نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- شائستہ پرویزملک نے 14ہزار498ووٹوں سے اسلم گل کو شکست دی
  • بریکنگ :- 50ہزار936مرداور30ہزار959خواتین نےووٹ کاسٹ کیا،898ووٹ مسترد
  • بریکنگ :- لاہور:9امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں
  • بریکنگ :- نشست (ن)لیگ کےپرویزملک کی وفات کےباعث خالی ہوئی تھی
  • بریکنگ :- این اے 133ضمنی الیکشن،مسلم لیگ (ن) نےمیدان مارلیا
  • بریکنگ :- لاہور:تمام 254پولنگ اسٹیشنزکےغیرحتمی غیرسرکاری نتائج
  • بریکنگ :- مسلم لیگ(ن)کی شائستہ پرویزملک 46 ہزار811 ووٹ لےکرکامیاب
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی کےاسلم گل 32 ہزار313 ووٹ لےکردوسرےنمبرپررہے
  • بریکنگ :- 4لاکھ 40ہزار485ووٹوں میں سے 80ہزار997ووٹ کاسٹ ہوئے
  • بریکنگ :- لاہور:این اے 133 میں ٹرن آؤٹ 18.59 فیصدرہا
Coronavirus Updates

مہنگائی بم کے اثرات۔۔۔اپوزیشن متحرک!

خصوصی ایڈیشن

تحریر : عابد حسین


گزشتہ دنوں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے عوام پر ایک اور’’مہنگائی بم‘‘ گرایا گیا۔حکومتی حلقے اسے مجبوری اور دنیا کے دیگر ممالک سے کم مہنگائی قرار دے رہے ہیں جبکہ حکومت مخالف حلقے اسے حکومت کی نااہلی اور بدترین ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ادھر حکومت اور اپوزیشن کی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان میں عوام بے چارے ہمیشہ کی طرح پسے جارہے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مہنگائی کا یہ بم حکومت کے لیے خودکتنا نقصان دہ اور اپوزیشن کے لیے کتنا مفید ثابت ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات یقینی کے کہ اس لڑائی میں نقصان صرف غریب عوام کا ہی ہو گا۔ بڑھتی مہنگائی کی خبروں کے درمیان ایک خوشخبری بھی ہے ۔گوکہ اس خوشخبری کا تعلق براہ راست عوام کے مفادات سے تو نہیں ہے البتہ خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ماموں بن گئے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کے ہاں بیٹے کی ولادت نے بھٹواور زرداری خاندان میں خوشیاں بکھیر دی ہیں۔بیٹے کی ولادت کی اطلاع خود بختاور بھٹو نے ٹویٹ کے ذریعے شیئر کی تھی۔

 مہنگائی بم گرنے پر پی ڈی ایم کی مرکزی قیادت کی طرح پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی حکومت کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا ہے۔پیپلز پارٹی نے سانحہ کارساز کے شہداء کی یاد میں کراچی میں مزار قائد سے ملحقہ باغ جناح میں سخت سکیورٹی میں ایک بڑا سیاسی شو منعقد کیا ۔12 ربیع الاول کی وجہ سے جلسہ ایک دن پہلے منعقد کیا گیا تھا۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’’ وزیر اعظم عمران خان اداروں کو ٹائیگر فورس بنانا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی حکومت کو ایسا کوئی قدم اٹھانے نہیں دے گی جو آئین کے خلاف ہو۔ خان صاحب کی حکومت تبدیلی نہیں تباہی لائی ہے۔ان کا ہر وعدہ جھوٹا ثابت ہوا ہے ۔ آنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت عوام دوست ہو گی۔ ہم مکان بنائیں گے ، چھت نہیں گرائیں گے ، غربت کو مٹائیں گے غریب کا خاتمہ نہیں کریں گے‘‘۔

 انہوں نے مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ ’’ عمران حکومت بھگانے تک یہ احتجاج جاری رہے گا‘‘۔شہدائے کارساز کو  خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ’’ 18 اکتوبر کو دنیا کو پتہ چلا کہ پیپلز پارٹی کے جیالے بی بی شہید کے بھائی بم دھماکوں سے بھی نہیں ڈرتے ۔ وہ بھاگتے نہیں بلکہ دھماکوں کی جانب بڑھتے ہیں اور اپنی شہید قائد کی حفاظت کرتے ہیں‘‘۔ 

انہوں نے کہا کہ ’’ شہید بی بی نے اس ملک کو ایک امید دلائی تھی کہ اس ملک کے بچوں کا آزاد مستقبل ہو گا۔ جہاں وہ ووٹ کے اختیار سے اپنا حکمران منتخب کریں گے۔ وہ منتخب حکمران ایسے فیصلے کریں گے ، جس سے عوام کو فائدہ ہو۔ شہید بی بی نے اس ملک کے نوجوانوں کو روزگار کی امید دلائی تھی۔موجودہ حکومت نے ایک کروڑ نوکریوں ، پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کیا۔ کراچی کے لیے وعدے کئے۔ ہر وعدہ جھوٹا ثابت ہوا۔ آج عوام پوچھ رہی ہے کہ کہاں گئیں وہ ایک کروڑ نوکریاں ، پچاس لاکھ گھر ، آپ تجاوزات کے نام پر ان کے گھر چھین رہے ہو۔ 16 ہزار وفاقی ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کر دیا گیا‘‘۔ اس موقع پر آصفہ بھٹو زرداری ، وزیرا علیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نثار کھوڑو ، سعید غنی ، ناصر حسین شاہ ، ، وقار مہدی ، عاجز دھامرا ، آصف خان ، شازیہ مری ، فیصل کریم کنڈی اور دیگر موجود تھے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اوردیگر اشیاء کی قیمتوں سمیت بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی نے بھی تحریک شروع کردی ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر ملک گیر یوم احتجاج کے سلسلے میں کراچی میں بیت المکرم مسجد تا حسن اسکوائر،گلشن اقبال مین یونیورسٹی روڈ پر ’’عوامی احتجاجی مارچ‘‘ منعقد ہوا، مارچ سے امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن،نائب امیرکراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، ڈپٹی سیکریٹریز کراچی عبد الرزاق خان،یونس بارائی،مذہبی رہنما علامہ اطہر مشہدی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت آٹا اور چینی مافیا قوم پر مسلط ہے،چوروں کاٹولہ ملک کو تباہ کررہا ہے جب کہ وزیر اعظم کہتے ہیں ہم کرپشن ختم کررہے ہیں۔

گزشتہ دنوں کراچی میں جسٹس ہیلپ لائن کے سربراہ ندیم شیخ کی جانب سے چھٹی نیشنل جوڈیشل کانفرنس بھی منعقد کی گئی جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ کریمنل ریفارمز کے مطابق کسی بھی کیس کا فیصلہ 9 ماہ میں دیا جائے گا۔ ماتحت عدالت فیصلہ نہیں دے پائیں گی تو اعلیٰ عدلیہ کے جج کو جواب دینا ہوگا۔ کریمنل ریفارمز کے تحت تھانے کا ایس ایچ او کم از کم بی اے پاس ہوگا۔ پراسیکیوٹر فیصلہ کرے گا کہ ثبوت کافی ہیں کہ نہیں۔ اس کے تحت فرانزک لیبارٹری بھی قائم کی جائے گی۔ ڈی این اے ٹیسٹنگ بھی گواہی میں شامل کریں گے۔ مقدمے میں الیکٹرونک گواہی بھی شامل کی جائے گی۔ 161 کا بیان زبردستی لیا جاتا تھا۔ اب کوشش ہوگی کہ ویڈیو کے ذریعے ہی 161 کا بیان لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے۔ ہمیں بطور قوم اپنا احتساب کرنا ہوگا۔ جسٹس ہیلپ لائن کے سربراہ ندیم شیخ ایڈووکیٹ نے کہا کہ جسٹس ہیلپ لائن لیگل ایجوکیشن کے شعبے میں تربیت کے کاموں میں عرصہ 20 سال سے سرگرم ہے۔عوامی حلقوں نے کریمنل ریفارمز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ شائد اب ملک میں عام شخص کو بھی انصاف ملنا شروع ہوجائے۔

ایم کیو ایم پاکستان بہادرآباد کے انٹرا پارٹی الیکشن متنازع ہونے کے باعث موضوع بحث بن گئے ہیں۔پہلے سے چار حصوں میں بکھری ہوئی ایم کیوایم کی قیادت کی جانب سے ایک دوسرے پر نااہلی کے الزامات لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔بہادرآباد مرکز کے آس پاس انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف آویزاں بینرز ایم کیوایم میں دھڑے بندی کی ہوا کو فروغ دے رہے ہیں۔سابق گورنر سندھ عشرت العباد نے بھی دبئی میں میڈیا ٹاک کے دوران کراچی کی سیاست میں دلچسپی ظاہر کرکے کراچی کی بہادرآباد قیادت میں کھلبلی مچادی ہے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)