جولائی میں عام انتخابات کی تیاریاں

تحریر : محمد اسلم میر


وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی کوششیں رنگ لائیں اوروفاقی حکومت نے گزشتہ روز صحت سہولت پروگرام کے تحت آزاد جموں وکشمیر کے شہریوں کے لیے صحت کارڈ کو دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔

 میاں محمد نواز شریف نے فروری 2016ء میں ضلع مظفرآباد اور کوٹلی کے شہریوں کے لیے صحت کارڈ کا آغاز کیا تھا اور آزاد جموں و کشمیر میں صحت کارڈ کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں درج خاندانوں کو یہ سہولت دی گئی تھی۔ 2019ء میں وفاقی حکومت نے یہ سہولت پورے آزاد جموں وکشمیر کے شہریوں کو فراہم کر دی اور پورے آزاد جموں وکشمیر کے خاندان اس سہولت سے مستفید ہوتے رہے لیکن دسمبر 2023ء میں صحت کارڈ کی سہولت کو ختم کر دیا گیا جسے آزاد جموں و کشمیر کے عام اور غریب خاندان سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔دو سال سے زائد عرصے کے بعد اب یہ سہولت دوبارہ فراہم کی جارہی ہے۔ ان دو سالوں کے دوران آزاد جموں وکشمیر کی سابق حکومتوں نے اپنے سرکاری وسائل سے صحت کارڈ شروع کرنے کی بھر پور کوشش کی جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکیں تاہم موجودہ حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وزیر اعظم آزاد جموں وکشمیر نے حلف لینے کے بعد عوام سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کر دیا گیا ہے اور اب کل بروز جمعہ سے آزاد جموں و کشمیر کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں صحت کارڈ کی سہولت دوبارہ بحال کر دی جائے گی۔ صحت کارڈ کی بحالی کے اس عمل کو آزاد جموں و کشمیر کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے نہ صرف سراہا ہے بلکہ وفاقی حکومت کے اس اقدام کو قومی یکجہتی اور وحدت کے لیے ضروری اور بھر وقت قرار دیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کو بالعموم اور وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کو بالخصوص صحت کارڈ کی بحالی کا کریڈٹ جاتا ہے۔ عام آدمی کو اس کا فائدہ تو ضرور ملے گا لیکن اسی سال جولائی میں ہونے والے عام انتخابات میں اس سہولت کا سیاسی فائدہ بھی پیپلزپارٹی کو ملنے کا امکان ہے۔ 

 صحت کارڈ کی بحالی کے بعد وفاقی اور آزاد جموں وکشمیر کی حکومت کے ساتھ ساتھ متعلقہ انشورنس کمپنی پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صحت کارڈ کی سہولت کو ناجائز استعمال کرنے اور علاج کے نام پر مالی فوائد اٹھانے والے ہسپتالوں پر نظر رکھے تاکہ صحت کارڈ کے درست استعمال کا فائدہ آزاد جموں وکشمیر کے غریب، ضرورت مند، مستحق اور بیمار لوگوں کو ہی ملے۔ صحت کارڈ کے علاوہ سستی بجلی اور سبسڈی پر آٹے کی سہولت پورے پاکستان میں صرف آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کو مل رہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کو اپنا پیٹ کاٹ کر وہ سہولیات دے رہا ہے جو چاروں صوبوں میں کہیں بھی میسر نہیں۔ صحت کارڈ کی بحالی سے آزاد جموں و کشمیر میں مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی بھی دفاعی پوزیشن پر چلی گئی ہے۔ ایکشن کمیٹی کے پاس عوام کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل نہیں جس کی وجہ سے نوجوان اس سے الگ ہو کر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ 

 مقبوضہ جموں اور مقبوضہ وادی سے ہجرت کرکے پاکستان میں آباد لوگوں کے لیے مختص نشستوں کے خاتمے کے مطالبے کو بھی آزاد جموں وکشمیر کے لوگوں نے مسترد کیا ہے۔ ہر سال 370 ارب روپے سے زائد کا بجٹ کھانے والے 33 مقامی ارکان قانون ساز اسمبلی کے بجائے پورا سال 24 کروڑ روپے لینے والے 12 مہاجرین اراکین اسمبلی ان 24 کروڑ روپے میں سے کیا کرپشن کرتے ہو ں گے؟

 حکومت آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ آزاد جموں وکشمیر کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے مہاجرین مقبوضہ جموں وکشمیر کی بارہ نشستوں کو آزاد جموں وکشمیر کے موجودہ سیاسی نظام کے لیے لازم ملزوم قرار دیا ہے، بلکہ یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ مہاجرین 1989ء کو بھی جموں اور وادی کے نام پر دو الگ الگ قانون ساز اسمبلی کی نشستیں دی جائیں۔ 1989ء میں 60 ہزار کے قریب لوگوں نے مقبوضہ جموں اور مقبوضہ وادی سے بھارتی مظالم سے تنگ آکر لائن آف کنٹرول کو عبور کر کے آزاد جموں و کشمیر کی طرف ہجرت کی تھی۔

 آزاد جموں و کشمیر کے بعض سینئر سیاسی تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ اگر مقبوضہ جموں وکشمیر کے مہاجرین مقیم پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نشستوں کو ختم کیا گیا تو اس کے بعد 21 لاکھ آبادی والے آزاد جموں وکشمیر میں موجودہ سیاسی نظام کے قیام اور موجودگی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ 

دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر میں اس سال جولائی میں عام انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ چند روز کے اندر چیف الیکشن کمشنر اور سینئر ممبر کی تقرری عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے لیے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں اتفاق ہو چکا ہے۔ 

چیف الیکشن کمشنر اور سینئر ممبر کی تقرری میں مزید تاخیر سے سب سے زیادہ نقصان سیاسی جماعتوں کو ہو گا، جس سے علاقے میں سیاسی نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ( ن) نے آزاد جموں کشمیر کے 33 انتخابی حلقوں اور مہاجرین مقبوضہ جموں و مقبوضہ وادی کشمیر کی بارہ نشستوں کے لیے غیر اعلانیہ امیدواروں کی فہرستوں کو بھی فائنل کر دیا ہے اور ان امیدواروں کا باضابطہ اعلان چیف الیکشن کمشنر اور سینئر ممبر الیکشن کمیشن کی تعیناتی کے بعد کیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کا پلان ؟

معاشی میدان میں پاکستان کا اعتماد بتدریج بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ اس بار یہ معاملہ محض دعوؤں تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں بھی سامنے آنے لگا ہے۔

اصل ’ ونڈر بوائے‘ کون؟

محمود اچکزئی بطور اپوزیشن لیڈر رنگ دکھا پائیں گے؟

ٹینکر مافیا سے چھٹکارے کی امید

پیپلز پارٹی کو تقریباً ہر سیاسی جماعت تنقید کا نشانہ بناتی ہے، انہیں یہ حق خود پیپلز پارٹی نے دیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ پیپلز پارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جو تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتی ہے اور تنقید پر وضاحت بھی پیش کرتی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

خیبرپختونخوا نظرانداز ہورہا ہے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پنجاب کے بعد سندھ سے بھی ہوآئے۔ یہ دورہ کامیاب رہا یا ناکام، پی ٹی آئی سٹریٹ پاور دکھانے میں کامیاب رہی یانہیں، جس مقصد کیلئے وزیراعلیٰ وہاں گئے تھے وہ حاصل ہوسکا یانہیں اورپارٹی کو اس دورے سے کتنا فائدہ ہواان سوالات سے قطع نظر دیکھا جائے تو اُن کا اپنا سیاسی قد ضرور بلند ہوا ہے۔

میرٹ، شفافیت اوراعلانات

ایران میں بگڑتی صورتحال سے پاک ایران سرحد پر سیکورٹی دباؤ کا سامنا ہے۔ گوادر سے متصل پاک ایران سرحد پر بارڈر پلر نمبر 250 گبد ریمدان سے گزشتہ دونوں تقریباً 200 پاکستانی شہری وطن واپس پہنچے جن میں 125 طلبہ شامل تھے۔

سکل بیسڈ لرننگ خواتین کیلئے نئے مواقع

ہمارا معاشرہ اس وقت ایک اہم تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے جہاں روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ سکل بیسڈ لرننگ تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ خاص طور پر خواتین کے لیے یہ رجحان نہ صرف معاشی خودمختاری کا ذریعہ بن رہا ہے بلکہ سماجی ڈھانچے میں مثبت تبدیلی کا سبب بھی بن رہا ہے۔