میرٹ، شفافیت اوراعلانات

تحریر : عرفان سعید


ایران میں بگڑتی صورتحال سے پاک ایران سرحد پر سیکورٹی دباؤ کا سامنا ہے۔ گوادر سے متصل پاک ایران سرحد پر بارڈر پلر نمبر 250 گبد ریمدان سے گزشتہ دونوں تقریباً 200 پاکستانی شہری وطن واپس پہنچے جن میں 125 طلبہ شامل تھے۔

 ایف آئی اے حکام کے مطابق ایران میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرحد پر تجارتی اور سفری سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں، عام آمد و رفت بھی بند ہے۔ ایران سے پاکستانی شہریوں کی واپسی جاری ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق ایران میں صورتحال طویل عرصے تک غیر مستحکم رہی تو پاکستان کو نہ صرف مزید انخلاکی ذمہ داری اٹھانا پڑے گی بلکہ سرحدی اضلاع خصوصاً بلوچستان میں معاشی دباو ٔبھی بڑھے گا۔ بارڈر ٹریڈ جو اِن علاقوں کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے کی معطلی مقامی آبادی کیلئے شدید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔دوسری جانب بلوچستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت بلوچستان میں 27 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین مقیم ہیں۔گزشتہ 18 ماہ کے دوران بلوچستان سے آٹھ لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو افغانستان بھیجا جا چکا ہے۔کوئٹہ میں پہلے مرحلے کے دوران ایک لاکھ، دوسرے مرحلے میں پچاس ہزار جبکہ تیسرے مرحلے میں ایک لاکھ دس ہزار افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجا گیا۔ صوبے میں قائم 10 افغان مہاجر کیمپس ختم کر دیئے گئے ہیں۔ سرکاری حکام کے مطابق بارڈر پوائنٹس پر رجسٹریشن سینٹرز قائم کئے گئے ہیں۔عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ پاکستان گزشتہ پانچ دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آ رہا ہے جس سے معیشت پر اضافی بوجھ پڑا اور امن و امان کی صورتحال بھی متاثر ہوئی۔ شہریوں کے مطابق اب افغان حکومت کو اپنے شہریوں کی آبادکاری کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔سیاسی تجزیہ نگار اس فیصلے کو دو دھاری تلوار قرار دیتے ہیں۔ ایک طرف ریاستی مؤ قف ہے کہ امن، معیشت اور قانون کی بالادستی کیلئے یہ ناگزیر تھا جبکہ دوسری طرف انسانی حقوق کے حلقے سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا افغانستان اتنی بڑی تعداد میں واپس آنے والے شہریوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے ؟ تاہم زمینی حقیقت یہی ہے کہ عوامی رائے کی ایک بڑی اکثریت اب اس فیصلے کے حق میں دکھائی دیتی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کا اصلاحاتی بیانیہ بھی نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے عوام سے ان کا یہی وعدہ تھا کہ نہ سرکاری نوکریاں بیچی جائیں گی اور نہ ہی کرپشن یا اقربا پروری کو برداشت کیا جائے گا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت عوامی اعتماد کی بحالی کیلئے عملی اور مؤ ثر اقدامات کر رہی ہے۔محکمہ خزانہ میں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار 111 سرکاری آسامیوں پر میرٹ پر آن لائن بھرتیوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ امیدواروں سے آن لائن ٹیسٹ لیا جائے گا، شفاف انداز میں جانچ ہوگی اور کامیاب امیدواروں کو ایک گھنٹے کے اندر تقرری لیٹر جاری کر دیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق اس اصلاحاتی نظام کو مرحلہ وار دیگر محکموں تک توسیع دی جائے گی۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان جیسے صوبے میں جہاں نوکریوں کی بندر بانٹ ایک حقیقت رہی ہے، یہ اقدام اگر تسلسل کے ساتھ نافذ ہوا تو یہ نظامِ حکمرانی میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے، تاہم یہ بھی واضح کیا جا رہا ہے کہ میرٹ اور شفافیت کے دعوے صرف اعلانات سے نہیں بلکہ عملی عملدرآمد سے جانچے جاتے ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے حکومت بلوچستان کی کارکردگی کی تعریف بھی سیاسی طور پر اہم سمجھی جا رہی ہے۔ کوئٹہ میں منعقدہ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان نے وزیراعظم کو تعلیم، صحت، گورننس اور ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 784 دہشت گردوں کی ہلاکت اور امن و امان میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا۔تاہم مبصرین ایک سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا دہشت گردی کے خلاف اعداد و شمار کی جنگ کے ساتھ بیانیے کی جنگ بھی جیتی جا رہی ہے؟ کیونکہ محض عسکری کامیابیاں اس وقت تک پائیدار نہیں ہوتیں جب تک سیاسی شمولیت، معاشی مواقع اور نوجوانوں کی ذہن سازی پر توجہ نہ دی جائے۔یہی نکتہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورائیہ کی پریس کانفرنس میں بھی سامنے آیا۔ 90 ہزار سے زائد آپریشنز، 700 دہشت گردوں کی ہلاکت اور 400 شہادتیں ریاستی قیمت کی یاد دہانی ہیں۔ ساجد احمد جیسے پڑھے لکھے دہشت گرد کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ شدت پسندی کا دائرہ اب تعلیمی اداروں تک پھیل چکا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق بی ایس او، بی وائے سی اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی ایک سنگین چیلنج ہے۔ ڈی ریڈیکلائزیشن کی کوششیں امید افزا ضرور ہیں مگر اس کیلئے مربوط تعلیمی، سماجی اور معاشی پالیسی درکار ہے۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت صوبائی ایپکس کمیٹی اور ڈی سی سی کمیٹیوں کی عملداری کو بھی ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ 36 اضلاع میں ترقیاتی فنڈز کی مقامی سطح پر نگرانی اگر شفاف رہی تو یہ نظام مرکزیت کے بجائے شراکت داری کو فروغ دے سکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے گزشتہ دنوں پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں نائب وزیراعظم، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل بھی شریک تھے۔ ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں، ترقیاتی ترجیحات اور وفاق اور صوبے کے درمیان مؤثر رابطہ کاری پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر اس امر پر زور دیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، سماجی استحکام اور عوامی خوشحالی کیلئے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بلوچستان میں خواتین اور نوجوانوں کے حقوق کے تحفظ، سماجی ترقی اور انسانی وسائل کی بہتری پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کی ترقی کا کلیدی ستون ہے، بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی کی ضمانت ہے اور صوبے کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسحاق ڈار نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان میں انفراسٹرکچر، تعلیم اور صحت کے منصوبوں کا فوری، شفاف اور موثر نفاذ وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کا پلان ؟

معاشی میدان میں پاکستان کا اعتماد بتدریج بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ اس بار یہ معاملہ محض دعوؤں تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں بھی سامنے آنے لگا ہے۔

اصل ’ ونڈر بوائے‘ کون؟

محمود اچکزئی بطور اپوزیشن لیڈر رنگ دکھا پائیں گے؟

ٹینکر مافیا سے چھٹکارے کی امید

پیپلز پارٹی کو تقریباً ہر سیاسی جماعت تنقید کا نشانہ بناتی ہے، انہیں یہ حق خود پیپلز پارٹی نے دیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ پیپلز پارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جو تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتی ہے اور تنقید پر وضاحت بھی پیش کرتی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

خیبرپختونخوا نظرانداز ہورہا ہے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پنجاب کے بعد سندھ سے بھی ہوآئے۔ یہ دورہ کامیاب رہا یا ناکام، پی ٹی آئی سٹریٹ پاور دکھانے میں کامیاب رہی یانہیں، جس مقصد کیلئے وزیراعلیٰ وہاں گئے تھے وہ حاصل ہوسکا یانہیں اورپارٹی کو اس دورے سے کتنا فائدہ ہواان سوالات سے قطع نظر دیکھا جائے تو اُن کا اپنا سیاسی قد ضرور بلند ہوا ہے۔

جولائی میں عام انتخابات کی تیاریاں

وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی کوششیں رنگ لائیں اوروفاقی حکومت نے گزشتہ روز صحت سہولت پروگرام کے تحت آزاد جموں وکشمیر کے شہریوں کے لیے صحت کارڈ کو دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔

سکل بیسڈ لرننگ خواتین کیلئے نئے مواقع

ہمارا معاشرہ اس وقت ایک اہم تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے جہاں روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ سکل بیسڈ لرننگ تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ خاص طور پر خواتین کے لیے یہ رجحان نہ صرف معاشی خودمختاری کا ذریعہ بن رہا ہے بلکہ سماجی ڈھانچے میں مثبت تبدیلی کا سبب بھی بن رہا ہے۔