شیر خدا کی سیرت و فضائل

حیدر کرارؓ…پیکر ہمت و شجاعت حیات و خدمات کے روشن اور تاریخ ساز نقوش حضرت علیؓ نے مسلمانوں کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، تینوں خلفاء کو مفید مشورے دیئے، سڑکوں کی تعمیر سے لے کرجنگ کے آداب تک میں مدد فرماتے رہے
خلیفہ چہارم، امیر المومنین حضرت سیدنا علی المر تضیٰ رضی اللہ عنہ عام الفیل کے تیس برس بعد جب حضورﷺ کے اعلان نبوت فرمانے سے 10 سال پہلے پیدا ہوئے (تاریخ ابن عساکر، ج 41، ص361)۔ آپ کی ولادت 13 رجب کو مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپؓ حضورﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے۔ حضرت علی ؓ تین سال تک اپنے والدین کے پاس رہے اس کے بعد آپؓ رسول اللہﷺ کے پاس آ گئے۔ آپؓ والد اور والدہ دونوں کی طرف سے ہاشمی ہیں۔ رازم بن سعد الضبیؓ سے روایت ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓمیانہ قد سے قدرے بڑے، بھاری کندھوں والے اور لمبی داڑھی والے تھے، آپؓ کا شمار ایسے نفوس قدسیہ میں ہوتا ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کواعلان نبوت سے لے کر وصال تک،خلوت وجلوت میں، سفر و حضر میں، کبھی میدان جنگ میں، کبھی گھر کے اندر اور کبھی باہر دیکھا۔
سرکار دوعالم حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰﷺ کو اللہ نے انبیاء و رسل اور تمام کائنات سے بلند مرتبہ مقام عطا فرمایا۔ جس طرح آپﷺ کا مقام سب سے بلندوبالا ہے، اسی طرح آپ ﷺ کے صحابہ کرامؓ اور تمام جانثاروں کا مقام بھی پوری امت میں سب سے بلند و بالا ہے۔ حضور پاکﷺ کے ان غلاموں نے عشق رسول ﷺ ہی کی بدولت سب مقام و مرتبہ پایا۔ رحمت عالم ﷺ نے ان ہی کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ’’میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں‘‘۔ ان روشن ستاروں کے جھرمٹ میں امیر المومنین،امام المتقین،وارث علوم نبی، ساقی کوثر، فاتح خیبر، والد شبیر و شبر، قاتل مرحب و عنتر، منبع رشد و ہدایت، تاجدار الاولیاء، شیر خدا، داماد مصطفیؐ، حیدر کرار، صاحب ذوالفقار، میدان خطابت کے شہسوار، خلیفہ چہارم سیدنا حضرت علیؓ ابن ابی طالبؓ کا مقام و مرتبہ منفرد و جدا ہے۔
آپؓ کی کنیت ابوالحسن اور ابو تراب ہے جو آپ کو رسول پاکﷺ نے خود عطا فرمائی یہی وجہ ہے کہ جب آپؓ کو ابو تراب (یعنی مٹی کا باپ)کہہ کر پکارا جاتا تو آپؓ بہت خوش ہوتے۔ آپؓ کے والد حضرت ابو طالبؓ اور دادا حضرت عبدالمطلبؓ ہیں۔ حضرت علیؓ کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد ہاشمی خاندان کی وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت فرمائی۔
سیدنا حضرت علیؓ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ آپؓ رشتہ مواخات میں نبی پاکﷺ کے بھائی ہیں۔ آپؓ کی ولادت باسعادت 13رجب 30عام الفیل کو خانہ کعبہ میں ہوئی۔ آپؓ نے حضور پاکﷺ کے سایہ رحمت میں پرورش پائی۔ انہی کی گو دمیں ہوش سنبھالا اور زبان رسالت کو چوس چوس کر پروان چڑھے اور علم الٰہی کے لامحدود خزانے سینہ نبوت سے حاصل کئے۔ آپؓ کی پہلی تربیت گاہ ہی گود نبوت و رسالت تھی۔ آپؓ نے سرکارﷺ کی باتیں سنیں، آپﷺ کی عادات سیکھیں۔آپؓ نے کبھی بت پرستی نہ کی۔
حضرت علیؓ جیسا بہادر پورے عرب و عجم میں کوئی نہ تھا۔ آپؓ کی ہیبت و دبدبہ سے بڑے بڑے بہادر کانپنے لگتے۔ آپؓ نے سوائے غزوہ تبوک کے تمام غزوات میں نبی کریمﷺ کے ساتھ شرکت فرمائی۔ غزوہ بدر میں آپؓ کی شمشیر ذوالفقار نے کفار کی کمر توڑ دی۔ حضرت علیؓ نے آدھے سے زیادہ کافروں کو تہ تیغ کیا۔
3ہجری میں ہونے والی جنگ احد میں ابو سفیان نے تین ہزار فوجیوں سمیت مدینہ پر چڑھائی کر دی۔ مدینہ منورہ سے چھ میل دور احد کی پہاڑیوں میں ہونے والی لڑائی میں مسلمانوں کو سخت نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ حتیٰ کہ سرکارﷺ کے چچا حضرت سیدنا حمزہؓ بھی اسی جنگ میں شہید ہوئے۔ حضرت علیؓ نے جنگ احد میں کفار و مشرکین کو نبی کریمﷺ سے دور رکھا۔ حفاظت رسول میں آپؓ کے جسم پر16 ضربیں آئیں اور ہاتھ بھی نیم شکستہ ہو گیا۔
5ہجری میں ہونے والی جنگ خندق میں کافروں کا شجاع ترین جرنیل عمرو ابن عبدو خندق پار کر کے خیمہ رسولﷺ تک آپہنچا تو نبی کریمﷺ نے اپنے اصحابہ کرامؓ کو لڑنے کا حکم دیا۔ جس پر حضرت علیؓ اس کے مقابلے پر گئے اور اس سے کہا کہ کلمہ پڑھ لے، واپس چلا جا یا مقابلے پر آجا۔ وہ گھوڑے پر سوار تھا، نیچے اتر کر مقابلے پر آیا تو حضرت علیؓ نے ایک وار سے اس کا کام تمام کر دیا۔7ہجری میں خیبر کے یہودیوں نے مدینہ پر حملہ کیا۔ سرکاردوعالم ﷺ اس سازش کو ختم کرنے کیلئے لشکر لے کر عازم خیبر ہوئے۔ حضرت علیؓ نے یہودیوں کے قموص نامی قلعہ کو فتح کیا اور یہودیوں کے سرغنہ حضرت علیؓ کے ہاتھوں قتل ہوئے۔
قدرت نے آپؓ کو بہت سی خصوصیات عطا فرمائیں۔ آپؓ فن کتابت کے ماہر تھے۔ آپؓ مسند قضاء پر بہترین قاضی تھے۔ آپؓ نے لوگوں کو قرآن کے ساتھ باقی کتب آسمانی اور صحیفوں کا علم بھی پڑھایا۔ سرکار مدینہﷺ کے وصال کے بعد حضرت علیؓ نے مسلمانوں کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
آپؓ نے خلفائے ثلاثہ کے دور میں ہمیشہ انھیں مفید مشورے دیئے۔ سڑکوں کی تعمیر سے لے کرجنگ کے آداب تک میں مدد فرماتے رہے۔ مسند خلافت پر بیٹھنے کے بعد کسی سے انتقام لینے کے بجائے اسلام کے تحفظ کیلئے کوشاں رہے۔ آپؓ نے تاجروں اور مزدوروں کی سرپرستی، کاشتکاروں سے تعاون، قیدیوں سے اچھا برتاؤ، دشمنوں سے عفوو در گزر، اتحاد بین المسلمین کی کوششیں، بیوگان و یتامیٰ کی سرپرستی جیسے کارہائے نمایاں سر انجام دیئے۔
حضرت علیؓ کی مقدس تعلیمات پر چل کر ہم اپنا دین و دنیا آخرت سب سنوار سکتے ہیں۔آج یوم شہادت حضرت علیؓ پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم اتحاد بین المسلمین کا عملی مظاہرہ کر کے تمام مسلمان متحد ہو کر دشمنان اسلام کو نیست و نابود کر دیں گے۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔