ایس ایم یوسف وہ شاندار ہدایت کار تھے اور بڑی کامیاب فلمیں بنائیں

ایس ایم یوسف  وہ شاندار ہدایت کار تھے اور بڑی کامیاب فلمیں بنائیں

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


تقسیم ہند کے کچھ سال بعد کئی مسلم ہدایت کار ہندوستان کی فلمی صنعت چھوڑ کر پاکستان آ گئے۔ پاکستان آنے والوں میں کئی اداکار بھی شامل تھے جنہوں نے ہندوستان کی فلمی صنعت میں کئی برس تک کام کیا اور اپنی شاندار اداکاری کی بدولت بہت شہرت حاصل کی۔ ان بے مثال اداکاروں میں ایم اسماعیل، علاؤ الدین، ایم اجمل، غلام محمد، ہمالیہ والا اور کئی دوسرے فنکار شامل تھے۔ آہو چشم راگنی اور معروف نغمہ نگار ناظم پانی پتی بھی پاکستان آ چکے تھے اور ان سے پہلے میڈم نور جہاں اور شوکت حسین رضوی بھی ہندوستانی فلمی صنعت چھوڑ کر لاہور آ گئے تھے۔ غالباً 1955کے بعد ایک ہدایت کار ایس ایم یوسف بھی پاکستان چلے آئے۔ ایس ایم یوسف جب پاکستان آئے تو ہندوستان میں ان کے نام کا ڈنکا بج رہا تھا۔ انہوں نے ہندوستان میں ’’مہندی، نیک پروین، آئینہ اور گرہستی‘‘ جیسی ہٹ فلمیں بنائیں۔ممبئی میں پیدا ہونے والے ایس ایم یوسف نے سماجی موضوعات پر فلمیں بنائیں۔ یہ ان کا کریڈٹ ہے کہ انہوں نے سماجی اقدار کو دوبارہ زندہ کیا۔ ان کی ہر فلم میں ایک پیغام ہوتا تھا اور معاشرے کی اصلاح کے لئے وہ جو کچھ کر سکتے تھے، انہوں نے کیا۔ اگر انہیں ایک ریفارمر کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ آج بھی ان کا نام برصغیر کے دس صفِ اول کے ہدایت کاروں میں شامل ہے۔ایس ایم یوسف جب پاکستان آئے تو یہاں بھی انہوں نے بڑی معیاری فلمیں بنائیں۔ انہوں نے اپنی فلموں میں نہ صرف مشرقی اقدار کو اُجاگر کیا بلکہ معاشرے میں عورت کے کردار کی اہمیت کو بھی واضح کیا۔ ایس ایم یوسف کا نظریہ یہ تھا کہ اگر آپ اپنے گھر کے معاملات کو درست سمت میں چلائیں تو اس سے مجموعی طور پر آپ کے ملک میں بھی بہتری آئے گی۔ ان کی فلم ’’آشیانہ‘‘ اسی حقیقت کی غماز ہے کہ اگر ایک اچھی بیوی پورے خاندان کی سوچ تبدیل کر دیتی ہے اور گھریلو لڑکیوں کی زندگی میں ایک نیا جذبہ پیدا کرتی ہے تو ’’آشیانہ‘‘ بالکل محفوظ ہو جاتا ہے اور ایک تعلیم یافتہ بہو ہی ایسا کر سکتی ہے جس کی اپنی تربیت ایسے افراد نے کی ہو جو سچائی اور دیانت داری کا مجسمہ ہوں۔ فلم ’’آشیانہ‘‘ میں ایسی بہو کا کردار زیبا نے کیا تھا اور انہوں نے اپنے کردار میں حقیقت کا رنگ بھر دیا تھا۔ انہوں نے صحیح معنوں میں نیک پروین کا تصور اجاگر کیا۔ ایس ایم یوسف نے اپنا کیریئر ایک اداکار کی حیثیت سے شروع کیا اور بہت جلد یہ ثابت کر دیا کہ وہ بحری جہاز کے کپتان کی حیثیت سے جہاز کو طوفانی پانیوں سے بچا کے لے جا سکتے ہیں۔ہدایت کار کی حیثیت سے ان کی پہلی فلم ’’بھارت کا لعل‘‘ تھی جو 1936 میں ریلیز ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے جن فلموں کی ہدایات دیں ان میں ’’دربان، آئینہ، نیک پروین، دیور، گرہستی، مہندی‘‘ اور دیگر فلمیں شامل تھیں۔ انہوں نے خاندانی مسائل کے علاوہ کچھ اور موضوعات پر بھی فلمیں بنائیں جن میں ’’گماشتہ، دولت، رنگیلا مزدور، کہاں ہے منزل تیری اور حیدر آباد کی نازنین‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے وقت کی مشہور ہیروئن نگار سلطانہ سے شادی کی اور 1960تک بھارت میں رہے۔ پاکستان میں انہوں نے اپنی فلم ’’مہندی‘‘ کو دوبارہ ’’سہیلی‘‘ کے نام سے بنایا جو سپرہٹ ثابت ہوئی۔ ’’سہیلی‘‘ کے نغمات نے بھی ہر طرف دھوم مچا دی تھی۔ اس فلم کی موسیقی اے حمید نے مرتب کی تھی۔ فلم میں نیئر سلطانہ، درپن، طالش، شمیم آرا اور اسلم پرویز نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ طالش کو شاندار اداکاری کرنے پر صدارتی ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ باقی اداکاروں کو نگار ایوارڈ ملا۔ نگار ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں ایس ایم یوسف بھی شامل تھے۔1962میں ان کی فلم ’’اولاد‘‘ ریلیز ہوئی اور یہ فلم بھی سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس دفعہ نیئر سلطانہ کے ساتھ حبیب کو کاسٹ کیا گیا اور وحید مراد کی یہ پہلی فلم تھی۔ اس فلم کی موسیقی بھی اے حمید نے ترتیب دی تھی۔ ’’اولاد‘‘ میں ماؤں کے لئے ایک زبردست پیغام دیا گیا تھا۔ ایس ایم یوسف کو اس فلم کی باکمال ہدایت کاری کرنے پر بھی نگار ایوارڈ دیا گیا۔ ایس ایم یوسف نے پاکستان میں 13 فلمیں بنائیں جن میں ’’سہیلی، اولاد، دلہن، آشیانہ، عید مبارک، ہونہار، سہاگن، شریکِ حیات، بہو رانی، زندگی ایک سفر ہے، ہار گیا انسان، نیک پروین اور گونج اٹھی شہنائی‘‘ شامل ہیں۔ ان کی فلموں کے نغمات بڑے معیاری ہوتے تھے۔ 1969میں ریلیز ہونے والی فلم ’’بہو رانی‘‘ بھارت میں بننے والی ان کی فلم ’’گماشتہ‘‘ کا ری میک تھی۔ فلم ’’بہو رانی‘‘ سے اداکار محمد قوی خان کو شہرت ملی۔ اس فلم میں انہوں نے محمد علی کے والد کا کردار ادا کیا تھا۔ انہیں فلم ’’آشیانہ‘‘ میں بھی خوبصورت ہدایت کاری کرنے پر نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔1970 کی دہائی میں جب فلموں میں تشدد کا آغاز ہوا تو وہ بڑے مایوس ہوئے۔ ان کے بیٹے اقبال یوسف نے ایکشن فلمیں بنائیں ،وہ بھی ایک کامیاب ہدایت کار تھے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ایس ایم یوسف نے وحید مراد اور محمد قوی جیسے اداکار متعارف کرائے اور اسلم پرویز کو پہلی بار ولن کی حیثیت سے فلم ’’سہیلی‘‘ میں کاسٹ کیا۔ اپنی عمر کے آخری حصے میں وہ کینیڈا شفٹ ہو گئے۔ 1994میں وہ چند دنوں کے لئے پاکستان آئے لیکن شاید ان کا وقت پورا ہو چکا تھا۔ 17اگست 1994کو یہ نادرِ روزگار ہدایت کار لاہور میں انتقال کر گیا۔ یہ قادرِ مطلق کا فیصلہ تھا کہ ان کی وفات اپنے ملک میں ہو۔ انہوں نے جو کام کیا، خوب کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
کیا تازہ ہوا ذہنی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے موثر ہے ؟

کیا تازہ ہوا ذہنی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے موثر ہے ؟

حالیہ برسوں میں فضائی آلودگی انسانی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر سامنے آئی ہے۔ صرف پھیپھڑوں اور دل کی بیماریاں ہی نہیں بلکہ اب سائنسدان یہ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ آلودہ ہوا دماغی صحت اور ذہنی کارکردگی پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی حوالے سے حال ہی میں ایک تحقیق سامنے آئی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایئر پیوریفائر دماغی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ تحقیق امریکہ کے ایک ایسے علاقے میں کی گئی جہاں ٹریفک اور صنعتی آلودگی نسبتاً زیادہ تھی۔ اس تحقیق میں مجموعی طور پر 119 افراد شامل تھے جن کی عمر 30 سے 74 سال کے درمیان تھی۔ ان افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ایک گروپ کو حقیقی HEPA فلٹر والے ایئر پیوریفائر دیے گئے جبکہ دوسرے گروپ کو ایسے پیوریفائر دیے گئے جو دیکھنے میں بالکل اصلی تھے لیکن ہوا کو صاف نہیں کرتے تھے۔شرکانے ایک ماہ تک اپنے گھروں میں یہ پیوریفائر استعمال کیے۔ اس دوران محققین نے ان کی ذہنی کارکردگی کو مختلف ٹیسٹوں کے ذریعے جانچا جن میں یادداشت، توجہ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور ذہنی لچک (cognitive flexibility) شامل تھی۔ایک ماہ بعد دونوں گروپوں کے نتائج کا موازنہ کیا گیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ صاف ہوا کا دماغی صلاحیتوں پر کیا اثر پڑا۔تحقیق کے نتائج کافی دلچسپ تھے۔ خاص طور پر 40 سال سے زائد عمر کے افراد میں نمایاں فرق دیکھا گیا۔ جن افراد نے ایئر پیوریفائر استعمال کیے تھے انہوں نے ذہنی ٹیسٹ تقریباً 12 فیصد تیزی سے مکمل کیے۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ صاف ہوا دماغی کارکردگی میں بہتری لا سکتی ہے، خاص طور پر درمیانی اور بڑی عمر کے افراد میں۔فضائی آلودگی اور دماغ کا تعلقسائنسدانوں کے مطابق فضائی آلودگی میں موجود باریک ذرات (particulate matter) صرف پھیپھڑوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ جسم میں داخل ہو کر دماغ پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔یہ ذرات دماغی سوزش بڑھا سکتے ہیں،خون کی شریانوں کو متاثر کر سکتے ہیں،دماغی خلیات کے درمیان رابطے کو کمزور کر سکتے ہیں۔بعض تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ طویل عرصے تک آلودہ ہوا میں رہنے سے الزائمر اور یادداشت کی خرابی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ایئر پیوریفائر کا کردارHEPA فلٹر والے ایئر پیوریفائر ہوا میں موجود باریک ذرات، دھول، پولن اور کچھ حد تک آلودگی کو کم کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق جب اندرون خانہ ہوا صاف ہوتی ہے تو دماغ کو بہتر آکسیجن ملتی ہے اور ذہنی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ شرکاکی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی، خاص طور پر اُن افراد میں جو پہلے سے آلودگی والے ماحول میں رہ رہے تھے۔کیا یہ نتیجہ حتمی ہے؟اگرچہ یہ نتائج امید افزا ہیں لیکن محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک مختصر مدت کی تحقیق تھی۔ صرف ایک ماہ کے مشاہدے کی بنیاد پر طویل مدتی نتائج اخذ نہیں کیے جا سکتے۔اس کے علاوہ شرکا کی تعداد محدود تھی۔مختلف طرزِ زندگی رکھنے والے افراد شامل تھے۔طویل مدتی دماغی صحت پر اثرات ابھی واضح نہیں۔اس لیے مزید وسیع اور طویل تحقیقات کی ضرورت ہے۔عام زندگی کیلئے اس کا مطلباس تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صاف ہوا صرف جسمانی صحت ہی نہیں بلکہ ذہنی کارکردگی کے لیے بھی اہم ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو شہروں میں رہتے ہیں جہاں آلودگی زیادہ ہوتی ہے، ایئر پیوریفائر ایک مددگار آلہ ثابت ہو سکتا ہے،تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ صرف پیوریفائر پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مجموعی طور پر ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کی کوشش کی جائے جیسے درخت لگانا،گاڑیوں کے دھوئیں کو کم کرنا،صاف توانائی کے ذرائع استعمال کرنا۔یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہماری روزمرہ کی ہوا، جسے ہم عام طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں، ہمارے دماغی افعال پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ ایئر پیوریفائر کے استعمال سے وقتی طور پر ذہنی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی ہے لیکن اس کے مستقل فوائد جاننے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ صاف ہوا صرف سانس لینے کے لیے نہیں بلکہ بہتر سوچنے اور بہتر فیصلہ کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔ 

صحت مند لمبی زندگی کا راز قدیم یونانیوں کی نظر میں

صحت مند لمبی زندگی کا راز قدیم یونانیوں کی نظر میں

جیسے آج کے دور میں لوگ لمبی اور صحت مند زندگی چاہتے ہیں قدیم زمانے کے لوگ بھی ایسے ہی یہ خواہش رکھتے تھے۔ یونانی اور رومی لوگ دور دراز علاقوں کے باشندوں کے بارے میں عجیب و غریب کہانیاں سنتے تھے کہ وہ سو سال سے بھی زیادہ جیتے ہیں۔ یونانی ادیب Lucian (تقریباً 120-180 ء) لکھتا ہے: ''واقعی کچھ ایسی قومیں بھی ہیں جو بہت لمبی عمر پاتی ہیں جیسے سیرس (چین کے لوگ) جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تین سو سال تک زندہ رہتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کی لمبی عمر کی وجہ وہاں کی آب و ہوا کو قرار دیتے ہیں، کچھ زمین کو اور کچھ ان کی خوراک کوکیونکہ کہا جاتا ہے کہ وہ صرف پانی پیتے ہیں۔اسی طرح ایتھوس کے لوگوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ 130 سال تک زندہ رہتے ہیں اور جنوبی میسوپوٹیمیا کے لوگ سو سال سے زیادہ عمر پاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ جو کی روٹی کھاتے ہیں، جو ان کی بینائی کو تیز رکھتی ہے۔‘‘چاہے ان باتوں میں کتنی ہی سچائی ہو ایک بات واضح ہے کہ یونانی اور رومی لوگ بھی لمبی اور صحت مند زندگی کے خواہش مند تھے اور وہ اس کے طریقے تلاش کرتے رہتے تھے۔ایک قدیم طبیب کی نظر میںقدیم زمانے کے طبیب اس بات میں دلچسپی رکھتے تھے کہ لمبی عمر پانے والے لوگ روزمرہ زندگی میں کیا کرتے ہیں۔ یونانی حکیم جالینوس( Galen،129-216 ء) نے ایسے دو لوگوں کا ذکر کیا ہے جنہیں وہ خود جانتا تھا۔پہلا شخص ٹیلیفس نامی ایک عالم تھا جو تقریباً سو سال جیا۔ جالینوس کے مطابق وہ دن میں صرف تین بار کھانا کھاتا تھا اور اس کی خوراک نہایت سادہ تھی۔ صبح وہ پانی میں پکا ہوا دلیہ شہد کے ساتھ کھاتا تھا۔ دوپہر کو پہلے سبزیاں کھاتا پھر تھوڑی سی مچھلی یا پرندے کا گوشت۔ شام کو وہ صرف روٹی کھاتا۔اس کی نہانے کی عادتیں بھی کچھ مختلف تھیں۔ وہ روزانہ زیتون کے تیل سے مساج کرواتا لیکن نہاتا کم تھا۔سردیوں میں مہینے میں دو بار، گرمیوں میں چار بار، اور درمیانی موسم میں تین بار۔دوسرا شخص اینٹیوکس نامی ایک بوڑھا طبیب تھا جو اسی سال سے زیادہ جیا۔ اس کی خوراک بھی سادہ تھی۔ صبح شہد کے ساتھ روٹی، دوپہر کو مچھلی اور رات کو ہلکی غذا جیسے دلیہ یا پرندے کا گوشت کھاتا تھا۔وہ روزانہ چہل قدمی کرتا تھا، کبھی رتھ میں سیر کرتا اور کبھی لوگوں سے اٹھوا کر شہر میں گھومتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ اپنی عمر کے مطابق ہلکی پھلکی ورزش بھی کرتا تھا۔جالینوس کے مطابق اسی متوازن طرزِ زندگی کی بدولت اینٹیوکس بڑھاپے تک صحت مند رہا۔ وہ آخر وقت تک ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رہا۔ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ہر کوئی سو سال نہیں جیتا،یہ بات قدیم لوگ بھی جانتے تھے مگر Lucian ایک بات کہتا ہے:''دنیا کے ہر علاقے اور ہر موسم میں وہی لوگ لمبی عمر پاتے ہیں جو مناسب ورزش کرتے ہیں اور صحت کے مطابق غذا اختیار کرتے ہیں۔‘‘اس لیے وہ مشورہ دیتا ہے کہ اگر ہم لمبی اور صحت مند زندگی چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے لوگوں کے طرزِ زندگی کو اپنانا چاہیے جو واقعی لمبی عمر پاتے ہیں۔اگر آپ دوسری صدی عیسوی کے روم میں رہتے، تو ٹیلیفس اور اینٹیوکس جیسے سادہ غذا کھانے اور متحرک رہنے والے لوگ آپ کے لیے بہترین نمونہ ہوتے۔  

آج کا دن

آج کا دن

انگلینڈ میں بادشاہت کی بحالی29 اپریل 1660ء کو انگلینڈ میں بادشاہت کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی جب چارلس ii آف انگلینڈکو دوبارہ بادشاہ تسلیم کرنے کا عمل شروع ہوا۔ اس پیش رفت نے خانہ جنگی اور جمہوریہ کے دور کے بعد سیاسی استحکام پیدا کیا۔اولیور کومویل کے دور کے خاتمے کے بعد یہ ایک بڑی تبدیلی تھی جس نے برطانیہ کی آئینی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔ لوئزیانا خریداری کا معاہدہ 29 اپریل 1803ء کو امریکہ اور فرانس کے درمیان ریاست لوئزیانا کی خریداری کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت نپولین بوناپارٹ نے ایک وسیع علاقہ امریکہ کو فروخت کیا جس سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا رقبہ تقریباً دوگنا ہو گیا۔ یہ معاہدہ امریکی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس نے مغرب کی جانب توسیع، معاشی ترقی اور سیاسی طاقت میں اضافہ ممکن بنایا۔ڈاخاؤ حراستی کیمپ کی آزادی29 اپریل 1945ء کو امریکی افواج نے ڈاخاؤ حراستی کیمپ کو آزاد کروایا۔ یہ نازی جرمنی کے ابتدائی اور بدنام زمانہ کیمپوں میں سے ایک تھا جہاں ہزاروں قیدیوں کو قید اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جب اتحادی فوجیں یہاں پہنچیں تو انہوں نے انتہائی خوفناک حالات دیکھے۔بھوکے، بیمار قیدی اور لاشوں کے انبار۔ یہ واقعہ دوسری عالمی جنگ کے اختتامی دنوں میں نازی مظالم کی ایک ہولناک تصویر دنیا کے سامنے لایا اور اس کے بعد جلد ہی جرمنی کی شکست واقع ہوئی۔ سیگون سے انخلا29 اپریل 1975ء کو امریکہ نے ویتنام جنگ کے آخری مرحلے میں اپنے شہریوں اور اتحادیوں کو سیگون سے نکالنا شروع کیا۔ اس وقت شمالی ویتنام کی افواج شہر کے قریب پہنچ چکی تھیں اور جنوبی ویتنام کی حکومت تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سفارتخانے اور دیگر مقامات سے لوگوں کو نکالا گیا اور یہ منظر دنیا بھر میں نشر ہوا۔ یہ انخلاویتنام جنگ کے اختتام کی واضح علامت تھا کیونکہ اگلے ہی دن سیگون پر قبضہ ہو گیا۔ لاس اینجلس فسادات 29 اپریل 1992ء کو امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں شدید فسادات شروع ہوئے جب عدالت نے روڈنی کنگ پر تشدد کرنے والے پولیس افسران کو بری کر دیا۔ اس فیصلے نے عوام میں غم و غصہ پیدا کیا اور شہر میں لوٹ مار، آتش زنی اور احتجاج شروع ہو گیا۔ یہ فسادات کئی دنوں تک جاری رہے اور درجنوں افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے امریکہ میں نسلی امتیاز، پولیس کے رویے اور عدالتی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کیے اور بعد میں اصلاحات کی بحث کو جنم دیا۔    

گندم کی کٹائی اور گہائی

گندم کی کٹائی اور گہائی

محنت،ثقافت اور خوشیوں کی روایتاپریل ، مئی ہمارے ملک کے میدانی علاقوں میں گندم کی کٹائی کا موسم ہے۔ برصغیر کے دیہی معاشرے میں گندم کی فصل صرف ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب فصل پک کر تیار ہوجاتی ہے تو گاؤں کے کھیتوں میں سنہری بالیوں کا منظر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے زمین نے سونے کا لباس پہن لیا ہو۔ اس خوبصورت منظر کے بعد شروع ہوتا ہے گندم کی کٹائی اور پھر گہائی کا مرحلہ، جو محض ایک زرعی عمل نہیں بلکہ ایک اجتماعی تہوار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔پہلے زمانے میں ہر جگہ مگر آج بھی کہیں کہیں گندم کی کٹائی ہاتھوں سے درانتی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ مرد، عورتیں اور بعض اوقات بچے بھی اس عمل میں شریک ہوتے ہیں۔ فصل کو کاٹ کر گٹھوں (پولوں) کی شکل میں باندھ لیا جاتا ہے اور پھر انہیں کھیت کے کسی صاف اور ہموار حصے میں جمع کیا جاتا جسے '' کھلیان ‘‘کہا جاتا تھا۔ یہی کھلیان بعد میں گندم کی گہائی کا مرکز بنتے ہیں۔ گندم کی گہائی کا عمل نہایت محنت طلب کام ہے۔ آج کے جدید تھریشر یا کمبائن ہارویسٹر مشینوں کی جگہ ماضی میں بیلوں یا اونٹوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ گندم کے گٹھوں کو ایک ڈھیری کی شکل میں ایک جگہ اکٹھا کیا جاتا۔پھر اسے زمین پر بچھا کر اس کے اوپر جانوروں کو چکر لگوائے جاتے تھے۔ بعض کسان بیلوں کے پیچھے اس گندم کی ڈھیری میں سے بڑے بڑے پھلے بنا کر باندھتے۔ پورا دن جانور ایک دائرے میں گھومتے رہتے۔ جس کے نتیجے میں گندم کی بالیوں سے دانے الگ ہو جاتے۔ گہائی کے دوران کسان بڑی محنت اور صبر سے کام لیتے۔ صبح سویرے سورج نکلنے سے پہلے ہی کام شروع ہو جاتا۔ وہ مسلسل ایک ہی جگہ پر گندم کو روندتے رہتے۔ اس روندی ہوئی فصل کو لکڑی سے بنے ہوئے اوزاروں سے الٹ پلٹ بھی کرتے رہتے۔ گندم کے تنکوں اور دانوں سے بھوسہ الگ کیاجاتا۔جب دانے مکمل طور پر الگ ہو جاتے تو انہیں ایک جگہ جمع کر کے ڈھیری بنائی جاتی۔گندم کی یہ ڈھیری نہ صرف کسان کی محنت کا ثمر ہوتی بلکہ اس کے سال بھر کے رزق کی علامت بھی سمجھی جاتی۔ جب گندم کی ڈھیری تیار ہو جاتی تو اس کے بعد آتا تولائی کا مرحلہ۔ پرانے زمانے میں ترازو اور باٹ کے ذریعے گندم تولی جاتی تھی۔ اس موقع پر گاؤں کے بچے بھی بڑی دلچسپی سے کھلیان میں آ جاتے۔ایک خوبصورت روایت یہ تھی کہ جب گندم تولی جاتی تو بچوں کو خوشی کے طور پر دانے دیے جاتے۔ بچے اپنے چھوٹے چھوٹے دامن میں گندم کے دانے لے کر خوشی سے جھوم اٹھتے۔ بعض جگہوں پر بچوں کو چنگیر بھر کر گندم دی جاتی جو اُن کے لیے کسی انعام سے کم نہ ہوتی تھی۔یہ روایت نہ صرف بچوں کی خوشی کا باعث بنتی بلکہ انہیں محنت اور رزق کی قدر بھی سکھاتی تھی۔ وہ دیکھتے کہ یہ دانے کتنی محنت کے بعد حاصل ہوئے ہیں۔ اس لیے ان کے دل میں کسانوں کے لیے احترام پیدا ہوتا۔ سال بھر کسان کا کام کرنے والے بھی کھلیان میں پہنچ جاتے اور سال بھر کی محنت کا عوضانہ وصول کرتے۔گندم کی گہائی کے دن سے گاؤں میں ایک خاص رونق ہوتی تھی۔ لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے آتے، کھانا اکٹھے کھایا جاتا۔یہ محنت صرف جسمانی نہیں بلکہ ایک روحانی اور سماجی تجربہ بھی تھی۔ اس میں تعاون، بھائی چارہ اور سادگی کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ ہر شخص دوسرے کے کام میں ہاتھ بٹاتا اور کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔ اج کے جدید دور میں مشینوں نے ان تمام روایتی طریقوں کی جگہ لے لی ہے۔ تھریشر، کمبائن ہارویسٹر اور دیگر زرعی آلات نے کام کو آسان اور تیز بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ثقافتی رنگ بھی ماند پڑ گئے ہیں جو کبھی گندم کی گہائی کا حصہ تھے۔ اب نہ وہ کھلیان کی رونق رہی، نہ بیلوں کی گھنٹیوں کی آواز اور نہ ہی بچوں کو دانے دینے کی وہ سادہ مگر خوبصورت روایت۔ سب کچھ مشینی اور تیز رفتار ہو گیا ہے۔ گندم کی گہائی ایک مکمل ثقافتی عمل تھا جس میں محنت، خوشی، تعاون اور روایات کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ یہ صرف دانے نکالنے کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسی یادگار روایت تھی جو لوگوں کو آپس میں جوڑتی تھی۔ اگرچہ وقت کے ساتھ طریقے بدل گئے ہیں لیکن ان روایات کی یادیں آج بھی دیہی سماج کے حسن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان روایات کو یاد رکھیں اور اپنی نئی نسل کو ان سے روشناس کرائیں تاکہ وہ جان سکیں کہ ان کے آباؤ اجداد نے کس محنت اور محبت سے یہ زمین آباد کی تھی۔

دماغی صحت کے لیے کتنی نیند ضروری ہے؟

دماغی صحت کے لیے کتنی نیند ضروری ہے؟

سائنسی تحقیق کی روشنی میں ایک جائزہنیند انسانی زندگی کی ایک بنیادی اور لازمی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف جسمانی توانائی کو بحال کرتی ہے بلکہ دماغی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے اس پہ روشنی ڈالی ہے کہ نیند کا دورانیہ براہِ راست دماغی بیماریوں، خصوصاً ڈیمنشیا کے خطرے سے جڑا ہوا ہے۔ اس مضمون میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ مناسب نیند کس طرح ہماری دماغی صحت کو بہتر بنا سکتی ہے۔سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیمنشیا کیا ہے۔ ڈیمنشیا ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان کی یادداشت، سوچنے کی صلاحیت اور روزمرہ کے کام انجام دینے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ یہ عموماً عمر کے ساتھ بڑھتا ہے لیکن طرزِ زندگی کے کئی عوامل اس کے خطرے کو کم یا زیادہ کر سکتے ہیں۔ انہی عوامل میں سے ایک اہم عنصر نیند ہے۔یارک یونیورسٹی کینیڈا کے ماہرین کی ایک ٹیم کی ایک حالیہ تحقیق میں تقریباً 69 مختلف مطالعات کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں لاکھوں افراد کے نیند کے معمولات اور دماغی صحت کا تجزیہ کیا گیا، اس جامع تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند دماغی صحت کے لیے سب سے زیادہ مفید ہے۔ یہ وہ درمیانی حد ہے جہاں انسان کا دماغ بہترین طریقے سے کام کرتا ہے اور بیماریوں کا خطرہ کم رہتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس حد سے کم یا زیادہ سوتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ 7 گھنٹے سے کم سوتے ہیں ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 18 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیند کی کمی دماغ کو مکمل آرام نہیں دیتی جس کے نتیجے میں دماغی خلیات صحیح طریقے سے کام نہیں کر پاتے۔ نیند کے دوران دماغ خود کو صاف کرتا ہے اور نقصان دہ مادوں کو خارج کرتا ہے، لیکن کم نیند اس عمل کو متاثر کرتی ہے۔دوسری طرف اگر کوئی شخص 8 گھنٹے سے زیادہ سوتا ہے تو بھی مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق زیادہ نیند لینے والوں میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 28 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ سن کر حیرت ہوتی ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ زیادہ نیند لینا اکثر کسی پوشیدہ بیماری یا کمزور صحت کی علامت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ سونا جسمانی سرگرمی میں کمی کا باعث بنتا ہے جو دماغی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ صرف نیند ہی کافی نہیں بلکہ دیگر طرزِ زندگی کے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص روزانہ 8 گھنٹے سے زیادہ بیٹھا رہتا ہے (جیسے دفتر میں کام کرنے والے افراد) تو اس میں بھی ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ہفتے میں 150 منٹ سے کم جسمانی سرگرمی بھی دماغی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔اس تحقیق سے ایک اہم پیغام یہ ملتا ہے کہ متوازن طرزِ زندگی اپنانا بے حد ضروری ہے۔ نیند، جسمانی سرگرمی اور روزمرہ کی عادات ،یہ سب مل کر ہماری دماغی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر ہم صرف نیند پر توجہ دیں اور باقی عوامل کو نظر انداز کریں تو ہم مکمل فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔مزید یہ کہ نیند کا معیار بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ اس کا دورانیہ۔ اگر کوئی شخص 7 سے 8 گھنٹے بستر پر تو گزارتا ہے لیکن اس کی نیند بار بار ٹوٹتی ہے یا وہ بے سکون رہتا ہے تو اس کا فائدہ کم ہو جاتا ہے۔ اچھی نیند کے لیے ضروری ہے کہ سونے کا ماحول پرسکون ہو، روشنی کم ہو اور سونے سے پہلے موبائل یا سکرین کا استعمال محدود کیا جائے۔ ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ ایک مستقل نیند کا شیڈول اپنایا جائے یعنی روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا۔ اس سے جسم کا اندرونی نظام درست رہتا ہے اور نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ دماغی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے نیند ایک سادہ مگر مؤثر ذریعہ ہے۔ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی معیاری نیند، مناسب جسمانی سرگرمی اور متوازن طرزِ زندگی اپنانے سے نہ صرف ڈیمنشیا بلکہ دیگر کئی بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔یہ تحقیق ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے ہمیں بڑے اور پیچیدہ اقدامات کی ضرورت نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی عادات میں بہتری لا کر ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ نیند کو نظر انداز کرنا ایک بڑی غلطی ہو سکتی ہے اس لیے اسے اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنائیں اور اپنی دماغی صحت کا خیال رکھیں۔

آج کا دن

آج کا دن

مسولینی کی موت 28 اپریل 1945 کو بینیٹو مسولینی کو اطالوی مزاحمتی جنگجوؤں نے قتل کر دیا۔ مسولینی اٹلی کا فاشسٹ حکمران تھا جس نے 1922 سے ملک پر آمریت قائم کر رکھی تھی۔ وہ ہٹلر کا قریبی اتحادی تھا اور دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی کے ساتھ شامل رہا۔جنگ کے آخری دنوں میں جب اتحادی افواج تیزی سے آگے بڑھ رہی تھیں تو مسولینی نے سوئٹزرلینڈ فرار ہونے کی کوشش کی تاہم راستے میں اطالوی پارٹیزنز نے اسے گرفتار کر لیا۔ 28 اپریل کو اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ مسولینی کا خاتمہ فاشزم کے خاتمے کی علامت بن گیا۔ورکرز میموریل ڈےہر سال 28 اپریل کو دنیا بھر میں ورکرز میموریل ڈے منایا جاتا ہے، جسے عالمی یومِ تحفظ محنت بھی کہا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ان مزدوروں کو یاد کرنا ہے جو کام کے دوران حادثات یا بیماریوں کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔یہ دن پہلی بار کینیڈا اور امریکہ میں منایا گیا اور بعد میں انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن سمیت دیگر عالمی اداروں نے بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کیا۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی اور معیشت کے پیچھے محنت کش طبقے کی قربانیاں شامل ہوتی ہیں، اور ان کی حفاظت ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔چرنوبل حادثے کا انکشاف چرنوبل کا حادثہ 26 اپریل 1986ء کو پیش آیا لیکن 28 اپریل کو دنیا کو اس کی شدت کا علم ہوا۔ اس دن سویڈن کے ایک نیوکلیئر پلانٹ میں غیر معمولی تابکاری ریکارڈ کی گئی، تحقیقات سے پتا چلا کہ یہ اخراج سوویت یونین کے شہر چرنوبل سے آ رہا ہے۔بین الاقوامی دباؤ کے بعد سوویت حکومت نے بالآخر اس حادثے کو تسلیم کیا۔ یہ تاریخ کا بدترین ایٹمی حادثہ تھا جس میں ری ایکٹر نمبر 4 دھماکے سے تباہ ہو گیا اور بڑی مقدار میں تابکار مادہ فضا میں پھیل گیا۔اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے، کئی ہلاک ہوئے اور لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ ایئر بس اے 300 کی پرواز 28 اپریل 1974 کوائیر بس اے 300 نے اپنی پہلی باقاعدہ کمرشل پرواز مکمل کی۔ یہ طیارہ یورپی کمپنی Airbus نے تیار کیا تھا اور یہ دنیا کا پہلا دو انجن والا وائیڈ باڈی طیارہ تھا۔اس طیارے کی پہلی پرواز ایئرفرانس نے چلائی۔ اس کامیابی نے عالمی ہوا بازی کی صنعت میں ایک نئی راہ کھولی کیونکہ اس سے پہلے بڑے طیارے زیادہ تر چار انجن والے ہوتے تھے۔A300کی کامیابی کے بعد Airbus نے مزید جدید طیارے تیار کیے جنہوں نے ہوائی سفر کو زیادہ محفوظ، سستا اور مؤثر بنایا۔ میری لینڈ یونیورسٹی کا قیام 28 اپریل 1856ء کو امریکہ میں میری لینڈ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی۔ ابتدا میں اسے میری لینڈ ایگریکلچر کالج کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔اس ادارے کا مقصد زراعت، سائنس اور عملی تعلیم کو فروغ دینا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک بڑی تحقیقی یونیورسٹی میں تبدیل ہو گئی جہاں مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔آج یہ یونیورسٹی امریکہ کے نمایاں تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے اور ہزاروں طلبہ یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس کا کردار سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی، اور سماجی علوم میں نہایت اہم رہا ہے۔