نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کااجلاس،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- اجلاس کی صدارت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نےکی،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- اجلاس میں تینوں سروسزکےچیفس نےشرکت کی، آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- اجلاس میں سیکیورٹی امور پر تبادلہ خیال ،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- بدلتی صورتحال اورپیشرفت کےتناظرمیں تذویراتی اورروایتی پالیسیوں پربات چیت
  • بریکنگ :- خطےمیں دیرپاترقی کیلئےافغانستان میں امن کی اہمیت پرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- عسکری قیادت کادفاعی افواج کی تیاریوں پرمکمل اطمینان کااظہار،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- ہر قسم کےخطرات کامنہ توڑ جواب دینےکےلیےمسلح افواج کے عزم کا اعادہ
  • بریکنگ :- دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسزکی قربانیوں کوسراہاگیا
  • بریکنگ :- جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرزقومی امنگوں کےمطابق کام کررہاہے،جنرل ندیم رضا
Coronavirus Updates

سچ جھوٹ

خصوصی ایڈیشن

تحریر : زبیدہ عنبرین


بہت عرصہ پہلے کی بات ہے لبنان میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہاں کے لوگوں کو اپنے بادشاہ سے بہت محبّت تھی۔ بادشاہ بھی رعایا کا بیحد خیال رکھتا تھا۔ وہ اپنے بزرگوں کی تقلید کرتے ہوئے روزانہ سادہ کپڑوں میں شہر کی گلیوں میں گھوم پھر کر لوگوں کے بارے میں معلوم کرتا تھا کہ لوگ کس طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر کوئی دُکھی ہوتا تو بادشاہ اس کی مدد بھی کر دیا کرتا۔

ایک رات بادشاہ حسب ِمعمول شہر کی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ چلتے چلتے وہ جیل کے دروازے تک پہنچ گیا۔ جیل کے پاس سپاہی ایک چور کو پکڑ کر اندر لے جا رہا تھا۔ بادشاہ نے سوچا آج جیل کے اندر جا کر دیکھنا چاہیے کہ یہاں کیا ہوتا ہے۔

یہ سوچ کر بادشاہ جیل کے دروازے کے پاس پہنچ گیا۔ بادشاہ کو دیکھتے ہی سپاہیوں نے پہچان لیا اور تعظیم سے سر جھکا دیے۔ بادشاہ نے جب سپاہیوں کو بتایا کہ وہ جیل کا معائنہ کرنا چاہتا ہے تو سپاہی بادشاہ کو لے کر اندر چلے گئے۔

قیدیوں کو جب پتا چلا کہ بادشاہ سلامت خود چل کر اُن سے ملنے آئے ہیں تو وہ سب بادشاہ کے ارد گرد جمع ہو گئے۔ بادشاہ نے باری باری ان سے ان کے حالات پوچھے۔ بادشاہ نے ایک قیدی سے پوچھا، ’’تمہیں کس جرم کی سزا ملی ہے؟‘‘

وہ آدمی کہنے لگا، ’’بادشاہ سلامت! میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ میں بیگناہ ہوں۔ مجھے چوری کے الزام میں پکڑا گیا ہے حالانکہ میں نے زندگی میں کبھی چوری نہیں کی۔‘‘

بادشاہ نے جب دوسرے قیدی سے پوچھا کہ تمہارا قصور کیا ہے؟ تو اُس نے بھی روتے ہوئے بادشاہ سے کہا کہ میں بے قصور ہوں، میں نے کوئی جرم نہیں کیا لیکن سپاہی پھر بھی مجھے پکڑ کر لے آئے ہیں۔ غرض جتنے بھی قیدی تھے سبھی نے بادشاہ کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ بیگناہ ہیں۔ بادشاہ سلامت سب کی باتیں سنتے رہے اور مسکراتے رہے۔ اِسی اثنا میں بادشاہ کی نظر ایک ایسے قیدی پر پڑی جو سر جھکائے الگ بیٹھا تھا۔ بادشاہ نے سپاہیوں سے کہا کہ اس آدمی کو میرے پاس لاؤ، یہ کیوں منہ چھپائے بیٹھا ہے؟ سپاہی جب اس آدمی کو بادشاہ کے پاس لائے تو بادشاہ نے پوچھا، ’’اے نوجوان! کیا بات ہے؟ تم منہ چھپائے کیوں بیٹھے ہو؟‘‘

اس آدمی نے روتے ہوئے کہا، ’’بادشاہ سلامت ! میں بیحد گناہ گار ہوں۔ میری  خطائوں نے مجھے اس قابل نہیں چھوڑا کہ میں کسی کو منہ دکھا سکوں۔‘‘

بادشاہ نے کہا، ’’ہمیں بتاؤ تو سہی تم نے کیا جرم کیا ہے؟‘‘

اس شخص نے کہا، ’’میں ایک اچھا آدمی تھا۔ ہمیشہ ایمانداری سے کام کرتا تھا۔ ایک دن نجانے کیوں میرے دل میں شیطان نے گھر کر لیا اور میں نے ایک آدمی کے پیسے چرا لیے اور یوں مجھے جیل بھیج دیا گیا۔‘‘

بادشاہ نے سوچتے ہوئے کہا ’’یہاں یہ سب بے گناہ ہیں سوائے تمہارے۔ صرف تم ہی ایک ایسے آدمی ہو جو  اپنے آپ کو گنا ہگاربتارہاہے۔ لہٰذا اتنے بے گناہ لوگوں میں ایک گناہ گار کو نہیں رکھنا چاہیے۔ میں تمہیں رہا کرتا ہوں۔‘‘

کچھ عرصہ گزر گیا۔ ایک بار پھربادشاہ جیل کا معائنہ کرنے آیا اور باری باری قیدیوں سے ملاقات کی۔ اِس دفعہ ہر قیدی نے بادشاہ کو اپنے جرم کی تفصیل بتائی۔ بادشاہ نے یہ سننے کے بعد حکم جاری کیا کہ یہ لوگ واقعی گناہگار ہیں۔ اِنہیں ابھی تک شرمندگی کا احساس نہیں۔ یہ بڑے فخر اور مزے سے اپنے جرائم کی کہانی سناتے ہیں،اِن کی سزا بڑھا دی جائے۔

یہ سن کر وہ لوگ بہت حیران ہوئے اور بادشاہ کے جانے کے بعد اُس کے وزیر سے پوچھنے لگے کہ جب اس شخص نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا تھا تو بادشاہ نے اسے چھوڑ دیا تھا ، جب ہم نے گناہ کا اعتراف کیا ہے تو بادشاہ نے ہمیں مزیدسزا دی ہے۔ یہ سن کر بادشاہ کا وزیر جو بیحد عقلمند تھا اور بادشاہ کے مزاج کو سمجھتا تھا، کہنے لگا ’’پہلے آدمی کو اس لیے چھوڑا گیا کہ اس نے جرم کا اعتراف اس لیے نہیں کیا تھا کہ وہ آزاد ہونا چاہتا تھا بلکہ اس لیے کیا تھا کہ وہ اپنے کیے پہ نادم تھا۔ لیکن تم لوگوں نے پہلی دفعہ بادشاہ کو اپنی بیگناہی کی کہانی سنائی تاکہ وہ تمہیں آزاد کر دے۔ اس دفعہ گناہ کا اعتراف بھی اس لیے کیا کہ شاید بادشاہ تمہیں چھوڑ دے، اس لیے بادشاہ نے تمہیں آزاد نہیں کیا۔‘‘

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

بلوچستان میں سیاسی تبدیلی کے وفاق پر اثرات

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے استعفے کے ساتھ ہی ملک میں سیاسی چہ مگوئیوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ خاص طور پر اس حوالے سے اسلام آباد میں ہر طرف اب ایک ہی موضوع زیر بحث ہے اور وہ یہ کہ کیا بلوچستان میں اس تبدیلی کی ہوا کا وفاق پر بھی کچھ اثر پڑے گا ؟ کیا اب حزب اختلاف کی جماعتیں خاص طور پرن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی تبدیلی کی ہوا سے کچھ فائدہ اٹھانے کیلئے کسی متفقہ لائحہ عمل کا سوچ سکتی ہیں؟پیپلزپارٹی تو شروع سے ہی ن لیگ کو تجویز دیتی رہی ہے کہ وہ پنجاب میں سردار عثمان بزدار کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائیں۔ اگر پنجاب میں کامیابی ملتی ہے تو اس کے بعد وزیراعظم عمران خان کے خلاف بھی ایسی ہی تحریک لائی جا سکتی ہے۔ اگر پنجاب تحریک انصاف کے ہاتھوں سے جاتا ہے تو وفاق کا ٹھہرنا مشکل ہو جائے گا۔ اگر پنجاب اور وفاق میں بلوچستان والی صورتحال نہیں بھی بنتی تو کیا جام کمال کے جانے کا کچھ اثر اسلام آباد پر پڑ سکتا ہے؟

شہباز شریف کی پر اسرار ملاقاتیں۔۔حقیقت کیا ہے؟

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایشوز کے حوالے سے وہی پہلی سی کیفیت، وہی ڈیڈ لاک کی کیفیت طاری ہے۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیاں جن کے وجود کا مقصد قومی و عوامی مسائل کے حوالے سے سفارشات اور حکومت کیلئے ان پر عملدرآمد کا موقع ہوتا ہے لیکن اس حوالے سے بھی کوئی سنجیدگی اور یکسوئی نظر نہیں آتی ہے ۔ عام تاثر یہ ہے کہ اگر ایوانوں کے اندر قوم و ملک کو در پیش مسائل اور دیگر خارجی اور داخلی ایشوز پر سیر حاصل بحث ہو تو یقینا مسائل کے حل میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔ سیاسی اتار چڑھائو اور جمہوری امور پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر جمہوریت اور جمہوری عمل کو چلنا ہے تو سیاسی قوتوں کو ہر مسئلہ پر پارلیمنٹ کو بروئے کار لانا ہوگا اور خود اپوزیشن کو بھی پارلیمنٹ کا رخ کرنا پڑے گا۔

حکومت کے خلاف اپوزیشن کی احتجاجی تحریک میں تیزی ۔۔۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تین سال میں اپوزیشن سرتوڑ کوشش کے باوجود جو نہ کرسکی، وہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں نے حالیہ چند روز میں کر دیاہے۔ لگتا ہے اپوزیشن سے زیادہ حکومت اپنے لئے پریشانیاں کھڑی کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اوگرا کی بھیجی جانے والی پانچ روپے فی لیٹر اضافے کی سمری کے برخلاف یکدم 10 روپے49 پیسے اضافے پر عوام حکومت سے شدید ناراض ہے۔ صرف پٹرولیم مصنوعات کی بات نہیں کراچی سے خیبر تک ہوش ربا مہنگائی نے عام آدمی کی مشکلات بے انتہا بڑھا دی ہیں۔ چینی 113 روپے، چکی کا آٹا80 روپے کلو فروخت ہورہا ہے،تین برسوں میں مہنگائی نے 70سال کے ریکارڈ توڑ دیئے، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں دگنی ہوگئی ہیں۔تین برس میں بجلی کے نرخ میں 57 فیصد اضافہ ہوا، پٹرول کی قیمت میں تین سال میں 49 فیصد اضافہ ہوا، گھی کی فی کلو قیمت 108 فیصد اضافے سے 356 روپے تک پہنچ گئی ہے۔خوردنی تیل کا پانچ لیٹر کا کین 87 فیصد اضافے سے 1783 روپے کا ہو گیا ہے۔ دودھ کی قیمت 130 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ مہنگائی صرف پاکستان کا نہیں عالمی مسئلہ ہے، ساتھ ہی یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ ساری ذمہ داری صرف وفاق کی نہیں صوبائی حکومتیں بھی اس کے تدارک کیلئے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کررہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں ہو ں یا گراں فروشی کے خلاف قوانین ،عملدرآمد کہیں بھی نہیں ہورہا اور خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

بلدیاتی انتخابات: سیاسی جوڑ توڑ عروج پر

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مہنگائی میں کمی لانے کیلئے کئی بار اعلان کرچکے ہیں لیکن صوبے کی موجودہ معاشی صورتحال میں ان اعلانات پر عملدرآمد مشکل ہے ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی معاشی ٹیم کی کارکردگی بھی اس حوالے سے کچھ خاص نہیں ۔موجودہ حکومت میں کئی پالیسیاں تو بنائی گئی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ ایک قانون ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کیلئے بھی پاس کیاگیاتھا جس کی بڑی شدومد سے تشہیر بھی کی گئی تھی لیکن اس قانون کے تحت ابھی تک کوئی بڑی کارروائی نہیں کی جاسکی۔ موجودہ حالات میں ذخیرہ اندوزوں کے بھی وارے نیارے ہیں۔ مہنگائی کے باعث نہ صرف وفاقی بلکہ صوبائی حکومت کی بھی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔

عبدالقدوس بزنجو ان۔۔۔جام کمال آوٹ!،آئندہ کیا صورتحال ہوگی!

بلوچستان کا سیاسی بحران آخر کار حل ہو گیا ہے۔جام کمال خان اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے 13 گھنٹے قبل ہی مستعفی ہو گئے ۔وہی جام کمال خان جو خود اور انکے حامی وزراء و ترجمان بارہا یہ کہتے رہے کہ جام کمال خان کسی صورت عدم اعتماد سے قبل مستعفی نہیں ہونگے اور اس تحریک کاجم کر مقابلہ کرینگے ۔اگر ہم جام کمال خان کے خلاف اس تحریک کی تاریخ پر نظر ڈالیں توبلوچستان میں جاری سیاسی بحران کے آثار سب سے پہلے رواں سال جون میں نمایاں ہوئے تھے۔ جب اپوزیشن اراکین نے صوبائی اسمبلی کی عمارت کے باہر کئی دنوں تک جام کمال خان کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام تھا کہ صوبائی حکومت نے بجٹ میں ان کے حلقوں کیلئے ترقیاتی فنڈز مختص نہیں کئے ۔جس کے بعد یہ احتجاج بحرانی شکل اختیار کر گیا اور بعد میں پولیس نے احتجاج کرنے والے حزب اختلاف کے 17اراکین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

آزاد کشمیر: پی ٹی آئی اندرونی بحران کا شکار!

آزاد جموں و کشمیر میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف میں تقسیم واضح ہوگئی ہے ۔ حکومت پر وزیر اعظم سردار عبدا لقیوم خان نیازی تاحال اپنی گرفت مضبوط نہیں کر سکے۔ کابینہ تقسیم نظر آرہی ہے ۔ سینئر وزیر سردار تنویر الیاس جو کہ پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں وکشمیر کے صد ر بھی ہیں پارلیمانی جماعت میں خاموش اکثریت اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر چوہدری انوار الحق کو مہاجرین کے ارکان اسمبلی کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے بعض ممبران کی بھی خاموش حمایت حاصل ہے ۔ وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر سردار عبدا لقیوم نیازی میر پور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئر مین کی تعیناتی میں صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے تحفظات کو دور کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ میر پور ،صدر آزاد جموں وکشمیر کا آبائی حلقہ ہے اور اس شہر کے اہم ادارے میں چیئر مین کی تقرری پر ان کو اعتماد میں نہ لینے سے پارٹی کے اندر تقسیم مزید واضح ہو گئی ہے۔