نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پاک بحریہ کےجہازپی این ایس تبوک کادورہ بحرین،ترجمان
  • بریکنگ :- کمانڈنگ افسرکی مختلف ممالک کےعسکری حکام سےملاقاتیں،ترجمان
  • بریکنگ :- باہمی دلچسپی کےاموراوردوطرفہ بحری تعاون پرتبادلہ خیال،ترجمان
  • بریکنگ :- اعلیٰ سفارتی اورعسکری حکام کاپی این ایس تبوک کابھی دورہ،ترجمان
  • بریکنگ :- دورےسےبرادرممالک کےمابین تعلقات کوفروغ ملےگا،ترجمان پاک بحریہ
Coronavirus Updates

گرد ملال

تحریر : روزنامہ دنیا


ارے بہادر شاہ ظفر کا حقہ، اور ایک مرتبہ پھر مغلیہ جاہ و جلال، ان کی شان و تمکنت، ان کا تہذیب و تمدن، ان کا ذوق و شوق دونوں ادھیڑ عمر دوستوں کے تصورات میں آن دھمکا۔ سال خوردگی کے باوجود حقے کا رعب داب طنطنہ ہنوز قابل رشک، اس کی بناوٹ میں زیادہ تر نقرۂ خالص اور تانبہ استعمال ہوا۔ شہنشاہ کی خدمت میں پیش کرنے سے قبل اسے قیمتی ہیروں اور چمکتے دمکتے نگینوں سے مزین کیا گیا ہوگا، مگر اب اس بدقسمت کے پنڈے پر نوچے گئے جواہرات کے فقط نشانات یوں موجود جیسے گئے وقتوں کے المناک نوحے رقم ہوں۔

نقرئی چلم آخری مغل شہنشاہ کو طرب و الم کے ادوار میں کیف و سرور کے لمحات بہم پہنچانے کے بعد اس طرح سوگوار و مُہر بہ لب، جیسے کوئی ماہر رقاصہ رات بھر اپنے رقص سے اہل بزم کے دلوں کو گرمانے کے بعد صبح سویرے تھکن سے چور ہو کر خامشی سے اپنے بستر میں گری پڑی ہو۔

 دونوں استعجاب و احترام سے شاہی پیچوان کی وجاہت و شباہت کا جائزہ لینے لگے، چند ثانیوں کی خاموشی کے بعد نجیب نے آہ سرد کھینچ کر مرزا غالب کا درد ناک شعر با آوازِ بلند پڑھا:

داغِ فراقِ محبت شب کی جلی ہوئی!

اک شمع رہ گئی ہے سو وہ خاموش ہے

رنگون میں بھی یہی حقہ بُرے وقت میں عالم پناہ کا رفیق و دم ساز رہا ہوگا۔ کاش! اس بے چارے کی زبان ہوتی تو آخری تاجدار ہند کے کچھ احوال ہمارے گوش گزار کر سکتا۔ اگرچہ دوران نظر بندی شاہ عالم کو فیض آبادی خمیرہ اور مراد آبادی بھنڈ بھنڈا تو نصیب نہ ہوتا ہوگا، تاہم مقامی تمباکو پر قناعت کرتے ہوئے بھری آنکھوں، لرزتے ہونٹوں اور رعشہ زدہ ہاتھوں سے اس یار غار کی نے دباتے ہوں گے۔ کش لگانے کے بعد عقوبت خانے میں بکھرنے والے دھویں کے مرغولوں کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے سدا قائم و دائم رہنے والی معرکہ آرا غزل کے لافانی شعر مکمل کرتے ہوں گے:

لگتا نہیں ہے دل میرا اُجڑے دیار میں

کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں!

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے!

دو گز زمین بھی نہ ملی کُوے یار میں!

 نجیب نے زیر لب یہ شعر گنگنائے تو اس کی آواز رُندھ گئی، دونوں کے دل دھک سے یوں بیٹھ گئے گویا دنیا کی عظیم ترین مغل تہذیب دھڑام سے اُن پر آن گری ہو اور وہ رنجیدہ و کبیدہ اس ملبے کے نتیجے میں اٹھنے والی غموں، حسرتوں، عبرتوں اور اُداسیوں کی گرد ملال اپنے اپنے سروں میں ڈالے نمائش گاہ سے باہر نکل آئے۔ نام نہاد عصری تہذیب کے علمبردار ملک کی تازہ ہوائوں میں چند لمبے لمبے سانس کھینچے اور پھر بوجھل قدموں کے ساتھ کار پارکنگ کی جانب چل دیئے۔

(نیئر اقبال علوی کے افسانے ’’گردِ ملال‘‘ سے اقتباس)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

چالاک باز

کوّے کی ملا قات فضا میں اڑ تے ہوے ایک باز سے ہوئی جو بہت دن سے کسی اچھے شکا ر کی تلاش میں تھا کو ّے نے اپنی کہا نی با ز کو سنائی اور اسے کہا وہ بھی یہ تر کیب اپنے شکار پر آزما کر دیکھے۔

کنکریاں

ایک قافلہ سفر کررہا تھا اوردوران سفر ان کا گزر ایک اندھیری سرنگ سے ہو رہا تھا کہ اچانک ان کے پیروں میں کنکریوں کی طرح کچھ چیزیں چبھیں۔

بچوں کا انسائیکلو پیڈیا

بادل اتنی مختلف شکلوں میں کیوں ہوتے ہیں؟بادل بہت سی مختلف شکلوں کے ہوتے ہیں۔ ان کا انحصار ان کی اونچائی اور اس ہوا پر ہوتا ہے جس میں وہ موجود ہوتے ہیں۔ چھوٹے دھوئیں کی طرح کے بادل آسمان کی اونچائی پر جما دینے والی ہوا میں بنتے ہیں۔ سر مئی کمبل جیسے بادل گرم اور نم دار ہوا سے، جو زمین کے نزدیک ہوتی ہے، بنتے ہیں۔ اپنی اونچائی اور شکل کی بنا پر بادلوں کے مختلف نام رکھے گئے ہیں۔

ذرا مسکرائیے

ایک سال بہت بارش ہوئی، ایک محفل میں کسی نے کہا: ’’ زمین میں جو کچھ بھی ہے اس دفعہ باہر نکل آئے گا۔‘‘ ملا نصیر الدین سخت گھبرا کر بولے:’’ اگر میری تین بیویاں نکل آئیں تو کیا ہوگا۔‘‘

تعصب و عصبیت، معاشرتی عدم استحکام کے بڑے اسباب

سماجی اعتبار سے عصبیت کے ظہور سے سیاسی عدم استحکام اور فرقہ واریت کو فروغ ملتا ہے، اے لوگو! ’’ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہارے خاندان اور قومیں بنائیں تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو ‘‘ (الحجرات:13)

کسبِ حلال: عین عبادت، پاکیزہ مال کمانا دُنیا و آخرت کی حقیقی خوشی و کامیابی

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حلال مال کا طلب کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی:8610)،اپنے کھانے کو پاک کرو! جب کوئی شخص حرام کا لقمہ پیٹ میں ڈالتا ہے تو 40 دن تک اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول نہیں کرتا‘‘(المعجم الاوسط للطبرانی:6495)