نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 20 اکتوبرسے پورے ملک میں مظاہرے شروع کردیئےجائیں گے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- 20 اکتوبرسے ریلیاں اورمظاہرے شروع ہوجائیں گے،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- انتخابی اصلاحات کی مجوزہ ترمیم کومسترد کرتے ہیں،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- دھاندلی سےآنیوالی حکومت ترمیم نہیں کرسکتی،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- الیکٹرانک ووٹنگ مشین آرٹی ایس کا دوسرا نام ہے،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- اسلام آباد:ہمارا مطالبہ عام الیکشن کا ہے،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- بلدیاتی انتخابات کا کوئی جوازنہیں ہے،مولانا فضل الرحمان
Coronavirus Updates

ایمان داری کا پھل

خصوصی ایڈیشن

تحریر : پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی


ایک بادشاہ تھا جسے طرح طرح کے پرندے اور جانور پالنے کا شوق تھا۔ وہ سال میں ایک بار جانور اور پرندے پکڑنے خود بھی جنگل جاتا تھا۔ اس کے پاس ہزاروں طرح کے جانور اور پرندے تھے۔ایک بار بادشاہ جنگل گیا۔ اس نے کئی طرح کے طوطے اور دوسرے پرندے پکڑے۔ بادشاہ کی نگاہ ایک ہرن پر پڑی۔ اس نے پھندا ڈالنے کی رسی ہاتھ میں لی اور گھوڑا دوڑا دیا۔ ہرن بھاگتا بھاگتا جھاڑیوں میں گم ہو گیا۔ بادشاہ کے ہاتھ نہیں لگا۔ وہ ناامید ہو کر لوٹنے لگا لیکن راستہ بھول گیا۔ ہرن کے پیچھے پیچھے وہ اپنے ساتھیوں سے نہ جانے کتنی دور آ گیا تھا۔ اس کے چاروں طرف پیڑ ہی پیڑ تھے۔ اس نے سوچا یہاں جنگل میں رکنا ٹھیک نہیں ہے۔ کسی ایک سمت آگے بڑھوں۔ شاید راستہ مل جائے اور شاہی محل پہنچ جاؤں یا اپنے ساتھیوں سے جا ملوں۔یہ سوچ کر بادشاہ ایک سمت چل پڑا۔

بادشاہ کو چلتے چلتے بہت دیر ہو گئی ، مگر کوئی راستہ اب تک نہیں ملا تھا۔ سورج بھی غروب ہو چلا تھا۔

لیکن سورج ڈوبنے سے پہلے بادشاہ کو ایک پگڈنڈی مل گئی۔ وہ گھوڑا موڑ کر پگڈنڈی پر تیزی سے چلنے لگا۔

کچھ دور جانے کے بعد اسے اْجالا نظر آیا۔ بادشاہ اسی طرح بڑھتا گیا ، قریب پہنچنے پر اس نے دیکھا کہ ایک جھونپڑی کے آگے ایک کسان اور اس کی بیوی بیٹھے ہوئے تھے۔

کسان بادشاہ کو دیکھ کر حیرت میں پڑ گیا  اور بولا ’’ جہاں۔۔۔ پناہ۔۔۔آ۔۔۔ آپ۔۔۔ یہاں‘‘۔

’’میں پرندے پکڑنے آیا تھا۔ ایک ہرن کے پیچھے بھاگتے ہوئے راستہ بھول گیا ہوں۔ اب رات میں یہیں گزارنا چاہتا ہوں ، سویرے چلا جاؤں گا۔‘‘بادشاہ بولا۔

کسان بے چین ہو کر بولا۔ ’’جہاں پناہ !یہ سب آپ ہی کا دیا ہوا ہے۔ مگر آپ یہاں کیسے ٹھہریں گے؟ میرے پاس تو ایک اچھا بستر بھی نہیں ہے‘‘۔

’’تو کیا ہوا‘‘ بادشاہ نے کہا۔’’اگر میں کسان ہوتا تو کیا شاہی محل ہی کے ملائم بستروں پر سوتا‘‘؟

کسان نے بادشاہ کا گھوڑا ایک درخت سے باندھ دیا  اور اس کے کھانے کو کچھ گھاس بھی ڈال دی۔

بادشاہ نے آگ تاپتے ہوئے کسان سے پوچھا۔’’تمہارا نام کیا ہے‘‘ ؟

’’میرا نام کلوا ہے جہاں پناہ۔‘‘

’’اچھا کچھ کھانے کا سامان ہو تو لے آؤ، بھوک لگ رہی ہے۔‘‘

’’حضور! میرے پاس آپ کے کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ،چند سوکھی روٹیاں ہیں ، وہ آپ کھا نہیں سکتے‘‘۔

’’میں کھا لوں گا، تم لے آؤ۔‘‘

کسان صبح کی بنی ہوئی روٹیاں لے آیا۔

بادشاہ نے روٹی کھا کر پانی پیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ تھکاوٹ کی وجہ سے اْسے جلد ہی نیند آ گئی۔

صبح جانے کی تیاری کرتا ہوا بادشاہ سے بولا۔ ’’کلوا ! تم کبھی محل کی طرف آؤ تو مجھ سے ضرور ملنا۔ اب راستہ بتا دو ، میں چلوں‘‘۔

کلوا جب بادشاہ کو راہ دکھا کر لوٹا تو اس نے بیوی کے ہاتھ میں سونے کی زنجیر دیکھی۔ بیوی بولی۔’’جس جگہ بادشاہ سلامت سوئے تھے ، وہاں یہ پڑی تھی‘‘۔

کسان نے بیوی کے ہاتھ سے زنجیر لے لی اور بولا۔’’ جلدی سے دو چار روٹیاں بنا دو میں ابھی شاہی محل جانا چاہتا ہوں‘‘۔

’’کیوں‘‘؟

’’آئی ہوئی دولت کو کیوں ٹھکراتے ہو‘‘؟ اس کی بیوی بولی۔ ’’ہم نے چوری تھوڑی کی ہے۔اسے بیچ کر آرام کی زندگی گزاریں گے‘‘

کلوا نے زنجیر کو اْلٹ پلٹ کر دیکھا۔ اس میں ایک چمکدار ہیرا بھی لگا ہوا تھا۔ بیوی کی بات سن کر وہ غصے سے بولا۔ ’’اپنی زبان کو لگام دو۔ یہ زنجیر تیری محنت کی کمائی کی ہے یا میری محنت کی کمائی کی؟ میں اسے ضرور واپس کرنے جاؤں گا۔ اب مزید کچھ بولنے کی ضرورت نہیں۔ چْپ چاپ روٹیاں بنا دو‘‘۔

اسی دن شام تک کلوا شاہی محل پہنچ گیا۔ پہرے دار نے اسے صدر دروازے پر ہی روک دیا۔ وہ اسے اندر جانے نہیں دیتا تھا۔ اس نے پہرے دار کی بہت خوشامد کی۔ آخر میں اس نے کہا۔ ’’اچھا مجھے اندر مت جانے دو۔ بادشاہ سلامت سے اتنا کہہ دو کہ کل شام والا کلوا آیا ہے‘‘۔

پہرے دار مان گیا اور اس نے خبر اندر بھجوا دی۔ فوراً ہی کلوا کو اندر بلوایا گیا۔

کلوا نے فرشی سلام کرنے کے بعد زنجیر بادشاہ کے سامنے رکھ دی۔ بادشاہ خوش ہو کر کلوا سے بولا۔’’میں تمہاری ایمانداری سے بہت خوش ہوں۔ یہ زنجیر میں نے جان بوجھ کر چھوڑی تھی‘‘۔

’’جی حضور جان بوجھ کر ‘‘؟

’’ہاں! میں تمہاری ایمانداری کا امتحان لینا چاہتا تھا۔ تم کامیاب ہو گئے ہو۔ اس لئے انعام کے مستحق ہو۔ دیکھو ، ایسا ہے کہ شاہی محل میں ایک خزانچی کی ضرورت ہے۔ میں تمہیں اس عہدے پر رکھنا چاہتا ہوں ، کیا تمہیں منظور ہے‘‘؟

’’حضور کا غلام ہوں ، جو حکم دیں ، ویسے جہاں پناہ اس عہدے کے لائق میں نہیں ہوں۔ پھر بھی آپ جو کہیں گے میں تعمیل کروں گا‘‘۔

اور دوسرے دن کلوا نے خزانچی کا عہدہ سنبھال لیا۔کسی نے سچ کہا ہے کہ ایمانداری کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

بگل بج گیا،سٹیج سج گیا، 20 ورلڈ کپ کا آغاز،27 روزہ ٹورنامنٹ میں 45 میچ کھلیے جائیں گے،فاتح ٹیم کو 16 لاکھ ڈالرز ملیں گے

’’آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ2021ء ‘‘16ٹیموں پر مشتمل ہے، جو ٹاپ ٹین ٹیموں اور ٹی 20 ورلڈ کپ کوالیفائر کے ذریعے منتخب ہونے والی چھ دیگر ٹیموں پر مشتمل ہے۔یہ ایونٹ عام طور پر ہر دو سال بعدہوتا ہے، ٹورنامنٹ کا 2020ء کا ایڈیشن بھارت میں شیڈول تھا، لیکن کورونا کی وجہ سے ٹورنامنٹ کو 2021 ء تک ملتوی کرکے متحدہ عرب امارات اوراومان منتقل کر دیا گیا۔

شہید ملت لیاقت علی خان،عظیم رہنما،صاحب فراست حکمراں

آپؒ نے تمام معاشی پالیسیوں کا رخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کردیا تھا،بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد تحریک پاکستان میں دوسرا بڑا نام لیاقت علی خانؒ کا ہے

قائد ملتؒ، مسلم قومیت کے نقیب ،لیاقت علی خان ؒ کا مکا قومی اتحاد کی علامت بن گیا

’’لیاقت علی خانؒ نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں دن رات ا یک کر دئیے وہ اگرچہ نوابزادہ ہیں لیکن وہ عام افراد کی طرح کام کرتے ہیں ،میں دوسرے نوابوں کو بھی مشورہ دوں گا کہ ان سے سبق حاصل کریں‘‘:قائد اعظمؒ

نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے، اسلامی معاشرہ اور ہماری ذمہ داریاں ،اسلام نے ہر فرد کو آداب و اطوار کے ساتھ زندگی گزارنے کا پابندکیا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، لہٰذا نہ خود اس پر ظلم و زیادتی کرے نہ دوسروں کو ظالم بننے کے لیے اس کو بے یارو مددگار چھوڑے، نہ اس کی تحقیر کرے۔ آپصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تین مرتبہ سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے‘‘۔ کسی شخص کے لیے یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کی تحقیر کرے، ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے اس کا خون، اس کا مال اور اس کی آبرو‘‘(مسلم شریف)۔

محبت اور دشمنی صرف اللہ کیلئے ،ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ’’جس نے اللہ کے لیے کسی سے محبت کی اور اللہ ہی کے لیے دشمنی رکھی اور اللہ ہی کے لیے دیا (جس کسی کو کچھ دیا) اور اللہ ہی کے لیے منع کیا اور نہ دیا تو اس نے اپنے ایمان کی تکمیل کر لی‘‘(ابوداؤد)۔ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد، اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اس لیے مسلمان کی کوشش اپنے ہر قول و فعل سے یہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فرمان سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کام کرنے کی وجہ سے ایمان کامل ہوتا ہے یعنی جس شخص نے اپنی حرکات و سکنات، اپنے جذبات اور احساسات اس طرح اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کر دیئے کہ وہ جس سے تعلق جوڑتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہی جوڑتا ہے اور جس سے تعلقات توڑتا ہے اللہ تعالیٰ ہی کے لیے توڑتا ہے۔ جس کو کچھ دیتا ہے اللہ ہی کے لیے دیتا ہے اور جس کو دینے سے ہاتھ روکتا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے۔

اسلام میں تجارت کا تصور،نبی کریمﷺ نے تجارت میں بددیانتی کو سخت نا پسند فرمایاہے

اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے تاجر پر لازم ہے کہ وہ شے کی کوالٹی کے متعلق صحیح معلومات خریدار کو بتا دے اور کسی چیز کے کسی بھی نقص کو مت چھپائے۔ اگر چیز میں کوئی نقص پڑ گیا ہو تو وہ خریدار کو سودا طے کرنے سے پہلے آگاہ کر دے۔ اسلامی تاریخ میں ہمیں کاروباری دیانت کی سیکڑوں مثالیں ملتی ہیں۔ سودا طے ہوتے وقت فروخت کار خریدار کو مال میں موجود نقص کے متعلق بتانا بھول گیا یا دانستہ چھپا گیا۔ بعد میں جب فروخت کار کو یاد آیا تو وہ میلوں خریدار کے پیچھے مارا مارا پھرا اور غیر مسلم، مسلم تاجر کی اس دیانت داری کو دیکھ کر اسلام لے آیا۔ انڈونیشیا کے باشندے دیانتدارمسلم تاجروں کے ذریعے ہی حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے۔