نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 8 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 761 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 431 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 47 ہزار 84 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 0.91 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates

کیا آپ کا بچہ بہت ذیادہ روتا ہے ؟

خصوصی ایڈیشن

تحریر : جگن کاظم


سچ بتائوں ایک رونے والا بچہ سخت ذہنی اذیت ہے۔جب میں کسی بچے کو روتا ہوا دیکھتی ہوں تو میرا دل ٹوٹ جاتا ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان کے پاس اپنے احساسات کو اپنے والدین تک پہنچانے کا اس کے علاوہ کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ آپ جانتے ہی ہوں گے کہ جب لوگ کسی بچے کے بارے میں کہتے ہیں ’’یہ تو ایک رونے والا بچہ ہے‘‘ یا یہ کہ ’’یہ بچہ تو بڑا ٹیڑھا ہے بھئی‘‘۔ میرے خیال میں یہ جھوٹ ہے اور بچوں کے ساتھ زیادتی ہے۔بطور والدین آپ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ایک بچہ اس طرح سے اپنی ضروریات کا اظہار نہیں کر سکتا جس طرح آپ کا بالغ دماغ سمجھ سکتا ہے۔ وہ آپ کی توجہ حاصل کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ روہی سکتا ہے ۔

 سب سے پہلے تو بنیادی نکتہ ذہن میں رکھئے کہ اگر آپ کا بچہ رو رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسے کچھ چاہئے۔ بعض ایسی عمومی وجوہات ہیں جن کے باعث بچے روتے ہیں۔جب وہ  بھوکے ہوں، جب ان کا ڈائپر خراب ہو چکا ہو، جب وہ سونا چاہتے ہوں ، جب وہ بہت زیادہ تھکے ہوئے ہوں۔ اس لئے جب بھی بچہ رونا شروع کرے تو فوراً یہ چیک کریں کہ کیا اس کا ڈائپر تبدیل ہونے والا ہے، اسے بھوک تو نہیں لگی، اس کا پیٹ چیک کریں کہ کہیں گیس تو نہیں ہے، یہ چیک کریں کہ درجہ حرارت بہت تیز یا کم تو نہیں ہے۔ اسے بیماری کی کوئی علامت تو نہیں ہے۔ اردگرد کے ماحول کا شور کم کرنے کا علاج یہ ہے کہ سکون آور میوزک لگا دیا جائے تاکہ وہ سو سکے، یا اسے باہر کا چکر لگوا لائیں، یا محض کچھ دیر کے لئے خاموشی کے ساتھ سینے سے لگا لیں۔ اگر مندرجہ بالا کیفیات کے علاوہ آپ کا بچہ رو رہا ہے تو اسے ہینڈل کرنے کے کچھ طریقے ہیں۔

بچے کے اشارے سمجھئے

اپنے بچے کی عمر کا پہلا برس اسے جاننے میں گزاریے، یہ نوٹ کیجئے کہ کیا چیز اسے خوش کرتی ہے اور کس کام سے وہ اداس ہو جاتا ہے۔ بعض بچے جب رو رہے ہوں تو وہ یہ چاہتے ہیں کہ انہیں گود میں اٹھایا جائے جبکہ بعض یہ بالکل پسند نہیں کرتے۔ بعض بچے اسی وقت رونا بند کر دیتے ہیں جب آپ ان کے پاس جاتے ہیں۔ جب کہ بعض بچے نا صرف شدت سے رونا شروع کر دیتے ہیں ۔ ہر بچہ مزاج کا مختلف ہوتا ہے، اسی لئے آپ کو یہ جاننا ہے کہ آپ کا بچہ کس طرح چپ ہو گا اور یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ اس پر توجہ دیں گی۔

وہ آپ سے سیکھ رہا ہے

ہو سکتا ہے یہ امر آپ کے لئے تشویش ناک ہو کہ آپ کا بچہ آپ سے مستقل طور پر سیکھ رہا ہوتا ہے۔ آپ کیسے بولتی ہیں، کس طرح بی ہیو کرتی ہیں، کیسے رسپانس دیتی ہیں۔ جب آپ اپ سیٹ ہوتی ہیں تو کیا کرتی ہیں ۔ جب آپ خوش، پرسکون اور مسرور ہوتی ہیں تب آپ کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔آپ اور آپ کا شریک حیات بیرونی دنیا سے بچے کا پہلا رابطہ ہوتے ہیں۔اگرچہ بچوں کی اپنی بھی مخصوص شخصیت ہوتی ہے لیکن ان کی اکثر عادات اور رویے اپنے والدین ہی کا عکس ہوتے ہیں۔ اس لئے بچوں کیلئے اچھی مثال قائم کرنے کی کوشش کریں۔ 

(کتاب’’ماں کے معاملے‘‘ سے اقتباس)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)

اسوئہ حسنہ کی روشنی میں فلاح معاشرہ میں خاندانی زندگی کا کردار ،گھریلو زندگی میں صلح جو ہونے کا براہ راست اثر معاشرے پر پڑتا ہے

نبی اکرم ﷺ نے ہجرت مدینہ کے بعد ایک معتدل، انسان دوست اور مستحکم معاشرہ کی بنیاد رکھی۔ معاشرہ کی ترقی و خوش حالی کا انحصار افراد کے رویوں پر ہے۔ افراد کے رویے حکومت سازی، اداروں کے استحکام بقائے باہمی اور دیگر معاملات کی سمت، ضابطے اور منزل کا تعین کرتے ہیں۔ افراد کے فکری اور اخلاقی رویوں کی تشکیل کا بنیادی محرک عائلی زندگی ہے۔ عائلی زندگی کو اسلام میں بنیادی تربیتی ادارہ کی حیثیت حاصل ہے۔ نبی اکرمﷺ نے عائلی زندگی کے جو مقاصد اور حقوق و فرائض متعین فرمائے ان کی اساس اور جامع اثر فلاح معاشرہ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اماتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو، امانت داری ،ایمان کی علامت ، جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ ’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو‘‘ (سورۃ النساء:آیت 58)۔ دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے کہ ’’اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے دغا نہ کرو، اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت کرو‘‘ (سورۃ الانفال :آیت 27)، تاجدار ختم نبوت ﷺ کا ارشاد ہے’’تین باتیں ایسی ہیں کہ جس میں ہوں گی وہ منافق ہو گا اگرچہ نماز، روزہ کا پابند ہی ہو۔ (۱)جب بات کرے تو جھوٹ بولے، (۲)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، (۳)جب امانت اس کے سپرد کی جائے تو خیانت کرے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، رقم 59)