نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کالعدم تنظیم کےلوگ واپس مسجدرحمت اللعالمین ﷺچلےجائیں،شیخ رشید
  • بریکنگ :- پنجاب حکومت جہاں چاہے رینجرزکواستعمال کرسکتی ہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- فرانس کاسفارتخانہ بند نہیں کرسکتے،وزیرداخلہ شیخ رشید
  • بریکنگ :- فرانس کاسفیرپاکستان میں نہیں ہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- کالعدم تنظیم نے راستے کھولنے کا وعدہ پورا نہیں کیا،شیخ رشید
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےسوشل میڈیاپرجھوٹی خبروں کاپھیلاؤروکنےکی ہدایت دی ہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- مولانافضل الرحمان صاحب!حکومت کہیں نہیں جارہی،شیخ رشید
  • بریکنگ :- خدشہ ہےکالعدم قراردی گئی تنظیم عالمی دہشتگردتنظیموں میں نہ آجائے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- پنجاب میں 60روزکیلئےرینجرزتعینات کرنےکااعلان
  • بریکنگ :- آرٹیکل 147کےتحت پنجاب رینجرزکو60روزکیلئےطلب کیا گیا،شیخ رشید
  • بریکنگ :- پنجاب رینجرزکوامن وامان قائم رکھنےکیلئے60روزکااختیاردیاگیا،شیخ رشید
  • بریکنگ :- ان کےکیسزپھرہمارے بس میں نہیں ہوں گے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- سادھوکی میں پولیس پرفائرنگ کی گئی،شیخ رشید
  • بریکنگ :- سادھوکی میں 3اہلکارشہید،70زخمی ہوئے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- مظاہرین کوروکتےہوئے3جوان شہیدہوئے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- 70زخمیوں میں8اہلکاروں کی حالت تشویشناک ہے،شیخ رشید
Coronavirus Updates

آزاد کشمیر :پیپلزپارٹی کی بڑھتی مقبولیت

خصوصی ایڈیشن

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے صدر چوہدری محمد یاسین نے دو انتخابی حلقوں کوٹلی شہر اور چڑ ھو ئی سے دو نشستیں اپنے نام کی تھیں جن میں سے انہوں نے چڑھوئی و الی نشست چھوڑ کر کوٹلی شہر کی سیٹ اپنے پاس رکھی تھی جس کے بعد اس سیٹ پر دوبارہ انتخاب کرایا گیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے چڑھوئی سے پارٹی صدر چوہدری محمد یاسین کے بیٹے چوہدری عامر یاسین کو ٹکٹ دیا جو اس وقت پچیس جولائی کے عام انتخابات کے دوران چڑھوئی انتخابی حلقے میں دو افراد کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار ہیں۔

چڑھوئی کے انتخابی حلقے میں پاکستان پیپلزپارٹی کو ضمنی انتخاب کے دوران سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی کا امیدوار جیل میں تھا دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار شوکت فرید کو وفاقی اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں کی خاموش حمایت بھی حاصل تھی لیکن اس کے باوجود وہ اس انتخابی حلقے میں چوہدری محمد یاسین کے بیٹے چوہدری عامر یاسین کو ہرانے میں ناکام رہے ۔

 ضمنی انتخاب میں چڑھوئی کے عوام نے پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار چوہدری عامر یاسین کو اس کے والد کے مقابلے میں زیادہ ووٹوں سے کامیابی دلوائی۔ اس انتخابی حلقے میں پاکستان تحریک انصاف نے پاکستا ن پیپلزپارٹی کو ٹف ٹا ئم دیا جبکہ مسلم لیگ نواز کے امیدوار کی انتخابی مہم میں پارٹی صدر راجا فاروق حیدر کی موجودگی کے باوجود وہ تیسرے نمبر پر رہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم لیگ نواز کا ووٹ نواز شریف کی ذات کی حد تک تو موجود ہے ۔ اس جماعت کی آزاد کشمیر کی قیادت عوام میں اپنی مقبولیت تیزی کے ساتھ کھو رہی ہے۔ ضمنی انتخابات کے دوران مسلم لیگ نواز آزاد کشمیر کی قیادت منتشر نظر آئی جس سے یہ واضع ہو گیا کہ اس جماعت میں نظم و ضبط کم ہوتا جارہا ہے۔ 

میر پور شہر کے ضمنی انتخاب میں صدرآزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اپنے جواں سال فرزند یاسر سلطان کو قانون ساز اسمبلی میں پہنچانے میں کامیاب ہوگئے ۔ میر پور شہر کی نشست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے صدر آزاد جموں وکشمیر بننے کے بعد خالی ہو گئی تھی اور اس انتخابی حلقے میں بھی مسلم لیگ نواز کے امید وار چوہدری محمد سعید بری طرح ہار گئے حالانکہ اس انتخابی حلقے میں صدر مسلم لیگ نواز راجا فاروق حیدر دو ہفتے تک ڈور ٹو ڈور مسلسل انتخابی مہم چلاتے رہے ۔ضمنی انتخاب میں نواز لیگ کے امیدوار25 جولائی کے عام انتخابات سے بھی کم ووٹ حاصل کر سکے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز آزاد کشمیر کی قیادت اپنا ووٹ بینک بچانے میں بھی بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ میر پور ڈویژن میں پاکستان پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے امیدوار وں کی جیت میں ان کی جماعتوں سے زیادہ حصہ ان کی برادریوں کا رہا ہے ۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور چوہدری محمد یاسین آزاد کشمیر کے سب سے بڑے اور خوشحال جاٹ قبیلے کے لیڈر ہیں اور اس قبیلے کے سرخیل اور سیاست میں متعارف کرانے والے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے والد چوہدری نور حسین جو مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے دست راست تھے ۔ چوہدری نور حسین نے اپنے بیٹے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے ساتھ ساتھ چوہدری محمد یاسین کو نوے کی دہائی میں عملی سیاست میں متعارف کرایا۔ یوں آپ کہہ سکتے ہیں آزاد جموں وکشمیر کے ان دو ضمنی انتخابات میں دراصل اندرون خانہ جاٹ قبیلہ اس بات پر متفق تھا کہ انہوں نے اپنی تیسری نسل کے نمائندوں کو قانون ساز اسمبلی میں پہنچانا ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ہر سینئر حکمران کی یہ خواہش رہی ہے کہ ان کی اولاد بھی ان کے ہمراہ اسمبلی کا حصہ بنے جس میں چوہدری محمد یاسین اور بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اپنے فرزندوں کو قانون ساز اسمبلی میں پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔ یاسر سلطان اور عامر یاسین کے علاوہ سابق وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید بھی اپنے بیٹے قاسم مجید کو حالیہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ سے اپنے آبائی حلقے چکسواری سے الیکشن جتوا کر انہیں قانون سازا سمبلی میں پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔یوں آزاد جموں و کشمیر کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار جاٹ قبیلے کے تین اہم اور سنیئر لیڈر اپنے تینوں جانشین بیٹوں اور سیاسی ورثا کو قانون ساز اسمبلی میں اپنی زندگیوں میں ہی پہنچانے میں کامیاب ہوئے جس سے یقینا اس قبیلے کے اعتماد اور آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی اثر ورسوخ میں دیگر قبائل کے مقابلے میں اضافہ ہو ا ہے ۔ 

اس سے قبل مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری جنرل و سابق اسپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نیلم سے خود الیکشن جیتنے کے ساتھ ساتھ اپنے فرزند اسد علیم شاہ کو مہاجرین مقیم پاکستان کی نشست سے مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر دو ہزار سولہ سے دوہزار اکیس تک قانون ساز اسمبلی میں پہنچانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ 

دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی آزاد جموں و کشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین کی قیادت میں نہ صرف مشکل ضمنی انتخاب جیت گئی بلکہ اس کامیابی سے آزاد جموں و کشمیر میں پارٹی کارکنان کے جوش اور جزبے میں بھی اضافہ ہوا جو کسی بھی اپوزیشن میں رہنے والی سیاسی جماعت کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

27 اکتوبر : یوم سیاہ

وادی کشمیر سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک ، 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج کشمیر میں داخل ہوئی 74 سال سے خونریزی جاری

قرارداد تاسیس یوم سیاہ کی بنیاد

سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر کی روزنامہ ’’دنیا‘‘ کے لئے خصوصی تحریر

مسئلہ کشمیر : کب کیا ہوا؟

26 اکتوبر 1947: مہاراجہ نے بھارت سے مدد چاہتے ہوئے کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیئے ۔

فلموں کی قلت ،سینما شدید بحران کا شکار ،مالکان نے سینما کی بقاء کیلئے 20ورلڈ کپ کا سہارا تلاش کرلیا

گئے برسوں میں ملکی اور غیرملکی فلموں کی کامیابیوں نے ایک عرصے سے روٹھے ہوئے سینما گھروں کے شائقین کو واپس لانے میں جو کردار ادا کیا تھا، وہ گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی وباء کورونا اور سرکاری پابندیوں کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ گھروں تک محدود ہو جانے والے شائقین نے اپنی تفریح کے ذرائع انٹرنیٹ میں تلاش کر لئے۔ جس کی وجہ سے دیگر شعبوں کی طرح فلم انڈسٹری اور سینماانڈسٹری میں بھی شدید معاشی بحران نے جنم لیا۔ فلمیں بننا بند ہوگئیں، جدید سینما انڈسٹری کو فروغ و استحکام دینے کے لئے اربوں روپے کی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری منجمد ہو کر رہ گئی۔جس کی وجہ سے اس شعبے سے وابستہ افراد بیروزگاری کا شکار ہو گئے۔

اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا،احمد راہی کے اردو نغمات بھی لاجواب

عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ احمد راہی نے اعلیٰ درجے کی پنجابی شاعری کے علاوہ بہت خوبصورت پنجابی نغمات لکھے۔ سب سے زیادہ ذکر ان کی جن پنجابی فلموں کا کیا جاتا ہے ان میں ’’یکے والی‘‘، ’’مرزا جٹ‘‘ اور ’’ہیر رانجھا‘‘ شامل ہیں۔ پنجابی نظموں کی ان کی کتاب ’’ترنجن‘‘ اب تک مقبول ہے۔

ٹی وی ڈرامے پاکستانی معاشرے کے عکاس نہیں ،متنازع موضوعات و مناظر پر عوامی تنقید ،پیمرا ان ایکشن

کیا موجودہ ٹی وی ڈرامے ہمارے معاشرے کے عکاس ہیں؟یہ وہ سوال ہے جو تقریباً آج ہر پاکستانی کی زبان پر ہے، ناصرف عوامی حلقوں میں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پاکستانی ڈراموں کو لے کر آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں۔ بلاشبہ پاکستانی ڈرامے اس قدر مادر پدر آزاد ہو چکے ہیں کہ ہر کوئی کانوں کو ہاتھ لگا رہا ہے۔