بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

تحریر : محمد عارف جان


چاند کی شکل کیوں بدلتی ہے؟ چاند اپنے محور پر زمین کے گرد 29دن میں ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ ہمیں اس کی جو صورت نظرا ٓتی ہے وہ سورج اور زمین کے مقابلے پر اس کی بدلتی ہوئی جگہوں کے سبب نظر آتی ہے۔ وہ نئے اور نظرنہ ا ٓنے والے چاند کے طور پر اپنا سفر شروع کر تا ہے۔

اس کے بعد وہ اپنے سفر کے پہلے چوتھائی حصے میں داخل ہوتا ہے اور ایک ہلال کے طور پر نمودار ہوتا ہے جس کا دایاں پہلو روشن ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ چڑھتا ہو ا چاند ہوتا ہے جو بڑھ کر پورے چاندمیں بدل جاتا ہے۔اس کے بعد اس کے گھٹنے یا اترنے کا عمل شروع ہو تا ہے۔

 ستارے کیوں ٹمٹماتے (Twinkle)ہیں؟

ستارے اربوں برس سے مسلسل جل رہے ہیں مگر زمین پر وہ ہمیں بس ٹمٹماتے ہوئے نظر آتے ہیں۔روشنی عام طور پر خط مستقیم میں سفر کرتی ہے مگر جب اسے متحر ک ہوا کی لہروں میں سے گزرنا پڑتاہے تو اس کے راستے میں خم آجاتا ہے ا ور وہ قدرے مختلف سمتوں کو چل پڑتی ہے۔ یہی کچھ ستاروں کی روشنی کے ساتھ زمین کی فضاء میں ہو تا ہے جہاں ہوا کی تہیں درجہ حرارت اور کثا فت میں تبدیلی کی وجہ سے مسلسل حرکت میں ہوتی ہیں۔ ستارے وہ واحد اجسام ہیں جو خود اپنی روشنی خارج کرتے ہیں جبکہ سیارے اور چاند محض روشنی منعکس کرتے ہیں لیکن بلیک ہول ایسے ستارے ہیں جو روشنی کو صرف جذب کرتے ہیں۔ہوا کی متحرک لہروں کی وجہ سے ستارے ٹمٹماتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

 ہم دن کے وقت ستارے کیوں نہیں دیکھ سکتے؟

سورج کی روشنی کے باعث ہمیں دن میں ستار ے نظر نہیں آتے۔لیکن زمین کی فضاء سے باہرخلا میں یہ ہمیشہ واضح طورپردکھائی دیتے ہیں۔دن میں ستارے صرف مکمل سورج گرہن کے وقت نظرآتے ہیں جب سورج کی روشنی کا راستہ رک جاتاہے۔ جدیدشہروں میں گھروں اور گلیوں کی تیز روشنی آسمان کو منور کر دیتی ہے اور ہمارے لئے ستارے دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔ دیہات کے برعکس شہروں میں آلودگی اور دھول کے ذرات ہوا میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ ستاروں کی چمک کو مدھم کر دیتے ہیںجس کی وجہ سے نہایت چمکدار ستاروں کے سوا دوسرے ستاروں کو دیکھنا نا ممکن ہوجاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 

صدقہ فطر، مقصد و احکام

جس نے نماز عید سے پہلے اسے ادا کیا تو یہ مقبول زکوٰۃ ہے

جمعتہ الوداع ! ماہ مبارک کے وداع ہونے کا وقت قریب آ گیا

ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو جمعۃالوداع کہتے ہیں۔ الوداع کے لغوی معنی رخصت کرنے کے ہیں چونکہ یہ آخری جمعۃ المبارک ماہ صیام کو الوداع کہتا ہے اس لئے اس کو جمعۃ الوداع کہتے ہیں۔ جمعۃ الوداع اسلامی شان و شوکت کا ایک عظیم اجتماع عام ہے۔ یہ اپنے اندر بے پناہ روحانی نورانی کیفیتیں رکھتا ہے اور یہ جمعہ اس لحاظ سے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ اب ان ایام گنتی کے وداع ہونے کا وقت قریب آگیا ہے۔ جس میں مسلمانوں کیلئے عبادات کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔

سجدہ تلاوت کے چند مسائل

قرآن منبع ہدایت ہے، جب اس کی تلاوت تمام آداب، شرائط اور اس کے حقوق ادا کر کے نہایت غور و خوض سے کی جائے تو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرماتے ہیں اور علم و حکمت کے دریا بہا دیتے ہیں۔ قرآن کریم کی تلاوت کے احکام میں سے ایک حکم سجدہ تلاوت بھی ہے کہ متعین آیات کریمہ کی تلاوت کرنے اور سننے کے بعد سجدہ کرنا واجب ہوتا ہے۔

اٹھائیسویں پارے کاخلاصہ

سورۃ المجادلہ: اس سورۂ مبارکہ کا پسِ منظر یہ ہے کہ صحابیہ خولہؓ بنت ثعلبہ کے ساتھ ان کے شوہر اوسؓ بن صامت نے ظِہار کر لیا تھا۔ ظِہارکے ذریعے زمانۂ جاہلیت میں بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی تھی۔ حضرت خولہؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: پہلے میں جوان تھی‘ حسین تھی اب میری عمر ڈھل چکی ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں‘ انہیں شوہر کے پاس چھوڑتی ہوں تو ہلاک ہو جائیں گے اور میرے پاس کفالت کیلئے مال نہیں ہے۔

اٹھائیسویں پارے کاخلاصہ

سورۃ المجادلہ: قرآنِ پاک کے 28ویں پارے کا آغاز سورۃ المجادلہ سے ہوتا ہے۔ سورۂ مجادلہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ذکر کیا ہے کہ جن کے شوہر نے ناراضی میں ان کو کہہ دیا تھا کہ تم میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہو۔ یہ درحقیقت عربوں کا ایک رواج تھا جسے ’ظِہار‘ کہا جاتا تھا۔

لیلتہ القدر ہزار مہینوں سے افضل شب

’’جس شخص نے ایمان اور اخلاص کے ساتھ ثواب کے حصول کی غرض سے شب قدر میں قیام کیا تو اس کے سارے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے‘‘(صحیح بخاری و مسلم شریف)