شیر خدا کی سیرت و فضائل

تحریر : مولانا رضوان اللہ پشاوری


حیدر کرارؓ…پیکر ہمت و شجاعت حیات و خدمات کے روشن اور تاریخ ساز نقوش حضرت علیؓ نے مسلمانوں کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، تینوں خلفاء کو مفید مشورے دیئے، سڑکوں کی تعمیر سے لے کرجنگ کے آداب تک میں مدد فرماتے رہے

خلیفہ چہارم، امیر المومنین حضرت سیدنا علی المر تضیٰ رضی اللہ عنہ عام الفیل کے تیس برس بعد جب حضورﷺ کے اعلان نبوت فرمانے سے 10 سال پہلے پیدا ہوئے (تاریخ ابن عساکر، ج 41، ص361)۔ آپ کی ولادت 13 رجب کو مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپؓ حضورﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے۔ حضرت علی ؓ  تین سال تک  اپنے والدین کے پاس رہے اس کے بعد آپؓ رسول اللہﷺ کے پاس آ گئے۔ آپؓ والد اور والدہ دونوں کی طرف سے ہاشمی ہیں۔ رازم بن سعد الضبیؓ سے روایت ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓمیانہ قد سے قدرے بڑے، بھاری کندھوں والے اور لمبی داڑھی والے تھے، آپؓ کا شمار ایسے نفوس قدسیہ میں ہوتا ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کواعلان نبوت سے لے کر وصال تک،خلوت وجلوت میں، سفر و حضر میں، کبھی میدان جنگ میں، کبھی گھر کے اندر اور کبھی باہر دیکھا۔

سرکار دوعالم حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰﷺ کو اللہ نے انبیاء و رسل اور تمام کائنات سے بلند مرتبہ مقام عطا فرمایا۔ جس طرح آپﷺ کا مقام سب سے بلندوبالا ہے، اسی طرح آپ ﷺ کے صحابہ کرامؓ اور تمام جانثاروں کا مقام بھی پوری امت میں سب سے بلند و بالا ہے۔ حضور پاکﷺ کے ان غلاموں نے عشق رسول ﷺ ہی کی بدولت سب مقام و مرتبہ پایا۔ رحمت عالم ﷺ نے ان ہی کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ’’میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں‘‘۔ ان روشن ستاروں کے جھرمٹ میں امیر المومنین،امام المتقین،وارث علوم نبی، ساقی کوثر، فاتح خیبر، والد شبیر و شبر، قاتل مرحب و عنتر، منبع رشد و ہدایت، تاجدار الاولیاء، شیر خدا، داماد مصطفیؐ، حیدر کرار، صاحب ذوالفقار، میدان خطابت کے شہسوار، خلیفہ چہارم سیدنا حضرت علیؓ ابن ابی طالبؓ کا مقام و مرتبہ منفرد و جدا ہے۔

 آپؓ کی کنیت ابوالحسن اور ابو تراب ہے جو آپ کو رسول پاکﷺ نے خود عطا فرمائی یہی وجہ ہے کہ جب آپؓ کو ابو تراب (یعنی مٹی کا باپ)کہہ کر پکارا جاتا تو آپؓ بہت خوش ہوتے۔ آپؓ کے والد حضرت ابو طالبؓ اور دادا حضرت عبدالمطلبؓ ہیں۔ حضرت علیؓ کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد ہاشمی خاندان کی وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت فرمائی۔ 

سیدنا حضرت علیؓ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ آپؓ رشتہ مواخات میں نبی پاکﷺ کے بھائی ہیں۔ آپؓ کی ولادت باسعادت 13رجب 30عام الفیل کو خانہ کعبہ میں ہوئی۔ آپؓ نے حضور پاکﷺ کے سایہ رحمت میں پرورش پائی۔ انہی کی گو دمیں ہوش سنبھالا اور زبان رسالت کو چوس چوس کر پروان چڑھے اور علم الٰہی کے لامحدود خزانے سینہ نبوت سے حاصل کئے۔ آپؓ کی پہلی تربیت گاہ ہی گود نبوت و رسالت تھی۔ آپؓ نے سرکارﷺ کی باتیں سنیں، آپﷺ کی عادات سیکھیں۔آپؓ نے کبھی بت پرستی نہ کی۔ 

حضرت علیؓ جیسا بہادر پورے عرب و عجم میں کوئی نہ تھا۔ آپؓ کی ہیبت و دبدبہ سے بڑے بڑے بہادر کانپنے لگتے۔ آپؓ نے سوائے غزوہ تبوک کے تمام غزوات میں نبی کریمﷺ کے ساتھ شرکت فرمائی۔ غزوہ بدر میں آپؓ کی شمشیر ذوالفقار نے کفار کی کمر توڑ دی۔ حضرت علیؓ نے آدھے سے زیادہ کافروں کو تہ تیغ کیا۔ 

3ہجری میں ہونے والی جنگ احد میں ابو سفیان نے تین ہزار فوجیوں سمیت مدینہ پر چڑھائی کر دی۔ مدینہ منورہ سے چھ میل دور احد کی پہاڑیوں میں ہونے والی لڑائی میں مسلمانوں کو سخت نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ حتیٰ کہ سرکارﷺ کے چچا حضرت سیدنا حمزہؓ بھی اسی جنگ میں شہید ہوئے۔ حضرت علیؓ نے جنگ احد میں کفار و مشرکین کو نبی کریمﷺ سے دور رکھا۔ حفاظت رسول میں آپؓ کے جسم پر16 ضربیں آئیں اور ہاتھ بھی نیم شکستہ ہو گیا۔ 

5ہجری میں ہونے والی جنگ خندق میں کافروں کا شجاع ترین جرنیل عمرو ابن عبدو خندق پار کر کے خیمہ رسولﷺ تک آپہنچا تو نبی کریمﷺ نے اپنے اصحابہ کرامؓ کو لڑنے کا حکم دیا۔ جس پر حضرت علیؓ اس کے مقابلے پر گئے اور اس سے کہا کہ کلمہ پڑھ لے، واپس چلا جا یا مقابلے پر آجا۔ وہ گھوڑے پر سوار تھا، نیچے اتر کر مقابلے پر آیا تو حضرت علیؓ نے ایک وار سے اس کا کام تمام کر دیا۔7ہجری میں خیبر کے یہودیوں نے مدینہ پر حملہ کیا۔ سرکاردوعالم ﷺ اس سازش کو ختم کرنے کیلئے لشکر لے کر عازم خیبر ہوئے۔ حضرت علیؓ نے یہودیوں کے قموص نامی قلعہ کو فتح کیا اور یہودیوں کے سرغنہ حضرت علیؓ کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

قدرت نے آپؓ کو بہت سی خصوصیات عطا فرمائیں۔ آپؓ فن کتابت کے ماہر تھے۔ آپؓ مسند قضاء پر بہترین قاضی تھے۔ آپؓ نے لوگوں کو قرآن کے ساتھ باقی کتب آسمانی اور صحیفوں کا علم بھی پڑھایا۔ سرکار مدینہﷺ کے وصال کے بعد حضرت علیؓ نے مسلمانوں کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

 آپؓ نے خلفائے ثلاثہ کے دور میں ہمیشہ انھیں مفید مشورے دیئے۔ سڑکوں کی تعمیر سے لے کرجنگ کے آداب تک میں مدد فرماتے رہے۔ مسند خلافت پر بیٹھنے کے بعد کسی سے انتقام لینے کے بجائے اسلام کے تحفظ کیلئے کوشاں رہے۔ آپؓ نے تاجروں اور مزدوروں کی سرپرستی، کاشتکاروں سے تعاون، قیدیوں سے اچھا برتاؤ، دشمنوں سے عفوو در گزر، اتحاد بین المسلمین کی کوششیں، بیوگان و یتامیٰ کی سرپرستی جیسے کارہائے نمایاں سر انجام دیئے۔ 

حضرت علیؓ کی مقدس تعلیمات پر چل کر ہم اپنا دین و دنیا آخرت سب سنوار سکتے ہیں۔آج یوم شہادت حضرت علیؓ پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم اتحاد بین المسلمین کا عملی مظاہرہ کر کے تمام مسلمان متحد ہو کر دشمنان اسلام کو نیست و نابود کر دیں گے۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 

صدقہ فطر، مقصد و احکام

جس نے نماز عید سے پہلے اسے ادا کیا تو یہ مقبول زکوٰۃ ہے

جمعتہ الوداع ! ماہ مبارک کے وداع ہونے کا وقت قریب آ گیا

ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو جمعۃالوداع کہتے ہیں۔ الوداع کے لغوی معنی رخصت کرنے کے ہیں چونکہ یہ آخری جمعۃ المبارک ماہ صیام کو الوداع کہتا ہے اس لئے اس کو جمعۃ الوداع کہتے ہیں۔ جمعۃ الوداع اسلامی شان و شوکت کا ایک عظیم اجتماع عام ہے۔ یہ اپنے اندر بے پناہ روحانی نورانی کیفیتیں رکھتا ہے اور یہ جمعہ اس لحاظ سے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ اب ان ایام گنتی کے وداع ہونے کا وقت قریب آگیا ہے۔ جس میں مسلمانوں کیلئے عبادات کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔

سجدہ تلاوت کے چند مسائل

قرآن منبع ہدایت ہے، جب اس کی تلاوت تمام آداب، شرائط اور اس کے حقوق ادا کر کے نہایت غور و خوض سے کی جائے تو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرماتے ہیں اور علم و حکمت کے دریا بہا دیتے ہیں۔ قرآن کریم کی تلاوت کے احکام میں سے ایک حکم سجدہ تلاوت بھی ہے کہ متعین آیات کریمہ کی تلاوت کرنے اور سننے کے بعد سجدہ کرنا واجب ہوتا ہے۔

اٹھائیسویں پارے کاخلاصہ

سورۃ المجادلہ: اس سورۂ مبارکہ کا پسِ منظر یہ ہے کہ صحابیہ خولہؓ بنت ثعلبہ کے ساتھ ان کے شوہر اوسؓ بن صامت نے ظِہار کر لیا تھا۔ ظِہارکے ذریعے زمانۂ جاہلیت میں بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی تھی۔ حضرت خولہؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: پہلے میں جوان تھی‘ حسین تھی اب میری عمر ڈھل چکی ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں‘ انہیں شوہر کے پاس چھوڑتی ہوں تو ہلاک ہو جائیں گے اور میرے پاس کفالت کیلئے مال نہیں ہے۔

اٹھائیسویں پارے کاخلاصہ

سورۃ المجادلہ: قرآنِ پاک کے 28ویں پارے کا آغاز سورۃ المجادلہ سے ہوتا ہے۔ سورۂ مجادلہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ذکر کیا ہے کہ جن کے شوہر نے ناراضی میں ان کو کہہ دیا تھا کہ تم میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہو۔ یہ درحقیقت عربوں کا ایک رواج تھا جسے ’ظِہار‘ کہا جاتا تھا۔

لیلتہ القدر ہزار مہینوں سے افضل شب

’’جس شخص نے ایمان اور اخلاص کے ساتھ ثواب کے حصول کی غرض سے شب قدر میں قیام کیا تو اس کے سارے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے‘‘(صحیح بخاری و مسلم شریف)