یکتائے زنانہ: یگانہ چنگیزی غالب شکن ہونا بھی ان کی شہرت کا باعث بنا

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


کلام یاس سے دنیا میں ایک آگ لگییہ کون حضرتِ آتش کا ہم زَبان نکلا

بیسویں صدی کے نصف اوّل میں جن شعرا کے حصے میں بہت زیادہ شہرت و مقبولیت آئی ان میں یاس یگانہ چنگیزی کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ البتہ یہ بات الگ ہے کہ ان کو جتنی مقبولیت اپنی شاعری سے نصیب ہوئی اس سے کہیں زیادہ تشہیر ’’غالب شکن‘‘ ہونے کے باعث حاصل ہوئی۔ ان کی شاعری اور شخصیت کا ایک مخصوص رنگ ہے۔ ہر چند کہ ان کا تعلق کسی دبستان سے نہیں تھا پھر بھی روزمرہ محاورے، زبان اور لفظوں کے استعمال پر بھی انہیں بڑی قدرت حاصل تھی اور اسی سے اردو شاعری میں انہوں نے اپنی طبعیت کی جولانیاں خوب خوب دکھائیں۔

اس میں کوئی آرا نہیں کہ یاس یگانہ چنگیزی کو مرزا اسد اللہ غالب پر کڑی تنقید کرنے کی وجہ سے خاصی شہرت ملی لیکن وہ شاعر بھی بہت عمدہ تھے۔ ان کی غزلوں میں جو سادگی، سلاست اور مضمون آفرینی ہے وہ بہت کم شعراء کے ہاں ملتی ہے۔ بعض نقادوں کی رائے میں جدید شاعری کے آغاز سے پہلے جس شاعر نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یگانہ چنگیزی تھے۔ جدید اردو شاعری کی بنیاد بھی ایک طرح سے انہوں نے رکھی جب انہوں نے غزل کے موضوعات تبدیل کیے۔ کنہیا لال کپور بھی غالب شکن تھے لیکن انہوں نے نثر کے ذریعے اپنی بھڑاس نکالی۔ انہوں نے غالب کے ان اشعار کو بھی نہیں بخشا جہاں غالب نے نکتہ آفرینی اور فلسفے سے کام لیا۔ بہرحال یہ ان کی رائے ہے اور اس سے اختلاف کرنے کا حق بھی سب کو ہے۔

45 شعری مجموعوں کے خالق یاس یگانہ چنگیزی 1884ء کو عظیم آباد(پٹنہ) بھارت میں پیدا ہوئے اصل نام مرزا واجد حسین تھا۔ بعد میں وہ لکھنو میں آباد ہو گئے اور یگانہ لکھنوی کے نام سے لکھنے لگے۔ دراصل یاس یگانہ چنگیزی کے آبائواجداد ایران سے ہندوستان آئے تھے اور مغل فوج میں شامل ہو گئے تھے۔ انہوں نے پہلے یاس تخلص رکھا اور پھر یگانہ۔ یگانہ کا مطلب ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں یعنی (Matchless) شروع سے ہی وہ باغیانہ روش رکھتے تھے اور اختراع پسند (Innovator)بھی تھے۔ ان کے ہم عصر شاد عظیم آبادی نے ان کے مزاج کو سمجھا اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارا۔ یگانہ کلکتہ چلے گئے اور وہیں شادی کی لیکن پھر انہوں نے لکھنئو میں ہی نیا گھر ڈھونڈنے کا فیصلہ کیا کیونکہ کلکتہ میں وہ غیر مطمئن تھے یہاں انہیں مناسب ماحول نہ ملا۔ وہ انا پرست تھے اور اصولوں پر سمجھوتہ بھی نہیں کرتے تھے اس لئے وہاں کے شعرا سے ذہنی مطابقت پیدا نہ کر سکے۔ اپنی شخصیت اور مزاج کے عین مطابق یاس یگانہ چنگیزی کا شعری لہجہ بھی براہ راست ہوتا تھا۔ بڑے بے باک تھے اور کئی معاملات کے حوالے سے جارحانہ رویہ رکھتے تھے۔ ان کے مشہور شعری مجموعوں میں ’’نشتر یاس، ترانہ، آیات وجدانی اور گنجینہ‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے بہت زیادہ لکھا آخر 45شعری مجموعے ایسے ہی وجود میں نہیں آ گئے۔

یاس بیگانہ اپنے نام کے ساتھ چنگیزی اس لئے لگاتے تھے کیونکہ وہ اپنے آپ کو مغل سمجھتے تھے۔ بہرحال یہ ان کا دعویٰ تھا۔ بعض نقاد از راہ مذاق کیسے تھے کہ یاس یگانہ کے شعری لہجوں میں بعض اوقات بڑی ’’جارحیت‘‘ ملتی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی رگوں میں چنگیزی خون دوڑ رہا تھا۔

یاس یگانہ چنگیزی کے بہت سے اشعار متاثر کن ہیں لیکن کئی اشعار ایسے بھی ہیں جو تاثریت سے خالی ہیں لیکن چونکہ انہوں نے لکھا بہت ہے اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سارا کام تو اعلیٰ درجے کا نہیں تھا۔ سادگی اور سلاست ان کی شاعری کے بنیادی اوصاف ہیں اور پھر اس کیساتھ ساتھ انہوں نے اردو غزل میں موضوعات کے نئے امکانات تلاش کیے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ان کی شاعری کا کینوس خاصا وسیع ہے۔ ان کے ان گنت شعر فکری توانائی سے معمور ہیں۔ ذرا یہ شعر ملاحظہ کریں!

انقلاب دہر نے آنکھوں کو اندھا کر دیا

آخر اب نظارہ فصل خزاں کیوں کر کریں

کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ یگانہ صاحب آتش زیر پا ہیں۔ ایک الائو ہے جو ان کے سینے میں جل رہا ہے اور وہ اپنے فکر کی آتش میں سارے جہاں کو جلانے کے آرزو مند ہیں۔ وہ خود کہتے ہیں:

کلام یاس سے دنیا کو ایک آگ لگی

یہ کون حضرت آتش کا ہم زباں نکلا

 ان کے ایک شعر پر تو بہت تنقید کی گئی لیکن یہ خاکسار یہ سمجھتا ہے کہ دراصل یگانہ کی فکر کو غلط سمجھا گیا وگرنہ انہوں نے وہ نہیں کہا جو کچھ لوگوں نے اخذ کر لیا۔ 

 بہر کیف اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ شاعر معروضی صداقتوں سے اغماض نہیں برت سکتا۔ انیس ناگی مرحوم کہا کرتے تھے جو ادب پارہ عصری صداقتوں سے تہی ہو اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہئے۔ 

یگانہ کی شاعری کی خصوصیات کا بیان ہو اور رباعیوں کی بات نہ کی جائے تو نا انصافی ہو گی۔ انہوں نے اپنی رباعیوں میں بھی ایک طرح کی جدت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ دیگر شعرا سے ان کا رنگ الگ رہے۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ یگانہ کو رباعی کے فن پر کامل عبور تھا۔ یگانہ کی رباعیوں کے مجموعے کا نام ’’ ترانہ ‘‘ ہے، جسے کافی سراہا گیا ہے۔ ان کی رباعیوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے تمام تر رباعیوں کو عنوان دے کر رقم کیا ہے۔ ’’تحفہ درد‘‘ ملاحظہ ہو!

دل کو پہلے ٹٹول لیتا ہوں

پھر تحفہ درد مول لیتا ہوں

آثارِ زلال و درد و مستی و خمار

آنکھوں آنکھوں میں تول لیتا ہوں میں

یاس یگانہ چنگیزی ایک حساس آدمی تھے اور حساس آدمی اپنی بے کسی اور بے بسی پر کڑھتا رہتا ہے پھر ایک وقت آتا ہے کہ اس کے الفاظ احتجاج کا روپ اختیار کر لیتے ہیں۔ یگانہ صاحب کے ہاں بھی کبھی کبھی ایسی صورتحال ملتی ہے۔ ان کی شاعری کے کچھ اور رنگ ملاحظہ کیجئے۔

قفس نصیبوں کو تڑپا گئی ہوائے بہار

چھری سی دل پہ چلی جب چلی ہوائے بہار

اور پھر ان کا یہ مشہور شعر کتنی بڑی فطری حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔

خودی کا نشہ چڑھا، آپ میں رہا نہ گیا

خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا

اور اس شعر میں انہوں نے فطرت کا سبق پڑھایا ہے

دکھایا گور سکندر نے بڑھ کے آئینہ

جو سر اٹھا کے کوئی زیر آسماں نکلا

اور اس شعر کی اثر انگیزی کا کیا کہنا

وطن کو چھوڑ کر جس سرزمیں کو میں نے عزت دی

وہی اب خون کی پیاسی ہوئی ہے کربلا ہو کر

سیاسی اور معاشرتی حوالے سے ان کے دور میں جو شکست و ریخت ہوئی،یہ شعر مکمل طور پر اس صورتحال کا محاکمہ کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

زمانہ پھر گیا چلنے لگی ہوا الٹی

چمن کو آگ لگا کر جو باغباں نکلا

کبھی کبھی اپنی کم نصیبی پر وہ ماتم کناں ہوتے ہیں‘ یہ شعر دیکھیں

آیا نہ کوئی خواب میں بھی ملک عدم سے

افسوس کہ اتنی بھی کشش دل نہیں رکھتا

اور اس شعر میں ان کی قوت متخیلہ پر رشک کرنے کو جی چاہتا ہے۔

دل جلا کر وادی غربت کو روشن کر چلے

خوب سوجھی جلوۂ شام غریباں دیکھ کر

ذیل میں یاس یگانہ چنگیزی کے کچھ اور اشعار پیش کیے جا رہے ہیں جن میں ان کے افکار مکمل شعری طرز احساس کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔

فکر انجام نہ آغاز کا کچھ ہوش رہا

چار دن تک تو جوانی کا عجب جوش رہا

 

ہنس کے کہتا ہے کہ گھر اپنا قفس کو سمجھو

سبق الٹا میرا صیاد پڑھاتا ہے مجھے

یاس یگانہ چنگیزی 1956 کو لکھنئو میں وفات پا گئے۔ انکی شاعری انہیں زندہ رکھے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

کینگروز کا سپن کے جال سے شکار

گرین شرٹس کی ہوم گرائونڈ پر تاریخی فتح:گرین شرٹس نے مسلسل تیسری ون ڈے سیریز اپنے نام کر کے تاریخ رقم کر دی

پاکستان کا ایٹمی سفر!

گرمیوں کا موسم اور شام کا وقت تھا۔ آسمان پر ہلکی سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ گھر کے صحن میں ارحم اور ارسل اپنے تایا ابو کے ساتھ بیٹھے تھے۔ دونوں کے ہاتھوں میں اسکول کی کاپیاں تھیں۔

توبہ

عامر انتہائی شریر لڑکا تھا۔ ہر وقت شرارتیں کرتا، دوسروں کو ستانے میں اُسے بڑا مزہ آتا تھا۔

آم — پھلوں کا بادشاہ

گرمیوں کا موسم آتے ہی بازاروں میں خوشبودار آم نظر آنے لگتے ہیں۔ آم ایک ایسا پھل ہے جسے دنیا بھر میں بے حد پسند کیا جاتا ہے۔

پرندوں کی دلچسپ دنیا

٭… شتر مرغ دنیا کا سب سے بڑا پرندہ ہے، لیکن یہ اڑ نہیں سکتا۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

بھاری کاموں کیلئے جانور کیوں استعمال کئے جاتے ہیں؟