نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نومبرمیں مہنگائی 11.5 فیصدہوگئی، ادارہ شماریات
  • بریکنگ :- اکتوبرمیں مہنگائی 9.2 فیصدتھی،ادارہ شماریات
  • بریکنگ :- نومبر2020میں مہنگائی 8.3 فیصدتھی، ادارہ شماریات
  • بریکنگ :- نومبرمیں ماہانہ بنیادوں پرٹماٹر 131.64 فیصدمہنگے
  • بریکنگ :- گھی 10.87 اورکوکنگ آئل 9.71 فیصدمہنگا
  • بریکنگ :- سبزیاں 10.47،انڈے 10.19اورگوشت 2.63 فیصدمہنگا
  • بریکنگ :- نومبرمیں ماہانہ بنیادوں پردودھ 2.33اورچینی 1.43 فیصدمہنگی
  • بریکنگ :- نومبرمیں سالانہ بنیادوں پرگھی 58.29فیصدمہنگا
  • بریکنگ :- نومبرمیں سالانہ بنیادوں پر کوکنگ آئل 53.59 فیصدمہنگا
  • بریکنگ :- آٹا 10.26اورآلو 17.66 فیصدمہنگے
  • بریکنگ :- بجلی چارجز 47.87 ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 40.81 فیصداضافہ
  • بریکنگ :- ادویات کی قیمتوں میں 11.76 فیصداضافہ ریکارڈ
  • بریکنگ :- نومبرمیں ماہانہ بنیادوں پرمہنگائی میں 3 فیصداضافہ ریکارڈ
  • بریکنگ :- نومبرمیں سالانہ بنیادوں پرمہنگائی میں 0.8فیصداضافہ
  • بریکنگ :- نومبرمیں شہری علاقوں میں مہنگائی 12 فیصدہوگئی
  • بریکنگ :- دیہی علاقوں میں مہنگائی 10.9 فیصدہوگئی
  • بریکنگ :- مہنگائی 21 ماہ کی بلندترین سطح پرپہنچ گئی، ادارہ شماریات
  • بریکنگ :- شہروں میں مہنگائی 12اوردیہات میں 10.9 فیصدرہی، دستاویز
Coronavirus Updates

فضائل اسلام ،سب سے زیادہ اللہ کے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سلام کہنے میں پہل کرتے ہیں

خصوصی ایڈیشن

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


سلام کی اسلام میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ایک مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کو سلام کرکے اس سے دلی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ اسی طرح جس کو سلام کیا گیاہے وہ بھی جواب دے کر سلام کرنے والے سے محبت کااظہار کرتا ہے۔ سلام صرف اسلام کا شعار ہی نہیں ہے بلکہ ایک اہم اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھر والوں کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو، یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ توقع ہے کہ تم اس کا خیال رکھوگے۔‘‘ (النور: 27)

ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:’’البتہ جب گھروں میں داخل ہواکرو تواپنے  لوگوں کو سلام کیا کرو، یہ دعائے خیر ہے اللہ کی طرف سے مقرر فرمائی ہوئی، بڑی بابرکت اور پاکیزہ‘‘ (النور:61) نبی کریمﷺ سلام کی ابتداء ’’السلام علیکم ورحمتہ اللہ‘‘ کے کلمات سے فرماتے اور سلام کرنے والے کو جواب میں ’’وعلیکم السلام‘‘ کہتے تھے۔ لفظ ’’السلام علیکم‘‘ (تم پر سلامتی ہو) اور ’’وعلیکم السلام‘‘ (اور آپ پر بھی سلامتی ہو) دونوں دعائیہ کلمات ہیں جو کہ مسلمان ملاقات کے وقت ایک دوسرے کے لئے استعمال کرتے ہیں گویا مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہی ایک دوسرے کو دعا دیتے ہیں۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ ’’بہترین اسلام یہ ہے کہ تم کھانا کھلائو چاہے جاننے والا ہو یا نہ جاننے والا، سب کو سلام کرو‘‘ (بخاری:12)، (صحیح مسلم:39)۔

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:’’اللہ نے جب حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا تو ان سے فرمایا کہ ان فرشتوں کے پاس جائو اور انھیں سلام کرو اور سنو کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہی تمہاری اولاد کے سلام کا جواب ہو گا۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام نے السلام علیکم کہا فرشتوں نے جواب میں وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ کہا۔ ( صحیح البخاری، الحدیث 6227)

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول کریمؐ نے فرمایا ’’تم جنت میں داخل نہیں ہوگے جب تک تم ایمان نہ لاؤ اور تم مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ تم ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔کیا میں تم کو ایک ایسی چیز نہ بتاؤں جس پر تم عمل کرو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو۔ اپنے درمیان سلا م کو عام کرو۔ (سنن ابی داؤد:5193)،سلام میں پہل کرنا قربتِ الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ رسول کریمﷺ نے فرمایا:’’سب سے زیادہ اللہ کے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سلام کہنے میں پہل کرتے ہیں۔ (ابو داؤد: 5197)

شریعت میں سلام کرنے کا طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، سوار پیدل چلنے والے کو، تھوڑے افراد زیادہ کو اور چھوٹا بڑے کو سلام کرے جبکہ سرکار ﷺ نے فرمایا کہ دو چلنے والوں میں سے جو پہل کرے وہ افضل ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جو سلام میں پہل کرے وہ اللہ کے ہاں تمام لوگوں سے بہتر ہے (ترمذی)۔ 

آپ ﷺ کی سیرت طیبہ یہ تھی کہ آپ کسی جماعت کے پاس آتے ہوئے سلام کرتے اور جب واپس ہوتے تب بھی سلام کرتے تھے۔ اسی طرح یہ بھی روایت ہے کہ تم میں سے ہر کوئی اپنے رفیق سے کرے، اگر دونوں کے درمیا ن درخت یا دیوار حائل ہو جائے تو پھر سامنا ہو تو پھر سلام کرے۔

 جب آپ ﷺ کسی دروازے پر تشریف لے جاتے تھے تو دروازے کے بالمقابل کھڑے نہ ہوتے تھے بلکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے تھے اور السلام علیکم کہتے تھے۔ آپ ﷺ دوسروں کو بھی سلام پہنچاتے تھے جیسا کہ اللہ کی طرف سے سیدہ حضرت خدیجہؓ کو سلام پہنچایا تھا اور اُم المومنین سیدہ حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا تھا کہ جبرائیل تمہیں سلام کہتے ہیں۔

الغرض سلام جواب دعائیہ الفاظ ہیں جو دنیا اور آخرت میں خیر و کامیابی ذریعہ ہیں۔ سلام کی عادت خود میں ڈالنا اور اپنے چھوٹے بچوں کو سلام کی عادت ڈالنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ نبی کریمؐ کا فرمان ہے کہ ’’سلام کو پھیلائو اور رات کے کسی حصہ میں قیام کرو تو انشاء اللہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جائو گے۔ اللہ ہمیں کریم آقا ﷺ کی سنتوں پر اپنی زندگیاں بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آقا کی پوری اُمت کو سلام دُعا کا عادی بنا دے۔ آمین 

صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی معروف عالم دین ہیں، 25 سال سے مختلف جرائد کے لئے اسلامی موضوعات پرانتہائی پر اثر اور تحقیقی مضامین 

لکھ رہے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

تھیٹر بحران : ذمہ دار کون ؟ تفریحی سرگرمیاں بحال کرنے کے حکومتی اعلان کے باوجود تھیٹرز آباد نہ ہوسکے

حکومت کی جانب سے لوگوں کی تفریح کیلئے تھیٹرز کھولنے کے اعلانات کے باوجود بہت سے تھیٹر تاحال بند ہیں۔ عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث جہاں دنیا بھر کی معیشت تباہ ہوئی وہیںپاکستانی تھیٹر کو بھی بے پناہ نقصان پہنچا۔ تھیٹر بند ہونے سے سٹیج ڈراموں سے وابستہ فنکار بھی معاشی مسائل کا شکار رہے۔ کورونا کی صورتحال میںبہتری کے بعد10اگست 2020 ء کو حکومت نے ایس او پیز کے تحت تھیٹر ہالز کھولنے کی اجازت دی مگر پروڈیوسرز اب تک تھیٹرز کو آباد کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ تھیٹر بزنس میں اضافہ ہونے کے بجائے کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ جدید تھیٹر ز کی تعمیر نو بھی تعطل کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ کئی چلتے ہوئے تھیٹر بند ہوگئے ہیں۔

آشیاں جل گیا، گلستان لٹ گیا، حبیب ولی محمد : ایک لاثانی گلوکار

حبیب ولی محمد کی مشہور غزلیں-1لگتا نہیں ہے دل مرا-2نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں-3یہ نہ تھی ہماری قسمت-4آج جانے کی ضد نہ کرو-5مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں-6کب میرا نشیمن اہل چمنمقبول ملی نغمات-1روشن درخشاں، نیرو تاباں-2اے نگار وطن تو سلامتِ رہے-3سوہنی دھرتی اللہ رکھے-4لُہو جو سرحد پہ بہہ چکا ہے

دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس، پاکستان میں ذیابیطس خطرناک ، پوری دنیا میں تیسرے نمبر پر آگیا،ماہرین سر جوڑ بیٹھے

ملک میں’’ خاموش قاتل ‘‘ ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں مستقل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، عوام الناس کی جانب سے اپنے طرز زندگی میں تبدیلی نہ کرنے کی وجہ سے اعدادو شمار خطرناک ہوتے جارہے ہیں۔ماہرین امراض ذیابیطس کے مطابق ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 3 کروڑ 30 لاکھ ہوگئی ہے ۔اس تشویش ناک صورتحال کے باعث ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ماہرین ذیابیطس کا کہنا ہے کہ ہمارا ہیلتھ سسٹم اس طرح کا نہیں ہے کہ ہم کروڑوں کی تعداد میں ذیابیطس کے شکار مریضوں کا علاج کرسکیں تاہم مستقل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ لوگوں کو ذیابیطس کے موذی مرض سے بچنے کے لئے عوام آگاہی پھیلائی جائے تاکہ عوام الناس اس مرض سے بچ سکیں اور دوسروں کو اس سے بچانے کا ذریعے بھی بن سکیں۔ہر سال 14 نومبر کو ذیابیطس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس حوالے سے عوامی آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ مختلف سیمینارز ،پریس کانفرنسز ،واک اور تشہیری مہمات چلاکر ذیابیطس سے بچاؤ کے لئے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔اس سلسلے میں شہر قائد میں ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر انتظام عالمی سطح کی دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں ملک کے نامور ماہر امراض ذیابیطس نے شرکت کی جبکہ بیرون ممالک کے ماہرین نے کانفرنس میں ویڈیو کے ذریعے ذیابیطس سے بچاؤ کے حوالے سے اپنے پیغام عوام تک پہنچائے۔

11ماہ بعد رنگ میں فاتحانہ واپسی ایک اور ٹائٹل باکسر محمد وسیم کے نام قومی باکسر نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ سلور بیلٹ میں کولمبیئن فائٹر کو ہرایا

مایہ ناز پاکستانی باکسر محمدوسیم نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ ورلڈ کا ٹائٹل اپنے نام کر کے ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم سر بلند کر دیا۔ قومی ہیرو نے اپنے سے کہیں زیادہ تجربہ کار کولمبین باکسر رابرٹ بریرا کو باکسنگ کے مقابلے میں شکست سے دوچار کیا اور ڈبلیو بی سی فلائی ویٹ ورلڈ سلور بیلٹ چیمپئن بن گئے۔ دبئی کے باکسنگ ایرینا میں ہونے والے مقابلے میں12رائونڈز پر مشتمل فائٹ میں ججز نے محمد وسیم کو فاتح قرار دیا۔ مقابلے میں فتح حاصل کرنے پر پاکستانی باکسر محمد وسیم نے کہاکہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں،اس فائٹ کیلئے بہت محنت کی۔محمد وسیم نے فائٹ جیتنے پر اللہ اکبر کا نعرہ بھی لگایا۔ دونوں باکسرز کے درمیان یہ بائوٹ فلائی ویٹ کیٹیگری میں ہوئی۔یہ پاکستان کے محمد وسیم نے 12 ویں فائٹ جیتی ہے جبکہ ایک میں انہیں شکست ہوئی ہے۔کولمبین باکسر، محمد وسیم سے زیادہ تجربہ کار ہیں، وہ 26 فائٹس میں حصہ لے چکے ہیں، انہوں نے 13 حریفوں کو ناک آئوٹ کیا جبکہ بریرا کو 3 میں شکست ہوئی۔

ماحولیاتی آلودگی (آخری قسط)

جن گاڑیوں میں سے کالا دھواں نکلتا ہے، پولیس والے ان گاڑیوں کو روکتے کیوں نہیں؟ ایسی گاڑیوں کا چالان ہونا چاہیے۔ ہیں نا آپا؟۔