ملکی معاشی اعشاریئے
معاشی ترقی کی شرح تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے قبل مالی سال 2018 میں ملکی ترقی کی شرح 6.10 فیصد تھی، تاہم سابق وزیراعظم عمران خان کے منصب سنبھالنے کے بعد حکومت کی سخت معاشی پالیسیوں کے سبب ملکی ترقی کی شرح میں گراوٹ دیکھنے میں آئی جس کے نتیجے میں مالی سال 2019 میں پاکستان کی ترقی کی شرح 50 فیصد کم ہو کر 3.12 فیصد تک جا پہنچی۔
اسی طرح مالی سال 2020 میں کورونا وباء کے سبب لگنے والے عالمی لاک ڈاؤن نے عالمی معیشت کو سست روی کی جانب راغب کیاجس کا براہ راست اثر پاکستان کی معیشت پر دیکھنے میں آیا اور ملکی ترقی کی شرح مزید تنزلی کے ساتھ منفی 0.94 فیصد تک گر گئی۔ یہ غور طلب بات ہے کہ اس سے پہلے ماضی میں مالی سال 1952- 1951 میں پاکستان کی معاشی ترقی منفی 1.80 رہی تھی۔ یوں، پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں 68 سال بعد پاکستان کی معاشی گروتھ منفی ریکارڈ ہوئی تھی۔ معاشی ماہرین کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں ڈالر کی قدر میں اضافہ، پیٹرول و دیگر اجناس کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی اور بیروزگاری کی شرح میں اضافے نے ملکی جی ڈی پی کو منفی لیجانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ گزشتہ مالی سال 2021 میں حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات کیے گئے جن میں لاک ڈاؤن میں نرمی، 1200 ارب روپے کا تاریخی کورونا ریلیف پیکج اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی ریٹ میں 47 فیصد کمی کر کے 13.25 فیصد سے 7 فیصد پر مستحکم کرنا شامل تھا۔ اس سب کے سبب مالی سال 2021 میں ملکی ترقی کی شرح 5.74 فیصد تک جا پہنچی۔ موجودہ مالی سال 2022 میں بھی پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 5.97 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس کی ایک بڑی وجہ کورونا لاک ڈاؤن کے باعث لگنے والے عالمی لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد پاکستان کی سروسز اور انڈسٹریل سیکٹر میں ہونے والا گروتھ ہے۔ پاکستان کے ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال 2021 میں پاکستان کی کل جی ڈی پی55 ہزار795 ارب روپے تھی جو کہ رواں مالی سال 2022 کے دوران بڑھ کر 66ہزار949ارب روپے سے تجاوز کر گئی ۔
•صنعتی شعبہ
پاکستان کی کل افرادی قوت میں صنعتی شعبے کا حصہ 35 فیصد ہے۔ آبادی کے ایک بڑے حصے کو روزگار فراہم کرنے کے علاوہ ملکی معیشت کی سمت تعین کرنے میں صنعتی شعبے کا کلیدی کردار ہا ۔ مالی سال 2018ء میں صنعتی شعبہ میں ترقی کی شرح 9.18 فیصد تھی۔ جو کہ مالی سال 2019 ء میں ریکارڈ کمی کے ساتھ 0.25 فیصد تک جا پہنچی۔ مالی سال 2020ء میں کورونا لاک ڈاؤن کے باعث ملکی صنعتیں منجمد رہیں جس کے باعث صنعتی شعبہ مزید تنزلی کا شکار ہو کر منفی 5.75 فیصد تک جا پہنچا۔ عالمی کورونا لاک ڈاؤن میں نرمی کے باعث دنیا بھر میں ڈیمانڈ بڑھنے کے سبب پاکستانی صنعتوں نے ریکارڈ ترقی کی جس کے سمرات پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ملنے والے ریکارڈ آرڈرز کی شکل میں سامنے آئے۔ یوں، مالی سال 2021 میں پاکستان میں صنعتی ترقی کی شرح 7.81 فیصد رہی۔ رواں مالی سال حکومت کی جانب سے صنعتی ترقی کی شرح 6.5رکھی گئی تھی، جسے حکومت با آسانی حاصل کرتے ہو ئے نظر آرہی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی صنعتی ترقی کی شرح 7.19 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے تاہم، تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد صنعتی ترقی کی شرح میں ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی اور مالی سال 2019 میں منفی 1.56 فیصد تک جا پہنچی، جبکہ مالی سال 2020 میں صنعتی ترقی کی شرح منفی 3.77 فیصد رہی۔
•زرعی شعبہ
پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے جس کی سماجی واقتصادی ترقی کا بڑا دارومدار زراعت پر ہے۔ ماضی میں آنے والی ہر حکومت اس شعبے میں انقلابی اصلاحات متعارف کروانے کا نعرہ تو لگاتی ہے تاہم آج تک کوئی بھی حکومت اس حوالے سے طویل مدتی اقدامات کرتے دکھائی نہیں دی۔ زراعت پاکستان کی معیشت میں 22.68 فیصد حصہ رکھتا ہے اور 42فیصد سے زائد لوگوں کا روزگار بھی اسی شعبہ سے وابستہ ہے۔گزشتہ سالوں میں زرعی پیداوار کا اگر جائزہ لیا جائے تو مالی سال 2018 میں زرعی شعبہ میں ترقی کی شرح 3.88 فیصد رہی۔ البتہ،سابقہ حکومت تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد زرعی شعبہ زبو حالی کا شکار ہوا جس کے باعث مالی سال 2019 میں زرعی پیداوار کی شرح 0.94 فیصد تک جا پہنچی۔
مالی سال 2020 میں زرعی شعبہ میں ترقی کی شرح 3.91فیصد رہی۔اس کے باعث گزشتہ مالی سال 2021 میں زرعی شعبہ میں ترقی کی شرح 3.48 فیصد رہی۔ حکومت کی جانب سے رواں مالی سال 2022 زرعی شعبہ میں 3.5 فیصد ترقی کا ہدف رکھا گیا تھا۔ پاکستان کے ادارہِ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق موجودہ مالی سال میں ملک کے زرعی سیکٹر نے 4.40 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے جو حکومت کے طے شدہ تخمینے سے 25 فیصد زیادہ ہے۔زراعت کے شعبے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو گندم ، چاول،گنا اور مکئی جیسی اجناس کی پیداوار میں 7.24 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ کپاس کی فصل کی پیداواری شرح جو کہ گزشتہ مالی سال میں منفی 13.08 تھی اس سال بہتری کے ساتھ 9.19 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ رواں مالی سال کے دوران لائیو اسٹاک کی پیداواری شرح 3.26 فیصد جبکہ جنگلات کی پیداواری شرح 6.13 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ رواں سال ملک میں کپاس کی سالانہ پیداوار 8.3 ملین بیرلز رہی، چاول کی سالانہ پیداوار 9.3 ٹن رہی، گنے کی سالانہ پیداوار 88.7 ملین ٹن رہی جبکہ گندم کی سالانہ پیداوار 26.4 ملین ٹن رہی۔
•خدمات کا شعبہ
ملکی معیشت میں خدمات کے شعبہ کا حصہ 58.20 فیصد ہے، جبکہ پاکستان کی کل افرادی قوت کا 35 فیصد حصہ اس شعبے کے ساتھ منسلک ہے اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے مالی سال 2018 میں یہ شعبہ 5.95فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا تھا۔ معاشی سست روی نے خدمات کے شعبے کو 2019 میں 5 فیصد جبکہ کورونا لاک ڈاؤن کے سبب مالی سال 2020 میں خدمات کا شعبہ منفی 1.21 فیصد پر پہنچ گیا۔ کورونا وباء کے باعث لگنے والے لاک ڈاؤن نے معاشی سست روی میں اضافہ کیا جس کا نتیجہ بیروزگاری میں نمایاں اضا فے کی صورت میں سامنے آیا۔ رواں مالی سال کے لیے حکومت نے خدمات کے سیکٹر میں ترقی کی شرح 4.7 رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ موجودہ مالی سال کے دوران خدمات کا شعبہ حکومت کے طے کردہ ٹارگٹ سے کہیں بہتر 6.19 کی شرح سے ترقی کر رہا ہے۔اگر سروسز سیکٹر کی تفصیلی منظر کشائی کی جائے تو ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ رواں مالی سال 10.04فیصد پر رہی۔اسی طرح فنانس اور انشورنس4.93 فیصد شرح سے ترقی کرتا رہا، رئیل اسٹیٹ سیکٹر نے 3.70 فیصد ، جبکہ ایجوکیشن کا سیکٹر 8.65 فیصد کی شرح سے ترقی کرتا رہا۔
•چھوٹے اور درمیانے درجے کے پیداواری شعبوں کی صورتحال
مینوفیکچرنگ سیکٹر پاکستان کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتا ہے اور بنیادی طور پر بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے پیمانے پر مشتمل ہے۔سال 2020 میں کورونا وباء کے معاشی اثرات سے نمٹنے کیلئے حکومت نے 2 خصوصی اسکیمیں "چھوٹا کاروبار و وصنعت پیکج" متعارف کرایا، جس کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کو کورونا وباء کے وبائی امراض سے دور کرنے کیلئے مختلف رعائیتیں دی گئیں۔ تقریباً 35 لاکھ چھوٹے کاروباری افراد جن میں سے 95 فیصد کمرشل اور 80 فیصد صنعتی صارفین ہیں اس پیکج سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔پیکج میں 5 کلو واٹ بجلی استعمال کرنے والے کمرشل ایس ایم ایز اور 70 کلو واٹ بجلی استعمال کرنے والے صنعتی ایس ایم ایز کیلئے تین مہینوں کیلئے بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں رعایت بھی شامل تھی۔ ساتھ ہی حکومت نے تعمیراتی شعبے کیلئے ٹیکسوں کی واپسی کے طور پر 100 ارب روپے کے امدادی پیکج کا اعلان بھی کیا۔ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ان اقدامات کا مقصد ملک میں لاک ڈاؤن کے باعث پیدا ہونے والے مالی بحران کے اثرات کو جزوی طور پر کم کرنا تھا۔ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ان اقدامات کی بدولت گزشتہ مالی سال 2021 کے دوران مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ترقی کی شرح منفی 7.80 فیصد سے بڑھ کر 10.52فیصد تک جا پہنچی۔ رواں مالی سال 2022 کے دوران مینوفیکچرنگ کے شعبے میں تقریباً 7 فیصد گراوٹ دیکھی گئی ہے ، یوں مالی سال 2022 میں مینوفیکچرنگ کی شرح 9.80 فیصد رہی ہے۔مینوفیکچرنگ سیکٹر کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو مالی سال 2022 کے دوران لارج اسکیل مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ترقی کی شرح 11.49 فیصد سے کم ہو کر 10.48 فیصد کو پہنچ چکی ہے، جبکہ سمال اسکیل مینوفیکچرنگ سیکٹر 8.97 فیصد سے 8.90 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ رواں مالی سال کے دوران کنسٹر کشن انڈسٹری میں ترقی کی شرح 2.48 فیصد سے بڑھ کر3.14 فیصد کو پہنچ گئی ہے۔ ساتھ ہی گزشتہ مالی سال کے دوران بجلی اور گیس کی طلب میں ترقی کی شرح 6.31فیصد تھی، جورواں مالی سال2022میں بڑھ کر 3.14فیصد پر آن پہنچی ہے۔
•بجٹ خسارہ
پاکستان تحریک انصاف کے حکومت میں آنے سے قبل مالی سال 2018 میں پاکستان کا بجٹ خسارہ2ہزار 260ارب روپے تھا۔ اسی طرح اس وقت ملکی جی ڈی پی کا کل حجم 34 ہزار 396 ارب روپے ہے، یوں مالی سال 2018 میں مالی خسارہ جی ڈی پی کا6.6 فیصد تھا۔مالی سال 2019 میں حکومت نے بجٹ خسارہ 1 ہزار 890 ارب روپے تک رکھنے کی توقع رکھی جبکہ ملکی جی ڈی پی 38 ہزار 388 ارب روپے مقرر کی گئی تھی۔ حکومت نے مالی سال 2019 میں بجٹ خسارہ 4.9 فیصد طے کیا تھا۔ البتہ نظر ثانی کے بعد بجٹ خسارہ 3 ہزار445 ارب روپے کی سطح کو پہنچ گیا جو کہ اس مالی سال میں ملکی جی ڈی پی کا 8.9 فیصد بنا۔ یوں ، مالی سال 2019 میں پاکستان کے بجٹ خسارے میں52 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ کچھ ایسا ہی مالی سال 2020 کے دوران ہوا جب حکومت کی جانب سے بجٹ خسارہ 3 ہزار 137 ارب روپے مقرر کیا گیا، جو کہ ملکی جی ڈی پی کا 7.1 فیصد تھاجبکہ ملکی جی ڈی پی کا حجم 44 ہزار ارب طے کیا گیا۔ البتہ ایک دفعہ پھر ان اعدادوشمار پر نظر ثانی کی گئی اور بجٹ خسارہ 3 ہزار 376 ارب روپے کو عبور کر گیا، جبکہ ملکی جی ڈی پی 41 ہزار 727 ارب روپے تک آ پہنچی۔ یوں مالی سال 2020 کے دوران ملکی بجٹ خسارہ ملکی جی ڈی پی کا 8.1 فیصد رہا۔ گزشتہ مالی سال 2021 میں ملکی بجٹ خسارہ مزید اضافے کے ساتھ 3 ہزار 403 ارب روپے کو پہنچ گیا جو کہ ملک کی کل جی ڈی پی کا 7.1 فیصد ہے ، جبکہ حکومت نے مالی سال 2021 میں ملکی جی ڈی پی کا کل حجم 47 ہزار 709 ارب روپے حاصل کیا۔رواں مالی سال کی بات کی جائے تو حکومت نے بجٹ خسارہ 3 ہزار 420 ارب روپے مختص کیا تھا، جبکہ حکومت کی جانب سے موجودہ مالی سال کے دوران ملکی جی ڈی پی 53 ہزار 867 ارب روپے تک جانے کی امید ظاہر کی گئی تھی۔ تاہم سال 2022 کے آغاز میں ہی سابقہ حکومت نے نئی اکنامک بیس لائن 16-2015 متعارف کرائی جس کے تحت ملکی جی ڈی پی میں حیرت انگیز اضافہ دیکھا گیا۔ رواں مالی سال میں جولائی سے مارچ کے دوران حکومت کا کل بجٹ خسارہ 2 ہزار 565 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔