نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کئی ایسی بلڈنگزہیں جنہوں نےرولزکی خلاف ورزی کی،سعیدغنی
  • بریکنگ :- عدالتی حکم پرعمل کریں گےتولاکھوں لوگ متاثرہوں گے،سعیدغنی
  • بریکنگ :- غیرقانونی تعمیرات پنجاب میں بھی ہیں،سعیدغنی
Coronavirus Updates

حکومت کیلئے وقت کم، مقابلہ سخت

خصوصی ایڈیشن

تحریر : خاور گھمن


پاکستان کے موجودہ حالات کو اگر سامنے رکھیں تو اس وقت کوئی ایک خبر بھی وزیراعظم عمران خان یا تحریک انصاف حکومت کے حق میں پڑھنے یا سننے کو نہیں ملتی۔ ایک طرف حکومت کو اگر معاشی چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری طرف پٹرول اور گیس کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے۔ سونے پر سہاگہ کہ چینی اور گندم کے وافر سٹاک کی موجودگی کے باوجود قیمتوں میں روز بروز اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر آچکی ہیں تو اتحادی بھی ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔ جس کا ثبوت انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کے موقع پر اپنے خدشات کا اظہار کر کے دیا۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے حوالے سے پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے بظاہر سول اور ملٹری قیادت میں بھی تناؤ نظر آیا۔ تحریک انصاف کے اپنے لوگ بھی پریشان ہیں لیکن اس سب کے باوجود اگر کوئی پریشان نہیں تو وہ وزیراعظم عمران خان ہیں یا پھر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار۔

اتنے سارے چیلنجز کا سامنا جب ایک حکومتی پارٹی کو ہو تو ایک سے زیادہ سوال ذہن میں ابھرتے ہیں۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے باقی ماندہ 20 مہینوں کے دوران ایساکونسا لائحہ عمل اپنائیں گے جس کی وجہ سے وہ 2023ء کے انتخابات میں عوام کے پاس جا سکیں گے اور انہیں بتائیں گے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران عوامی ترقی اور بہبود کیلئے میں نے یہ کام کیے ہیں اور اگر آپ لوگ مجھے دوبارہ منتخب کرتے ہیں تو میں آپ کے لیے مزید یہ کام کروں گا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی کمزوریوں کی وجہ سے کیا حزب اختلاف اس پوزیشن میں آ چکی ہے کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت کو چلتا کرتے ہوئے آئندہ انتخابات کیلئے راستہ ہموار کر سکے؟  

حکومت کے پاس اپنے باقی 20 مہینوں کے لیے کیا پلان آف ایکشن ہے جس کے ذریعے وہ مہنگائی پر قابو پانے کیساتھ بیروز گاری میں کمی لاسکے گی ؟تاکہ حکومت کے حوالے سے لوگوں کی رائے میں مثبت تبدیلی آئے۔ ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کیلئے جب ہماری ایک اہم وفاقی وزیر سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا آئندہ سال مارچ، اپریل کے بعد امید ہے کہ پوری دنیا میں حالات بہتر ہوں، موجودہ ڈیمانڈ اور سپلائی کی صورتحال میں بہتری آئے گی جس کا اثر پاکستان پر بھی پڑے گا۔ تیل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے حکومت کو اس وقت کافی مشکلات کا سامنا ہے اور ظاہر ہے اس کا اثر بجلی اور گیس کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے جس کی وجہ سے حکومت پر تنقید مزیدبڑھ جا تی ہے۔

 ایک دوسرے وزیر سے جب پوچھا تھا تو ان کا دعویٰ تھا کہ کامیاب نوجوان پروگرام، احساس پروگرام، صحت اور کسان کارڈز کی وجہ سے آئندہ انتخابات میں جانے سے پہلے تحریک انصاف کافی اچھی پوزیشن میں آجائے گی۔ برآمدات بڑھ رہی ہیں،رئیل اسٹیٹ سیکڑ میں اس وقت کافی زوروشور سے کاروبار ہو رہا ہے،زراعت کے شعبے میں بھی کافی بہتری ہے، اس لیے ہماری حکومت 2023ء کے انتخابات کے حوالے سے زیادہ پریشان نہیں۔ لیکن حکومتی اتحادی کافی پریشان نظر آتے ہیں۔ ق لیگ کے ایک عہدیدار کے مطابق اگر حالات اسی طرح کے رہے تو ظاہر ہے ہمیں آئندہ انتخابات میں کافی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے گذشتہ تین سال سے ہم ساتھ ہیں اس لیے حکومت کے تمام اچھے برے اقدامات کا اثر ہماری سیاست پر ضرور پڑے گا۔ 

دوسرا اہم سوال جو آجکل اسلام آباد کے حلقوں میں زیر بحث ہے وہ ہے کہ کیا اپوزیشن اپنی حکومت مخالف تحریک کو اس مقام تک لا پائے گی جس کے نتیجے میں ملک میں نئے انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے۔ ن لیگ میں موجود چند افراد سے جب پوچھا تو ان کاکہنا تھاکہ ان کی پارٹی نئے انتخابات ضرور چاہتی ہے لیکن یہ کیسے ممکن ہو، اس پر ابھی تک حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان آراء تقسیم ہیں۔ پیپلزپارٹی چاہتی ہے پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے اور اگر اس میں وہ کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر اگلے انتخابات کے حوالے سے کچھ سوچا جا سکتا ہے،لیکن ن لیگ کا خیال ہے حکومت پر مظاہروں کے ذریعے دباؤ بڑھایا جائے اور اسے مزید ایکسپوز کیا جائے۔ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اگر حکومت کا بوریا بستر گول کیا جاتا ہے تو اس کے لیے حکومت کے موجودہ اتحادیوں کو توڑنا پڑے گا اور اس مقصد کے لیے ان کے ساتھ کچھ وعدے وعید کرنا پڑیں گے، اگر ایسا ہوتا ہے توپھر ظاہر ہے ہمارے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو ٹھیس پہنچے گی۔ اس لیے سینئر ن لیگی رہنما کا کہنا تھا وہ کسی جلدی میں نہیں، کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جس سے ایسا لگے کہ ن لیگ کسی سازش کے ذریعے حکومت کو نکالنا چاہتی ہے۔ اس لیے زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے وزیر اعظم عمران خان بذات خود اگر کسی دن اسمبلیاں توڑ کر نئے الیکشن کر طرف جاتے ہیں تو ٹھیک ، ورنہ حالات و واقعات ایسے نہیں کہ حکومت کو اپوزیشن کی طرف سے کوئی حقیقی خطرہ ہو۔ 

اس کے بعد سب سے زیادہ زیر بحث رہنے والا معاملہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا ہے کہ کیا نیا ڈی جی آئی ایس آئی آنے کے بعد حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان ایک پیج والا فلسفہ قصہ پارینہ سمجھا جانا چاہیے؟ اس پر شہر اقتدار کے باخبر لوگوں کی رائے منقسم ہے۔ ایک رائے کے مطابق جب بھی آبپارہ میں قیادت تبدیل ہوتی ہے اس کے بعد ملکی سیاسی منظر نامے پرکچھ تبدیلیاں ضرور رونما ہوتی ہیں۔ اب یہ تبدیلیاں کس نوعیت کی ہوں گی اس حوالے سے کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا تاہم قوی امکان ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے جانے کے بعد اب سول ملٹری تعلقات شاید پہلے جیسے نہ رہیں۔ لیکن یہ تبدیلی ایسی نہیں ہو گی جس سے حکومت کو کوئی بڑا خطرہ لاحق ہو۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس، پاکستان میں ذیابیطس خطرناک ، پوری دنیا میں تیسرے نمبر پر آگیا،ماہرین سر جوڑ بیٹھے

ملک میں’’ خاموش قاتل ‘‘ ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں مستقل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، عوام الناس کی جانب سے اپنے طرز زندگی میں تبدیلی نہ کرنے کی وجہ سے اعدادو شمار خطرناک ہوتے جارہے ہیں۔ماہرین امراض ذیابیطس کے مطابق ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 3 کروڑ 30 لاکھ ہوگئی ہے ۔اس تشویش ناک صورتحال کے باعث ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ماہرین ذیابیطس کا کہنا ہے کہ ہمارا ہیلتھ سسٹم اس طرح کا نہیں ہے کہ ہم کروڑوں کی تعداد میں ذیابیطس کے شکار مریضوں کا علاج کرسکیں تاہم مستقل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ لوگوں کو ذیابیطس کے موذی مرض سے بچنے کے لئے عوام آگاہی پھیلائی جائے تاکہ عوام الناس اس مرض سے بچ سکیں اور دوسروں کو اس سے بچانے کا ذریعے بھی بن سکیں۔ہر سال 14 نومبر کو ذیابیطس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس حوالے سے عوامی آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ مختلف سیمینارز ،پریس کانفرنسز ،واک اور تشہیری مہمات چلاکر ذیابیطس سے بچاؤ کے لئے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔اس سلسلے میں شہر قائد میں ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر انتظام عالمی سطح کی دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں ملک کے نامور ماہر امراض ذیابیطس نے شرکت کی جبکہ بیرون ممالک کے ماہرین نے کانفرنس میں ویڈیو کے ذریعے ذیابیطس سے بچاؤ کے حوالے سے اپنے پیغام عوام تک پہنچائے۔

11ماہ بعد رنگ میں فاتحانہ واپسی ایک اور ٹائٹل باکسر محمد وسیم کے نام قومی باکسر نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ سلور بیلٹ میں کولمبیئن فائٹر کو ہرایا

مایہ ناز پاکستانی باکسر محمدوسیم نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ ورلڈ کا ٹائٹل اپنے نام کر کے ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم سر بلند کر دیا۔ قومی ہیرو نے اپنے سے کہیں زیادہ تجربہ کار کولمبین باکسر رابرٹ بریرا کو باکسنگ کے مقابلے میں شکست سے دوچار کیا اور ڈبلیو بی سی فلائی ویٹ ورلڈ سلور بیلٹ چیمپئن بن گئے۔ دبئی کے باکسنگ ایرینا میں ہونے والے مقابلے میں12رائونڈز پر مشتمل فائٹ میں ججز نے محمد وسیم کو فاتح قرار دیا۔ مقابلے میں فتح حاصل کرنے پر پاکستانی باکسر محمد وسیم نے کہاکہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں،اس فائٹ کیلئے بہت محنت کی۔محمد وسیم نے فائٹ جیتنے پر اللہ اکبر کا نعرہ بھی لگایا۔ دونوں باکسرز کے درمیان یہ بائوٹ فلائی ویٹ کیٹیگری میں ہوئی۔یہ پاکستان کے محمد وسیم نے 12 ویں فائٹ جیتی ہے جبکہ ایک میں انہیں شکست ہوئی ہے۔کولمبین باکسر، محمد وسیم سے زیادہ تجربہ کار ہیں، وہ 26 فائٹس میں حصہ لے چکے ہیں، انہوں نے 13 حریفوں کو ناک آئوٹ کیا جبکہ بریرا کو 3 میں شکست ہوئی۔

ماحولیاتی آلودگی (آخری قسط)

جن گاڑیوں میں سے کالا دھواں نکلتا ہے، پولیس والے ان گاڑیوں کو روکتے کیوں نہیں؟ ایسی گاڑیوں کا چالان ہونا چاہیے۔ ہیں نا آپا؟۔

چھوٹے چھوٹے دانے

کسی جنگل میں ایک ننھی چیونٹی اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ ننھی چیونٹی کی ماں جب تک صحت مند تھی اپنے اور ننھی چیونٹی کے لئے مزے دار دانے لاتی، لیکن جب اس کی ماں بیمار اور بوڑھی ہو گئی تو دانہ لانے کی ذمے داری ننھی چیونٹی پر آ پڑی۔

بے غرض نیکی

ایک نیک عورت کہیں گاڑی میں سوار جا رہی تھی کہ اسے سڑک پر چھوٹی عمر کا ایک لڑکا نظر آیا، جو ننگے پائوں چلا جا رہا تھا اور بہت تھکا ہوا معلوم ہوتا تھا یہ دیکھ کر نیک عورت نے کوچوان سے کہا غریب لڑکے کو گاڑی میں بٹھا لو۔ اس کا کرایہ میں ادا کر دوں گی۔‘‘