حیدر آباد اور سیالکوٹ کی لیگ میں انٹری: پی ایس ایل میں 2 نئی ٹیمیں شامل
پاکستان سپر لیگ کے سیزن 11 میں 8ٹیمیں مد مقابل ہوں گی: پہلے دو سیزن میں پانچ ٹیمیں اسلام آباد یونائیٹڈ، لاہورقلندرز، پشاور زلمی، کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرزشامل تھیں،تیسرے سیزن سے چھٹی ٹیم ملتان سلطانز لیگ کا حصہ بنی
پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) جسے سپانسرشپ کی وجہ سے ’’ایچ بی ایل پی ایس ایل‘‘ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان میں ایک پیشہ ورانہ ٹی20 کرکٹ لیگ ہے، جس کا اہتمام پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی)کرتا ہے۔ 2015ء میں پی سی بی کے ذریعہ قائم کی گئی لیگ میں مختلف شہروں کے نام سے 6 فرنچائز ٹیمیں شامل تھیں، جو 2026ء میں سیزن 11سے 8ٹیمیں ہوچکی ہیں، گیا رہواں سیزن 26مارچ سے 3مئی تک کھیلا جائے گا۔پی ایس ایل کی ٹیمیں ایک ایسوسی ایشن کے زیرانتظام کام کرنے کے بجائے، لیگ ایک واحد ادارہ ہے جس میں ہر فرنچائز کی ملکیت اور کنٹرول سرمایہ کاروں کے پاس ہے۔ہر ٹیم گروپ مرحلے کے میچز ڈبل رائونڈ رابن فارمیٹ میں کھیلتی ہے اور سب سے زیادہ پوائنٹس والی ٹاپ چار ٹیمیں فائنل رائونڈ میں پہنچ کر پلے آف کیلئے کوالیفائی کرتی ہیں۔2025 ء تک پاکستان سپر لیگ کے پہلے10 سیزن ہو چکے ہیں،جن میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز سب سے کامیاب ٹیمیں ہیں، دونوں نے تین، تین ٹائٹل جیتے ہیں۔
پاکستان سپر لیگ سیزن11میں حیدر آباد اور سیالکوٹ نے بھی جگہ بنا لی ہے، نیلامی میں ایف کے ایس نے حیدر آباد اور او زیڈ ڈویلپرز نے سیالکوٹ کی ٹیم خریدی ہے۔ پاکستان سپر لیگ کیلئے دو نئی ٹیموں کی نیلامی 3ارب60کروڑ روپے میں ہوئی ہے۔ پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم حیدرآبادپہلے رائونڈ میں ایف کے ایس نے سب سے بڑی بولی 175 کروڑ روپے لگا کر اپنے نام کی۔ دوسرے رائونڈ میں او زیڈ ڈویلپرز نے 185کرو ڑ روپے میں لیگ کی آٹھویں ٹیم سیالکوٹ خریدی۔
پاکستان سپر لیگ کیلئے دو نئی ٹیموں کی نیلامی جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ہونیوالی تقریب میں ہوئی جس پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی، وفاقی وزرا سمیت بڑی تعداد میں کھلاڑیوں، حکام اور سپورٹس جرنلسٹوں نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں نیلامی میں حصہ لینے والے 9 بڈرز اور6 ممکنہ شہروں کا تعارف کرایا گیا، اس کے بعد چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے گھنٹی بجا کر نیلامی کھلنے کا باضابطہ اعلان کیا جبکہ وسیم اکرم نے آکشنر کی ذمہ داریاں سنبھالیں، نیلامی میں بیس پرائز 110 کروڑ روپے رکھا گیا تھا جس پر کم ازکم ایک کروڑ روپے کے اضافے کی شرط رکھی گئی تھی۔ ان دو ٹیموں کی نیلامی سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو 10سالوں میں 36ارب روپے آمدن ہوگی۔
حیدرآباد کی ٹیم خریدنے والا ایف کے ایس گروپ، جنوب مشرقی ایشیا کی ایک نمایاں کمپنی ہے اور خوراک و زراعت، لاجسٹکس اور پراپرٹی ڈیویلپمنٹ سمیت مختلف شعبوں میں اہم کاروباری مفادات رکھتی ہے۔گروپ کے سربراہ فوادسرور سخت مقابلے پر مشتمل بولی کے عمل کے بعد کامیاب رہے۔انڈونیشیا میں مضبوط آپریشنل بنیاد رکھنے والا ایف کے ایس گروپ حالیہ عرصے میں کھیلوں کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جانب بھی بڑھا ہے، اور پی ایس ایل کی یہ فرنچائز کرکٹ کی دنیا میں اس کا پہلا باقاعدہ قدم ہے۔سیالکوٹ کی فرنچائز خریدنے والااو زیڈ گروپ، جس کے چیئرمین حمزہ مجید ہیں، ریئل اسٹیٹ اور ڈویلپمنٹ میں سرگرم ہے اور کھیل اور تفریحی اثاثوں میں سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔
نیلامی کا عمل مکمل ہونے کے بعد چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے امریکی ناظم الامورنیٹلی بیکر، دونوں نئی ٹیموں کے مالکان فوادسرور،حمزہ مجید اور سلمان نصیرکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کی نیلامی سے 36 ارب روپے پی سی بی کو ملیں گے۔امریکہ سے پانچ کمپنیوں نے نیلامی میں حصہ لیا۔یہ پیسے کرکٹ کے فروغ پر خرچ ہوں گے۔یہ چند روز پہلے ہونیوالی پی آئی اے کی بڈنگ کا ہی تسلسل ہے۔فواد سرور آج سے چھبیس سال پہلے امریکہ گئے تھے انہوں نے ایک فرنچائز لی ہے،امریکا سے پانچ کمپنیاں بڈنگ میں حصہ لے رہی تھیں،او زی ڈویلپرز کے حمزہ مجید آسٹریلیا میں رہتے ہیں۔اس بڈنگ سے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل بہت خوش ہیں۔میں فخر محسوس کر رہا ہوں کہ یہ پیسے سپورٹس پرخرچ ہوں گے۔ امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا کہ پاکستان میں امریکی نمائندہ کے طور پہ یہاں شرکت کر کے بہت خوشی ہو رہی ہے،امریکی کمپنیاں یہاں پہ سرمایہ کاری کر رہی ہیں،دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات بہتر ہوں گے۔ آسٹریلیا کے حمزہ مجید کو بھی مبارکباد دیتی ہوں۔
ایف کے ایس کے مالک فواد سرور نے کہا کہ بہت خوشی ہو رہی ہے، بچپن کے خواب کی تکمیل ہو رہی ہے،بہت خوش ہوں، اپنی ٹیم کا مشکور ہوں،یہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو بھی مضبوط بنائے گا۔او زیڈ گروپ کے مالک حمزہ مجید نے کہا کہ کرکٹ ہمارے خون میں بہتی ہے،سیالکوٹ کے پاس ائیر پورٹ تو تھا،ایئرلائن بھی تھی، اب کرکٹ ٹیم بھی آ گئی ہے،ہم انشا اللہ پی ایس ایل گیارہ جیتنے کی کوشش کریں گے۔
قبل ازیں نیلامی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کیلئے ایک تاریخی موقع ہے،پاکستان میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے،پی ایس ایل آکشن کی کامیابی شائقین کرکٹ کی کامیابی ہے۔ حیدرآباد اور سیالکوٹ کی عوام کو مبارکباد دیتاہوں،میں فواد سرور حمزہ مجید کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔پی ایس ایل صرف ایک ٹورنامنٹ نہیں ہے،یہ لیگ ہمیں بہت عزیز ہے، ہمارے جذبات پی ایس ایل سے وابستہ ہیں۔میں تمام پاکستانیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ، یہ کرکٹ سے پیار کرنے والوں کی جیت ہے۔میں آپ کو اگلے 10 سال میں پی سی بی کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہوں۔
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11 ویں ایڈیشن کی ڈرافٹ 30 جنوری کو ہونے کا امکان ہے اور پی ایس ایل مینجمنٹ نے ڈرافٹ کے حوالے سے تیاری شروع کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق پی ایس ایل مینجمنٹ کا ڈرافٹ سے قبل تمام معاملات جلد ختم کرنے کی منصوبہ بندی ہے پھر ڈرافٹ کا وینیو اور تاریخ کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔پی ایس ایل 11 کی ڈرافٹ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوران ایک روز کے وقفے میں ہوگی۔ واضح رہے کہ اس ڈرافٹ میں تمام 8 فرنچائزز مالکان کوچز اور دیگر نمائندے شریک ہوں گے۔
پی ایس ایل کا 10 سالہ سفر
قارئین دنیا کو پی ایس ایل کی مختصرتاریخ یاد دلاتے ہیں، ستمبر 2015 ء میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کے آغاز کا باضابطہ اعلان کیا۔ پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم اور رمیز راجہ سے پی ایس ایل کی تشہیر اور تین سال کیلئے لیگ کے برانڈ ایمبیسیڈرکے طورپر معاہدہ کیاگیا۔ کئی سالوں کی منصوبہ بندی اور دو سابقہ ناکام کوششوں کے بعد، لیگ باضابطہ طور پر 4 فروری 2016 ء کو متحدہ عرب امارات میں شروع ہوئی۔ یو اے ای کے وزیر کھیل نہیان بن مبارک النہیان نے پہلے سیزن کا افتتاح کیا۔ پہلے دو سیزن میں پاکستان کے صوبائی دارالحکومتوں اور وفاقی دارالحکومت کی بنیاد پر پانچ ٹیمیں اسلام آباد یونائیٹڈ، لاہور قلندرز، پشاور زلمی، کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرزشامل تھیں۔ پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں بین الاقوامی کھلاڑیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ لیگ کھلاڑیوں کی بھرتی کیلئے ٹی ٹوئنٹی کی بعض دیگر لیگوں میں استعمال ہونے والے نیلامی کے نظام کے برعکس ایک ڈرافٹ سسٹم کا استعمال کرتی ہے جیسا کہ شمالی امریکہ کی بہت سی پیشہ ورانہ کھیلوں کی لیگوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ پی ایس ایل کے آفیشل لوگو کی رونمائی 20 ستمبر 2015 ء کو لاہور میں ایک تقریب میں ہوئی۔
پی ایس ایل2018 ء کے سیزن کیلئے ملتان سلطانز کی شمولیت کے ساتھ پاکستان سپرلیگ چھ فرنچائزز تک پھیل گئی۔ پی سی بی نے فیصل آباد، فاٹا، حیدرآباد، ڈیرہ مراد جمالی اور ملتان کو امیدواروں کیلئے شہروں کے طور پر شارٹ لسٹ کیا تھا، جس میں کئی سیاسی اور علاقائی سٹیک ہولڈرز نے اپنے علاقوں کی نمائندگی حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ ملتان سلطانز کا اعلان 1 جون 2017ء کو نئی فرنچائز کے طور پر کیا گیا، جسے شون پراپرٹیز نے 5.2 ملین امریکی ڈالر سالانہ میں خریدا۔ 10 نومبر 2018 ء کوشون پراپرٹیز کے ساتھ فرنچائز کا ہونے والا معاہدہ پی سی بی نے 2025ء میں ختم کر کے فرنچائز کا کنٹرول خود سنبھالنے کا اعلان کیا ہے اور ملتان سلطانز کا نام برقرار رکھاہے۔