شبنم رومانی نازک اسلوب کے شاعر

تجھ سے بچھڑ کے، مجھ کو خود اپنی تلاش ہے آخر فلک سے ٹوٹ کے تارا کدھر گیا میر سے گہری نسبت کے باوجود وہ مزاجاً اختر شیرانی سے زیادہ قریب نظر آتے ہیںتخلص کی نفسیاتی اہمیت پہ غور کریں تو شبنم کا لفظ نرمی، نزاکت، لطافت اورحسن فطرت کے تصورات ابھارتا ہے اور یہی سب کچھ شبنم کی شاعری میں نظر آتا ہے
تعارف:
شبنم رومانی 20دسمبر1928ء کو شاہ جہاں پور(بھارت) میں پیدا ہوئے۔1948ء میں بریلی کالج سے بی کام کا امتحان پاس کیا۔ 1949 ء میں کوآپریٹوز کے اکاؤنٹنٹ اور پھر اسسٹنٹ سیکرٹری رہے۔ اسی سال ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔انھوں نے غزل کے علاوہ نظمیں، افسانے، انشائیے سبھی کچھ لکھا ۔ 1973ء سے پابندی سے ادبی کالم لکھتے رہے۔سہ ماہی مجلہ ’’اقدار‘‘ خوبصورت انداز میں جاری کیا۔ان کا انتقال17فروری2009 کو80 سال کی عمر میں ہوا۔
تصانیف
ان کی تصانیف میں ’’مثنوی سیر کراچی‘‘،’’جزیرہ‘‘(شعری مجموعہ) ،’’حرف نسبت‘‘(نعتیہ مجموعہ کلام)، ’’ارمغان مجنوں‘‘(جلد اوّل۔مرتب)، ’’تہمت‘‘ اور ’’دوسرا ہمالہ‘‘(شعری مجموعہ)شامل ہیں۔
فلسفی کی زندگی یک رُخی ہو سکتی ہے، مگر وہ اس کا حال ہوتا ہے، گزرے ہوئے دنوں کی تصویریں سامنے آ جائیں تو معلوم ہو کہ ان کے رنگ کتنے شوخ ہیں۔ اگر یہ صحیح ہے کہ شاعر کو ’’ اس کی شاعری ہی میں تلاش کرنا چاہئے‘‘ تو پھر اس تلاش کے نقطۂ آغاز کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ زندگی اگر ایک اکائی ہے تو اس کے ایک حصے کو الگ کون کر سکتا ہے، شبنم رومانی کا جو کلام ہے، اس کا ہر شعر گویا عمر گزشتہ کی ایک کہانی ہے۔
درد پیراہن بدلتا ہے، یہ ہم پر اب کھلا
صرف لفظوں کی دھنک کو شاعری سمجھے تھے ہم
تعبیر کا حسن شبنم کے کلام کی قابلِ توجہ خصوصیت ہے۔ ان کے شعروں میں جا بجا یہ خوبی اور ندرت موجود ہے۔
تجھ سے بچھڑ کے، مجھ کو خود اپنی تلاش ہے
آخر فلک سے ٹوٹ کے تارا کدھر گیا
شبنم رومانی نے کم و بیش نصف صدی کی تخلیقی عمر بسر کی ۔ اتنے عرصے تک تخلیقی طور پر فعال رہنے والے اہل قلم کی تحریر، تخلیق، شعر خود مشک کے مانند بولتے ہیں، یہی عالم شبنم رومانی کا ہے، ان کی غزل، لفظ کی زبان میں اس نفسی واردات کا ماجرا سناتی ہے جو شاعر کے تخلیقی عمل کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر تخلیق کا ترفع حاصل کرتی ہے۔ بیشتر اشعار شبنم کے کاروبار عشق کے ضمن میں ’’ٹریڈ مارک‘‘ کی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور ان کے عالم جوانی کے رنگا رنگ جذبات و احساسات اور منظر و پس منظر کی تصاویر کے طور پر ابھرتے ہیں۔
قاری اور ناقدین بالعموم تخلص کی نفسیاتی اہمیت پر غور نہیں کرتے حالانکہ تمام شعراء کے تخلص تو نہیں لیکن بعض تخلص شعراء کی شخصیت، مزاج، انداز و اطوار اور نفسی کیفیات کے (کسی حد تک) مظہر ثابت ہو سکتے ہیں بالخصوص اس وقت جب شاعر نے والدین کے رکھے ہوئے نام کے بجائے اور کسی ’’لفظ‘‘ کو بطور تخلص شعوری طور پر چنا ہو۔ وہ ہزاروں الفاظ میں سے ایک لفظ کو اپنی شاعری اور تخلیقی شخصیت کا مظہر بننے کے لئے منتخب کرتا ہے تو لاشعوری محرکات کی بنا پر تخلص بننے والا لفظ شخصیت کی تفہیم میں کار آمد ثابت ہو سکتا ہے۔ ناسخ، حالی، غالب، جوش، عالی یا اسی نوع کے دیگر تخلص (کلی نہ سہی، جزوی طور پر ہی سہی) شعراء کے بعض شخصی اوصاف کے مظہر قرار پاتے ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات قلمی نام( جیسے میرا جی، بھی شعروں کے انتخاب کی طرح دل (نفسیات کی اصطلاح میں شخصیت) کا معاملہ کھول دیتا ہے، کھل جا سم سم کے مانند نہ سہی اور کسی طرح سہی۔
جب شبنم( مرزا اعظیم احمد بیگ چغتائی) رومانی بنے تو گویا انہوں نے اپنی شاعری کے منشور کا اعلان کردیا۔ ایک حد تک یہ تقاضائے عمر بھی تھا، اس موقع پر اختر شیرانی اور اس کے حوالے سے رومانی شاعری یا رومانیت کی اکیڈمک بحث سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا عرض کروں گا کہ دوسری تیسری دہائی تک عورت کا نام لے دینا بھی بڑا تھرلنگ محسوس ہوتا تھا۔ اس لئے عورت کے حوالے سے کی گئی شاعری خاصی ہیجانی ثابت ہوتی تھی اور کسی حد تک اچنبھے کا تماشا بھی، شاید اسی لئے بڑی دیر تک محققین سلمیٰ اور عذرا کا نام پتا دریافت کرنے کے چکر میں رہے مگر اب سلمیٰ اور عذرا گھر سے نکل آئی ہیں اپنی تمام محرومیوں، ناکامیوں اور ناآسودگیوں کے اعصابی بوجھ تلے دبی نیک پروین اپنے مرد سے صرف روٹی کپڑا نہیں بلکہ اور بھی بہت کچھ چاہتی ہے۔ ایسے میں اختر شیرانی کی رومانی شاعری کا تذکرہ ضروری ہے کہ آج اگر اختر شیرانی زندہ ہوتے اور اپنی سلمیٰ کو کسی سکول میں معلمہ، ٹیلی فون آپریٹر، رسپیشنٹ، نرس یا سلیزگرل کے روپ میں دیکھتے تو اپنی شاعری کے بہت سے حصوں پر نظرثانی کرتے جب کہ شبنم یوں گویا ہوتے ہیں۔
بہت نازک طبیعت ہیں حسینانِ وطن شبنم
یہ کیا کم ہے کہ ہم کو شعر کہنے کی ہے آزادی
تخلص کی نفسیاتی اہمیت کا ذکر یوں کیا کہ شبنم کے لفظ سے وابستہ تلازمات اگر ذہن میں لائیں تو شبنم کا لفظ نرمی، نزاکت، لطافت اور حسن فطرت کے تصورات ابھارتا ہے اور یہی سب کچھ شبنم کی شاعری میں نظر آتا ہے اور اس فراوانی سے کہ بعض اوقات تو ان کی غزلیں خود شبنم کی نفسی سر گزشت محسوس ہوتی ہیں۔شبنم اپنے دل کو ’’میرکا دیوان‘‘ قرار دیتے تھے تو یہ یونہی یا ضرورت شعری کے تحت نہیں بلکہ شبنم بھی خود کو میر ہی کے مانند نازک احساس اور اس کے ساتھ نازک اسلوب کا شاعر سمجھتے تھے، ہر چند کہ شبنم کی شخصیت، میر کی شخصیت کی نفسی اساس بننے والے منفی اثرات سے پاک ہے۔
شبنم کے مجموعہ کلام’تہمت‘‘ کی غزلیں 1950-65ء کے زمانے کی ہیں یعنی یہ شاعری ہے تب کی جب آتش جوان تھا اور جوان کیا تھا جوان رعنا تھا۔شبنم نے آتے ہی اپنے رنگِ سخن سے سخن فہم اصحاب، ناقدین اور قارئین کو اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا، اس حد تک کہ بڑے بڑے شعراء سے داد حاصل کی۔
1964ء میں شبنم رومانی ریڈیو پاکستان لاہور کے ایک مشاعرے میں شریک تھے جس میں احسان دانش، عابد علی عابد، عبدالحمید عدم، عارف عبدالمتین اور کئی دوسرے مشاہیر شریک تھے۔ مشاعرے کے اختتام پر عابد علی عابد نے شبنم سے کہا ’’ جیسا سناتھا، تم کو اس سے زیادہ پایا‘‘۔ مشاعرے کے فوراً بعد ناصر کاظمی نے فون کرکے اپنے گھر کی شعری نشست میں ان کو بطور خاص مدعو کیا اور ان کا کلام سن کر کہا ’’ مجھے خوشی ہے کہ کراچی میں بھی غزل کہی جا رہی ہے‘‘۔
شبنم رومانی کو اللہ نے اعصابی خلل اور اس کی حشر سامانیوں سے محفوظ رکھا ہے اسی لئے میر سے تعلق خاطر کے باوجود وہ میر کے ’’قریۂ وحشت اثر‘‘ میں نہیں ہیں، میر کے نقال بھی نہیں ہیں بلکہ اس کے برعکس انہوں نے میر کے اور اپنے زمانے کے فرق اور طرز احساس کے اختلاف کو کئی جگہ بڑے تیکھے پن کے ساتھ ظاہر کیا ۔میر سے اپنی نسبت تلاش کرنے کے باوجود شبنم رومانی مزاجاً اختر شیرانی سے زیادہ قریب نظر آتے ہیں۔
جہاں تک شبنم کے عاشقانہ شعار کا تعلق ہے تو اس میں عجیب سرخوشی اور والہانہ پن ملتا ہے وہ حسن میں ڈوب جانا چاہتے ہیں۔وقت کے ساتھ ان کے رومانی مزاج کے ساتھ ساتھ تخلیقی رجحانات اور شخصی میلانات پختہ ہو گئے۔
منتخب اشعار
تجھ سے بچھڑ کے، مجھ کو خود اپنی تلاش ہے
آخر فلک سے ٹوٹ کے تارا کدھر گیا
……………
وہ دُور اُفق میں اڑانیں نہیں پرندوں کی
اُتر رہے ہیں نئے لفظ آسمانوں سے
……………
ہونٹوں پر بھی تہمت آئی، بانہوں پر الزام کے بعد
کیسا کیسا دل دھڑکا ہے ایک سہانی شام کے بعد
……………
مجھے یہ زعم کہ میں حسن کا مصور ہوں
انہیں یہ ناز کہ تصویر تو ہماری ہے
……………
چاند سورج کی تمنا ہے بہت خوب مگر
اپنے ہاتھوں کو بھی دیکھا تھا دعا سے پہلے
……………
وہ وقت حاصلِ عمرِ عزیز ہے شبنم
ہم اپنے سامنے آ جائیں جب حریفانہ
……………
میں نے دیکھا ہے بہت غور سے اس دنیا کو
اک دل آزار مسیحا کے سوا کچھ بھی نہیں
……………
ہم اس شہر حسن میں آکر اپنا غم بھی بھول گئے
جس گل رو کو غور سے دیکھو، چہرہ زرد آنکھیں ویران
……………
چاندنی دھوپ میں تبدیل تو ہو گی شبنم
دیکھ دوشیزگی ہاتھوں کی حنا سے پہلے
……………
تم کو خود حسن کا احساس نہیں ہے ورنہ
آئینہ سامنے رکھ دوں تو پسینہ آ جائے
اُس کی پلکوں پہ لرزتا ہوا آنسو شبنم
میری قسمت کا ستارہ ہے کہیں ٹوٹ نہ جائے
……………
غزل
اپنی مجبوری کو ہم دیوار و در کہنے لگے
قید کا ساماں کیا اور اس کو گھر کہنے لگے
درج ہے تاریخِ وصل و ہجر اک اک شاخ پر
بات جو ہم تم نہ کہہ پائے شجر کہنے لگے
خوفِ تنہائی دکھاتا تھا عجب شکلیں سو ہم
اپنے سائے ہی کو اپنا ہم سفر کہنے لگے
بستیوں کو بانٹنے والا جو خط کھینچا گیا
خط کشیدہ لوگ اس کو رہگزر کہنے لگے
اول اول دوستوں پر ناز تھا کیا کیا ہمیں
آخر آخر دشمنوں کو معتبر کہنے لگے
دیکھتے ہیں گھر کے روزن سے جو نیلا آسماں
وہ بھی اپنے آپ کو اہل نظر کہنے لگے