلکہ اپنی خواہشات کو خدا کی مرضی کے آگے قربان کر دینے کا نام ہے ۔ قرآنِ مجید میں جہاں قربانی کا ذکر آیا ہے تو ساتھ ہی اس کا مقصد بھی بتایا گیا ہے کہ درحقیقت اس قربانی کے ذریعے انسانی سیرت و کردار میں تبدیلی مقصود ہے تاکہ انسان کو خدائی احکامات کا پابند بنایا جائے ۔ 

قربانی کے مقاصد میں سے چند ایک مقاصد یہ ہیں

اخلاص:قربانی کا ایک سبق یہ ہے کہ اس کے ذریعے ہم اپنے اندر اخلاص کا جذبہ پیدا کریں  جو بھی نیکی کا کام کریں وہ صرف اور صرف خدا کی رضا اور اس کی خوشنودی کیلئے ہو۔ اسی لیے قرآنِ مجید میں فرمایا گیا ہے کہ’’کہہ دیجیے اے نبی ﷺ بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اﷲ رب العالمین کیلئے ہے ۔(الانعام6: 162) جب جانور کے گلے پر چھری پھیری جاتی ہے تو وہ صرف اور صرف خدا کے نام پر ہوتی ہے اگر کسی اور کے نام پر جانور ذبح کیا گیا تو وہ قربانی قبول نہیں ہوگی۔ اسی لیے اﷲ کے علاوہ کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا جانور حرام قرار دیا گیا ہے ۔ (المائدہ5: 3) اس لیے کوئی بھی نیکی کا کام کرنے کیلئے اسلام میں اصل اہمیت نیت کی ہے ۔ ایک حدیث میں نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:’’بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ہر ایک کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔‘‘ (بخاری، 1)

تقویٰ:اسی طرح قربانی کا ایک مقصد یہ ہے کہ ہم اس کے ذریعے اپنے اندر تقویٰ پیدا کریں۔ قربانی کا گوشت، اس کی کھال،اس کا خون خدا تک نہیں پہنچتا بلکہ انسان کا تقویٰ پہنچتا ہے ۔ خدا کو ہر گز جانور کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا لیکن تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے ۔(الحج22:37)

امداد باہمی کا جذبہ:قربانی کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان کے دل میں دوسروں کی مدد بالخصوص کمزور طبقات کی مدد کا جذبہ پیدا ہو۔ قرآنِ مجید میں جہاں قربانی کا ذکر آیا ہے وہیں ساتھ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ اس جانور کا گوشت خود بھی کھاؤ اور فقیر،تنگدست اور قناعت پسند کو بھی کھلاؤ ۔ (الحج22، 36) اس کا مطلب یہ ہے کہ قربانی کرنیوالا سارا گوشت اکیلے ہی نہ کھا لے بلکہ اسے یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس میں دوسروں کا بھی حصہ ہے۔ اور اس میں انہیں وہ شامل بھی کرے ۔  

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ساون بھادوں ایک ہی موسم ، یہ موسم ہے دل کا موسم

میر،غالبؔ ، انیسؔ و دبیرؔسمیت رومانوی شعراء نے اس موسم کو دل وجان سے چاہا ہے

مجید امجد۔۔۔۔’’احساس کا شاعر ‘‘

انفرادیت، مخصوص تمثال نگاری اور لفظوں کی ملائم ترتیب و تنظیم ان کے اعلیٰ شعری مرتبے کی عکاس ہیں’’مجید امجد نے خارج کی مادی دنیا کو باطن کی غیر مادی دنیا سے مربوط کرنے میں فنی بالیدگی کا ثبوت دیا ہے۔‘‘ڈاکٹروزیر آغا

عید ملن ادبی بیٹھک،راولپنڈی اور وفاقی دارالحکومت سے تعلق رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی

محترمہ قیصرہ علوی کے خاندان کا یہ امتیاز رہا ہے کہ وہ ہر دور میں اپنے ہاںاسلام آباد میں ادبی محفلوں کا انعقاد کرتے رہے ہیں،یہ سلسلہ آج سے نہیں کئی دہائیوں پر محیط ہے ، اِن کے ہاں فیض احمد فیض سے لے کر صوفی غلام مصطفیٰ تبسم ، انتظار حسین اور ہر دور کے نامور دانشور شاعر، قلم کار ، خواتین و حضرات شرکت کر تے رہیں ۔

کورونا نے بدلا کیا کچھ ۔۔۔شادی پر خرچے ہوگئے کم

کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد کیا کچھ نہیں بدلا ، گھر ، دفتر کا ماحول ،عزیز و اقارب اور ہمسایوں سے میل ملاپ حتیٰ کہ شادی بیاہ کی تقریبات بھی کافی حد تک بدل چکی ہیں ۔ایک طرف مہمانوں کی گہما گہمی کم ہو چکی ہے تو دوسری جانب شادی بیاہ کے بڑھتے اخراجات کو بھی بریک لگ چکی ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ متوسط اور غریب گھرانوں کیلئے اب بیٹیوں کی ڈولی اٹھانا مشکل نہیں رہا اس میں کچھ آسانیاں آ گئی ہیں۔ ان آسانیوں اور تبدیلیوں کو صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ممالک میں محسوس کیا جا رہا ہے ۔ آج ہم انہی معاملات پر مختصراً بات کریں گے ۔کورونا وباء کے باعث لگائی جانے والی پابندیوں سے معاشرتی روایات بدل سی گئی ہیں۔ ان میں شادی کی تقریبات سرفہرست ہیں کیونکہ یہ لوگوں کے جمع ہونے کی سب سے بڑی جگہ ہوتی ہیں مختلف جگہوں کے لوگ اور خاندانوں کے افراد ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں جس کی وجہ سے کورونا پھیلنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اسی بارے میں ایک غیر ملکی جریدے نے شادیوں کے حوالے سے خصوصی رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا وباء سے قبل شادی کی تقریب کا انعقاد مالی لحاظ سے ایک مشکل کام تھا کیونکہ شادی میں ایسے نئے نئے رواج داخل ہوچکے تھے جو بہت مہنگے تھے۔ کسی عام شخص کیلئے شادی کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔کورونا کے پھیلنے کے بعد شادی کے انتظامات اور پروٹوکول میں خاصا بدلاؤ آ گیا ہے۔ ہم ذیل میں کورونا وائرس کے شادی کی تقریبات پر اثرات کو واضح کرتے ہیں۔

خوشگوار زندگی گزاریں ۔۔۔یہ اصول اپنائیں

صحت مند ذہن اور جسم سے ہی صحت مند زندگی جنم لیتی ہے۔ لہٰذا جسمانی، ذہنی اور سماجی، تینوں طرح کی صحت برابر اہمیت کی حامل ہے۔ آج کی خواتین کو مختلف سماجی کردار نبھانے پڑتے ہیں۔ اس لیے انہیں اکثر کام اور خاندان کے حوالے سے دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ ان میں سے ہر کردار کی ذمہ داریاں نبھانا اور اس کے ساتھ صحت مند زندگی گزارنا آسان کام نہیں۔ خواتین کو اپنی ذہنی صحت کے ساتھ جسمانی صحت پر بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ اچھی صحت اور خوشی سے بھرپور زندگی گزار سکیں۔

خواہشوں کے پر۔۔۔

انسان کے پر نہیں ہوتے۔۔۔مگر اپنی خواہشوں کو پر لگائے ان کو اپنی پلکوں پر بٹھائے وہ کہیں حسین تصور کی دنیامیں کھو جاتا ہے۔جہاں اس کی خواہشات پنپتی ہیں۔۔۔۔۔بڑھتی ہیں ۔ ۔ ۔ پوری ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔