نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پی ڈی ایم کےاپنےاندرپھوٹ پرچکی،ترجمان پنجاب حکومت
  • بریکنگ :- پی ڈی ایم نےایک بارپھرلانگ مارچ کااعلان کیا،حسان خاور
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی،اےاین پی،پی ڈی ایم کوچھوڑچکے،حسان خاور
  • بریکنگ :- پی ڈی ایم کی کشتی ڈوب رہی ہے،ترجمان پنجاب حکومت
Coronavirus Updates

آزاد کشمیر: پی ٹی آئی اندرونی بحران کا شکار!

خصوصی ایڈیشن

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد جموں و کشمیر میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف میں تقسیم واضح ہوگئی ہے ۔ حکومت پر وزیر اعظم سردار عبدا لقیوم خان نیازی تاحال اپنی گرفت مضبوط نہیں کر سکے۔ کابینہ تقسیم نظر آرہی ہے ۔ سینئر وزیر سردار تنویر الیاس جو کہ پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں وکشمیر کے صد ر بھی ہیں پارلیمانی جماعت میں خاموش اکثریت اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر چوہدری انوار الحق کو مہاجرین کے ارکان اسمبلی کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے بعض ممبران کی بھی خاموش حمایت حاصل ہے ۔ وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر سردار عبدا لقیوم نیازی میر پور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئر مین کی تعیناتی میں صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے تحفظات کو دور کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ میر پور ،صدر آزاد جموں وکشمیر کا آبائی حلقہ ہے اور اس شہر کے اہم ادارے میں چیئر مین کی تقرری پر ان کو اعتماد میں نہ لینے سے پارٹی کے اندر تقسیم مزید واضح ہو گئی ہے۔

 تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے قائم سرکاری ادارہ جموں وکشمیر لبریشن سیل میں بھی گریڈ20 کی آسامی پر متنازعہ تقرری کے حوالے سے وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر سردار عبدا لقیوم  سے پارٹی کے سینئر رہنما، کارکنا ن او ر کشمیر لبریشن سیل کے اندر سینئر افسران ناراض ہیں ۔ کشمیر لبریشن سیل کے افسران کا کہنا ہے کہ ایک سرکاری ادارے میں غیر سرکاری تنظیم کے اہلکار کو وزیر اعظم کی طرف سے گریڈ20 کا عہدہ دینا سمجھ سے بالا تر ہے ۔ آزاد جموں وکشمیر میں گزشتہ 25 سال سے تحریک انصاف سے وابستہ مخلص پارٹی کارکنان کی تعیناتیوں کی جگہ سفارشی لوگوں کی بھرتیوں سے پارٹی کے اندر سردار تنویر الیاس کا دھڑا ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جار ہا ہے ۔

 دوسری جانب وزیر اعظم سردار عبدالقیوم نیازی اور صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے درمیان بڑھتی دوریوں سے صدر تحریک انصاف آزاد جموں وکشمیر اور سینئر وزیر سردار تنویر الیاس کے دھڑے کو جماعت کے اندر فائدہ پہنچ رہا ہے ۔ آزاد جموں و کشمیر کی بیورو کریسی کا جھکاو ٔ اس وقت وزیر اعظم سے زیادہ سینئر وزیر اور اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری انوار الحق کی طرف ہے بلکہ سول سیکریٹریٹ میں اکثر افسران وزیر اعظم کے دفتر کی بجائے اسپیکر چیمبر میں نظر آتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان میں تبدیلی کے بعد کسی بھی وقت آزاد جموں وکشمیر میں بھی پاکستان تحریک انصاف قائد ایوان تبدیل کرسکتی ہے۔تحریک انصاف کے کارکنان اور انتخابات میں کم ووٹوں سے ہارنے والے امیدواران بھی وزیر اعظم اور صدر سلطان محمود چوہدری کی بجائے سردار تنویر الیاس کے ارد گرد نظر آرہے ہیں۔ جو یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں بلوچستان طرز کی تبدیلی کے بعد سردار تنویر الیاس ہی وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے۔

 دوسری جانب اگر موجودہ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کابینہ کے آخری اجلاس میں نصف سے زائد وزرا غیر حاضر رہے ۔اجلاس میں شرکت نہ کرنے والے وزرا ء  پارٹی صدر تنویر الیاس کے علاوہ کسی اور کی سننے اور ماننے کے لئے تیار نہیں جسکی وجہ سے سردار عبدالقیوم نیازی کی پوزیشن مزید کمزور ہوگئی ہے۔

 پارٹی کے اندر وزیر اعظم سردار عبدالقیوم نیاز ی پر احتساب میں تاخیر پر بھی تنقید کی جارہی ہے۔ گزشتہ ہفتے وزیر اعظم  نے آزاد جموں وکشمیر میں محصولات اکٹھا کرنے والے ادارے سینٹر ل بورڈ آف ریوینو کے چیئرمین کے اختیارات چیف سیکریٹری کو تفویض کئے جس پر وزیر خزانہ عبدالماجد خان نے احتجاجا ً کابینہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور وزیر اعظم پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے سینئر افسر سے واپس لیکر چیف سیکریٹری کو دے دیا۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے خصوصی ہدایات کے باوجود وزیر اعظم سردار عبدالقیوم نیازی سابق آزاد کشمیر حکومت کے خلاف احتساب کے عمل کو تیز کرنے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور سابق وزیر اعظم فاروق حیدر نے گزشتہ پانچ سال کے دوران وفاقی حکومت سے ترقیاتی بجٹ کی مد میں دو سو ارب روپے وصول کئے اور اس بجٹ میں آزاد جموں وکشمیر کے ہر ضلع کو بیس ارب روپے کے منصوبے دینے تھے ۔ سرکار ی کاغذات میں  یہ رقم نظر تو آرہی ہے لیکن زمین پر چند ایک کے سوا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے آزاد کشمیر کی حکومت کو خصوصی ہدایات جاری کیں کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں جو دو سو ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لئے دیئے گئے تھے وہ کہاں گئے۔ 

وزیر اعظم سردار عبدالقیوم تاحال سابق حکومت کے دو سو ارب روپے کے منصوبوں کی جانچ پڑتال اور احتساب میں سنجیدہ نظر نہیں آرہے ۔ جس کا وفاق نے نہ صرف نوٹس لیا بلکہ مستقبل قریب میں اسی بنیاد پر آزاد کشمیر میں وزیر اعظم کو تبدیل کرنے کا اشارہ بھی دے دیا ہے ۔ آزاد جموں وکشمیر میں وزیر اعظم عمران خان کے نظریے کے مطابق بے رحم احتساب اور بہترین حکمرانی کے لئے ضروری ہے کہ پارٹی کے اندر سے نڈر اور مقبول رہنما کو قائد ایوان بنایا جائے ۔ اس کے بعد ہی آزاد جموں و کشمیر میں کڑے احتساب کے ساتھ ساتھ  تعمیر و ترقی کا پہیہ بھی رواں رکھا جا سکتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ظفرعلی خان اور شبلی نعمانی ۔۔۔دوکوزہ گر ،ظفرعلی خان کے مضامین اور اسلوب پر شبلی کا رنگ نمایاں ہے

شمس العلما مولانامحمدشبلی نعمانی علی گڑھ کالج کا مایہ افتخارہیں۔ وہ فروری 1883ء سے اواخر 1898ء تک اس تاریخی درس گاہ سے وابستہ رہے۔ وہ یہاں عربی کے استاد اور طلبا کی ادبی تربیت کیلئے قائم کی گئی مجلس ’’لجنۃ الادب‘‘ کے نگران تھے۔ کم و بیش 16 سال کی اس مدت میں انھوںنے بہت سی جماعتوں کو درس دیا اور کئی نسلوں کی ذہنی آبیاری کی۔ علی گڑھ میں ان کے دامن تربیت اور خوانِ علم و فضل سے وابستہ رہنے والوں میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا حمیدالدین فراہی، مولوی عزیز مرزا، خواجہ غلام الثقلین، مولوی عبدالحق، سید محفوظ علی بدایونی، ڈاکٹر سرضیاء الدین اور چودھری خوشی محمد ناظر جیسے لوگ شامل ہیں۔ اس سلسلۃ الذہب میں مولانا ظفر علی خان کا نام بھی شامل ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ مولانا شبلی کے تلامذہ میں قومی سطح پر خدمات انجام دینے والوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ظفر علی خان 1892ء میں انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد 1893ء میں علی گڑھ میں داخل ہوئے اور انھوںنے 1895ء میں فسٹ ڈویژن میںبی اے کا امتحان پاس کیا۔

فیوڈل فینٹسی

ہر شخص کے ذہن میں عیش و فراغت کا ایک نقشہ رہتا ہے جو دراصل چربہ ہوتا ہے اس ٹھاٹ باٹ کا جو دوسروں کے حصے میں آیا ہے۔ لیکن جو دکھ آدمی سہتا ہے، وہ تنہا اس کا اپنا ہوتا ہے۔ بلاشرکت غیرے۔ بالکل نجی، بالکل انوکھا۔ ہڈیوں کو پگھلا دینے والی جس آگ سے وہ گزرتا ہے اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں۔ جیسا داڑھ کا درد مجھے ہو رہا ہے ویسا کسی اور کو نہ کبھی ہوا، نہ ہو گا۔ اس کے برعکس، ٹھاٹ باٹ کا بلْو پرنٹ ہمیشہ دوسروں سے چْرایا ہوا ہوتا ہے۔ بشارت کے ذہن میں عیش و تنعم کا جو صد رنگ و ہزار پیوند نقشہ تھا وہ بڑی بوڑھیوں کی اس رنگا رنگ رلّی کی مانند تھا جو وہ مختلف رنگ کی کترنوں کو جوڑ جوڑ کر بناتی ہیں۔

گرد ملال

ارے بہادر شاہ ظفر کا حقہ، اور ایک مرتبہ پھر مغلیہ جاہ و جلال، ان کی شان و تمکنت، ان کا تہذیب و تمدن، ان کا ذوق و شوق دونوں ادھیڑ عمر دوستوں کے تصورات میں آن دھمکا۔ سال خوردگی کے باوجود حقے کا رعب داب طنطنہ ہنوز قابل رشک، اس کی بناوٹ میں زیادہ تر نقرۂ خالص اور تانبہ استعمال ہوا۔ شہنشاہ کی خدمت میں پیش کرنے سے قبل اسے قیمتی ہیروں اور چمکتے دمکتے نگینوں سے مزین کیا گیا ہوگا، مگر اب اس بدقسمت کے پنڈے پر نوچے گئے جواہرات کے فقط نشانات یوں موجود جیسے گئے وقتوں کے المناک نوحے رقم ہوں۔

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔