نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- افغانستان 40 سال کی جنگ میں تباہ ہوچکاہے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- افغانستان کوعالمی امدادکی ضرورت ہے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- کوئی ملک امدادبغیرشرائط کےنہیں دیتا،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- امریکاکارویہ امتیازی ہے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- امریکاکےآلہ کارافغانستان میں اب بھی جنگ چاہتےہیں،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- میں سمجھتاہوں ایسےلوگوں سےمفاہمت نہیں کرنی چاہیے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- پاکستان نےافغان مہاجرین کوپناہ دی،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- ماضی کی افغان حکومت میں پاکستان پرالزامات لگائےگئے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- پنج شیرکےحوالےسےبھی پاکستان پرالزام لگایاگیا،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- افغانستان سےپاکستان کےخلاف پروپیگنڈاہوتارہاہے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- سی آئی اےکاچیف افغانستان آتاہےتوشورنہیں مچایاجاتا،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- پاکستانی وفدافغانستان آتاہےتودنیامیں شورمچ جاتاہے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- غیرملکی طاقتوں نےافغانستان میں غیرنمائندہ حکومتیں مسلط کیں،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- سابق صدراشرف غنی پیسےلےکرملک سےفرارہوئے،گلبدین حکمت یار
Coronavirus Updates

مسلم لیگ(ن)کا سیاسی بیانیہ ۔۔۔؟

خصوصی ایڈیشن

تحریر : سلمان غنی


آزاد کشمیر کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی جیت یقینی تھی کیونکہ کہا یہی جاتا ہے کہ جس کی بھی اسلام آباد میں حکومت ہوگی وہی جماعت عملًا آزاد کشمیر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے ۔لیکن اس انتخاب کی اہم بات مسلم لیگ( ن) جس کی آزاد کشمیر میں حکومت تھی اس کا تیسری پوزیشن پر آنا ہے ۔ ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی حیران کن طور پر 11نشستیں حاصل کرگئی ہے اور سب ہی اس بات پر حیران ہیں کہ مسلم لیگ( ن) جس نے وہاں مریم نواز کی قیادت میں نہ صرف بھرپور انتخابی مہم چلائی بلکہ سب سے بڑے عوامی جلسے بھی کیے مگر ان کو انتخابات میں تیسری پوزیشن حاصل ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ( ن )میں کافی مایوسی پائی جاتی ہے ۔ اگرچہ مسلم لیگ( ن) کی قیادت نے آزاد کشمیر میں انتخابی شکست کو ایک بڑی انتخابی دھاندلی سے جوڑا ہے اور ان کے بقول ہمیں خاص سازش کے تحت انتخابی میدان میں دیوار سے لگایا گیا ہے ۔

مریم نواز جو اس وقت عملی طور پر مسلم لیگ (ن) کی قیادت کررہی ہیں اوران کی مقبولیت پر بھی کوئی شک نہیں لیکن گلگت بلتستان کے انتخابات ہوں یا آزاد کشمیر کا انتخابی معرکہ ان  میں مریم نواز کا ’’سیاسی جادو‘‘ ووٹوں کی سیاست پرنہیں چل سکا ۔ اس کی ایک بڑی وجہ جو کہی جارہی ہے وہ مسلم لیگ (ن) کا سیاسی بیانیہ ہے جس میں عملًا مزاحمت او راداروں سے ٹکرائو کی پالیسی ہے ۔ مسلم لیگ( ن) میں اس وقت دو طرح کے سیاسی بیانیے چل رہے ہیں ایک بیانیہ اداروں سے ٹکرائو کا ہے جسے نواز شریف اور مریم نواز کی حمایت حاصل ہے جبکہ دوسرا بیانیہ شہباز شریف کا ہے جو اداروں سے ٹکرائو کی بجائے مفاہمت کی سیاست کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔ شہباز شریف کافی عرصے سے مفاہمت کی سیاست کو آگے بڑھانے کی بات کررہے ہیں او ران کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ٹکرائو کی پالیسی کسی کے مفاد میں نہیں ۔ لیکن ابھی تک نواز شریف او رمریم نواز کی جارحانہ پالیسی شہباز شریف کے مفاہمتی فارمولہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شہباز شریف بھی اسی وجہ سے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی انتخابی مہم میں براہ راست حصہ لینے سے گریز کرتے رہے او رمریم نواز کو آزادی دی کہ وہ اپنی مرضی سے انتخابی مہم چلائیں ،لیکن اب جب نتائج نہیں مل رہے تو مسلم لیگ (ن) میں یہ بحث چل پڑی ہے کہ عام انتخابات سے قبل اگر دو مختلف بیانیوں میں سے مفاہمت کے بیانیہ کو فوقیت نہیں دی گئی تو ہمیں عام انتخابات میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب شہباز شریف پر دبائو بڑھ رہا ہے کہ وہ آگے بڑھ کر پارٹی کے معاملات خود سنبھالیں اور پارٹی کو سیاسی طور پر بچائیں ۔ لیکن مسئلہ نواز شریف اور مریم نواز کا ہے جو ابھی تک یا تو مفاہمت کی سیاست کیلئے تیار نہیں یا سیاسی معاملات کو خود ہی اپنی حکمت عملی کے تحت چلانا چاہتے ہیں ۔اصل میں شہباز شریف خود بھی پارٹی میں کوئی ٹکرائو پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ ان کی خواہش ہے کہ نواز شریف او ر مریم نواز سمیت پارٹی اتفاق رائے سے آگے بڑھے او رہمیں مفاہمت کی سیاست کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنے کی حکمت عملی اختیار کرنا چاہیے یہی ملک او رپارٹی کے مفاد میں ہے ۔ دراصل اب یہ امتحان نواز شریف ، شہباز شریف اور مریم نواز کا ہے کہ وہ 2023ء کے عام انتخابات سے قبل پارٹی کو تضاد کی سیاست سے باہر نکالیں اورایک حکمت عملی کے تحت پارٹی کو چلائیں تاکہ پارٹی کے تمام لوگوں میں ایک ہی مؤقف آگے بڑھے ۔اس میں اصل کردار نواز شریف کو ادا کرنا چاہیے کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے تدبر سے پارٹی کے فیصلے کریں کیونکہ پارٹی کی اس اندرونی لڑائی کا فائدہ پیپلز پارٹی اٹھارہی ہے او رخود کو مقتدرہ کے سامنے مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں ایک متبادل قیادت کے طور پر پیش کررہی ہے ۔ آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج پیپلز پارٹی کے حق میں ہیں او ر یہی وجہ ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی اندرونی لڑائی سے فائدہ اٹھارہے ہیں ۔آصف علی زرداری پنجاب میں آنا چاہتے ہیں اور وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں ایک بڑا اتحاد بنانا چاہتے ہیں ۔ ایسے میں مسلم لیگ (ن) کو زیادہ بہتر طور پر اپنی پارٹی حکمت عملی کو وضع کرنا چاہیے کیونکہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس کا فائدہ یقینی طور پر تحریک انصاف او رپیپلز پارٹی کو ہوگا اور وہی خود کو متبادل کے طور پر پیش کریں گے ۔ نواز شریف ، مریم نواز اور شہباز شریف اگر ایک حکمت عملی کے تحت چلتے ہیں تو اس سے شریف خاندان سمیت مسلم لیگ( ن) بطو رپارٹی بھی مضبوط ہوگی او رانتخابی نتائج بھی ان کے حق میں ہونگے ۔ اس لیے گیند بنیادی طور پر نواز شریف کی کورٹ میں ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں ایسا فیصلہ کریں جو پارٹی کے مفاد میں ہو۔

دوسری جانب پنجاب میں سپریم کورٹ کے حکم پر بلدیاتی اداروں کو بحال کردیا گیا ہے ۔لیکن ابھی تک عملی طور پر یہ ادارے بحال نہیں ہوسکے اور پنجاب حکومت ان معاملات میں تاخیری حربے اختیار کررہی ہے ۔اگرچہ سپریم کورٹ کو مطمئن کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے مختلف سطحو ں پر مختلف کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں جن میں منتخب افراد بھی شامل ہیں تاکہ اس تاثر کو قائم کیا جاسکے کہ ہم ان اداروں کی بحالی میں سنجیدہ ہیں ۔ لیکن تجزیہ یہ کہتا ہے کہ پنجاب حکومت ان کمیٹیوں کی مدد سے دسمبر تک کا وقت گزارنا چاہتی ہے ۔ پنجاب حکومت نے میاںمحمود الرشید کو محکمہ بلدیات کی ذمہ داری دے دی ہے اور وہی اب ان معاملات کی براہ راست نگرانی کررہے ہیں ۔ اصل مسئلہ پنجاب میں مضبوط مقامی حکومتوں کے اداروں کی بحالی او ر تشکیل کا ہے ۔ اسی حوالے سے لاہور میں پچھلے دنوں لوکل کونسل ایسوسی ایشن پنجاب اور ادارہ برائے جمہوری تعلیم اینڈ ایڈوکیسی )آیڈیا(نے ایک اہم کانفرنس کی ، اس کانفرنس میں پنجاب کے 12 اضلاع کے منتخب چیئرمین ، سول سوسائٹی ، قانونی ماہرین اور میڈیا کے سرکردہ افراد شامل تھے ۔ اس بحث کا مقصد ہی پنجاب سمیت ملک بھر میں مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانا تھا ۔ کانفرنس میں اس بات پر کافی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ تحریک انصاف جس نے مقامی حکومتوں کے مضبوط نظام کیلئے سب سے زیادہ دعوے کیے تھے وہ پنجاب اورخیبر پختونخوا میں مقامی اداروں کے انتخابات بھی نہیں کرواسکی اور پنجاب کے پہلے سے موجود مقامی اداروں کو بھی ختم کردیا گیا ۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے ان اداروں کو بحال کردیا ہے تو ان کی بحالی میں بھی رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں ۔ کانفرنس میں سب کا مشترکہ اتفاق تھا کہ چاروں صوبائی حکومتوں کو 18ویں ترمیم کے تحت سیاسی ، انتظامی او رمالی اختیارات کو صوبوں سے ضلعوں میں منتقل کیا جائے او راس سلسلے میں ان مقامی اداروں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی طرزپر آئین میں قانونی تحفظ بھی فراہم کیا جائے ۔ کیونکہ پاکستان میں جو گورننس کا بحران ہے اس بحران کا سب سے بڑا حل ہی مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام ہے اور جب تک صوبائی حکومتیں مقامی اداروں کو مضبوط نہیں بنائیں گی اس ملک میں نہ تو گورننس کا بحران حل ہوگا اور نہ ہی ملک میں سیاست اور جمہوریت کو مضبوطی مل سکے گی ۔جمہوریت کی مضبوطی کے لیے مقامی حکومتوں کا نظام ایک بنیادی ترجیح ہونی چاہیے ۔لیکن بدقسمتی سے ہماری سیاسی قیادت مقامی حکومتوں کے نظام کو ترجیح دینے کے لئے تیار نہیں اور یہی ہماری سیاست کا سب سے بڑا المیہ ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

لکڑہارے کی ایمانداری (آخری قسط)

بیوی کوستے ہوئے پوچھنے لگی کہ یہ کیسی جڑی بوٹیاں اٹھا کر لے آئے ہو اور ان کا کیا کرو گے۔؟ لکڑہارے نے بیوی کی سنی ان سنی کرتے ہوئے جڑی بوٹیوں کو کھرل میں ڈال کر کوٹنا شروع کر دیا۔ دوسرے دن صبح سویرے وہ دوائیں لے کر بازار کی طرف چلا گیا اور آوازیں لگانے لگا کہ اس کے پاس ہر قسم کے مرض کی دوا موجود ہے، ہر نئے پرانے مرض کا شرطیہ علاج ہے، اپنا مرض بتائیں مجھ سے دوا لیں اور شفایاب ہوجائیں۔ لوگ اس کی آوازیں سن کر ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے ۔ لکڑہارا بدستور آوازیں نکالتا رہا ۔اچانک ایک عورت روتی ہوئی اپنی بیٹی سمیت اس کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی بیٹی پیٹ درد کی وجہ سے مرے جا رہی ہے اور اس کا درد کسی دوا سے ٹھیک نہیں ہوا۔

سچ جھوٹ

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے لبنان میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہاں کے لوگوں کو اپنے بادشاہ سے بہت محبّت تھی۔ بادشاہ بھی رعایا کا بیحد خیال رکھتا تھا۔ وہ اپنے بزرگوں کی تقلید کرتے ہوئے روزانہ سادہ کپڑوں میں شہر کی گلیوں میں گھوم پھر کر لوگوں کے بارے میں معلوم کرتا تھا کہ لوگ کس طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر کوئی دُکھی ہوتا تو بادشاہ اس کی مدد بھی کر دیا کرتا۔

بچوں کی نفسیات : والدین اور اساتذہ کا کردار(تیسری قسط)

بچوں کی صحیح سمت میں تربیت کیلئے کے لیے اُن کی نفسیات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ اس کے لئے بنیادی شرط بچوں سے قریبی تعلق ہے اور اس قربت کے ساتھ ساتھ ان سے بے پناہ لگائو بھی ہے۔

پہیلیاں

پہیلی ۱۔مٹی سے نکلی اک گوریسر پر لیے پتوں کی بوریجواب :مولی

ذرا مُسکرائیے

ٹھنڈا پانی سخت سردی ک موسم تھا۔ ایک بیوقوف مسلسل پانی بھرے جارہا تھا۔ ایک صاحب نے پوچھا’’ تم صبح سے اتنا پانی کیوں بھر رہے ہو۔ آخر اتنے پانی کا کیا کرو گے؟‘‘بیوقوف بولا:’’ پانی بہت ٹھنڈا ہے، گرمیوں میں کام آئے گا‘‘۔

اسلام میں کسب حلال کی فضیلت

حضور پاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے