نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- جوکچھ بیان حلفی میں کہااس پرثاقب نثارکاسامناکرنےکوتیارہوں،راناشمیم
  • بریکنگ :- بیان حلفی پبلک نہیں کیا،توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوسکتی،راناشمیم
  • بریکنگ :- اپنی زندگی کےدوران پاکستان میں بیان حلفی پبلک نہیں کرناچاہتاتھا،راناشمیم
  • بریکنگ :- برطانیہ میں بیان ریکارڈکرانےکامقصدبیان حلفی کوبیرون ملک محفوظ رکھناتھا،راناشمیم
  • بریکنگ :- واقعہ ثاقب نثارکیساتھ 15 جولائی 2018 کی شام 6 بجےکی ملاقات کاہے، جواب
  • بریکنگ :- مرحومہ بیوی سےوعدہ کیاتھاحقائق ریکارڈپرلاؤں گا،راناشمیم کاجواب
  • بریکنگ :- راناشمیم نےتوہین عدالت شوکازنوٹس پرجواب جمع کرادیا
  • بریکنگ :- بیان حلفی مرحومہ اہلیہ سےکیاوعدہ نبھانےکیلئےجذباتی دباؤمیں کیا،جواب
  • بریکنگ :- بیان حلفی کسی سےشیئرکیانہ ہی پریس میں جاری کیا،تحریری جواب
  • بریکنگ :- عدلیہ کومتنازعہ بنانامقصدنہیں تھا،راناشمیم کاجواب
  • بریکنگ :- جوکچھ ہوااس پرافسوس کااظہار کرنےمیں کوئی ہچکچاہٹ نہیں،جواب
  • بریکنگ :- توہین عدالت کاشوکازنوٹس واپس لیاجائے،راناشمیم کی استدعا
Coronavirus Updates

حکومت کے خلاف اپوزیشن کی احتجاجی تحریک میں تیزی ۔۔۔

خصوصی ایڈیشن

تحریر : اسلم خان


پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تین سال میں اپوزیشن سرتوڑ کوشش کے باوجود جو نہ کرسکی، وہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں نے حالیہ چند روز میں کر دیاہے۔ لگتا ہے اپوزیشن سے زیادہ حکومت اپنے لئے پریشانیاں کھڑی کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اوگرا کی بھیجی جانے والی پانچ روپے فی لیٹر اضافے کی سمری کے برخلاف یکدم 10 روپے49 پیسے اضافے پر عوام حکومت سے شدید ناراض ہے۔ صرف پٹرولیم مصنوعات کی بات نہیں کراچی سے خیبر تک ہوش ربا مہنگائی نے عام آدمی کی مشکلات بے انتہا بڑھا دی ہیں۔ چینی 113 روپے، چکی کا آٹا80 روپے کلو فروخت ہورہا ہے،تین برسوں میں مہنگائی نے 70سال کے ریکارڈ توڑ دیئے، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں دگنی ہوگئی ہیں۔تین برس میں بجلی کے نرخ میں 57 فیصد اضافہ ہوا، پٹرول کی قیمت میں تین سال میں 49 فیصد اضافہ ہوا، گھی کی فی کلو قیمت 108 فیصد اضافے سے 356 روپے تک پہنچ گئی ہے۔خوردنی تیل کا پانچ لیٹر کا کین 87 فیصد اضافے سے 1783 روپے کا ہو گیا ہے۔ دودھ کی قیمت 130 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ مہنگائی صرف پاکستان کا نہیں عالمی مسئلہ ہے، ساتھ ہی یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ ساری ذمہ داری صرف وفاق کی نہیں صوبائی حکومتیں بھی اس کے تدارک کیلئے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کررہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں ہو ں یا گراں فروشی کے خلاف قوانین ،عملدرآمد کہیں بھی نہیں ہورہا اور خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

وفاقی حکومت اپنی پالیسیوں سے عوام کو تو کوئی ریلیف نہیں دے سکی لیکن اپوزیشن کو اس کا فائدہ ضرور ہوا ہے۔ ٹکڑوں میں تقسیم اپوزیشن ایک نکاتی ایجنڈے، مہنگائی پر ایک پیج پر ہے۔ وفاقی حکومت کا ملک گیر مظاہروں کے ذریعے گھیراؤ کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور اس میں شدت آرہی ہے۔دوسری طرف وفاقی حکومت کی پوزیشن روز بروز کمزور ہورہی ہے۔ اس وقت اپوزیشن جماعتیں الگ الگ مظاہرے کررہی ہیں ۔ صورتحال ایسی رہی تو ممکنہ طور پریہ مشترکہ پلیٹ فارم پر بھی اکٹھی ہو سکتی ہیں۔ پی ڈی ایم حکومت کو کا ٹف ٹائم نہیں دے سکی لیکن مہنگائی نے اس کیلئے آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ گزشتہ جمعہ، بڑھتی مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج ہوا۔تین برسوں میں ایسا پہلی بار ہوا کہ ایک ہی دن میں ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوجائے ۔ پی ڈی ایم، پیپلز پارٹی جماعت اسلامی کے کارکنان سڑکوں پر نکلے۔شہرشہر ریلیاں نکالی گئیں۔سندھ حکومت کی بات کی جائے تواس نے اب کھل کر وفاق کے سامنے کھڑے ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ اس کی کوشش ہے کہ مہنگائی کو جواز بنا کر شہریوں کو وفاقی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکالا جائے۔ کراچی میں مظاہرے سے خطاب میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا، ان کا کہنا تھا کہ ’’ عمران خان کے مزید اقتدار میں رہنے سے ملک تباہ ہو جائے گا، اس لئے انہیں گھر بھیجنا چاہیے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتنا اضافہ کر دیا گیا ہے کہ لوگ دو وقت کے کھانے کیلئے بھی پریشان ہیں۔ عوام نہ گھبرائیں عمران خان جارہے ہیں‘‘۔ جمعیت علماء اسلام کے تحت ایمپریس مارکیٹ صدر میں مہنگائی کیخلاف مظاہرے سے خطاب میں مرکزی رہنما مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ ’’ سلیکٹیڈ حکمرانوں نے غریب کے منہ سے نوالہ چھین لیا ہے۔جادو ٹونے سے ملک کی معیشت نہیں چلے گی‘‘۔ 

بلوچستان میں تبدیلی کے تناظر میں پیپلز پارٹی نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے رہنماؤں کو پیشکش کی ہے کہ اگر پیپلزپارٹی کی تجویز پر عمل کیا جائے تو پہلے مرحلے میں پنجاب اور دوسرے مرحلے میں وفاق میں عمران خان کی حکومت کو گھر بھیجا جاسکتا ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو یہ بھی کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم اس حکومت سے جان چھڑانے میں سنجیدہ ہے تو ن لیگ اب پنجاب میں عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرے ۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ بلوچستان کے بعد پنجاب میں عثمان بزدار کو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے ہٹانے کیلئے راستہ ہموار ہوچکا ہے، ن لیگ اگر پنجاب اسمبلی میں عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرے تو پنجاب کے بعد وفاق میں اپوزیشن کی قوت سے عمران خان کو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے گھر بھیجا جاسکتا ہے‘‘۔ صرف اپوزیشن ہی حکومت پر گرج برس نہیں رہی، تحریک انصاف کی اہم اتحادی متحدہ قومی موومنٹ نے بھی مہنگائی کے معاملے پر حکومت کو غیر سنجیدہ قرار دیا ہے۔متحدہ کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خبردار کیا کہ ووٹ نہیں بولے گا تو روڈ بولے گا۔موجودہ حکومتی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حالات بہت خراب ہیں۔مہنگائی بے قابو ہوگئی ہے عوام کیلئے زندہ رہنے کاانتظام کیا جائے۔

کراچی میں کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات کا دوسرا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔پانچ کنٹونمنٹ بورڈ کی 7 نشستوں پر آزاد اورمختلف جماعتوں کے مجموعی طورپرچوبیس امیدواروں میں مقابلہ ہوا۔ کراچی کنٹونمنٹ بورڈ میں اقلیتی نشست پر ایم کیوایم پاکستان کے امیدوار پہلے ہی بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔ کراچی میں6 میں سے 5 کنٹونمنٹ بورڈ ز میں 8 مخصوص نشستیں ہیں ،کلفٹن کنٹونمنٹ، فیصل کنٹونمنٹ اور کراچی کنٹونمنٹ میں دو دو ، جبکہ کورنگی اور ملیر میں ایک، ایک مخصوص نشست ہے۔ کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کی دوسری نشست بھی ایم کیو ایم نے جیتی اس طرح کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کی دونوں مخصوص نشستیں ایم کیو ایم کے حصے میں آئی ہیں۔ کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کی دونوں مخصوص نشستوں پر پیپلزپارٹی کے امیدواروں نے میدان مار لیا ہے۔ مجموعی طور پر کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ میں12 نشستوں میں سے پیپلزپارٹی 7 پر کامیاب ہوئی ہے۔ کورنگی کنٹونمنٹ بورڈ میں مخصوص نشست پر ایم کیو ایم، پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) نے اتحاد کرکے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو شکست دی وہ صرف دو ووٹ حاصل کرسکے۔ اس اتحاد کی وجہ سے ایم کیو ایم امیدوار کو تین ووٹ ملے، معاہدے کے مطابق کورنگی میں وائس چیئرمین مسلم لیگ( ن) کا ہوگا۔ ملیر کنٹونمنٹ بورڈ میں بھی اتحادی سیاست نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو شکست دی۔ پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کا اتحاد کامیاب رہا ۔ مخصوص نشست پر جماعت اسلامی کے امیدوار ارشد مسیح 6 ووٹ لے کر کامیاب رہے، پیپلزپارٹی کے امیدوار کو 4 ووٹ ملے، کنٹونمنٹ بورڈ فیصل کی دونوں مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ظفرعلی خان اور شبلی نعمانی ۔۔۔دوکوزہ گر ،ظفرعلی خان کے مضامین اور اسلوب پر شبلی کا رنگ نمایاں ہے

شمس العلما مولانامحمدشبلی نعمانی علی گڑھ کالج کا مایہ افتخارہیں۔ وہ فروری 1883ء سے اواخر 1898ء تک اس تاریخی درس گاہ سے وابستہ رہے۔ وہ یہاں عربی کے استاد اور طلبا کی ادبی تربیت کیلئے قائم کی گئی مجلس ’’لجنۃ الادب‘‘ کے نگران تھے۔ کم و بیش 16 سال کی اس مدت میں انھوںنے بہت سی جماعتوں کو درس دیا اور کئی نسلوں کی ذہنی آبیاری کی۔ علی گڑھ میں ان کے دامن تربیت اور خوانِ علم و فضل سے وابستہ رہنے والوں میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا حمیدالدین فراہی، مولوی عزیز مرزا، خواجہ غلام الثقلین، مولوی عبدالحق، سید محفوظ علی بدایونی، ڈاکٹر سرضیاء الدین اور چودھری خوشی محمد ناظر جیسے لوگ شامل ہیں۔ اس سلسلۃ الذہب میں مولانا ظفر علی خان کا نام بھی شامل ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ مولانا شبلی کے تلامذہ میں قومی سطح پر خدمات انجام دینے والوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ظفر علی خان 1892ء میں انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد 1893ء میں علی گڑھ میں داخل ہوئے اور انھوںنے 1895ء میں فسٹ ڈویژن میںبی اے کا امتحان پاس کیا۔

فیوڈل فینٹسی

ہر شخص کے ذہن میں عیش و فراغت کا ایک نقشہ رہتا ہے جو دراصل چربہ ہوتا ہے اس ٹھاٹ باٹ کا جو دوسروں کے حصے میں آیا ہے۔ لیکن جو دکھ آدمی سہتا ہے، وہ تنہا اس کا اپنا ہوتا ہے۔ بلاشرکت غیرے۔ بالکل نجی، بالکل انوکھا۔ ہڈیوں کو پگھلا دینے والی جس آگ سے وہ گزرتا ہے اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں۔ جیسا داڑھ کا درد مجھے ہو رہا ہے ویسا کسی اور کو نہ کبھی ہوا، نہ ہو گا۔ اس کے برعکس، ٹھاٹ باٹ کا بلْو پرنٹ ہمیشہ دوسروں سے چْرایا ہوا ہوتا ہے۔ بشارت کے ذہن میں عیش و تنعم کا جو صد رنگ و ہزار پیوند نقشہ تھا وہ بڑی بوڑھیوں کی اس رنگا رنگ رلّی کی مانند تھا جو وہ مختلف رنگ کی کترنوں کو جوڑ جوڑ کر بناتی ہیں۔

گرد ملال

ارے بہادر شاہ ظفر کا حقہ، اور ایک مرتبہ پھر مغلیہ جاہ و جلال، ان کی شان و تمکنت، ان کا تہذیب و تمدن، ان کا ذوق و شوق دونوں ادھیڑ عمر دوستوں کے تصورات میں آن دھمکا۔ سال خوردگی کے باوجود حقے کا رعب داب طنطنہ ہنوز قابل رشک، اس کی بناوٹ میں زیادہ تر نقرۂ خالص اور تانبہ استعمال ہوا۔ شہنشاہ کی خدمت میں پیش کرنے سے قبل اسے قیمتی ہیروں اور چمکتے دمکتے نگینوں سے مزین کیا گیا ہوگا، مگر اب اس بدقسمت کے پنڈے پر نوچے گئے جواہرات کے فقط نشانات یوں موجود جیسے گئے وقتوں کے المناک نوحے رقم ہوں۔

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔