نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- برطانیہ میں کوروناکےمسلسل کیسزکےباعث اسپتالوں میں جگہ کم پڑنےلگی
  • بریکنگ :- کوروناکیسزکی تعدادایک لاکھ روزانہ تک پہنچ سکتی ہے،وزیرصحت ساجدجاوید
  • بریکنگ :- کوروناسےنمٹنےکےلیےدواینٹی وائرل ادویات کامعاہدہ کرلیاگیا،ساجدجاوید
  • بریکنگ :- شہری کوروناکی تیسری ڈوز ضرورلگوائیں،برطانوی وزیرصحت
  • بریکنگ :- برطانیہ میں موسم سرمامیں کوروناکی لہربےقابوہوسکتی ہے،ماہرین
  • بریکنگ :- برطانیہ میں 50لاکھ افرادکی ویکسی نیشن ابھی باقی ہے،وزیرصحت
Coronavirus Updates

ابٹن کا استعمال جلد کو شاداب بناتا ہے

خصوصی ایڈیشن

تحریر : ایمان ہمایوں


جلد کی اوپری تہہ کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک Epidermisاور دوسرا Dermisکہلاتا ہے۔ یہ ساخت میں تہایت باریک ہوتے ہیں۔ عام طور پر جلد کا کام بیرونی عناصر سے حفاظت اور جسم کید رجہ حرارت کو اعتدال پر رکھنا ہے اور یہی اس کا سب سے اہم کام ہے۔

موسم کے لحاظ سے جلد پر کئی تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں لہذا Epidermisجو ایک خاص قسم کی پروٹین سے بنی ہوتی ہے اسے کیراٹن کہتے ہیں۔ یہ جلد کو صرف سردی ، گرمی اور خشکی ہی سے نہیں بلکہ بیرونی جراثیم سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔اس سے نیچے والی تہہ یعنی Dermisکا کام نئے خلیے بنانا ہے جو خود کار نظام کے تحت اوپر کی جان بڑھتے رہتے ہیں چونکہ اوپری سطح تک پہنچتے پہنچتے یہ خلیات پرانے ہو چکے ہوتے ہیں لہذا جھڑ جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے خلیات جنم لے لیتے ہیں۔ یہ عمل Keratinizationکہلاتا ہے۔

یہ عمل پورے بدن کی جلد پر جاری رہتا ہے۔ پیروں کے تلوؤں کی تہہ اور اس کے خلیات موٹے ہوتے ہیں جو کہ چھلکوں کی صورت میں ہوتے ہیں وہ نوٹس میں بھی آتے ہیں۔نرم و ملام برش یا نائلوں کے جھانوے سے پیروں کی صفائی کی جاتی ہے۔ 

سر میں بھی اس طرح چھلکوں کے بننے کا عمل جاری رہتا ہے۔جو قطعی نارمل ہے۔اسی لئے ہم بالوں کو دھوتے ہیں۔اگر یہ چھلکے تہہ در تہہ جمتے چلے جائیں تو خشکی اور ایگزیما کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ نیز اگر یہ خشکی زیادہ مقدار میں بننے لگے تو گردن، کندھوں ، سینے اور اکثر جھڑ کر چہرے پر بھی سرخی اور خارش کا باعث بن سکتی ہے۔

کلینزنگ کیوں کی جاتی ہے؟

اگر مردہ یا پرانے خلیات کو چہرے سے وقتاً فوقتاً ہٹا دیا جائے تو اس کے نیچے سے تازہ اور جواں تر خلیوں کو اوپری تہہ تک پہنچنے میں آسانی ہوجائے گی اور یہ عمل کلینزنگ کے ذریعے سرانجام دیا جاسکتا ہے۔

اسکربنگ کس طرح کی جائے؟

جلد کی شادابی کا یہی ایک بنیادی اصو ل ہے جس پر زیبائش و آرائش کی عمار ت کھڑی کی گئی ہے۔روزانہ چہرے کو معمول کے مطابق دھونے کے علاوہ ہفتے میں ایک بار نرمی سے اسکربنگ بھی کرنی چاہئے۔ یہ عام طور پر بیسن ، چوکر(چھنے ہوئے آٹے کی بھوسی) ، ابٹن وغیرہ سے کی جاسکتی ہے۔ چہرے پر نکھار کے لیے ابٹن کا استعمال بے حد مفید ہے ، مگر چونکہ اس میں ہلدی شامل ہوتی ہے لہٰذا تھوڑے عرصے کے لئے اس کا استعما ل ترک کر دیا جائے، ورنہ چہرے کی رنگت مسلسل پیلی دکھائی دینے لگے گی۔اس کے علاوہ بعض ابٹنوں میں تیل کی آمیزش ہوتی ہے جو کہ چکنی، دانے اور مہاسوں والی جلد کیلئے قطعی طور پر مناسب نہیں۔

بازار میں غیر ملکی اسکربز بھی دستیاب ہیں جن میں ایک چکنے محلول کے اندر سخت قسم کے باریک دانے بھرے ہوتے ہیں جوکہ چہرے کی جلد پر خراشیں بھی ڈالنے کا سبب بن سکتے ہیں۔اس لئے ان کے انتخاب میں یہ بات ضرور مد نظر رکھی جائے کہ ان میں شامل کئے گئے مواد کی وجہ سے چہرہ چھل نہ جائے۔خریدنے سے پہلے دیکھ لیا جائے کہ یہ دانے ہموار سطح کے اور باریک ہیں یا نہیں۔ ہفتے میں ایک بار اسکربنگ کرنا کافی ہوتا ہے۔  

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ایک بار پھر اب کیا ہوگا کی گونج

بڑھتی مہنگائی، ڈالر کی اونچی اڑان، آئی ایم ایف کا دباؤ۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے حوالے سے پیدا ہونے والا تناؤ۔ نئے چیرمین نیب کی تعیناتی سمیت نیب کا قانون اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے احتجاج مظاہروں کا ایک بار پھر اعلان۔ وزیراعظم عمران خان اکثر اپنے کرکٹ کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے پریشر کے دوران پرفارم کرنے والے کو اصل کھلاڑی مانتے ہیں۔ اس حوالے سے وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ اپنے چاہنے والوں کو تجویز کرتے سنائی دیتے ہیں۔ ان کا مشہور زمانہ قول بھی ہے کہ ’’ بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘‘۔ مشکل سے مشکل صورتحال کا اگر سامنا ہو تو بھی خندہ پیشانی سے اس کا نہ صرف سامنا کرنا ہے بلکہ ڈٹ کے مقابلہ کرنا ہے۔

بلدیاتی اداروں کی بحالی کا عمل ،عدالت عظمیٰ کا تحقیقات کا اعلان

مہنگائی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ایک ہی روز میں بجلی، پٹرولیم اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے ہر چیز پر اپنے اثرات قائم کئے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اشیائے خورو نوش ہوں یا دیگر اشیائے ضروریہ، کسی پر چیک نہیں رہا۔ ہر دکاندار اپنی من مرضی سے خریدار کی جیب کاٹتا نظر آ رہا ہے اور خود کو جوابدہ نہیں سمجھتا۔ اس حوالے سے قائم مجسٹریٹ سسٹم بھی دم توڑ چکا ہے ۔اپوزیشن جو تقریباً تین سال سے مہنگائی،بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی غربت پر خاموش تھی اور محض میڈیا پر احتجاج کرتی نظر آتی تھی اب اسے بھی بجلی اورپٹرولیم کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے پر ہوش آیا ہے اور اس نے ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

مہنگائی بم کے اثرات۔۔۔اپوزیشن متحرک!

گزشتہ دنوں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے عوام پر ایک اور’’مہنگائی بم‘‘ گرایا گیا۔حکومتی حلقے اسے مجبوری اور دنیا کے دیگر ممالک سے کم مہنگائی قرار دے رہے ہیں جبکہ حکومت مخالف حلقے اسے حکومت کی نااہلی اور بدترین ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ادھر حکومت اور اپوزیشن کی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان میں عوام بے چارے ہمیشہ کی طرح پسے جارہے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مہنگائی کا یہ بم حکومت کے لیے خودکتنا نقصان دہ اور اپوزیشن کے لیے کتنا مفید ثابت ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات یقینی کے کہ اس لڑائی میں نقصان صرف غریب عوام کا ہی ہو گا۔ بڑھتی مہنگائی کی خبروں کے درمیان ایک خوشخبری بھی ہے ۔گوکہ اس خوشخبری کا تعلق براہ راست عوام کے مفادات سے تو نہیں ہے البتہ خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ماموںبن گئے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کے ہاں بیٹے کی ولادت نے بھٹواور زرداری خاندان میں خوشیاں بکھیر دی ہیں۔بیٹے کی ولادت کی اطلاع خود بختاور بھٹو نے ٹویٹ کے ذریعے شیئر کی تھی۔

بلدیاتی انتخابات اور قبائلی اضلاع کی مشکلات

خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں کی جارہی ہیں اس بات کا قوی امکان ہے کہ مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات آئندہ ماہ سے شروع ہوں گے۔بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک کافی لیت ولعل سے کام لیاجاچکا ہے تاہم اب عدالت کے حکم پر یہ انتخابات کروانے ہی ہوں گے ۔نئے ایکٹ کے تحت خیبرپختونخوا میں تحصیل کونسل کی نشستوں کی تعداد 120ہے صوبے بھر میں سٹی کی چھ اور ایک میٹروپولیٹن کی کی نشست ہے ،تحصیل کونسل کی 120 نشستوں میں سے پچیس قبائلی اضلاع کی بھی ہیں ۔یعنی قبائلی اضلاع بھی اب اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے نظام سے مستفید ہوسکیں گے۔

سیاسی جوڑ توڑ عروج پر، تحریک عدم اعتماد پیش

بلوچستان میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری سیاسی بحران اور غیر یقینی صورتحال کا اب فیصلہ کن موڑ آن پہنچا ہے۔ جام کمال خان وزارت اعلیٰ کے منصب پر براجمان رہیں گے یا پھر ناراض اراکین کی حکمت عملی کام کر جائے گی اسکا فیصلہ 25 اکتوبر تک ہوجائے گا۔ البتہ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد 20 اکتوبر کو بی اے پی ، ان کے اتحادیوں اور متحدہ اپوزیشن نے اسمبلی میں پیش کردی ہے ۔جس پر ووٹنگ 25 اکتوبر تک ہوگی۔ ایک بڑا بریک تھرو سیاسی حوالے سے یہ رہا کہ ناراض اراکین نے تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کیلئے اپنے پتے شو کرادیئے۔

جنوبی پنجاب ،وزیرخارجہ پارٹی کی ساکھ بچانے کیلئے سرگرم

تحریک انصاف کی حکومت کو تین سال سے زائد کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے ۔وقت کے ساتھ ساتھ سہانے خواب خوف میں تبدیل ہونے لگے اور تمام امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری کے سونامی نے سب کچھ ملیامیٹ کر دیا اب تو حکومت کی جانب سے اچھے اقدامات بھی جھوٹ کا پلندہ لگنے لگ گئے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی نے عوام کو ذہنی مریض بناڈالا جس کیلئے فوری طور پر بھاشن کی بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ صورت حال انتہائی خوفناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔ عوام کی نظر اب صرف روٹی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے قانون سازی ، ڈویلپمنٹ ، آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک سمیت کسی سے کوئی سروکار نہیں اب تو لگتا ہے کہ مہنگائی کے علاوہ کوئی ایشو ہی نہیں رہا۔