پطرس بخاری کے مضامین سے چند اقتباس
’’ خدا کی قسم ان کتوں میں وہ شائستگی دیکھی کہ عش عش کر کے لوٹ آئے۔ جونہی ہم بنگلے کے دروازے میں داخل ہوئے، کتے نے برآمدے میں کھڑے ہو کر ہلکی سی ’’بخ‘‘ کر دی۔چوکیداری کی برآمدے میں کھڑے ہو کر ہلکی سی ’’بخ‘‘ کر دی۔چوکیداری کی چوکیداری، موسیقی کی موسیقی‘‘۔٭٭٭
خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو والدین کہلاتے ہیں۔ بدقسمت ہیں تو وہ بیچارے جو قدرت کی طرف سے اس ڈیوٹی پر مقرر ہوئے ہیں کہ جب کسی عزیز یا دوست کے بچے کو دیکھیں تو ایسے موقع پر ان کے ذاتی جذبات کچھ ہی کیوں نہ ہوں وہ یہ ضرور کہیں کہ کیا پیارا بچہ ہے۔ میرے ساتھ کے گھر ایک مرزا صاحب رہتے ہیں۔ خدا کے فضل سے چھ بچوں کے والد ہیں۔ بڑے بچے کی عمر نو سال ہے۔ بہت شریف آدمی ہیں۔ ان کے بچے بھی بیچارے بہت ہی بیزبان ہیں۔ جب ان میں سے ایک روتا ہے تو باقی کے سب چپکے بیٹھے سنتے رہتے ہیں۔ جب وہ روتے روتے تھک جاتا ہے تو ان کا دوسرا برخوردار شروع ہوجاتا ہے۔ وہ ہار جاتا ہے تو تیسرے کی باری آتی ہے، رات کی دیوٹی والے بچے الگ ہیں۔ ان کا سْر ذرا باریک ہے۔ آپ انگلیاں چٹخوا کر، سر کی کھال میں تیل جھسوا کر، کانوں میں روئی دے کر، لحاف میں سر لپیٹ کر سوئیے، ایک لمحے کے اندر آپ کو جگا کے اْٹھا کے بٹھا نہ دیں تو میرا ذمہ۔
٭٭٭
’’لاہور لاہور ہے۔ اگر اس پتے سے آپ کو لاہور نہیں مل سکتا تو آپ کی تعلیم ناقص اور ذہن فاتر ہے‘‘۔
٭٭٭
’’میرا بھتیجا دیکھنے میں عام بھیتجوں سے مختلف نہیں میری تمام خوبیاں اس میں موجود ہیں‘‘۔