نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 10 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 777 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 42 ہزار 944 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 336 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 0.78 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates

مسئلہ کشمیر : کب کیا ہوا؟

خصوصی ایڈیشن

تحریر : روزنامہ دنیا


26 اکتوبر 1947: مہاراجہ نے بھارت سے مدد چاہتے ہوئے کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیئے ۔

27 اکتوبر 1947: بھارت نے اپنی فوجیں ہوائی جہازوں کے ذریعے سری نگر میں اتاریں۔ جس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ چھڑ گئی۔

یکم جنوری 1948: بھارت نے مسئلہ کشمیر پر اقوام ِ متحدہ سے مدد مانگ لی۔

5 فروری 1948: اقوام متحدہ نے ایک قرار داد کے ذریعے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تاکہ رائے شماری کرائی جا سکے۔

26 جنوری 1950ء: بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کا اضافہ کر کے کشمیرکو خود مختار حیثیت دی گئی۔

اگست 1953ء: بھارت اور پاکستان  کشمیر میں رائے شماری کے لیے ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے پر متفق ہوئے۔تاہم بھارت نے بعدازاںرائے شماری سے انکار کر دیا۔

فروری 1954ء: کشمیر کی اسمبلی نے بھارت کے ساتھ الحاق کر دیا۔

26 جنوری 1957ء: ریاستی اسمبلی نے جموں و کشمیر کا آئین نافذ کیا، جس کے تحت  کشمیر کو بھارتی یونین کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔

 اکتوبر،نومبر 1962ء: لداخ میں بھارت اور چین کے مابین ایک سرحدی تنازعے نے جنگ کی شکل اختیار کر لی۔

مارچ 1965ء: بھارتی پارلیمنٹ نے ایک بل پاس کیا جس کے تحت کشمیر کو بھارت کو صوبہ قرار دیتے ہوئے بھارت کو وہاں گورنر تعینات کرنے، کشمیر میں حکومت کو برطرف کرنے اور اسے آئین سازی سے روکنے کے اختیار حاصل ہو گئے۔

جولائی 1972ء: پاکستان اور بھارت کے درمیان شملہ معاہدہ ہو ا جس میں اقوام ِ متحدہ کی فائر بندی لائن کو لائن آف کنٹرول قرار دیا گیا۔

8 ستمبر 1982ء: شیخ عبداللہ کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے فاروق عبداللہ نے قیادت سنبھال لی۔

اپریل 1984ء: بھارت نے سیاچین گلیشئر پر قبضہ کر لیا۔

1989ء: بھارتی حکمرانی کے خلاف مسلح تحریک شروع ہو گئی جس کی قیادت مسلم یونائیٹڈ فرنٹ کے ممبران کر رہے تھے ۔

20 جنوری 1990: بھارتی پیرا ملٹری   فورس نے گوکدل میں نہتے مظاہرین پر گولیاں چلا دیں ۔ا س قتل عام کے خلاف پورے کشمیر میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔

1998ء: پاکستان اور بھارت نے جوہری تجربات کئے ۔

21 فروری 1999ء: بھارتی وزیر ا عظم اٹل بہاری واجپائی اور پاکستانی وزیر اعظم نوازشریف نے اعلان لاہور پر دستخط کئے۔ جس کے تحت کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا اعادہ کیا گیا۔

مئی، جولائی 1999ء: پاکستان و بھارت کے درمیان کارگل جنگ چھڑ گئی۔

2000ء: ایک دہائی سے جاری کشمیر میں عسکری تحریک نئے مرحلے میں داخل ہوئی، جس میں پر امن اور غیر متشدد طریقے اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔

مئی 2008ء: بھارتی حکومت اور جموںو کشمیر کی حکومت کی جانب سے ہندو شری امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف کشمیر بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے جو 1990ء کے بعد سب سے بڑے مظاہرے تھے ۔

21 فروری 2009ء: بومائی میں بھارتی فوج نے دو عبادت گزاروں کو جان بوجھ کرگولی مار دی جس پر بومائی اور ملحقہ علاقوں میں مظاہرے شروع ہو گئے جس پر کرفیو لگانا پڑا۔

30 اپریل 2010ء: ماشیل سیکٹر میں بھارتی فوج نے تین عسکریت پسندوں کو لائن آف کنٹرول کرا س کرنے کے الزام میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ مقابلہ فرضی تھا اور مرنے والے تینوں عام کشمیری تھے۔ انہیں صرف اس لیے مارا گیا کہ ان کے قتل کے عوض وہ کیش انعام حاصل کر سکیں۔

فروری 2013ء: کشمیری جیش محمد کے کارکن محمد افضل گرو جن پر 2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کا الزام تھا انہیں پھانسی دیئے جانے کے خلاف وادی میں مظاہرے ہوئے ۔

ستمبر 2013ء: پاکستان و بھارتی وزرائے اعظم کی ملاقات میں لائن آف کنٹرول کے آر پار تشدد کو کم کرنے پر اتفاق ہوا۔

اکتوبر 2014ء: پاکستان اور بھارت میں سرحدوں پر کشیدگی ، دونوں طرف 18 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی۔

مارچ 2015ء: تاریخ میں پہلی بار بی جے پی نے کشمیر میں مقامی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور مفتی محمد سعید کو وزیراعلیٰ چنا گیا۔

ستمبر 2015ء: کشمیر میں مسلمانوں نے بڑے گوشت پر پابندی کے خلاف اپنی دوکانیں اور تجارتی مراکز بند کئے۔

اپریل 2016ء: محبوبہ مفتی اپنے باپ مفتی سعید کے بعد کشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بنیں۔

جولائی 2016ء: حزب المجاہدین کے سرکردہ کمانڈر برہان الدین وانی کی شہادت کے بعد ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں کشمیر میں کرفیو لگا دیا گیا۔

مئی 2017ء: حریت کمانڈر سبزار احمد بھٹ کی نماز جنازہ میں شمولیت کے لیے ہزاروں لوگوں نے کرفیو کو توڑ ڈالا۔

14 فروری 2019ء: پلواما میں ایک خودکش حملے کے نتیجے میں 40 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔

21 فروری 2019ء: بھارت نے پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی دی۔

26 فروری 2019ء: بھارت نے بالاکوٹ میں فضائی حملہ کر کے کئی مجاہدین کو مارنے کا دعویٰ کیا۔

27 فروری 2019ء: پاکستان نے بھارت کے دو طیاروں کو مار گرایا اور ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔

5 اگست 2019ء: بھارتی حکومت نے آئین میں سے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا جو کہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا تھا۔

16 اگست 2019ء: 1965ء کے بعد پہلی بار کشمیر کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا۔

27اکتوبر2020ء: غیر کشمیریوں کو پراپرٹی خریدنے کی اجازت دے دی گئی۔

24اکتوبر 2021ء: دو زیر حراست کشمیری نوجوانوں کو جعلی پولیس مقابلے میں شہید کر دیا گیا۔

25اکتوبر2021ء: پاک بھارت کرکٹ میچ میں بھارت کی شکست کے بعد انتہا پسند ہندوؤں نے پنجاب میں کشمیری طلباء پر حملہ کر کے انہیں زحمی کر دیا۔

(سجاد اظہر )

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)