نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سوات اورگردونواح میں زلزلےکےجھٹکے
  • بریکنگ :- سوات:ریکٹراسکیل پرزلزلےکی شدت 4.4 ریکارڈ
  • بریکنگ :- زلزلےکی گہرائی 145کلومیٹر،مرکزپاک افغان تاجکستان تھا
Coronavirus Updates

بلوچستان میں سیاسی تبدیلی کے وفاق پر اثرات

خصوصی ایڈیشن

تحریر : خاور گھمن


وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے استعفے کے ساتھ ہی ملک میں سیاسی چہ مگوئیوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ خاص طور پر اس حوالے سے اسلام آباد میں ہر طرف اب ایک ہی موضوع زیر بحث ہے اور وہ یہ کہ کیا بلوچستان میں اس تبدیلی کی ہوا کا وفاق پر بھی کچھ اثر پڑے گا ؟ کیا اب حزب اختلاف کی جماعتیں خاص طور پرن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی تبدیلی کی ہوا سے کچھ فائدہ اٹھانے کیلئے کسی متفقہ لائحہ عمل کا سوچ سکتی ہیں؟پیپلزپارٹی تو شروع سے ہی ن لیگ کو تجویز دیتی رہی ہے کہ وہ پنجاب میں سردار عثمان بزدار کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائیں۔ اگر پنجاب میں کامیابی ملتی ہے تو اس کے بعد وزیراعظم عمران خان کے خلاف بھی ایسی ہی تحریک لائی جا سکتی ہے۔ اگر پنجاب تحریک انصاف کے ہاتھوں سے جاتا ہے تو وفاق کا ٹھہرنا مشکل ہو جائے گا۔ اگر پنجاب اور وفاق میں بلوچستان والی صورتحال نہیں بھی بنتی تو کیا جام کمال کے جانے کا کچھ اثر اسلام آباد پر پڑ سکتا ہے؟

ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے لیے جب ہمارا رابطہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں متعلقہ لوگوں سے ہوا تو ان کے مطابق حالات ایسے نہیں ہیں جیسے میڈیا کے ایک خاص سیکشن سے ہمیں سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ایک سینئر وفاقی وزیر جو بلوچستان میں جاری سیاسی کشیدگی کے بارے میں کافی معلومات رکھتے ہیں کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا اس سارے معاملے سے کچھ زیادہ لینا دینا نہیں۔ ہم سات ارکان کے ساتھ ایک اتحادی کے طور پر ضرور موجود ہیں لیکن اصل لڑائی بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے بڑوں کے درمیان ہے۔ تین سال گزرنے کے بعد (باپ) کے لوگوں کا خیال ہے کہ جام کمال صاحب نے اس طرح ڈلیور نہیں کیا جس طرح ان سے توقع تھی۔ اس لیے ان کو باقی ماندہ دو سالوں کے دوران کوئی نیا تجربہ کرنا چاہیے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر موصوف کا کہنا تھا کہ اگر نئے وزیر اعلیٰ (باپ) کے علاوہ کسی اور پارٹی جس میں مولانا صاحب کی جے یوائی( ایف) ہے یا پھر بی این پی مینگل گروپ میں سے ہوتا ہے تو کہا جا سکتا ہے اس کا اثر تحریک انصاف کی حکومت پرپڑے گا۔ لیکن فی الحال ایسا نہیں لگ رہا۔

 اسلام آباد میں موجود ایک اور انتہائی معتبر ذریعے کے مطابق وزیر اعلیٰ جام کمال کی تبدیلی کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ ان کی منظوری کے بعد ہی پارٹی کے سینئر رہنما اور وزیر دفاع پرویز خٹک کوئٹہ گئے تھے اور اس سارے معاملے کی ذاتی طور پر نگرانی کی۔ تحریک انصاف کے ایک اور پارٹی رہنما سے جب اس بابت سوال کیا کہ بظاہر تو لگتا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان سابقہ وزیر اعلیٰ سے کافی خوش تھے، انہیں کافی پسند بھی کرتے تھے تو وہ ان کی تبدیلی پر کیوں کر راضی ہوئے؟جواب میں وزیر صاحب کا کہنا تھا حقیقت میں وزیر اعظم صاحب جام کمال سے کافی خوش تھے لیکن جب (باپ) میں اکثریتی رائے جام کمال کے خلاف آئی تو پھر اس پر تحریک انصاف کا ضد کرنا بنتا نہیں تھا۔ اس لیے ہمارا اس پر سیدھا سادہ موقف تھا کہ جس طرح (باپ) والے فیصلہ کریں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ 

ایک اوراہم سوال جو کہ اسلام آباد کے ایوانوں میں پوچھا جا رہا ہے کہ مقتدر حلقوں کا اس تبدیلی پر کیا رد عمل ہے؟ کم و بیش پچھلی تین چار دہائیوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ جب تک مقتدر حلقے کسی نام کی کلیئرنس نہیں دیتے، بلوچستان میں اس سطح کی ردوبدل نہیں ہوتی۔ اس حوالے سے جب ہماری بات چند متعلقہ لوگوں سے ہوئی تو ان کا بھی کہنا تھا کہ جام صاحب کی اپنی پارٹی کے اندر مخالفت بڑھ گئی تھی اس لیے مناسب یہی تھا کہ ایوان کے اندر تبدیلی لائی جائے۔ اس لیے جب یہ سارا معاملہ سامنے آیا تو ان حلقوں کی طرف سے بھی اس تبدیلی کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے چونکہ صادق سنجرانی کے تعلقات خاص طور پر مقتدر حلقوں کے ساتھ بہت اچھے ہیں اس لیے ان کی ذاتی کوششوں کی وجہ سے جام کمال کے خلاف یہ تحریک اعتماد بغیر کسی رکاوٹ کے کامیاب ہوگئی ہے۔ بلکہ تحریک پیش ہونے سے پہلے ہی جام کمال نے وزات اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا ۔ اس سوال پر چند باخبر حلقوں کا کہنا تھا اس سارے معاملے کے پیچھے کوئی بھی ہو جب (باپ) کے اپنے لوگ ہی اپنے پارٹی قائد کے خلاف ہو گئے ہیں تو پھر کسی اور پر الزام کیونکرعائد کیا جاسکتا ہے؟ 

 ن لیگ والوں کی اکثریت ابھی تک اس بات پر قائم ہے کہ بجائے ان ہاؤس تبدیلی کے پی ڈی ایم کے ذریعے ان کی تمام تر کوششیں نئے انتخابات کروانے پر ہونی چاہئیں۔ لہٰذا وہ بلوچستان والے فارمولے کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ایک ن لیگی لیڈر سے جب اس حوالے سے بات ہو ئی تو ان کا کہنا تھا اگر ہم کسی ایسے عمل کا پی پی پی کے ساتھ مل کا حصہ بھی بنتے ہیں تو وہ بھی اسی شرط پر ہوگا کہ موجودہ حکمرانوں کو گھر بھجوا کر نئے الیکشن کی راہ ہموار کی جائے نہ کہ حکومت میں بیٹھا جائے۔ اگر ہم پی پی پی کے ساتھ مل کر حکومت میں بیٹھیں گے تو اس کا فائدہ صرف پی پی پی کو ہوگا۔ اس لیے فی الحال ایسا نہیں لگ رہا کہ مستقبل قریب میں ن لیگ اور پی پی پی مل کر پنجاب اور وفاق میں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کریں گے۔ ایک پی پی پی لیڈر کا کہنا تھا ان کی نظر میں انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہونے چاہئیں۔ اگر ان ہاؤس تبدیلی آتی بھی ہو تو پھر بھی ہماری پارٹی کا خیال ہے کہ ہمیں 2023 ء کا  انتظار کرنا چاہیے۔

اسلام آباد میں موجود زیادہ تر سیاسی تبصرہ نگاروں کی ابھی تک یہی رائے ہے کہ عمران خان کی حکومت کو ابھی تک کسی بڑے سیاسی چیلنج کا سامنا نہیں ہے۔ سول عسکری تعلقات کا بظاہر تناؤ دیکھیں یا پھر ماضی کی مثالیں سامنے رکھیں توجب کبھی اس طرح کے مسائل اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان پیدا ہو جائیں تو حالات ایک جیسے نہیں رہتے۔ یہ بگاڑ کس حد تک موجود ہے ،فی الوقت اس کا اندازہ لگانا تھوڑا مشکل ہے۔اور اگر ایسا کوئی تناؤ موجود ہے بھی تو اس کا اثر ظاہر ہونے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ظفرعلی خان اور شبلی نعمانی ۔۔۔دوکوزہ گر ،ظفرعلی خان کے مضامین اور اسلوب پر شبلی کا رنگ نمایاں ہے

شمس العلما مولانامحمدشبلی نعمانی علی گڑھ کالج کا مایہ افتخارہیں۔ وہ فروری 1883ء سے اواخر 1898ء تک اس تاریخی درس گاہ سے وابستہ رہے۔ وہ یہاں عربی کے استاد اور طلبا کی ادبی تربیت کیلئے قائم کی گئی مجلس ’’لجنۃ الادب‘‘ کے نگران تھے۔ کم و بیش 16 سال کی اس مدت میں انھوںنے بہت سی جماعتوں کو درس دیا اور کئی نسلوں کی ذہنی آبیاری کی۔ علی گڑھ میں ان کے دامن تربیت اور خوانِ علم و فضل سے وابستہ رہنے والوں میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا حمیدالدین فراہی، مولوی عزیز مرزا، خواجہ غلام الثقلین، مولوی عبدالحق، سید محفوظ علی بدایونی، ڈاکٹر سرضیاء الدین اور چودھری خوشی محمد ناظر جیسے لوگ شامل ہیں۔ اس سلسلۃ الذہب میں مولانا ظفر علی خان کا نام بھی شامل ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ مولانا شبلی کے تلامذہ میں قومی سطح پر خدمات انجام دینے والوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ظفر علی خان 1892ء میں انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد 1893ء میں علی گڑھ میں داخل ہوئے اور انھوںنے 1895ء میں فسٹ ڈویژن میںبی اے کا امتحان پاس کیا۔

فیوڈل فینٹسی

ہر شخص کے ذہن میں عیش و فراغت کا ایک نقشہ رہتا ہے جو دراصل چربہ ہوتا ہے اس ٹھاٹ باٹ کا جو دوسروں کے حصے میں آیا ہے۔ لیکن جو دکھ آدمی سہتا ہے، وہ تنہا اس کا اپنا ہوتا ہے۔ بلاشرکت غیرے۔ بالکل نجی، بالکل انوکھا۔ ہڈیوں کو پگھلا دینے والی جس آگ سے وہ گزرتا ہے اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں۔ جیسا داڑھ کا درد مجھے ہو رہا ہے ویسا کسی اور کو نہ کبھی ہوا، نہ ہو گا۔ اس کے برعکس، ٹھاٹ باٹ کا بلْو پرنٹ ہمیشہ دوسروں سے چْرایا ہوا ہوتا ہے۔ بشارت کے ذہن میں عیش و تنعم کا جو صد رنگ و ہزار پیوند نقشہ تھا وہ بڑی بوڑھیوں کی اس رنگا رنگ رلّی کی مانند تھا جو وہ مختلف رنگ کی کترنوں کو جوڑ جوڑ کر بناتی ہیں۔

گرد ملال

ارے بہادر شاہ ظفر کا حقہ، اور ایک مرتبہ پھر مغلیہ جاہ و جلال، ان کی شان و تمکنت، ان کا تہذیب و تمدن، ان کا ذوق و شوق دونوں ادھیڑ عمر دوستوں کے تصورات میں آن دھمکا۔ سال خوردگی کے باوجود حقے کا رعب داب طنطنہ ہنوز قابل رشک، اس کی بناوٹ میں زیادہ تر نقرۂ خالص اور تانبہ استعمال ہوا۔ شہنشاہ کی خدمت میں پیش کرنے سے قبل اسے قیمتی ہیروں اور چمکتے دمکتے نگینوں سے مزین کیا گیا ہوگا، مگر اب اس بدقسمت کے پنڈے پر نوچے گئے جواہرات کے فقط نشانات یوں موجود جیسے گئے وقتوں کے المناک نوحے رقم ہوں۔

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔