نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- عدالتی حکم پرکل سےموٹروےایم 2پرایم ٹیگ کےبغیرگاڑیوں کےداخلےپرپابندی
  • بریکنگ :- راوی ٹال پلازہ سےجوائن ہونےوالی تمام موٹرویزپرایم ٹیگ کااطلاق ہوگا،آئی جی
  • بریکنگ :- محفوظ سفراورماحولیاتی آلودگی کم کرنےمیں شہری تعاون کریں،آئی جی موٹروےپولیس
Coronavirus Updates

جس کا کام ، اسی کو ساجھے

خصوصی ایڈیشن

تحریر : کاشف علی


بادشاہ کا ایک عزیر ترین حجام تھا۔یہ روزانہ بادشاہ کے پاس حاضر ہوتا اور دوسے تین گھنٹے اس کے ساتھ رہتااسی دوران بادشاہ اپنی سلطنت کے امور بھی سر انجام دیتا رہتااورحجامت بھی کرواتا رہتا۔ایک دن حجام نے بادشاہ سے عرض کی ’’ حضور میں وزیر کے مقابلے میں آپ سے زیادہ قریب ہوں اور آپ کا وفا دار بھی ہوں تو آپ مجھے اس کی جگہ وزیر کیوں نہیں بنا دیتے؟‘‘۔

بادشاہ حجام کی بات سن کر مسکرانے لگااور جواب میں کہا ’’ میں تمہیں وزیر بنانے کے لئے تیار ہوں لیکن وزیر بننے کے لئے تمہیں ایک امتحان سے گزرنا ہوگا‘‘ ۔حجام نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے عرض کیا ’’آپ حکم کیجئے بادشاہ سلامت ،میں ہر امتحان کے لئے تیار ہوں‘‘۔حجام کی یہ بات سن کر بادشاہ بولا ’’ ہماری بندرگاہ پر ایک بحری جہاز آیا ہے مجھے اس کے بارے میں معلومات لا کر دو‘‘۔حجام حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بندرگاہ پر گیا اور واپس آکر بولا ’’ جی بادشاہ سلامت جہاز وہاں کھڑا ہے ‘‘۔بادشاہ نے پوچھا ’’یہ جہاز کب آیا ‘‘ حجام دوبارہ بند گاہ کی جانب بھاگااور واپس آکر بتایا ’’ دو دن پہلے آیا ہے ‘‘ بادشاہ نے پوچھا اچھا یہ بتاؤ جہاز کہاں سے آیا ہے‘‘؟۔یہ سن کر حجام ایک مرتبہ پھر بندر گاہ کی طرف بھاگاواپس آیا تو بادشاہ نے پوچھا کہ ’’ جہاز پر کیا لدا ہوا ہے ‘‘ حجام پھر سمندر کی طرف بھاگ کھڑاہوا، ججام شام تک محل اور سمند ر کے چکر لگاتا رہا اور تھک گیا۔

اس کے بعد بادشاہ نے وزیر کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ ’’ کیا سمندر پر کوئی جہاز کھڑا ہے‘‘؟ ۔وزیر نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا ’’بادشاہ سلامت دو دن پہلے ایک تجارتی جہاز انگلستان سے ہماری بندرگاہ پر آیا تھا ،اس میں جانور،خوراک اور کپڑا لدا ہوا ہے،اس کے کپتان کا نام مائیکل ہے ،یہ چار دن مزید یہاں ٹھہرے گا ، یہاں سے ایران جائے گا اور وہاں ایک ماہ رکے گا ، اس میں 209لوگ سوار ہیں اور میرا مشورہ ہے کہ ہمیں بحری جہاز پر ٹیکس بڑھا دینا چاہئے‘‘۔بادشاہ نے یہ سن کر حجام کی طرف دیکھا۔حجام نے چُپ چاپ استرا تھاما اور عرض کیا ’’ بادشاہ سلامت کل کس وقت آؤں حجامت بنانے ‘‘؟۔

بچو اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے ،مطلب آپ جس کام میں ماہر ہیں ، آپ کو وہی کام کرنا چاہئے، دوسروں کے کام میں دخل نہیں دینا چاہئے کیوں کہ ہر شخص ہر طرح کا کام نہیں کر سکتا ، ہرانسان اپنی صلاحیت کے مطابق ہی کام سر انجام دیتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)