گھر کو صاف ستھرا کیسے رکھا جائے؟

تحریر : سارہ خان


گھر کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ گھر کی چیزوں کو ادھر ادھر بکھرنے کی بجائے ترتیب سے رکھا جائے ۔گھر اور زندگی کو منظم رکھنامشکل ضرورہے لیکن ناممکن نہیں۔ زندگی گزارنے کے کچھ طور طریقے اور اصول ہوتے ہیں جن پر چل کر ہی انسان، انسان کہلاتا ہے۔ اسی طرح گھر میں بھی ترتیب اور اصول بہت ضروری ہے۔ تاہم یہ اس وقت ہی ممکن ہو سکتا ہے، جب گھر اور معاملاتِ زندگی کو منظم انداز میں چلایا جائے۔

گھر ایک ایسی جگہ ہے، جس کے بارے میں سوچتے ہی ہمارے ذہن میں سب سے پہلا خیال سکون اور راحت کا آتا ہے۔ تھکا ہارا انسان جب گھر لوٹتا ہے تو وہ اپنے گھر کے ہر حصے کو صاف ستھرا دیکھنا پسند کرتا ہے۔ کمرہ ہو یا واش روم، کچن ہو یا ڈرائنگ روم، ہر جگہ انسان راحت تلاش کرتا ہے۔ الماری میں کپڑے بکھرے رہنا، کمرے میں بے ترتیبی، واش روم کی صفائی نہ ہونا، کچن میں ہر چیز بکھری ہونا، یہ سب جہاں سستی اور کاہلی کی نشاندہی کرتے ہیں، وہیں یہ بے ترتیبی انسان کی زندگی پر منفی اثرات بھی چھوڑتی ہے۔ نہ صرف گھر کی خوبصورتی بلکہ ذہنی سکون کیلئے بھی گھر میں صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا بیحد ضروری ہے کیونکہ اس کا اثر براہِ راست انسان کی شخصیت اور مزاج پر پڑتا ہے۔

گھر کو صاف رکھنے کیلئے ہر چیز جہاں سے اْٹھائیں، وہیں پر رکھنا سامان کا بکھرنا اور چیزوں کو اِدھر اُدھر پھیلا دینا گھر کی بے ترتیبی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کپڑوں کا بیڈ پر بکھرا ہونا، اخبارات کا ٹیبل پر پڑا رہنا، ڈریسنگ ٹیبل پر لپ اسٹک یا پائوڈر کھلا چھوڑدینا، یہ سب بے قاعدگی کی نشانی ہے۔ الماری میں کپڑے تہہ کرکے رکھیں۔ روز مرّہ کے کپڑے ایک طرف رکھیں اور دعوتوں، شادیوں کے کپڑوں کو الگ شیلف میں رکھیں۔ ضروری کاغذات کو اِدھر اْدھر پھیلانے کے بجائے الماری کی دراز میں کسی فولڈر میں رکھیں۔ کپڑے، پرس، جیولری یہاں تک کہ جوتوں کو بھی ان کی مخصوص جگہ پر ترتیب سے رکھیں۔باکسزاستعمال کرنے کی عادت ڈالیں گھر کی چیزوں کو منظم رکھنے کیلئے باکسز کا استعمال ایک اچھی سوچ ہے۔ چاہے وہ چارجر ہو یا ایئر فون۔ ناخن کاٹنے کے کٹرسے لے کر ہیئرپن تک کیلئے باکسز بنائیں تاکہ دراز میں بھی چیزیں بکھری نہ رہیں۔ چیزوں کو باکس کے اندر رکھنا سیکھیں، باکس پر نام بھی لکھا جا سکتا ہے یا رنگ کے حساب سے چیزوں کو رکھا جا سکتا ہے۔

کچن گھر کا وہ حصہ ہے جہاں خواتین زیادہ وقت گزارتی ہیں۔ کچن کو صاف رکھنا اور کھانا پکاتے وقت چیزوں کو نہ پھیلانا بھی ایک آرٹ ہے، جسے ہر عورت کو آنا چاہیے۔ غیر ضروری برتن نکالنے سے گریز کریں اور مسالے کے ڈبوں کو ہمیشہ ترتیب سے رکھیں۔سِنک سے لے کر اوون تک، کچن کی ہر چیز کی صفائی اہم ہے۔ اس کے علاوہ، ہفتے میں ایک بار کیبنٹس اندر سے ضرور صاف کریں۔ 

گھر کو اچھا، پُرسکون اور آرام دہ رکھنے کیلئے یہ بھی ناگزیرہے کہ صرف وہی اشیا رکھیں جو کام کی ہیں جبکہ غیر ضروری اور استعمال میں نہ آنے والی پْرانی چیزوں کو سنبھال کر رکھنا بالکل بے کار ہے کیونکہ نہ تو انھیں استعمال میں آنا ہے اور نہ ہی صحیح ہونا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ انھیں نکال کر گھر کو بے ترتیب اور خراب ہونے سے بچائیں۔کیونکہ ہر چیز حفاظت مانگتی ہے۔ کپڑے بھی اگر پھٹ جائیں تو ہم سی لیتے ہیں، اسی طرح گھر کی کوئی چیز خراب ہوجائے تو اس کی مرمت بہت ضروری ہے۔ کوشش کریں کہ تھوڑی بہت توڑ پھوڑ پر ہی مرمت کرالیں کیونکہ زیادہ دیر لگانے سے بعض اوقات چھوٹا کام بھی بڑا خرچہ کروادیتا ہے۔

روزانہ جھاڑ پونچھ گھر کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے روزانہ جھاڑ پونچھ اور ڈسٹنگ بہت ضروری ہے۔ دھول مٹی اور گردوغبار کے جمع ہوجانے سے گھرنہ صرف بْرا لگتا ہے بلکہ چیزیں بھی خراب ہوجاتی ہیں۔

سارہ خان اسلام آباد میں مقیم ایک

 فیشن ایکسپرٹ ہیں ، ان کے مضامین

 مؤقر جریدوں میں شائع ہو چکے ہیں 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

قذافی سٹیڈیم کینگروز کی میزبانی کیلئے تیار

پاکستان نے اس تاریخی میدان پر 140 سے زائد بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں

ویمن اِن گرین کابڑاامتحان

سہ ملکی سیریز اور ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ2026ء

فاطمہ ثناء:برق رفتار پاکستانی بلے بازوکپتان

پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی قیادت فاطمہ ثناء کر رہی ہیں، جن کا شمار تیز ترین خواتین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی تیز ترین بلے بازی کا مظاہرہ گزشتہ ماہ پاکستان کے دورے پر آنے والی زمبابوے کی ٹیم کے خلاف کیا تھا۔

لالچ کا انجام

نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

نفرت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔

خاندانِ مغلیہ کا حقیقی بانی جلال الدین محمد اکبر

شہنشاہ بابر نے ہندوستان کو بزور شمشیر فتح کر کے سلطنت مغلیہ کی بنیاد ڈالی۔ لیکن حقیقی معنوں میں خاندان مغلیہ کی بنیادیں شہنشاہِ اکبر نے استوار کیں۔ اکبر کے والد ہمایوں جب افغانوں کی یورش سے گھبرا کر ایران جا رہے تھے تو 1542ء میں سندھ کے ایک مقام عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی جلا وطنی کے بعد ہمایوں دوبارہ تخت دہلی پر قابض ہوئے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جلد ہی سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو گئے۔