نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- گوشوارےجمع کرانے والے 11 ارکان کی رکنیت بحال،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- سینیٹرمصدق ملک کی رکنیت بحال کردی گئی،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- فرخ حبیب اورحماداظہرکی اسمبلی رکنیت بحال،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- رانا قاسم نون،فرخ الطاف،صالح محمد کی رکنیت بحال
  • بریکنگ :- ارکان پنجاب اسمبلی عبدالرؤف مغل اورحسینہ بیگم کی رکنیت بحال
  • بریکنگ :- سندھ اسمبلی کےرکن ہری رام کی رکنیت بحال،الیکشن کمیشن
Coronavirus Updates

بے غرض نیکی

تحریر : روزنامہ دنیا


ایک نیک عورت کہیں گاڑی میں سوار جا رہی تھی کہ اسے سڑک پر چھوٹی عمر کا ایک لڑکا نظر آیا، جو ننگے پائوں چلا جا رہا تھا اور بہت تھکا ہوا معلوم ہوتا تھا یہ دیکھ کر نیک عورت نے کوچوان سے کہا غریب لڑکے کو گاڑی میں بٹھا لو۔ اس کا کرایہ میں ادا کر دوں گی۔‘‘

اس کے بیس سال بعد اُسی سڑک پر ایک کپتان گاڑی پر سوار چلا جارہا تھا۔ اس کی نظر اتفاقاً ایک بوڑھی عورت پر جا پڑی، جو تھکی ہوئی چال سے پیدل چل رہی تھی۔ یہ دیکھ کر کپتان نے کوچوان کو حکم دیا۔ گاڑی ٹھہرا کر اس بوڑھی عورت کو بھی بٹھا لو۔ اس کا کرایہ میں ادا کر دوں گا۔

منزل پر سواریاں گاڑی سے اترنے لگیں تو بوڑھی عورت نے کپتان کا شکریہ ادا کرکے کہا۔’’اس وقت میرے پاس کرایہ ادا کرنے کیلئے دام نہیں‘‘۔

کپتان نے جواب دیا۔ ’’ تم بالکل فکر نہ کرو میں نے کرایہ دے دیا ہے، کیونکہ مجھے بوڑھی عورتوں کو پیدل چلتے دیکھ کر ہمیشہ ترس آ جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ بیس سال ہوئے جب میں غریب لڑکا تھا۔ مجھے اسی جگہ کے آس پاس سڑک پر ننگے پائوں پیدل چلتے دیکھ کر ایک رحم دل عورت نے گاڑی میں بٹھا لیا تھا‘‘۔

بوڑھی عورت نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا کپتان صاحب! وہ عورت یہی کمبخت بڑھیا ہے، جو تمہارے سامنے کھڑی ہے اور جس کی حالت اب اتنی بگڑ گئی ہے کہ وہ اپنا کرایہ بھی نہیں دے سکتی‘‘۔

کپتان نے کہا۔’’ نیک بخت اماں! اب آپ اس کا کوئی غم نہ کریں۔ میں نے بہت سا روپیہ کما لیا ہے اور زندگی کے باقی دن آرام سے کاٹنے کیلئے وطن آ رہا ہوں تم جب تک زندہ رہو گی میں بڑی خوشی سے تمہاری خدمت کروں گا‘‘۔

 یہ سن کر بوڑھی عورت شکریہ ادا کرتی ہوئی رو پڑی اور کپتان کو دعائیں دینے لگی۔ کپتان تمام عمر اس کی مدد کرتا رہا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

جورہی سو بےخبری رہی : سراج اورنگ آبادی : 18ویں صدی کے شاعر کا کلام آج بھی مقبول

ان کے اشعار ابہام، تکلف و بناوٹ سے عاری، اظہار میں متوازن ہیں، جو مشرقی تہزیب کا خاصہ ہےسراج انسانی کیفیات و احساسات کو خوبصورتی اور نزاکت سے بیان کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں

یادرفتگان : ’’کون ہے یہ گستاخ‘‘ سعادت حسن منٹو

تقسیم ہند کے ظلم و ستم کو بھی منٹو نے اپنے مخصوص اسلوب نگارش کے ذریعے قلمبند کیایہ منٹو کا کمال ہے کہ انہوں نے سماجی و معاشرتی حقیقت نگاری کو اردو افسانے کے ماتھے کا جھومر بنایا

چار ملکی کرکٹ سیریز کی پاکستانی تجویز، ایشیا کپ اور چمئینز ٹرافی کا میزبان پاکستان، بھارت پریشان

کیا مودی حکومت میں پاک بھارت کرکٹ ممکن ہے؟،آئی سی سی کے آئندہ اجلاس میں پی سی بی پاکستان ، بھارت ، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کی تجویز پیش کرے گا

73ویں پنجاب گیمز:نئے ٹیلنٹ کی تلاش

منتخب کھلاڑی لاہور میں ہونیوالے کھیلوں میں حصہ لیں گے،سپورٹس ڈیپارٹمنٹ اور ایسوسی ایشنز شفاف ٹرائلز کے ذریعے کھلاڑیوں اور ٹیموں کاانتخاب کرنے میں مصروف

پیاز کی کہانی ڈاکٹر بینگن کی زبانی

دورکسی جگہ ایک سر سبز اور زرخیز میدان میں مختلف سبزیوں کی حکمرانی تھی یہاں کسی انسان کا گزر نہیں تھا۔ وہ آزادی سے کھیلتی کودتی تھیں۔ سب میں بڑا اتحاد تھا صرف ایک پیاز ہی تھی جس سے سب دور رہتے تھے۔

اور اعتبار ٹوٹ گیا

اسد علی کو اللہ تعالیٰ نے دولت، جائیداد، اولاد، صحت غرض سب نعمتیں عطا کی ہوئی تھیں۔ وہ بہت خوش حال زندگی گزار رہے تھے۔ گائوں کا نمبردار وڈیرہ ہونے کے باوجود اس میں غرور و تکبر نام کی کوئی چیز نہ تھی۔