نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی زیرصدارت پارٹی رہنماؤں کااجلاس
  • بریکنگ :- اجلاس میں ملکی معاشی اورمہنگائی کی صورتحال کاجائزہ،ذرائع
  • بریکنگ :- کم آمدن والےافرادکوپٹرولیم مصنوعات پرسبسڈی دینےکی تجویزپرغور،ذرائع
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی کم آمدن والوں کیلئےپٹرول پرسبسڈی دینےپرپلان بنانےکی ہدایت
  • بریکنگ :- موٹرسائیکل،رکشہ،عوامی سواری کوپٹرول پرسبسڈی دینےکاپلان آئندہ ہفتےپیش کیاجائےگا
  • بریکنگ :- مہنگائی میں کمی کےلیےضلعی سطح پرکمیٹیاں بنانےکافیصلہ،ذرائع
  • بریکنگ :- یوٹیلیٹی اسٹورزکےذریعےکم آمدن والےافرادکوٹارگٹڈسبسڈی دینےکافیصلہ،ذرائع
Coronavirus Updates

اسلام میں کسب حلال کی فضیلت

خصوصی ایڈیشن

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


حضور پاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔یہ اپنے ماننے والوں کو تن آسان نہیں بناتا کیونکہ اس میں عمل کی بڑی اہمیت ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے خود عمل بھی کیا کام بھی کیا اور عمل اور محنت کرنے کسبِ حلال کا حکم عطا فرمایا حضور    پاک ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے اور اپنی آبرو بچائے تو یہ اس شخص سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے دست سوال دراز کرے۔ ایک دفعہ ایک انصاری صحابی حضور پاک ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپؐ سے کچھ مانگا۔ آپؐ نے فرمایا ’’تمہارے پا س کچھ ہے‘‘ انھوں نے کہا ’’صرف ایک بچھونا ہے، جسے آدھا نیچے بچھاتا ہوں اور آدھا اوپر اوڑھ لیتا ہوں اور ایک پانی کا پیالہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا ’’دونوں چیزیں لے آئو۔‘‘ وہ جب دونوں چیزیں لے کر آیا تو    آپ ﷺ نے کہا’’ یہ چیزیں کون خریدے گا‘‘ ؟ایک شخص نے دو درہم قیمت پیش کی۔ آپؐ نے یہ چیزیں اس کو دے دیں اور دو درہم انصاری کو دے کر کہا کہ ایک درہم کا سودا خرید کر گھر دے دو اور ایک درہم کا رسہ خرید کر جنگل سے لکڑیاں لائو اور شہر میں فروخت کرو ۔چنانچہ پندرہ دن کے بعد وہ انصاری پھر حاضر ہوئے تو ان کے پاس دس درہم تھے اور وہ بہت خوش تھے۔ حضور پاک ﷺ نے فرمایا کہ یہ حالت اچھی ہے یا قیامت کے دن چہرے پر گدائی کا داغ لے کر آتے۔

حضور پاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ ایک مرتبہ اللہ کے رسول ؐایک محفل میں جلوہ فرما تھے کہ صحابہ کرام ؓ آپ ﷺکے گرد ہالہ کئے ہوئے تھے۔ ایک صحابیؓ نے عرض کیا’’ اے اللہ کے رسول ﷺ!میرے پیشے کے متعلق کیا ارشاد ہے، اچھا ہے یا برا ہے ؟آپ ﷺ نے پوچھا تم کیا کرتے ہو؟ اس نے عرض کیا’’ درزی ہوں ؟‘‘فرمایا ’’اگر تم دیانت امانت سے کام کرو تو یہ پیشہ ازحد بزرگ ہے۔ قیامت کے دن حضرت ادریس علیہ السلام کی معیت میں جنت میں جائو گے‘‘۔ ایک اور صحابی نے پوچھا’’ اے اللہ کے رسول کریم ﷺ! میرا پیشہ کیسا ہے ؟‘‘فرمایا ’’تم کیا کرتے ہو ؟‘‘عرض کیا ’’معمار ہوں ۔‘‘آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ پیشہ بڑا مبارک اور نفع بخش ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہی کام کرتے تھے۔ قیامت کے دن تم ان کے ساتھ جنت میں جائو گے۔ ایک اور صحابیؓ نے عرض کی ’’حضور میرے پیشے کے متعلق آپ کا کیا ارشاد گرامی ہے‘‘ فرمایا’’ تم کیا کرتے ہو ؟‘‘عرض کیا ’’معلم ہوں‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا پیشہ اللہ کو بہت پسند ہے بشرطیکہ خلوص نیت کے ساتھ لوگوں کو پند و نصیحت کرتے رہو ۔ایک اور صحابیؓ نے عر ض کیا’’ اے اللہ کے   رسول ﷺ کچھ میرے پیشے کے متعلق بھی فرمائیے‘‘ آپؐ نے فرمایا’’ تم کیا کرتے ہو‘‘ اس نے عرض کیا ’’سوداگری ‘‘آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر صدق و راستی سے کاروبار کروتو قیامت کے دن میری معیت نصیب ہوگی ۔پھر ارشاد فرمایا کہ محنت مشقت کرکے روزی کمانے والا شخص اللہ کا دوست ہے ۔شرط یہ ہے کہ نماز کے وقت سستی نہ کرے ۔جیسے اذان ہو فوری مسجد پہنچ جائے اور شریعت سے ذرا بھی قدم باہر نہ رکھے ۔

درحقیقت اسلام میں یہ گنجائش ہی نہیں کہ آدمی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہے بلکہ اس کو حکم ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق محنت کرے اور پھر دیکھے کہ اللہ اس کے حالات کو کیسے بدلتا ہے  اللہ نے خود قرآن مجید میں فرمایا کہ جب تک کوئی قوم اپنی حالت بدلنے کی کوشش خود نہیں کرتی اللہ بھی اس کے حالات نہیں بدلتا اور آج کے نازک دور میں ہمیں بحیثیت پوری قوم ا پنی حالت کو بدلنا ہو گا ۔ہم نے محنت کرنا رزق حلا ل کمانا چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے نہ ہماری عبادات قبول ہوتی ہیں نہ ہمارا دل اللہ کے ذکر میں لگتا ہے۔ ہمارے رزق میں برکت بھی نہیں ہوتی ہے اور ہم طرح طرح کی پریشانیوں میں گرفتار ہیں۔

 اللہ ہمیں رزق حلال اور عشق محمدمصطفی کریم ﷺ عطا فرمائے اور ہمیں کسبِ حلال کی توفیق عطا فرمائے، آمین ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

وہ دانائے سبل ،ختم الرسل، مولائے کل ﷺجس نے غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا

سرور کونین ﷺکی آمد سے عرب سے جہالت کے اندھیرے چھٹےآپ ﷺ کی تعلیمات کی بدولت خون کے دشمن بھائی بھائی بن گئے،اللہ نے آپ ﷺ کو تما م جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجاآپ ﷺ بڑے سے بڑے دشمن کو بھی معاف فرما دیا کرتے تھے

اتباع مصطفیٰ ﷺ کی برکات ،آپ ﷺ کا پیروکار اللہ تعالیٰ کا مجبوب ہے

’’اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔ (آل عمران: آیت31)محبت ایک مخفی چیز ہے کسی کو کسی سے محبت ہے یا نہیں اور کم ہے یا زیادہ، اس کا کوئی پیمانہ بجز اس کے نہیں کہ حالات اور معاملات سے اندازہ کیا جائے۔ محبت کے کچھ آثار اور علامات ہوتی ہیں ان سے پہچانا جائے، یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے محبت کے دعویدار اور محبوبیت کے متمنی تھے وہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان آیات میں اپنی محبت کا معیار بتایا ہے۔ یعنی اگر دنیا میں آج کسی شخص کو اپنے مالک حقیقی کی محبت کا دعویٰ ہو تو اس کے لئے لازم ہے کہ اس کو اتباعِ محمدیﷺکی کسوٹی پر آزما کر دیکھ لے، سب کھرا کھوٹا معلوم ہوجائے گا۔

آمد مصطفیٰ ﷺ مرحبا مرحبا ،نبی کریم ﷺ کی آمد تمام جہانوں کے لئے رحمت

’’اور بیشک آپﷺ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں‘‘۔ (القلم ۶۸:۴)اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ربیع الاوّل شریف ہے، اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ابتداء میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع یعنی فصل بہار کا آغاز تھا، یہ مہینہ فیوض وبرکات کے اعتبار سے بہت ہی افضل و اعلیٰ ہے کیوں کہ اس ماہ مبارک میں باعث تخلیق کائنات فخر موجودات حضور ﷺ نے دنیا میں قدم رنجہ فرمایا۔ 12 ربیع الاوّل بروز پیر مکۃ المکرمہ کے محلہ بنی ہاشم میں آپﷺ کی ولادت باسعادت صبح صادق کے وقت ہوئی۔

نعت ِ شریف

رہتے تھے ان کی بزم میں یوں با ادب چراغ,جیسے ہوں اعتکاف کی حالت میں سب چراغ,جتنے ضیا کے روپ ہیں، سارے ہیں مستعار

بگل بج گیا،سٹیج سج گیا، 20 ورلڈ کپ کا آغاز،27 روزہ ٹورنامنٹ میں 45 میچ کھلیے جائیں گے،فاتح ٹیم کو 16 لاکھ ڈالرز ملیں گے

’’آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ2021ء ‘‘16ٹیموں پر مشتمل ہے، جو ٹاپ ٹین ٹیموں اور ٹی 20 ورلڈ کپ کوالیفائر کے ذریعے منتخب ہونے والی چھ دیگر ٹیموں پر مشتمل ہے۔یہ ایونٹ عام طور پر ہر دو سال بعدہوتا ہے، ٹورنامنٹ کا 2020ء کا ایڈیشن بھارت میں شیڈول تھا، لیکن کورونا کی وجہ سے ٹورنامنٹ کو 2021 ء تک ملتوی کرکے متحدہ عرب امارات اوراومان منتقل کر دیا گیا۔

شہید ملت لیاقت علی خان،عظیم رہنما،صاحب فراست حکمراں

آپؒ نے تمام معاشی پالیسیوں کا رخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کردیا تھا،بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد تحریک پاکستان میں دوسرا بڑا نام لیاقت علی خانؒ کا ہے