نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کوئٹہ:مستونگ منگچرکےقریب مسافرکوچ اورکارمیں ٹکر
  • بریکنگ :- کوئٹہ:حادثےمیں 2خواتین،2بچوں سمیت 5افرادجاں بحق
  • بریکنگ :- کوئٹہ:حادثہ برفباری کےدوران پھسلن سےپیش آیا،ریسکیوحکام
Coronavirus Updates

آہ! ڈاکٹر اجمل نیازی ،پاکستان ایک دلیر اور محب وطن لکھاری سے محروم ہوگیا

تحریر : ڈاکٹر عرفان پاشا


پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان نیازی ایک ہمہ گیرشخصیت تھے، جنہوں نے علم وادب کے ہر شعبے میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔ وہ بیک وقت شاعر، ادیب، سفرنامہ نگار، کالم نگار، محقق، نقاد، تحقیقی مقالہ جات کے نگران اور استاد تھے۔ آپ کا تعلق نیازی قبیلے سے تھا اور وہ ہمیشہ اس بات پر فخر محسوس کرتے تھے۔ اسی مناسبت سے وہ معروف شاعر منیر نیازی کو ہمیشہ ’’میرے قبیلے کا سردار‘‘ کہہ کر بلاتے تھے۔

ڈاکٹر اجمل نیازی کی پیدایش پاکستان بننے سے ایک برس قبل موسیٰ خیل ضلع میانوالی میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم میانوالی اورپھر ہور سے حاصل کی ۔گورنمنٹ کالج لاہور سے انہیں عشق تھا وہ اس ادارے کے طالب علم بھی رہے اور استادبھی اس کے علاوہ یہاں رسالہ’’راوی‘‘ کے مدیر کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ملازمت کے سلسلے میں گورڈن کالج راولپنڈی، گورنمنٹ کالج میانوالی،گورنمنٹ کالج لاہور، ایف سی کالج لاہور اورگونمنٹ کالج ٹاؤن شپ لاہور میں تعینات رہے۔ لاہور میں وحدت روڈ پر واقع سرکاری کالونی کے کوارٹر نمبر D-7 میں ساری زندگی گزار دی۔ ان کی تصانیف میں ’’مندر میں محراب‘‘، ’’جل تھل‘‘، محمددین فوق‘‘، ’’بے نیازیاں‘‘، ’’بازگشت‘‘، ’’محبت اور جنگ‘‘، ’’مجموعہ مقالات‘‘ اور ’’پچھلے پہر کی سرگوشی‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے ہزاروں طالب علم ان کی زندہ میراث ہیں۔ 18اکتوبر2021ء کو یہ بطل جلیل دوسال بیماری سے مردانہ وار لڑنے کے بعد راہی ملک بقا ہو گیا۔ 

ڈاکٹر اجمل نیازی کی رحلت سے اردو ادب کی دنیا ایک قد آور ادیب اور ایک سچے محب وطن سے محروم ہو گئی ہے۔ ان کی وفات کے حوالے سے متحرک علمی و ادبی تنظیم آفاق ادب، پاکستان نے ان کے لیے ایک تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا۔یہ تقریب اکادمی ادبیات لاہور کے صوبائی دفتر میں منعقد ہوئی جس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید نے کی جب کہ مہمانان خاص میں ڈاکٹر کنول فیروز، ڈاکٹر ہارون قادر، ڈاکٹر عبدالکریم خالد، ڈاکٹر نواز حسن زیدی، معروف شاعر ناصر بشیر، ڈاکٹر عرفان پاشا، محمد اقبال، سجاد جعفری، علی راج، اسٹیفن گل اور ڈاکٹرایم ابرار شامل تھے۔ نظامت کے فرائض آفاق ادب کی روح رواں ڈاکٹر عابدہ بتول نے ادا کیے۔ تلاوت و نعت کی سعادت علی راج نے حاصل کی۔ حاضرین میں عظمیٰ اجمل خان، طاہرہ بتول، آشر حنیف، سلمان صدیق، اقبال بخاری، محمد جمیل اور علم و ادب سے تعلق رکھنے والی متعدد دیگر شخصیات شامل تھیں۔ 

منیجر فیصل بنک محمد اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اجمل نیازی نے ہمیشہ کلمہ حق کہا اور حکومتی جبر اور پابندیوں کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ ڈاکٹر عرفان پاشا نے کہا کہ ڈاکٹر اجمل نیازی صاحب اسلوب ادیب تھے اور تحریر و تقریر میں تراکیب سازی اور رعایت لفظی کے ماہر تھے۔ وہ ایک دلبر اور دلیرآدمی تھے۔ وہ جس محفل میں موجود ہوتے اس کو کشت زعفران بنا دیتے۔ وہ ہرتقریب میں بیٹھے ہوئے کچھ نہ کچھ نوٹس لکھتے رہتے تھے تاکہ اس کے بارے میں بعدازاں کالم یا کوئی دیگر تحریر لکھیں تو اہم باتیں ذہن سے محو نہ ہو جائیں۔ ان کی شخصیت محنت اور محبت کا پیکر تھی۔ 

ناصر بشیر نے کہا کہ ڈاکٹر اجمل نیازی کا ان کے ساتھ متعدد اخبارات میں بے حد حسین وقت گزرا ہے اور وہ اپنے بچوں کو ان کے پاس چھوڑ جاتے تھے جہاں وہ انہیں کمپنی بھی دیتے اورکھانا بھی کھلاتے جس سے وہ خوش ہوتے۔ حتیٰ کہ اپنے والد کے جنازے پر بھی نیازی صاحب کے بیٹے ان لمحات کو یاد کر کے جذباتی ہو رہے تھے۔ سجاد جعفری نے کہا کہ ڈاکٹر اجمل نیازی  انہیں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے اور مختلف تقریبات میں لے جاتے اور اس طرح انہوں نے ان کی شعری، نثری اور تقریری تربیت کی۔ اکادمی ادبیات کے مہتمم محمد جمیل نے کہا کہ ڈاکٹر اجمل نیازی سے ان کے دوستانہ تعلقات چالیس سال پرمحیط ہیں جن کا اختتام ہوا اوراب وہ نیازی صاحب کو ہمیشہ مس کرتے ہیں۔ 

ڈاکٹر نوازحسن زیدی نے ان کے ساتھ اپنے ایف سی کالج کے مشاہدات اور تجربات کو بیان کرتے ہوے کہا کہ ڈاکٹر اجمل نیازی دوستی اوردشمنی کے معاملات میں کھرے اورانتہائی صاف گو آدمی تھے۔ ڈاکٹر عبدالکریم خالد نے کہا کہ ڈاکٹر اجمل نیازی سے ایک مرتبہ ان کی کچھ شکر رنجی ہو گئی تو نیازی صاحب خود ان کو منانے ان کے گھر پہنچ گئے۔ اس کے بعد ان کی دوستی گھریلو تعلقات میں بدل گئی۔ ان کی شخصیت معصومیت  اورحیرت سے عبارت تھی۔ ڈاکٹرہارون قادرنے کہا کہ ڈاکٹر اجمل نیازی ان کے بہت بے تکلف دوست تھے اوران کے ساتھ اپنے تمام معاملات سانجھے کرتے تھے۔ 

صدارتی خطبہ دیتے ہوئے ڈاکٹرسعادت سعید نے کہا کہ ڈاکٹر اجمل نیازی کا سفرنامہ ’’مندر میں محراب‘‘ ان کی حب الوطنی کی زندہ مثال ہے جس میں انہوں نے دورہ ہندوستان کو مسلم ہندوستان کی بازیافت قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ وہ ایک سچے پاکستانی اور نڈر و دبنگ ادیب تھے جنہوںنے اپنے قلم کے ذریعے وہ کام کیا جو بڑے بڑے جرنیل نہیں کر پائے۔ علی راج نے ڈاکٹر اجمل نیازی کی شان میں منظوم خراج عقیدت بھی پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر اجمل نیازی کی مغفرت، بلندی درجات اورشفاعت رسول کریمﷺ کے لئے دعا کی گئی اورحاضرین کو چائے پیش کی گئی۔ 

(ڈاکٹر عرفان پاشا یونیورسٹی آف ایجوکیشن فیصل آباد کیمپس کے شعبہ اردو سے بطور اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ ہیں، ادب اور سماجی موضوعات پر ان کے مضامین و کالم مختلف اخبارات اوررسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں، چار کتابوں کے مصنف بھی ہیں)

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

چالاک باز

کوّے کی ملا قات فضا میں اڑ تے ہوے ایک باز سے ہوئی جو بہت دن سے کسی اچھے شکا ر کی تلاش میں تھا کو ّے نے اپنی کہا نی با ز کو سنائی اور اسے کہا وہ بھی یہ تر کیب اپنے شکار پر آزما کر دیکھے۔

کنکریاں

ایک قافلہ سفر کررہا تھا اوردوران سفر ان کا گزر ایک اندھیری سرنگ سے ہو رہا تھا کہ اچانک ان کے پیروں میں کنکریوں کی طرح کچھ چیزیں چبھیں۔

بچوں کا انسائیکلو پیڈیا

بادل اتنی مختلف شکلوں میں کیوں ہوتے ہیں؟بادل بہت سی مختلف شکلوں کے ہوتے ہیں۔ ان کا انحصار ان کی اونچائی اور اس ہوا پر ہوتا ہے جس میں وہ موجود ہوتے ہیں۔ چھوٹے دھوئیں کی طرح کے بادل آسمان کی اونچائی پر جما دینے والی ہوا میں بنتے ہیں۔ سر مئی کمبل جیسے بادل گرم اور نم دار ہوا سے، جو زمین کے نزدیک ہوتی ہے، بنتے ہیں۔ اپنی اونچائی اور شکل کی بنا پر بادلوں کے مختلف نام رکھے گئے ہیں۔

ذرا مسکرائیے

ایک سال بہت بارش ہوئی، ایک محفل میں کسی نے کہا: ’’ زمین میں جو کچھ بھی ہے اس دفعہ باہر نکل آئے گا۔‘‘ ملا نصیر الدین سخت گھبرا کر بولے:’’ اگر میری تین بیویاں نکل آئیں تو کیا ہوگا۔‘‘

تعصب و عصبیت، معاشرتی عدم استحکام کے بڑے اسباب

سماجی اعتبار سے عصبیت کے ظہور سے سیاسی عدم استحکام اور فرقہ واریت کو فروغ ملتا ہے، اے لوگو! ’’ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہارے خاندان اور قومیں بنائیں تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو ‘‘ (الحجرات:13)

کسبِ حلال: عین عبادت، پاکیزہ مال کمانا دُنیا و آخرت کی حقیقی خوشی و کامیابی

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حلال مال کا طلب کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی:8610)،اپنے کھانے کو پاک کرو! جب کوئی شخص حرام کا لقمہ پیٹ میں ڈالتا ہے تو 40 دن تک اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول نہیں کرتا‘‘(المعجم الاوسط للطبرانی:6495)