خیبرپختونخوا نظرانداز ہورہا ہے
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پنجاب کے بعد سندھ سے بھی ہوآئے۔ یہ دورہ کامیاب رہا یا ناکام، پی ٹی آئی سٹریٹ پاور دکھانے میں کامیاب رہی یانہیں، جس مقصد کیلئے وزیراعلیٰ وہاں گئے تھے وہ حاصل ہوسکا یانہیں اورپارٹی کو اس دورے سے کتنا فائدہ ہواان سوالات سے قطع نظر دیکھا جائے تو اُن کا اپنا سیاسی قد ضرور بلند ہوا ہے۔
پنجاب کی طرح دورۂ سندھ سے بھی کئی تنازعات جڑے ہوئے ہیں۔ان کی جانب سے دیئے گئے بیانات کوسوشل میڈیا پر مختلف پیرائے میں پھیلایاجارہا ہے۔ اس قسم کی سیاسی موبلائزیشن اچھی بات ہے‘ کسی بھی جماعت کا حق ہے لیکن اس کے ساتھ کچھ سوالات بھی اٹھتے ہیں کہ کیا یہ سیاسی تحریک اوروہ بھی دوسرے صوبوں میں جاکر چلانا صرف وزیراعلیٰ کا ہی استحقاق ہے ؟کیا یہ کام پارٹی کی سطح پر نہیں ہوسکتا؟ہونا تو یہ چاہئے کہ پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے چاروں صوبوں کے دوروں کااعلان کیاجائے، پارٹی سطح پر کارکنوں کو متحرک کیاجائے، لیکن ایسا نہیں ہورہا۔ یہ بوجھ پہلے علی امین گنڈاپور پر ڈالا گیا اور اس کے بعد یہ بیڑا سہیل آفریدی نے اٹھا لیا ہے۔ پارٹی یہ ذمہ داری اپنے سر کیوں نہیں لے رہی، اس کی مختلف وجوہ ہوسکتی ہیں۔ ایک وجہ یہ کہ حکومت کے پاس جو وسائل ہیں وہ پارٹی کے پاس نہیں،وزیراعلیٰ کی حیثیت سے سہیل آفریدی کو کسی حد تک مالی وسائل کے ساتھ قانونی اثر و رسوخ بھی حاصل ہے۔ اب تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دعوؤں، وعدوں اور باتوں میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے کافی حد تک مماثلت پیدا ہوگئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ مماثلت کب تک برقرار رہتی ہے اور پی ٹی آئی کا ووٹر کب اس پر اپنا ردعمل دیتا ہے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے دوروں سے ایک بڑا مسئلہ جو پیدا ہوتانظرآرہا ہے وہ یہ کہ خیبرپختونخوا نظرانداز ہورہا ہے۔ وزیراعلیٰ جہاں بھی جارہے ہیں اپنے ساتھ چند وزرا کو بھی لے جاتے ہیں۔ اگلے روز ضلع ٹانک میں دہشت گردی کا ایک واقعہ ہوا، دیگراضلاع میں بھی دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں،اس کی طرف صوبائی حکومت کی کتنی توجہ ہے ؟ امن وامان کے حوالے سے صوبائی اسمبلی کا اجلاس گزشتہ برس آٹھ اگست کو شروع ہوا تھا جو اب تک جاری ہے۔ امن وامان کے حوالے سے 26 اجلاس ہوچکے ہیں، اگر ہر اجلاس دو سے تین گھنٹے بھی چلا ہو تو یہ سو سے زائد گھنٹے بنتے ہیں، فی اجلاس بارہ سے چودہ لاکھ روپے خرچہ آتا ہے تو اخراجات بھی کروڑوں روپے میں چلے جاتے ہیں لیکن اسمبلی میں اس حوالے سے ابھی تک قانون سازی صفر ہے۔ قانون سازی تو چھوڑیں کوئی واضح پالیسی بھی ابھی تک اپنائی نہیں جاسکی۔ ابھی تک صوبائی وزرا یا مشیر اسی کشمکش میں ہیں کہ دہشت گردوں کو دہشت گرد کہیں یا نہ کہیں۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسمبلی میں بحث کے علاوہ دہشت گردی کے اس عفریت سے نمٹنے کیلئے آخر کیاکیا جارہا ہے ؟کیا یہ نشستند، گفتند اور برخاستند والا معاملہ بن گیا ہے ؟اس حوالے سے صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کے عہدیداروں کے بیانات الجھن بڑھا رہے ہیں۔ 2025ء کی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے لیکن ہمارے منصوبہ سازاورقانون ساز ابھی تک یہ طے نہیں کرسکے کہ کون دہشت گرد ہے یا نہیں۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ صوبائی حکومت کی مخالفت کے باوجود انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری ہیں۔تیراہ میں آپریشن کی تیاریاں کی جارہی ہیں،پولیس اور سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا مقابلہ کررہی ہیں۔عسکری اور سول مشینری کے مابین ہم آہنگی موجود ہے، اسی ہم آہنگی کی بدولت ایک سال قبل دہشت گردی کی آگ میں جلتے بنوں اور لکی مروت میں حالات بہتر ہوئے ہیں۔ جب معاملات درست سمت میں چل رہے ہیں تو پھر ایسے سیاسی بیانات کیوں سامنے آتے ہیں جس سے لوگوں میں غلط فہمیاں پھیلتی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور خیبرپختونخوا حکومت کو اس دہری پالیسی کو ترک کرنا ہوگا۔ طریقہ کار کا اگر کوئی اختلاف ہے تو وہ پریس کانفرنسوں کے بجائے مل بیٹھ کر حل کیاجاسکتا ہے، اسمبلی میں قانون سازی کی جاسکتی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت اگر اس مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے امن جرگہ کی سفارشات پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔امن جرگہ جو سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے بلایاگیا تھا اسے انتہائی مثبت قدم سمجھا گیاتھا اور اس میں تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی تھی۔ اس جرگے میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیاگیا جس کے پندرہ نکات تھے ان میں سے دونکات انتہائی اہم ہیں۔ ایک نکتہ یہ تھا کہ صوبائی ایکشن پلان بنایاجائے۔ یہ صوبائی ایکشن پلان یقینا نیشنل ایکشن پلان کے تابع ہی ہوتا اور اس کی مزید وضاحت کرتا۔ صوبائی حکومت اس میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا طریقہ کاروضع کرتی۔
دوسرا نکتہ وفاق کے ساتھ تناو ٔکم کرنے کا تھا۔ باقی نکات بھی اہم تھے لیکن ان دو نکات پر فوری طورپر عملدرآمد ضروری تھا، مگر بدقسمتی سے امن جرگے کی کسی بھی سفارش پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔اسی طرح جو خصوصی سکیورٹی کمیٹی بنائی گئی اس کے اب تک صرف دو اجلاس ہوئے ہیں۔ اس کمیٹی کی سفارش پر اگلے روز سپیکر کی جانب سے کور ہیڈکوارٹر کوخط لکھاگیا جس میں درخواست کی گئی کہ کور کمانڈر سکیورٹی کے حوالے سے اس کمیٹی کو بریفنگ دیں۔ ذرائع کے مطابق یہ خط تاحال کورہیڈ کوارٹرکو موصول نہیں ہوا۔اس خط کو بھیجنے کاطریقہ کار ہی غلط تھا۔
قانون کے مطابق ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ امن وامان پران کیمرہ بریفنگ کیلئے صوبائی حکومت وفاق سے رابطہ کرتی۔ یہ درخواست وزارت دفاع کو جاتی جس کے بعد مخصوص طریقہ کار کے تحت منظوری کے بعد یہ بریفنگ دینے یا نہ دینے کی ہدایات جاری کی جاتیں، لیکن اس طرح براہ راست خط لکھنا اس بات کا غماز ہے کہ یا تو اسمبلی کا سٹاف اس طریقہ کار سے ہی واقف نہیں تھا یا پھر بھجوانے والوں کی طرف سے سیاسی داؤکھیلاگیا۔یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ فوج وفاق کے تابع ہے صوبائی حکومت یا اسمبلی کے نہیں۔خیبرپختونخوا حکومت اگر بریفنگ کے حوالے سے سنجیدہ ہے تو وفاقی حکومت کو خط لکھاجاسکتا ہے۔ اس وقت یہ انتہائی ضروری ہے کہ حکومت کے ارباب اختیار کو پتہ چلے کہ سکیورٹی کی کیاصورتحال ہے،افغانستان کے ساتھ تعلقات کس نہج پر ہیں اور اس کی بحالی میں کیا رکاوٹیں ہیں۔ مقتدرہ خود چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور اگران کی جانب سے باضابطہ طورپر مروجہ طریقے سے کوئی درخواست کی جاتی ہے تو یقینی طورپر انہیں بریفنگ دی جائے گی۔ اس سے قبل علی امین گنڈاپور یہ بریفنگ لینے خود گئے تھے۔ جب ماضی میں ایسا ہوسکتا ہے تو اب کیوں نہیں ؟