وضو کی فضیلت، باوضو سونے والے کیلئے فرشتے دعائے مغفرت کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام پر جتنی عبادات ضروری اور فرض قرار دی ہیں ان میں سے سب سے اہم نمازہے۔ نماز پڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ نمازی حدثِ اصغر (بے وضو ہونے) اور حدثِ اکبر (جنابت، حیض اور نفاس) سے پاک ہو۔ بغیر طہارت کے نماز پڑھنا جائز نہیں اور نہ ہی ایسی نماز قبول ہوتی ہے۔ اس حوالے سے وضو کی فضیلت پر چند احادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں۔
آیت ِ وضو:مفہوم آیت:’’اے ایمان والو! جب تم نماز ادا کرنے کا ارادہ کر کے اٹھو تو اپنے چہرے اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں تک (دھو لیا کرو)۔ اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو سارے جسم کو (غسل کے ذریعے) خوب اچھی طرح پاک کرو، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی قضائِ حاجت کر کے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے جسمانی ملاپ کیا ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا اس (مٹی) سے مسح کر لو۔ اللہ تم پر کوئی تنگی مسلط نہیں کرنا چاہتے لیکن تمہیں پاک صاف کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ تم پر اپنی نعمت کو ایسے طریقے پر مکمل کرے کہ مزید کی گنجائش نہ رہے تاکہ تم شکر گزار بنو۔(سورۃ المائدۃ:رقم الآیت:6)
وضو سے گناہ جھڑ جاتے ہیں:حضرت عمرو بن عبسہؓ سے مروی ہے کہ ’’میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی: اے اللہ کے نبیؐ! مجھے وضو کے متعلق بتلائیے!آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ثواب کی نیت سے وضو کرتا ہے،اس دوران جب کلی کرتا ہے، ناک میں پانی ڈالتا ہے، اسے اچھی طرح سے صاف کرتا ہے ان اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے منہ اور نتھنوں کے گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔ اس کے بعد جب وہ اللہ کے حکم کے مطابق چہرہ دھوتا ہے تو داڑھی کے کناروں سے اس کے چہرے کے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ اس کے بعد جب وہ کہنیوں سمیت بازو دھوتا ہے تو ہاتھوں کے پوروں سے وضو کے پانی کے ساتھ اس کے ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر جب وہ سر کا مسح کرتا ہے تو بالوں کے سِروں سے اس کے سر کے گناہ وضو کے پانی کے ساتھ ہی جھڑ جاتے ہیں۔ اور جب وہ ٹخنوں سمیت پاؤں دھوتا ہے تو پوروں سے لے کر ٹانگوں تک اس کے گناہ وضو کے پانی کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں۔ اس کے بعد اگر وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرے جس میں اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد وثناء اور تعظیم جو اس کی شان کے لائق ہے اور دل کی یکسوئی کے ساتھ اللہ کی عبادت کی طرف متوجہ رہے تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہ گناہوں سے اس طرح پاک اور صاف ہو جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے ابھی جنم دیا ہو۔(صحیح مسلم: رقم الحدیث:832)
باوضو ہو کر سونے کی فضیلت: حضرت ابواُمامہؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’جو شخص وضو کی حالت میں اپنے بستر پرلیٹے اور نیند آنے تک اللہ کے ذکر میں مصروف رہے تو وہ رات کے جس وقت میں اللہ سے دنیا و آخرت کی بھلائی مانگے اللہ تعالیٰ اسے عطا فرماتے ہیں۔(جامع الترمذی: رقم الحدیث:3526)
باوضو سونے والے کیلئے فرشتوں کی دعا:حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا’’اپنے جسموں کو (حدث اصغر، حدث اکبر اور گناہوں سے)پاک رکھو۔ جو شخص رات کو باوضو سوتا ہے اس کے جسم کے ساتھ لگنے والے کپڑے میں ایک فرشتہ رات گزارتا ہے۔ جب یہ شخص نیند میں کروٹ بدلتا ہے تو فرشتہ اس شخص کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہوئے عرض کرتا ہے کہ اے اللہ اپنے اس بندے کی بخشش فرما کیونکہ یہ رات کو پاک ہو کر سویا تھا۔(المعجم الکبیر للطبرانی: رقم الحدیث:13620)
قیامت کے دن اعضائے وضو کی چمک:حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’قیامت والے دن میری امت کے ان لوگوں کو(جنہوں نے وضو کو سنت کے مطابق ادا کیا ہو گا ) تو اعضائے وضو کی چمک کی وجہ سے انہیں روشن چہرے والے کہہ کر بلایا جائے گا۔ اس لیے تم میں سے جو یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی چمک کو بڑھائے تواسے(سنت کے مطابق وضو کرنے کی پابندی کر کے یہ فضیلت)حاصل کرنی چاہیے۔(صحیح البخاری: رقم الحدیث:136)
جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں:حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:’’جو شخص وضو کرے اور پھر کلمہ شہادت پڑھ لے تو ایسے شخص کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اب اس کی مرضی وہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔(صحیح مسلم: رقم الحدیث: 234)،اللہ تعالیٰ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(مولانا محمد الیاس گھمن معروف عالم دین
اور دو درجن سے زائد کتب کے مصنف ہیں)