موسم گرما کے ملبوسات

تحریر : سارہ خان


موسم گرما اپنے جوبن پر ہے، جھلسا دینے والی دھوپ اور گرم لو کے تھپیڑوں نے باہر نکلنا مشکل بنا دیا ہے۔ اس موسم میں خواتین کو شدید احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں چونکہ موسم گرما بہت طویل ہوتا ہے اس لیے خواتین کو چاہیے کہ وہ صرف موسم کی مناسبت کے ساتھ تیارکردہ ملبوسات زیب تن کریں۔ گرمیوں کا موسم ایسا ہے کہ کپڑوں کے انتخاب میں تنوع مل جاتا ہے، لیکن اس بات کا خیال رکھیں کہ گرمیوں میں ہمیشہ ہلکے پھلکے ڈیزائن اور ہلکے رنگوں کا انتخاب کریں۔

گرمی کی مناسبت سے لباس اور اس کے رنگ کا انتخاب کچھ حد تک گرمی کو مات دینے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اگر آپ گرمی سے محفوظ رہنا چاہتی ہیں تو لباس اور اس کے رنگو ں کا انتخاب محتاط رہ کر کریں۔  ویسے بھی گرمی میں ملبوسات کا انتخاب کرتے ہوئے تراش خراش سے زیادہ رنگ اہمیت رکھتے ہیں۔

گرمی سے بچائو کیلئے لباس کی رنگت بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ گرمی میں بعض رنگ پہن کر آپ بہتر محسوس کرتی ہیں جبکہ کچھ رنگ آپ کو گرمی کا احساس دلاتے ہیں؟ ایسا کیوں ہے؟ ان سب باتوں کا تعلق رنگوں کی خصوصیات سے جڑا ہے کیونکہ ہر رنگ اپنی ایک تاثیر اور توانائی رکھتا ہے۔ پاکستان میں چونکہ موسم گرما طویل عرصے رہتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ایسے لباس کا انتخاب کیا جائے جو خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ آرام دہ اور ہلکے رنگوں کا ہو۔ لباس کیلئے رنگوں کا انتخاب ایک اہم ترین مرحلہ ہے۔فیشن ایکسپرٹس کا گرمیوں کے ملبوسات سے متعلق کہنا ہے کہ گرمیوں میں صرف ہلکے رنگ کے ملبوسات ہی زیادہ اچھے لگتے ہیں۔ موسم گرما میں پہنے جانے والے رنگوں کیلئے ہلکا سبز ، ہلکا نیلا ، ہلکا گلابی اور وائلٹ جیسے ہلکے رنگوں کا انتخاب کیا جائے۔ آئیے جانتے ہیں کہ وہ کونسے رنگ ہیں جن کااستعمال آپ کو موسم گرما میں ضرور کرنا چاہیے۔

لائٹ پرپل:سرخ اور نیلے رنگ کا ملاپ ’’کاسنی رنگ ‘‘پرسکون زندگی کا اظہار ہے۔ موسم گرما میں کاسنی رنگ کے ملبوسات کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ یہ رنگ پہننے والے کو ہی نہیں بلکہ دیکھنے والوں کی آنکھوں کو بھی سکون کا احسا س فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسم گرما میں یہ رنگ خواتین کی پسند پر غالب رہتا ہے۔

سکائی بلیو: یہ رنگ سفید اور نیلے رنگ کی آمیزش سے بنتا ہے، اس لیے ٹھنڈا رنگ مانا جاتا ہے۔ ورکنگ ویمن موسم گرما میں اس رنگ کا انتخاب دن کے اوقات میں کریں تو بہترہے۔

گلابی:سرخ اور سفید رنگ کے امتزاج سے بننے والا گلابی رنگ مزاج میں ٹھنڈا ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں گلابی رنگ کو لڑکیوں میں بہت مقبول سمجھا جاتا ہے اور دیکھنے میں بھی بہت بھلا لگتا ہے۔بے بی پنک رنگ کے ملبوسات کا مقابلہ نہیں ہو سکتا، اس رنگ کو پسند کرنے والی خواتین پرسکون رہنا پسند کرتی ہیں۔

لائٹ گرین : لائٹ گرین کہیں یا ہلکاسبز رنگ، اپنے ٹھنڈے مزاج کے باعث یہ موسم گرما کیلئے بہترین رنگ ہے۔ اس رنگ کو دیکھتے ہی ٹھنڈک کا احساس ہونے لگتا ہے۔اس رنگ کو ہلکے اور گہرے شیڈز کے کنٹراسٹ کے ساتھ پہنا جائے تو شخصیت کا ایک خاص تاثر قائم کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

سفید:سفید رنگ سخت اور چلچلاتی گرمی کیلئے بہترین ہے۔ یہ رنگ مزاج میں ٹھنڈا ہونے کے باعث سورج کی تیز شعاعوں کو منعکس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس وجہ سے سورج کی تیز شعاعیں جسم میں داخل نہیں ہو پاتیں۔ معروف ڈیزائنر بھی موسم گرمامیں ایسے ملبوسات، جن میں سفید رنگ نمایاں ہو، پہننے کا مشورہ دیتے ہیں۔ 

گرے (سرمئی):سرمئی درمیانہ رنگ کہلاتا ہے، ا س کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے۔چنانچہ موسم گرما میں اس رنگ کا استعما ل بھی بہترین ہے۔

ہیوی فیبرک سے پرہیز:گرم موسم میںسوتی کپڑے پہننا زیادہ اچھا سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف آپ سکون محسوس کرتی ہیں، بلکہ جلد سے متعلق مسائل سے بھی بچ سکتی ہیں۔ ایسے میں سلک، ساٹن، سنتھیٹک، نائیلان یا ویلویٹ جیسے کپڑوں سے بچ کر رہیں۔

بلیک رنگ کے کپڑے نہ پہنیں :گرمی میں کالے رنگ کے کپڑے نہیں پہننے چاہئیں، کیونکہ اس میں سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کا راست اثر ہوتا ہے، جس سے زیادہ گرمی لگتی ہے۔

فٹنگ والے کپڑے نہ پہنیں:

گرمی کے کپڑوں کیلئے فٹنگ کی ضرورت نہیں ہوتی،کیونکہ ان دنوں آپ جتنے ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنیں گی، اتنا ہی آرام آپ کو محسوس ہوگا، کیوں کہ فٹنگ والے کپڑے پہننے سے زیادہ پسینہ آتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

قذافی سٹیڈیم کینگروز کی میزبانی کیلئے تیار

پاکستان نے اس تاریخی میدان پر 140 سے زائد بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں

ویمن اِن گرین کابڑاامتحان

سہ ملکی سیریز اور ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ2026ء

فاطمہ ثناء:برق رفتار پاکستانی بلے بازوکپتان

پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی قیادت فاطمہ ثناء کر رہی ہیں، جن کا شمار تیز ترین خواتین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی تیز ترین بلے بازی کا مظاہرہ گزشتہ ماہ پاکستان کے دورے پر آنے والی زمبابوے کی ٹیم کے خلاف کیا تھا۔

لالچ کا انجام

نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

نفرت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔

خاندانِ مغلیہ کا حقیقی بانی جلال الدین محمد اکبر

شہنشاہ بابر نے ہندوستان کو بزور شمشیر فتح کر کے سلطنت مغلیہ کی بنیاد ڈالی۔ لیکن حقیقی معنوں میں خاندان مغلیہ کی بنیادیں شہنشاہِ اکبر نے استوار کیں۔ اکبر کے والد ہمایوں جب افغانوں کی یورش سے گھبرا کر ایران جا رہے تھے تو 1542ء میں سندھ کے ایک مقام عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی جلا وطنی کے بعد ہمایوں دوبارہ تخت دہلی پر قابض ہوئے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جلد ہی سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو گئے۔