بزدار حکومت : عوامی خدمت کے3 سال

تحریر : جاوید یونس


360ارب روپے سے ایک عہد ساز ڈسٹرکٹ پروگرام کا آغاز کیا گیاہے، اس پروگرام کے تحت صوبہ کے 36اضلاع میں ترقیاتی سکیموں کا جال بچھایا جائے گا,پنجاب روزگار سکیم کے تحت ہنر مند نوجوانوں کو ایک لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک کے آسان قرضے دئیے جارہے ہیں،30ارب روپے کی اس سکیم سے 16لاکھ سے زائد لوگوں کو روزگار ملے گا,جنوبی پنجاب کے لئے 189ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو کہ پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا 34فیصد ہے بزدار حکومت ’’سارا پنجاب ہمارا پنجاب‘‘ کے نظریے کے تحت صوبے کے تمام اضلاع کی یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے,حکومت نے شہریوں کی ویکسینیشن کے لئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کئے ہیں،گھر گھر جا کر شہریوں کو ویکسینیشن کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے، صوبہ بھر میں یونیورسل ہیلتھ کوریج کے لئے پنجاب بھر کے 2 کروڑ 93 لاکھ خاندانوں کو کارڈز کی فراہمی شروع کردی گئی ہے

فارسی زبان میں کہتے ہیں’’مشک آن است کہ خود بیوید نہ کہ عطار بگوید‘‘یعنی مشک کی پہچان اس کی اپنی خوشبو سے ہوتی ہے۔عطار کے کہنے پر کوئی چیز مشک نہیں بن سکتی۔پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی زمینی حقائق سے عوام کو محسوس ہورہی ہے۔اپوزیشن کے پراپیگنڈے اور منفی بیان بازی سے ماضی کی حکومتوں اور موجودہ حکومت کی کارکردگی کے فرق پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔اگست 2021میں وفاق میں اور نیچے پنجاب سمیت خیبرپختونخوا اور پاکستان کی بعض دوسری اکائیوں میں تحریک انصاف کی حکومت کے تین برس مکمل ہورہے ہیں۔اس عرصہ کے دوران ملکی اور عالمی سطح پر کورونا کی وباء سمیت دوسرے اثرات سے ہٹ کر موجودہ حکومت اور ماضی کی حکومتوں کا تقابل کیا جائے تو متعدد شعبوں میں واضح فرق اور انقلابی تبدیلیوں کا احساس ہو گا۔ماضی کے حکمران ذاتی مفادات کو عوام اور ملک وقوم پر ترجیح دیتے ہوئے محسوس ہوں گے جبکہ گزشتہ تین برسوں میں تحریک انصاف کی قیادت صرف اور صرف عوام کی خدمت میں دن رات ایک کرتی نظر آتی ہے۔تحریک انصاف کی حکومت چونکہ کرپشن کے خاتمے کا وعدہ لے کر اور 22برس کی جدوجہد کے بعد حکومت میں آئی ہے اس لئے گزشتہ تین برسوں میں وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے نیچے کڑے احتساب کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں خود احتسابی کے عمل کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔خیبرپختونخوا میں متعدد ارکان اسمبلی کو پارٹی سے اس بنیاد پر نکال دیا گیا تھا کہ سینٹ انتخابات میں ان پر پیسے لینے کا الزام تھا۔گزشتہ تین برسوں میں کئی وزراء کو کڑے احتساب کا سامنا کرنا پڑا۔

ماضی کی حکومتوں اور موجودہ حکومت کے مابین بڑا فرق عوام کا پیسہ عوام کی فلاح وبہبود کے لئے خرچ کرنے کا ہے۔ صوبہ پنجاب کو ہی لے لیجئے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار کادورحکومت پنجاب میں برسوں تک حکومت کرنے والے خاندان کی کارکردگی سے مختلف،منفرد اور زندگی کے تمام شعبوں میں مثالی نظر آتا ہے۔ اقتدار کے ابتدائی عرصہ میں ناقدین نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان کے کام کی بجائے ان کے نام کو ہدف تنقید بنائے رکھا۔ سردار عثمان بزدار جنوبی پنجاب سے صاف دل اور صاف ہاتھوں کے ساتھ وزارت اعلیٰ پنجاب کے منصب کے لئے اپنے قائد وزیراعظم عمران کا انتخاب تھے۔ اپوزیشن نے اس خیال سے تنقید کا نشانہ بنائے رکھا کہ پنجاب میں انتظامی ڈھانچے کو درہم برہم کرنے سے تحریک انصاف کی حکومت کو پہلے ختم کرنا آسان ہو گا لیکن تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے مخالفین کی تمام چالوں کو ناکام بنایا اور وزیراعلیٰ عثمان بزدارکی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ تین برسوں میں عوامی خدمت کے نئے ریکارڈبنے۔ تعلیم،صحت،زراعت، صنعت، ماحولیاتی آلودگی، سیاحت، توانائی کے ذرائع، خواتین کے حقوق، فنون لطیفہ ، ذرائع آمدورفت غرض ہر شعبے میں اس طرح پیش رفت ہوئی کہ پسماندہ علاقے بھی ترقی یافتہ علاقوں کے مساوی سہولتوں سے مستفید ہونے لگے۔ جنوبی پنجاب جیسے دور افتادہ علاقوں کے احساس محرومی کو ختم کر دیا گیا۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر ہی حاصل کرنے کے لئے جنوبی پنجاب میں سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ترقیاتی فنڈز کو ماضی کی طرح مخصوص حلقوں میں خرچ کرنے کی بجائے پورے صوبے میں انصاف کی بنیاد پر خرچ کرنے کی بنیاد رکھی اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ابھی تو تحریک انصاف کی حکومت کی مقررہ مدت کا نصف سے کچھ زیادہ حصہ ہی گزرا ہے اور عوام کھل کر تحریک انصاف پر اعتماد کا اظہار کررہے ہیں۔گلگت بلتستان میں کامیابی کے بعد آزاد کشمیر کے انتخابات میں کامیابی دراصل تحریک انصاف پر عوام کا اعتماد ہے کہ ان انتخابات میں لاہور، گوجرنوالہ، سیالکوٹ،گجرات سمیت مختلف حلقے جو ماضی میں سابق حکمرانوں کا گڑھ تھے میں تحریک انصاف کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ اس تبدیلی پر سیالکوٹ کے حالیہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی فتح نے مہر تصدیق ثبت کر دی۔ عوام کی طرف سے ووٹ کی پرچی سے دئیے گئے حالیہ فیصلے اس لئے سامنے آئے ہیں کہ وقت کے ساتھ تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی رنگ لارہی ہے۔ تحریک انصاف کی مقبولیت کا گراف اونچا کرنے میں سب سے بڑا رول پنجاب میں دیانتداری اور عوامی خدمت کے جذبے سے بھرپور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی کارکردگی کا ہے۔ کیونکہ پنجاب نصف پاکستان ہے گزشتہ تین برسوں میں بزدار حکومت نے مختلف شعبوں میں جس مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس کی ایک جھلک ہی کافی ہے۔

صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جنوبی پنجاب کا الگ بجٹ رکھا گیا ہے۔سائوتھ پنجاب اے ڈی پی حقیقی معنوں میں جنوبی پنجاب کے حقوق کے تحفظ کی ضامن ہو گی۔اب جنوبی کا بجٹ صرف اور صرف جنوبی پنجاب پر خرچ ہو گا۔جنوبی پنجاب کے لئے 189ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو کہ پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا 34فیصد ہے۔ بزدار حکومت ’’سارا پنجاب ہمارا پنجاب‘‘ کے نظریے کے تحت صوبے کے تمام اضلاع کی یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے۔سردار عثمان بزدار کی خصوصی دلچسپی سے 360ارب روپے سے ایک عہد ساز ڈسٹرکٹ پروگرام کا آغاز کیا گیاہے۔ اس پروگرام کے تحت صوبہ کے 36اضلاع میں ترقیاتی سکیموں کا جال بچھایا جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت سڑکوں کی تعمیر ومرمت،فراہمی ونکاسی آب،بنیادی صحت وتعلیم کے منصوبے مکمل کئے جائیں گے جس سے لوگوں کا نہ صرف معیار زندگی بلند ہوگا بلکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

بزدار حکومت نے شہریوں کو صحت کی جدید ومعیاری سہولیات کی فراہمی کے لئے انقلابی اقدامات کئے ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور اس کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے عوام کو کورونا کی وباء سے بچانے کے لئے ہر ممکن حفاظتی اقدامات اٹھائے ہیں۔ حفاظتی اقدامات کی مطابق بعض شہروں میں لاگ ڈائون کے علاوہ سماٹ لاک ڈائون لگائے گئے۔کورونا ٹیسٹ کے لئے صوبہ بھر میں بی ایس ایل تھری لیبارٹریاں قائم کی گئیں۔ تمام شہروں میں قرنطینہ سنٹر قائم کئے گئے۔لاہور ایکسپو سنٹر میں سب سے بڑا عارضی ہسپتال قائم کیا گیا۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جس نے مشکل حالات میں عوام کا ساتھ دیا اور کوویڈ سے بحالی کے لئے106ارب روپے کا پیکچ دیا۔کاروباری طبقے کو56ارب روپے کا تاریخی ٹیکس ریلیف دیا۔ بزدار حکومت نے شہریوں کو کورونا سے بچائو کے لئے ویکسینیشن کا عمل شروع کیا اور صوبہ بھر میں 677ویکسینیشن سنٹر قائم کرنے کے علاوہ موبائل ٹیمیں بھی کام کررہی ہیں۔حکومت نے شہریوں کی ویکسینیشن کے لئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کئے ہیں۔شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لئے حکومت نے گھر گھر جا کر شہریوں کی ویکسینیشن کا عمل شروع کر دیا ہے۔ صوبہ بھر میں یونیورسل ہیلتھ کوریج کے لئے پنجاب بھر کے تمام 2 کروڑ 93 لاکھ خاندانوں کو کارڈز کی فراہمی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب اس پروگرام کا آغاز کر چکے ہیں اور رواں مالی سال کے آخر تک صوبے کے 11کروڑ سے زائد لوگوں کو مفت علاج کی سہولت دستیاب ہو جائے گی۔ صوبہ بھر میں 9مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال قائم کئے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ چلڈرن ہسپتال کو چائلڈ ہیلتھ یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ہے۔ 35دیہی مراکز صحت میں بچوں کی نرسریز کا قیام اور ایمرجنسی وارڈزقائم کئے گئے ہیں۔1293بنیادی مراکز صحت کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 35ہزار سے زائد بھرتیاں کی گئی ہیں۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ2503بنیادی مراکز صحت میں 94فیصد پر ڈاکٹرز کی تعیناتی کی گئی ہے۔ صوبہ بھر میں بڑے ہسپتالوں جن میں نشترII ملتان، چلڈرن ہسپتال بہاولپور،ڈی جی خان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، بہاولپور برنی سنٹر اور سرجیکل ٹاور کی تعمیر جاری ہے۔

وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اس بات کا مکمل ادراک رکھتے ہیں کہ نوجوان نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کئے بغیر ترقی وخوشحالی کی منزل حاصل نہیں کی جا سکتی۔یہی وجہ ہے کہ بزدار حکومت نے تعلیم کے فروغ کے لئے عملی اقدامات کئے ہیں۔ تعلیم کی شرح میں اضافہ کے لئے سرکاری سکولوں میں انصاف آفٹر نون سکولوں کے ساتھ ساتھ خواجہ سرائوں کے سکولوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔6ارب کی لاگت سے7ہزار پرائمری اور 2500 ایلیمنٹری سکولوں کو بحال کیا گیا ہے۔8360 سکولوں کی اپ گریڈیشن کی گئی ہے۔پرائمری ایجوکیشن میں ای ٹرانسفر پالیسی کا نفاذ کیا گیا ہے۔ اب اساتذہ اپنے تبادلوں کی درخواستیں آن لائن دے سکتے ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق ای ٹرانسفر پالیسی کے اجراء سے2.5 ارب روپے کی کرپشن کا راستہ روکا گیا ہے۔ حکومت نے یکساں نصاب کا نظام متعارف کرایا ہے تاکہ پرائیویٹ اور سرکاری سکولوں کے بچے ایک ہی نصاب پڑھیں۔ حکومت نے پرائمری تک اردو کے نصاب کا آغاز کر دیا ہے۔ اسی طرح صوبے کے اساتذہ کے لئے ای ریٹائرمنٹ سسٹم کا آغاز کر دیا گیاہے۔ اس سسٹم سے اساتذہ کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن ایک ہفتہ کے اندر ہو جائے گا۔سکول ایجوکیشن نے ای پروفائل سسٹم کا انعقاد کیا ہے اس کے تحت تمام ٹیچرزکی مکمل تصدیق شدہ معلومات آن لائن پورٹل پر محفوظ کر دی ہیں۔محکمہ ایجوکیشن کی طرف سے نئی یونیورسٹیوں کی تعمیر پر عملدرآمد جاری ہے۔16ارب روپے کی لاگت سے سمبڑیال میں انجینئرنگ یونیورسٹی قائم کی جارہی ہے۔21نئی یونیورسٹیوں کے قیام کے علاوہ 86نئے ایسوسی ایٹ کالجز کی اپ گریڈیشن کی گئی ہے۔ اب تک 6یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔ پنجاب کے8اضلاع میں نئی یونیورسٹیوں کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ 

زراعت کا شعبہ ہماری معیشت میں کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اور زرعی لحاظ سے ایک زرخیز خطہ ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایات پر زرعی پالیسی تشکیل دی گئی۔ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کاشتکاروں کے لئے کسان کارڈ کا اجراء کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے زرعی ایمر جنسی پروگرام کے تحت زراعت کی ترقی اور کسانوں کی خوشحالی وفلاح بہبود کے لئے300ارب منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے جن میں آبپاشی کھالوں کی اصلاح،ماڈل زرعی منڈیوں کا قیام،گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ اور تیل داراجناس کے فروغ کا قومی منصوبہ شامل ہیں۔کاشتکاروں کو بلاسود قرضے فراہم کرنے کے لئے ایک کریڈٹ سکیم کے تحت قرضہ جات کی مد میں فصل ربیع کے لئے25ہزار سے بڑھا کر 30ہزار روپے فی ایکڑ اور فصل خریف کے لئے40ہزار سے بڑھا کر50ہزار روپے فی ایکڑ کر دی گئی ہے۔اب تک کاشتکاروں کو 64ارب سے زائد کے قرضے جاری کئے جا چکے ہیں۔ کپاس، دھان اور گندم کی فصلات کے بیمہ کے علاوہ قدرتی آفات اور ٹڈی دل کے نقصانات کے ازالے کے لئے بیمہ کی سہولت فراہم کی جارہی ہے اور انشورنس کمپنیوں کو3ارب روپے بطور پریمیم ادا کئے گئے ہیں۔کسانوں کو سبسڈی دینے کیلئے جدیدآن لائن اور شفاف نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

بزدار حکومت نے شہریوں کو زمین کے معاملات کے حل کے لئے جامع اقدامات اٹھائے ہیں جن سے ان کو نہ صرف ریلیف مل رہا ہے بلکہ مسائل ان کی دہلیز پر حل ہورہے ہیں۔بورڈ آف ریونیو نے اب تک سرکاری وغیر سرکاری زمین پر قابضین سے 45866 ارب روپے کی 179664ایکڑ اراضی واگزار کرائی ہے۔بورڈ آف ریونیو نے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے تاریخ میں پہلی مرتبہ ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی سماعت شروع کر دی ہے جس سے لوگوں کو سفری دشواری سے نجات ملے گی۔ ون ونڈو رجسٹریشن اور جائیداد کے انتقال کا عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔ رواں مال کے آخر تک اس کا دائرہ کار تحصیل کی سطح پر بڑھایا جائے گا۔ پنجاب میں 807مرکز مال کو فنکشنل کر دیا ہے۔ یہ مراکز دیہی سطح پر کمپیوٹررائزڈ ریکارڈ سروس فراہم کررہے ہیں۔ اس سال کے آخر تک اس کا دائرہ کار تمام ریونیو سرکل تک بڑھا دیا جائے گا جس سے لوگوں کو ان کی دہلیز پر ڈیجیٹلائزڈ ریکارڈ سروس مل جائے گی۔شعبہ لینڈ ریکارڈ میں پنجاب کے دور دراز علاقوں میں گھر کی دہلیز پر اراضی ریکارڈ کی خدمات کی فراہمی کے لئے 20موبائل اراضی سنٹر کام کررہے ہیں اوررواں سال کے آخر تک ان کی تعداد40کر دی جائے گی۔بزدار حکومت نے 4ممالک کے سفارتخانوں میں بھی اوورسیز اراضی ریکارڈ سنٹر بھی قائم کر دئیے ہیں اورشہریوں کی شکایات کے ازالہ کے لئے ماہانہ ریونیو عوام خدمت کچہریوں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔اب تک ان کچہریوں میں 60ہزار سے زائد درخواستوں کو نمٹایا گیا ہے۔ فرد انتقال کی رجسٹریشن ون ونڈو سکیم کے تحت ضلعی سطح پر مکمل طور پر فعال ہے رواں ماہ کے آخر تک اس کا دائرہ کار تحصیل کی سطح پر بڑھا دیا جائے گا۔

صنعتی ترقی کے بغیر معاشی ترقی کا خواب ادھورا ہے۔ حکومت بخوبی جانتی ہے کہ صنعتی ترقی سے ہی ملکی معیشت کو اوپر اٹھایا جا سکتا ہے۔ پنجاب برسوں سے جامع صنعتی پالیسی سے محروم تھا۔ بزدار حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ جس نے ایک مربوط اور جامع صنعتی پالیسی تشکیل دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار سے آنے سے قبل صوبے میں صرف3سپیشل اکنامک زون تھے اب حکومت مختلف علاقوں میں 13سپیشل اکنامک زونز بنارہی ہے۔شیخوپورہ میں 1536ایکڑ رقبے پر قائداعظم بزنس پارک کا وزیراعظم سنگ بنیاد رکھ چکے ہیں۔اس پراجیکٹ سے روزگار کے اڑھائی لاکھ مواقع پیدا ہوں گے۔ موجودہ حکومت نے بھلوال ،رحیم یار خان اوروہاڑی کی انڈسٹریل اسٹیٹس کو سپیشل اکنامک زون کا درجہ دیا ہے۔ پنجاب روزگار سکیم بزدار حکومت کا ایک اور انقلابی پروگرام ہے جس کے تحت ہنر مند نوجوانوں کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لئے ایک لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک کے آسان قرضے دئیے جارہے ہیں۔30ارب روپے کی اس سکیم سے 16لاکھ سے زائد لوگوں کو روزگار ملے گا۔ پنجاب حکومت نے صنعت کی ضروریات کے مطابق ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے۔پنجاب تیانجن ٹیکنیکل یونیورسٹی لاہور کو3.074ارب روپے کی لاگت سے فعال کر دیا ہے۔2ارب روپے کی لاگت سے رندیونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ڈی جی خان اور 2.165ارب روپے کی لاگت سے یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی رسول منڈی بہائوالدین کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ٹیوٹا کے اداروں کی استعداد کار90ہزار سالانہ سے بڑھا کر 2لاکھ33ہزار کر دی گئی ہے۔ہنر مند نوجوان پروگرام کے تحت صنعت کی ضروریات کے مطابق56نئے کورسز کرائے جارہے ہیں۔بزدار حکومت نے صوبے میں نئی سرمایہ کاری لانے اور کاروبارمیں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے قابل قدر اقدامات کئے ہیں۔پنجاب بزنس رجسٹریشن پورٹل قائم کیا گیا ہے اور اس پورٹل کے قیام سے 46دنوں پرمحیط بزنس رجسٹریشن کا عمل 24گھنٹوں پر آ گیا ہے۔ اسی طرح پنجاب سرمایہ کاری بورڈ میں انویسٹر ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے۔

بزدار حکومت پہلی مرتبہ پولیس میں ریفارمز لے کر آئی ہے اور پولیس کو عوامی خدمت پر گامزن کر دیا ہے۔اب پولیس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا ۔کرائم کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کی سہولت پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ پولیس کی استعداد کار میں اضافہ کیا گیا ہے۔ 2018 میں 1728 کیسز کے مقابلے میں2021 میں927کیسز رپورٹ ہوئے۔ ابتدائی5مہینوں میں قتل کے کیسوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ڈکیتی اور راہزنی پر بھی قابو پایا گیا ہے اور کیسز میں50فیصد کمی دیکھنے کو ملی ہے۔2021میں دہشتگردی کا ایک واقعہ رپورٹ ہوا جسے 24گھنٹے کے اندر اندر ٹریس کر لیا گیا۔ فیز ون میں 5149 کانسٹیبلز بھرتی کئے گئے جبکہ فیز ٹو میں5330کانسٹیبلز کی بھرتیوں کا عمل جاری ہے۔133سینئر سٹیشن اسسٹنٹس بھرتی کئے گئے۔ 2021کوپولیس اسٹیشنز کا سال قرار دیا گیا ہے۔ 54 سپیشل اینی شیٹو پولیس اسٹیشنز کو آپریشنلائز کیا گیا ہے۔678نئی گاڑیاں اور 491موٹر سائیکلیں فراہم کی گئی ہیں۔پبلک سروس ڈیلیوری انٹروینشن کا آغاز کیا گیا ہے۔صوبہ بھر میں 86پولیس خدمت مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں ایک چھت تلے شہریوں کو مختلف سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور 37پولیس خدمت مراکز موبائل گاڑیاں دی گئی ہیں اس کے علاوہ ہسپتالوں میں بھی پولیس خدمت مراکز قائم کئے گئے ہیں۔شہریوں کی سہولت کے لئے ٹورازم ایپ،راستہ موبائل ایپ،ڈرائیونگ لائسنس کے لئے بکنگ ایپ،پکار15،وویمن سیفی ایپ،پولیس خدمت مراکز موبائل ایپ،عوام کے لئے پبلک ایپ اور نشہ آور افراد کے علاج معالجے کے لئے زندگی ایپ قائم کی گئی ہیں۔

بزدار حکومت نے کلچر کے فروغ کے لئے بھی مثالی اقدامات اٹھائے ہیں۔پنجاب حکومت نے پہلی کلچر پالیسی تشکیل دی ہے جس کے تحت صوبے کے مختلف علاقوں کی ثقافت کو اجاگر کیا جائے گا۔حکومت نے صوبہ بھر میں پنجاب کلچر ڈے کو بڑی دھوم دھام سے منایا۔اس کے علاوہ بین الصوبائی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے ’’بلوچ کلچر ڈے‘‘ منایا گیا۔جنوبی پنجاب کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے سرائیکی کلچرڈے منایا گیا۔آرٹسٹ سپورٹ فنڈ کے تحت 3000فنکاروں میں 110ملین روپے کی مالی معاونت کی گئی۔کورونا کے دوران لاک ڈائون پر30ہزار مستحق فنکاروں کو 15000روپے سے 20000 کا خصوصی ریلیف پیکج دیا گیا۔نیا پاکستان منزلیں آسان پروگرام کے تحت 30ارب روپے سے 2300کلومیٹرتک دیہی سڑکوں کی تعمیر وبحالی کے لئے 300منصوبہ جات مکمل کئے گئے ہیں۔2ارب روپے سے زائد کی لاگت سے 38تحصیلوں میں سٹیٹ آف دی آرٹ سپورٹس کمپلیکس تعمیر کئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ62کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے 350کھیلوں کے میدان قائم کئے گئے ہیں۔ خواتین کو مستحکم بنانے کے لئے11مزید ورکنگ وویمن ہاسٹلز بنائے گئے ہیں۔ چولستان میں ویٹرنری یونیورسٹی قائم کی گئی ہے۔ 14ارب روپے کی لاگت سے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے تاریخ ساز ترقیاتی منصوبہ جات کا آغاز کیا ہے۔ شہریوں کی سہولت کے لئے فردوس مارکیٹ میں انڈرپاس تعمیر کیا ہے۔اس کے علاوہ شاہکام،گلاب دیوی،دوموریہ پل اور علاقہ اقبال ٹائون میں اوورہیڈبرج اور انڈر پاس تعمیر کئے جارہے ہیں جس سے ٹریفک کی روانی میں بہتری آئے گی۔بارش کے پانی کو سٹور کرنے کے لئے باغ جناح میں واٹر ٹینک تعمیر کیا گیاہے۔اس کے علاوہ مال روڈ پر بھی واٹر ٹینک تعمیر کیا جارہا ہے۔

بزدار حکومت نے 53ارب روپے سے پنجاب احساس پروگرام کا آغاز کیا ہے جس کے تحت صوبہ بھر میں 94پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ لنگر خانوں کے قیام کے پراجیکٹس شروع کئے گئے ہیں۔کم آمدنی والے افراد کو اپنی چھت فراہم کرنے کے لئے حکومت پنجاب نے کئی منصوبوں کا آغاز کیا ہے۔ لاہور میں 25ہزار اپارٹمنٹس تعمیر کئے جائیں گے اور پہلے مرحلے میں 4ہزار فلیٹس بنائے جارہے ہیں۔پنجاب کی 146تحصیلوں میں پیری اربن افورڈ ایبل سکیم کے تحت گھر دئیے جائیں گے اور فیز ون میں37تحصیلوں میں 10ہزار گھر بنائے جارہے ہیں جو اسی سال مکمل کر لئے جائیں گے۔

وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے تین سالوں میں ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔آج کا نیا پنجاب اسی عزم کی منہ بولتی تصویر ہے جہاں ہر لحظہ پسماندہ خطوں اور محروم عوام کی تقدیر بدل رہی ہے۔ آج کا پنجاب نام ہے ہر نادار کے احساس کا،تعلیم، صحت، زراعت اور تعمیروترقی کی اساس کا۔

 شفافیت اور میرٹ بزدارحکومت کی ترجیح بن چکا ہے۔اب کرپشن،اقرباء پروری اور سفارش کی کوئی جگہ نہیں۔ ہر کسان کے خواب پورے ہورہے ہیں۔ہر ضلع تعمیر وترقی کے نئے عہد سے گزررہاہے۔یہی تو ہے چمکتا دمکتا روشن پنجاب۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

قربانی کی روح اور ہماری ذمہ داریاں

’’اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے‘‘(سورۃ الحج: 37) اللہ کی راہ میں قربانی پیش کرنے سے بندے کی اپنے رب سے دوریاں قربت میں بدل جاتی ہیں ہر عمل کیلئے نیت خالص ہونی چاہیے، قربانی کیلئے جس مال سے جانور خریدنا ہواُس کا پاک ہونا ضروری ہے

عید کے دن کیسے گزاریں؟

ادیان عالم میں ہر مذہب سے وابستہ ہر قوم اپنا ایک مذہبی تہوار رکھتی ہے۔ جس میں وہ اپنی خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے جداگانہ تشخص کا اظہار بھی کرتی ہے۔ مسلمانوں کی عید دیگر مذاہب و اقوام کے تہواروں سے بالکل مختلف حیثیت رکھتی ہے۔یہ دن کیسے گزارا جائے، آئیے شریعت کی رہنمائی میں دیکھتے ہیں۔

ذبیح اللہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام

ذبیح اللہ حضرت سیدنااسماعیل علیہ السلام جدالانبیاء حضرت سیدناابراہیم ؑ کے بڑے صاحبزادے اورنبی آخرالزماںﷺ کے جداعلیٰ ہیں۔ آپ علیہ السلام کا ذکر قرآن پاک کی متعددسورتوں میں موجودہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 125 تا 127، سورۃ الانعام کی آیت نمبر86، سورۃ مریم کی آیت نمبر55،54، سورۃ الانبیاء کی آیت 86،85، سورۃ الصافات کی آیت نمبر 101تا 107 اورسورہ ص کی آیت نمبر48 میں آپ ؑ کا ذکر تفصیلاً ملتا ہے۔ آپ ؑکی سیرت کے اہم گوشوں کو اس مضمون میں اختصار سے بیان کیا جاتا ہے۔

آب زم زم رحمت الٰہی کا مقدس تحفہ

مسجد الحرام میں دیوار کعبہ سے کچھ فاصلے پر چار گز چوڑا اور69 گز گہرا حجر اسود کے سامنے اور جنوب مشرقی سمت میں ایک کنواں (چاہ)ہے جسے ’’چاہ زم زم‘‘ کہتے ہیں۔ یہ چھوٹاسا کنواں پوری کائنات میں مشہور ہے، اسی کنویں کے پانی کو آب زم زم کہتے ہیں۔

مسائل اور ان کا حل

باوقت ذبح نکلنے والے خون کی بیع حرام سوال: کیا حلال جانور وں کا وہ خون جو باوقت ذبح نکلتا ہے اس کی خرید و فروخت جائز ہے؟(بشیر، لاہور)جواب :جائز نہیں ۔اس سے احتراز کرنا ضروری ہے ۔

28ویں آئینی ترمیم کی بازگشت!

28 ویں ترمیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ شہر اقتدار میں کئی مہینوں بعد سیاسی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہو چکا ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ سیشنز کے دوران سیاسی گہما گہمی شروع ہو چکی ہے۔