نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی صدارت میں بڑےشہروں کی منصوبہ بندی سےمتعلق اجلاس
  • بریکنگ :- بڑےشہروں کی ترقی پرخصوصی توجہ دےرہےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- دیہات سےشہروں کی طرف آبادی کی منتقلی سےچیلنجزدرپیش ہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بڑے شہروں کیلئےخصوصی ترقیاتی پیکجزپرعملدرآمدتیزکیاجائے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کوفوری دورکیاجائے،وزیراعظم
Coronavirus Updates

ذرا مسکرائیے

تحریر : روزنامہ دنیا


استاد کلاس میں ایک ڈبہ لے کر آئے۔ لڑکوں نے پوچھا ،’’ استاد جی ! اس ڈبے میں کیا ہے ؟‘‘استاد نے کہا ، ’’ جو درست بتائے گا ، اسے اس ڈبے سے دو پنسلیں ملیں گی۔‘‘٭٭٭

 

ایک انگریز سیاح نے جو چینی زبان نہیں جانتا تھا، مینو کی آخری سطر پر انگلی رکھتے ہوئے بیرے سے کہا کہ وہ اس ڈش کی ایک پلیٹ لے آئے۔بیرے نے جو انگریزی جانتا تھا، مسکراتے ہوئے کہا، ’’معاف کیجیے جناب! آپ کے حکم کی تعمیل نہ ہو سکے گی، کیوں کہ یہ ہمارے ہوٹل کے مالک کا نام ہے۔‘‘

٭٭٭

باپ (بیٹے سے) : کیا امتحان میں سوال آسان تھے؟

بیٹا: سوال تو آسان تھے، مگر جواب مشکل تھے۔

٭٭٭

مالک (ملازم سے): تمہیں دفتر میں آئے ہوئے صرف ایک دن ہوا ہے اور تم نے تین کرسیاں توڑ ڈالیں۔

ملازم: جناب، آپ کے اشتہار میں لکھا تھا کہ آپ کو مضبوط آدمی چاہیے۔

٭٭٭

اْستاد (ڈانٹتے ہوئے): تم دونوں آج پھر لیٹ سکول آئے ہو؟

پہلا لڑکا: سر! وہ میرے پیسے کہیں گر گئے تھے، ان کو ڈھونڈ رہا تھا۔

اْستاد (دوسرے لڑکے سے): اور تم؟

دوسرا لڑکا: سر! میں دراصل اس کے پیسوں پر پاؤں رکھ کر کھڑا تھا۔

٭٭٭

 

ایک بڑی فیکٹری کا مالک جب اپنے اسٹور روم کے معائنے کے لیے گیا تو اس نے باہر ایک نوجوان کو دیکھا جو درخت کی چھاؤں تلے بیٹھا گنگنا رہا تھا۔ مالک نے اس سے پوچھا، ’’تم کیا کام کرتے ہو؟‘‘

وہ بولا،’’میں چپڑاسی ہوں۔‘‘

مالک نے پوچھا، ’’تمہیں ہر ماہ کتنی تنخواہ ملتی ہے؟‘‘

چپڑاسی نے جواب دیا، ’’چار سو روپے۔‘‘

مالک نے اپنی پتلون کی جیب سے سو سو کے چار نوٹ نکالے اور انہیں چپڑاسی کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا، ’’نکل جاؤ میری فیکٹری سے! آئندہ پھر کبھی نہیں آنا۔‘‘

جب چپڑاسی فیکٹری کے احاطے سے چلا گیا تو مالک نے منیجر کو بلا کر پوچھا،’’وہ کام چور چپڑاسی کتنے دن سے ہمارے ہاں ملازم تھا؟‘‘

’’سر! وہ ہمارا ملازم نہیں تھا۔ کسی اور فیکٹری سے خط لے کر آیا تھا اور جواب کا انتظار کر رہا تھا۔‘‘

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ناخنوں کی سجاوٹ، خوبصورت دکھنے کیلئے ناخنوں پر بھی توجہ دیں

2022ء میں خوبصورت لگنے کیلئے دیگر اہم ٹرینڈز کے ساتھ ساتھ نیل آرٹ اور نیل پالش پرتوجہ دینا بھی اہم ہے۔ ہم سب اس بات سے اتفاق کر تے ہیں کہ خوبصورتی کے رجحانات میں سے ایک ہماری انگلیوں کی نوک پر ہے یعنی ہمارے ناخن۔

مانگ ٹیکا: زیور کا اہم جزو، عام تقریبات میں بھی حسن کو چار چاند لگائے

اگر کہا جائے کہ دلہن کی تیاری مانگ ٹیکا کے بغیر نا مکمل ہے تو غلط نہ ہو گا۔ عام طور پر دلہنیں بارات کے دن کیلئے مانگ ٹیکے کا انتخاب کرتی ہیں، تاہم اب مانگ ٹیکا دلہن کی جیولری کے علاوہ بہنوں اور کزنز کی جیولری کا بھی لازمی جزو نظر آتا ہے جبکہ دلہنیں بارات کیلئے زیادہ تر ماتھا پٹی کا استعمال کرتی ہیں اور ولیمہ کیلئے مانگ ٹیکے کا انتخاب کرتی ہیں۔

ڈیٹوکس۔۔۔۔ جسم سے زہریلے اثرات زائل کرنے کا طریقہ

ہم مضر صحت خوراک اور ایسی ہی دیگر اشیاء سے بچنے کی کتنی کوشش کیوں نہ کرلیں مگرماحولیاتی آلودگی کے سبب منہ کے راستے جسم میں مضر صحت مادوں کا داخلہ اور افزائش ہوتی رہتی ہے۔یوں تو جسم کے مختلف اعضاء فاضل مادوں کی صفائی جیسی ذمہ داریاں سر انجام دیتے ہیں تاہم بعض اوقات اعضاء کی کارکردگی متاثر ہونے کی صورت میں ہمیں یہ کام غذائی انتخاب سر انجام دینا پڑتا ہے۔ اس ضمن میں ڈیٹوکس مشروبات کا استعمال انتہائی معاون ہوتا ہے۔

ٹھنڈا موسم۔۔۔اور گرما گرم سوپ

سردیوں کے موسم میں خود کو گرم اور توانا رکھنے کے لیے گرما گرم سوپ سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ جی ہاں! گرما گرم مزیدار سُوپ آپ کو نہ صرف اندرونی توانائی فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کا لذیذ ذائقہ آپ کے منہ کا مزہ بھی خوشگوار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ذیل میں سوپ کی کچھ لذیذ اور شاندار اقسام کے بارے میں معلومات دی جارہی ہیں جو دنیا بھر میں مقبول ہیں اور سردیوں کے موسم میں خاص طور پر ان کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ خود کو گرم، پُرجوش اور چُست رکھنے کیلئے آپ بھی ان مزیدار سوپ کو گھر پر آسانی سے بنا سکتے ہیں۔

جورہی سو بےخبری رہی : سراج اورنگ آبادی : 18ویں صدی کے شاعر کا کلام آج بھی مقبول

ان کے اشعار ابہام، تکلف و بناوٹ سے عاری، اظہار میں متوازن ہیں، جو مشرقی تہزیب کا خاصہ ہےسراج انسانی کیفیات و احساسات کو خوبصورتی اور نزاکت سے بیان کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں

یادرفتگان : ’’کون ہے یہ گستاخ‘‘ سعادت حسن منٹو

تقسیم ہند کے ظلم و ستم کو بھی منٹو نے اپنے مخصوص اسلوب نگارش کے ذریعے قلمبند کیایہ منٹو کا کمال ہے کہ انہوں نے سماجی و معاشرتی حقیقت نگاری کو اردو افسانے کے ماتھے کا جھومر بنایا