فوڈ سکیورٹی ! دنیا میں 8کروڑ افراد بھوک کا شکار

فوڈ سکیورٹی ! دنیا میں 8کروڑ افراد بھوک کا شکار

اسپیشل فیچر

تحریر : عادل آفتاب


برق رفتار سے ترقی کرتی دنیا میں جہاں مصنوعی ذہانت انڈسٹریل استعمال سے ہوتی ہوئی آہستہ آہستہ انسانی معاشرے پر اثرانداز ہونے لگی ہے ،وہیں ایک ایسا مسئلہ بھی ہے جس نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ وہ مسئلہ خوراک کی موجودگی اور فراہمی ہے۔ جدید الفاظ میں اسے '' فوڈ سکیورٹی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈیم، عمارتیں،جہاز اورسوفٹ وئیر تو بنائے جا سکتے ہیں لیکن مصنوعی ذہانت خوراک پیدا کرنے یا اسے مساوی انداز میں تقسیم کرنے سے فی الحال قاصر نظر آتی ہے۔ دنیا''فوڈ سکیورٹی‘‘ کے لفظ سے اس وقت متعارف ہوئی جب ماہرین نے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو دنیا کے لئے ایک ''ٹائم بم‘‘ قرار دیا کیونکہ آبادی میں اضافہ سب سے پہلے خوراک اور اس کی فراہمی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جتنے زیادہ لوگ موجود ہوں گے اتنی زیادہ خوراک کی ضرورت محسوس ہوگی۔
1950ء میںپاکستان کی آبادی پونے چار کروڑ تھی لیکن آج یہی آبادی 22کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور ایک اندازے کے مطابق2050ء تک پاکستان کی آبادی تقریباً34کروڑ تک پہنچ جائے گی۔بڑھتی ہوئی آبادی سے نہ صرف پاکستان جیسا زرعی ملک مشکلات کا شکار ہو رہا ہے بلکہ اس مسئلے نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
1950ء میں دنیا کی آبادی 2ارب کے قریب تھی جو بڑھتی ہوئی تقریباً8ارب ہو چکی ہے جبکہ2050ء تک یہ آبادی12ارب تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
ماہرین کے مطابق12ارب آبادی کیلئے ہمارا یہ سیارہ بہت چھوٹا ہے، اس پر کاشت کی جانے والی اجناس کو 12 ارب افراد میں تقسیم کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔ خوراک کی عدم موجودگی عالمی جنگ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اگر ایسی صورتحال رہی تو ''فوڈ سکیورٹی‘‘ نیشنل سکیورٹی کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت دنیا میں 8 کروڑ سے زائد افراد بھوک کا شکار ہیں۔ 2005ء کے بعد اس تعداد میں کمی واقع ہوئی تھی لیکن کورونا اور اس کے '' آفٹر شاکس‘‘ کی وجہ سے بھوک کے شکار افراد کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
''ہنگر انڈکس‘‘ (Hunger Index) پر نظر ڈالی جائے تو بدقسمتی سے پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جو شدید بھوک کا شکار ہیں۔ ''ہنگر انڈکس‘‘ کے مطابق پاکستان 121 ممالک میں سے 99نمبر پر ہے ۔ ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو صورتحال مزید بدتر ہو سکتی ہے۔ کرۂ ار ض کا 29فیصد حصہ خشکی جبکہ 71 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ خشک حصے کا صرف 71فیصد قابل کاشت ہے جبکہ دیگر 10 فیصد حصے پر گلیشیئرز موجود ہیں اور19فیصد حصہ ناقابل کاشت یعنی بنجر ہے۔اعدادو شمار کے مطابق خشکی کا جو 71 فیصد حصہ قابل کاشت ہے اس میں سے 50فیصد پر کاشت کی جارہی ہے،37 فیصد پر جنگلات موجود ہیں جبکہ13فیصد پر شہر آباد کئے جاچکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس 50فیصد حصے پر کاشتکاری کی جارہی ہے اس میں سے انسانوں کیلئے صرف 33فیصد جبکہ جانوروں کی خوراک اور چراہ گاہوں کے لئے67 فیصد رقبہ استعمال کیا جارہا ہے۔ ایمیزون جنگلات کو کاٹ کر بھی وہاں سویابین کی کاشت کی جارہی ہے جو 90فیصد تک جانوروں کی خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس وقت دنیا اگر ''فوڈ سکیورٹی‘‘ یا بھوک کا شکار ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ وسائل کا بے دریغ استعمال ہے۔ نسل انسانی نے قدرتی وسائل کو اس بے دردی سے استعمال کیا ہے کہ یہ اپنے قدرتی سائیکل سے باہر نکل چکے ہیں۔پانی کو زندگی کی علامت اور سب سے قیمتی وسائل میں سے ایک سمجھا جاتا ہے لیکن پانی کے بے جا استعمال نے بھی فوڈسکیورٹی جیسے مسائل پیدا کر دئیے ہیں۔
کرۂ ارض پر اس وقت جتنا بھی پانی موجود ہے اس کا صرف 2.5 فیصد حصہ میٹھے پانی پر مشتمل ہے۔اگر اس 2.5فیصد میں سے گلیشیئرز کو نکال دیا جائے تو پانی کا صرف ایک فیصد حصہ ایسا ہے جسے پینے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس ایک فیصد میں سے زیر زمین پانی کو بھی نکال دیا جائے تو صرف 0.7 فیصد حصہ پینے کے قابل بچتا ہے جو پہاڑوں سے ہوتا ہوا دریاؤں اور نہروں میں گرتا ہے۔ نہروں اور دریاؤں میںموجود پانی کے 0.7 فیصد حصے میں سے70فیصد پانی زراعت میں استعمال کیا جاتا ہے۔یعنی پوری دنیا میں موجود پانی کے0.7فیصد حصے کا صرف30فیصد 8ارب آبادی کے پینے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق ایسے طریقوں کی ایجاد ناگزیر ہے جن میں وسائل اور زمین کا کم سے کم استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکے۔
اس سلسلے میں ایلون مسک کے بھائی کمبل مسک(Kimbal Musk) نے ایک سٹارٹ اپ کا آغاز کیا ہے جسے ''Squareroot‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ میں 40فٹ کے کنٹینر میں مختلف اقسام کے پودے کاشت کئے جارہے ہیں اور صرف8گیلن پانی کا استعمال کرتے ہوئے ایک کنٹینر میں ایک سے دو ایکٹر تک کی پیداوار حاصل کی جارہی ہے۔کنٹینرز میں مختلف اقسام کے سینسرز بھی نصب کئے گئے ہیں جن کی مدد سے پودوں میں ہونے والی حرکات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور ایسے طریقوں پر تحقیق کی جاتی ہے جن سے بہترین اور ذائقہ دار اجناس حاصل کی جاسکیں۔ماہرین کے مطابق اس طرح کے جدید طریقوں اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے کم سے کم زمین کو استعمال کرتے ہوئے خوراک کی پیداوار کو بڑھایا جا سکتا ہے اور انسانیت کو اس تاریک مستقبل سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے جس کا اندازہ شاید ابھی کسی کوبھی نہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
آلو۔۔ جو دس لاکھ ہلاکتوں کا باعث بنا

آلو۔۔ جو دس لاکھ ہلاکتوں کا باعث بنا

کیا ایسا کبھی سوچا بھی جا سکتا ہے کہ ایک آلو کسی انسان کی ہلاکت کا باعث بنا ہو ؟ بادی النظر میں ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا لیکن تاریخ کے اوراق میںایسا ایک واقعہ درج ہے جس کے مطابق آئر لینڈ میں 1845ء سے 1849ء کے درمیان آلووں کے سبب دس لاکھ سے زائد انسانی ہلاکتوں کا ذکر ملتا ہے ( جبکہ بعض کتابوں میں ان ہلاکتوں کی تعداد بیس لاکھ بتائی جاتی ہے)۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان آلووں کی وجہ سے30 لاکھ سے زائد افراد آئر لینڈ سے مختلف ممالک کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور بھی ہو گئے تھے۔ یہ سن کر قدرتی طور پر ذہن میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ اس سانحہ کا سبب آخر کیا تھا ؟۔جہاں تک وجوہات کا تعلق ہے ، مورخین کے بقول ''ہر سانحہ کے پیچھے اس کی ایک تاریخ ہوا کرتی ہے‘‘۔ چنانچہ اس سانحہ کی تہہ تک پہنچنے کیلئے ہم بھی ''آلو کی تاریخ‘‘ کا بنظر غائر جائزہ لیتے ہیں۔آلو۔۔تاریخ کے آئینے میںایک امریکی مصنفہ ربیکا ارل اپنی ایک تصنیف ''فیڈنگ دا پیپل ‘‘ کے ایک باب '' دا پالیٹکس آف دا پوٹیٹو ( لوگوں کی خوراک:آلو کی سیاست ) میں کہتی ہیں '' اس سادہ سی شے یعنی آلو کا اصل وطن جنوبی امریکہ کا خطہ انڈیز ہے جبکہ اس کی دریافت کا سہرا ہسپانوی فاتحین کے سر ہے جنہوں نے 15 ویں صدی کے آخر میں ماونٹ انڈیز میں آلو دریافت کیا تھا۔ بنیادی طور پر یہ آج سے لگ بھگ آٹھ ہزار سال پہلے انڈیز میں لیک ٹیٹی کاکا کے مقام پر گھریلو استعمال میں آچکا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت آلو صرف ایک جنگلی فصل ہوا کرتی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انڈیز میں آلو کیلئے انتہائی موزوں اور موافق جینیاتی تنوع پایا جاتا تھا۔وقت کے ساتھ ساتھ یورپ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک آلو کو اپنی غذا کا اہم حصہ بنانے کیلئے بے قرار تو تھے لیکن مشکل یہ تھی کہ سپین اور یورپ کے دیگر حصوں میں دن کی طوالت یعنی بارہ گھنٹے مسلسل دھوپ نے آلو کی کاشت کا ان علاقوں میں ساتھ نہ دیا۔ مختلف تجربات کے بعد جب انہوں نے خزاں میں یعنی موسم سرما کے آغاز سے قبل اسے کاشت کیا تو یہ خوب پھلا پھولا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شروع شروع میں یورپ میں آلو کو ایک جنگلی فصل کا طعنہ دے کر کبھی زہریلا اور کبھی اسے مرگی کا ذمہ دار ٹھہرا کر نظر انداز کیا جاتا رہا، لیکن رفتہ رفتہ دنیا کے دیگر خطوں کی مانند یہ یورپ میں بھی مقبول ہوتا چلا گیا۔سپین کے دیکھا دیکھی 1580ء میں آئر لینڈ نے بھی اس فصل کو خزاں کے ٹھنڈے موسم یعنی کہر کے موسم سے پہلے پہلے کاشت کرنا شروع کیا تو یہاں بھی اس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے۔ جبکہ آئر لینڈ سے 1600ء میں آلو برطانیہ اور پھر شمالی یورپ جا پہنچا۔ سترہویں صدی کے آغاز میں یورپ سے آلو برصغیر پہنچا ، اس کے کچھ ہی عرصہ بعد بھارت سے چین پہنچا۔ 1650ء میں یہ جرمنی ، یروشیا اور پھر 1740ء میں پولینڈ میں بھی کاشت ہونا شروع ہوا۔ اس کے ایک صدی بعد یعنی لگ بھگ 1840ء میں آلو روس میں بھی پنجے گاڑھنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہاں اکثر ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ ایک سادہ سا اناج آلو جو انڈیز سے اپنی شروعات کرتا ہے ،محض چند صدیوں میں پوری دنیا کی مقبول ترین غذا کیسے بنا ؟ آلو کی مقبولیت کا سبب کیا تھا ؟آلو شاید ان چند فصلوں میں شامل ہے جو دنیا کے سب سے زیادہ ملکوں کی مقبول ترین غذا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انڈیز کی اس فصل نے محض چند صدیوں میں دنیا کے کونے کونے میں اپنی جگہ بنا لی۔ بادی النظر میں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس کی مقبولیت کی وجہ اس کی بے پناہ غذائیت ہے ، دیگر زرعی اجناس کے مقابلے میں اس کی اوسط پیداوار بہتر ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کر زیر زمین اگنے کی صلاحیت اسے دوسری اجناس سے اس لئے ممتاز کرتی تھی کہ گئے دنوں کی جنگوں میں یہ لگان وصول کرنے والوں کی نظروں سے اوجھل رہتی تھی۔اس کے علاوہ آلو کسانوں کیلئے ایک قیمتی فصل کا درجہ اختیار کر گئی کیونکہ باقی فصلوں کے مقابلے میں اس کی فی ایکڑ پیداواری آمدن کئی گنا زیادہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے کاشت کرنا اور ذخیرہ کرنا بھی نسبتاً آسان تھا۔ آلو بارے ماہرین غذائیت اور معالجین کہتے ہیں ''آلو میں وٹامن اے اور وٹامن ڈی سمیت تمام غذائی اجزاء بدرجۂ اتم پائے جاتے ہیں اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ زندگی کیلئے ضروری غذائی عوامل کی وجہ سے کوئی دوسری غذا اس جنس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ہے‘‘۔معروف عالمی جریدہ ''کوارٹرلی جرنل آف اکنامکس‘‘ ، اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں آلو کے خواص پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتا ہے ''آلو کھانے والوں کے قد میں ڈیڑھ انچ تک کا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ایک معاشی مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 1700 کے بعد پیدا ہونے والے فرانسیسی فوجی جو آلو کھاتے تھے وہ دوسروں کے مقابلے میں دراز قد کے مالک تھے‘‘۔بعض محققین کے مطابق1700ء اور 1900ء کے درمیان دنیا کی آبادی میں ایک چوتھائی اضافہ آلو کی وجہ سے ہوا تھا۔محققہ ارل کہتی ہیں ، انڈیز میں اس کے جنم کے باوجود یہ ایک زبردست کامیاب عالمی غذا ہے۔ اب یہ دنیا کے ہر خطے میں پیدا ہوتا ہے اور دنیا کے ہر حصے کے لوگ اسے اپنی خوراک سمجھتے ہیں۔ایک جگہ ارل اس کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہتی ہیں ، آلو ، گندم، چاول اور مکئی کے بعد دنیا کا چوتھا بڑا اناج ہے ، جبکہ غیر اناج میں یہ دنیا کی سب سے بڑی فصل ہے۔ آلو پر مکمل انحصار آئر لینڈ کو لے ڈوبا 16 ویں صدی سے ہی آئر لینڈ وہ واحد ملک تھا جس نے زرعی اجناس کی دنیا میں آلو کی کاشت پر اپنا انحصار حد سے زیادہ بڑھا لیا تھا ۔ اس کی ایک تو سب سے بڑی وجہ آلو کو زیادہ سازگار موسم کا میسر آنا تھا جبکہ اس کے علاوہ یہ مقامی طور پر ایک مقبول ترین غذا بھی بن چکا تھا۔ جس کی وجہ سے آئر لینڈ نے رفتہ رفتہ باقی اجناس پر انحصار ا تنہائی کم کردیا تھا۔ آلو پر آئرلینڈ کا انحصار اس وقت تک جاری رہا جب تک آئرلینڈ میں 1845ء اور1849ء کے درمیان شمالی امریکہ سے آئے ایک وائرس نے آئر لینڈ کی آلو کی فصل کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔چند عشروں پر محیط فاقہ کشی نے جہاں دس لاکھ سے زیادہ جانیں لے لیں اور تیس لاکھ افراد کو دوسرے ممالک میں ہجرت پر مجبور کر دیا وہیں آئر لینڈ کی سماجی اور معاشی زندگی پرانمٹ نقوش بھی چھوڑے۔ بعض ماہرین کے بقول آلو جو آئرلینڈ کے لوگوں کی زندگیوں کا ضامن تھا اب وہی ان کی موت کا سبب بنا‘‘۔اس قحط کے بعد لوگوں میں کم از کم یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ حکومتی غلط منصوبہ بندیوں کی وجہ سے ملک کی 80 فیصد غذائی ضروریات کا انحصار آلو جبکہ صرف 20 فیصد دیگر اجناس پر کیا جاتا تھا، جو بالآخر آئرلینڈ کی تباہی کا سبب بنا ‘‘۔آئرر لینڈ کی آبادی میں آلو کی بدولت سو سال میں 60 لاکھ نفوس کا اضافہ ہوا تھا جبکہ آلو کی فصل تباہ ہونے کی وجہ سے آئر لینڈ کی آبادی میں چھ سال میں 20 لاکھ کی کمی واقع ہوئی تھی۔        

عظیم مسلم سائنسدان ابن عراق

عظیم مسلم سائنسدان ابن عراق

ابن عراق غالباًفارس کے شہر گیلانی کا باشندہ تھا۔ ممکن ہے، اس کا تعلق بنو عراق کے شاہی خاندان سے ہو جو محمود غزنوی کی فتح سے پہلے خوارزم پر حکمران تھا۔ ابو نصر کے نام کے ساتھ ''الامیر‘‘ اور ''مولاامیر المومنین‘‘ جیسے القابات اس کے شاہی خاندان سے تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ ابوالوفا البوزجانی کے شاگرد خاص اور البیرونی کے استاد تھے۔ ابن عراق نے زندگی کا بیشترحصہ بادشاہوں کے درباروں میں گزارا۔ علی بن مامون اور ابو العباس مامون علم پرور حکمران تھے اور وہ مسلمان سائنسدانوں کی حوصلہ افزائی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے تھے۔ جن سائنس دانوں کی انہوں نے سرپرستی کی ان میں ابن عراق کے علاوہ البیرونی اور ابن سینا بھی شامل ہیں۔1016ء کے لگ بھگ ابوالعباس مامون کی وفات ہوئی تو ابن عراق اور البیرونی خوارزم چھوڑ کر غزنی چلے گئے اور سلطان محمود غزنوی کے دربار سے منسلک ہو گئے،جہاں ابن عراق نے اپنی ساری زندگی گزار دی۔ اس کا سنہ وفات حتمی طور پر معلوم نہیں، لیکن اندازاً اس نے 1036ء میں غزنی میں انتقال کیا۔ ابن عراق کو زیادہ شہرت البیرونی کی معاونت کے باعث حاصل ہوئی۔ اگرچہ عام خیال یہ ہے کہ یہ معاونت 1008ء کے قریب اس وقت شروع ہوئی جب البیرونی جرجان(موجودہ قونیہ ارگنج۔ روسی ترکمانستان) کے دربار سے علیحدہ ہو کر خوارزم آیا۔ اس ضمن میں 1008ء سے پہلے کی کوئی تاریخ بھی قرین قیاس ہے اور اس کے واضح ثبوت موجود ہیں، مثلاً البیرونی نے اپنی کتاب ''الآثار الباقیہ‘‘ کی تکمیل 1000ء میں کی، اس میں وہ ابن عراق کو ''استاذی‘‘ (میرے استاد) لکھتا ہے۔ اسی طرح ابن عراق نے سمت الراس کے موضوع پر اپنی کتاب کو 998ء سے قبل لکھا اور اس کو اپنے شاگرد کے نام معنون کیا ہے۔ابن عراق اور البیرونی کی معاونت کے نتیجہ میں بعض کتابوں کے اصل مصنف کی تعیین میں بڑی مشکلات پیش آتی ہیں۔ مثال کے طور پر البیرونی نے بارہ کتابوں کی ایک فہرست دی ہے اور لکھا ہے کہ یہ ''باسمی‘‘ (میرے نام سے) لکھی گئیں۔ یہ ایک ایسا جملہ ہے جس کی روشنی میں علماء نے ان کتابوں کو اس کی اپنی تصنیف قرار دیا ہے۔ لیکن اطالوی مستشرق نلینو کے خیال میں ''باسمی‘‘ کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ کتابیں میرے نام معنون کی گئیں یا ان میں مجھے خطاب کیا گیا۔ ہو سکتا ہے ابن عراق نے یہ کتابیں معنون کی ہوں۔ نلینو کی اس رائے کی تائید میں بعض نظائر پیش کئے جا سکتے ہیں مثلاً ان الفاظ میں اس مفہوم کو قدیم اور جدید دونوں قسم کی کتابوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ قدیم کتب میں اس کی مثال کتاب''مفاتیح العلوم‘‘ (مصنفہ محمد بن احمد الخوارزی، سنہ تالیف977ء) ہے۔ ان سب کتابوں کے اصل مصنفین کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے۔ جہاں تک البیرونی کا ان کتابوں سے تعلق ہے تو ان کے ابتدائیہ اور نفس مضمون دونوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انہیں ابن عراق نے البیرونی کی اس درخواست پر لکھا کہ وہ ان متعین مسائل کا حل بتائیں جو البیرونی کی سائنسی تحقیقات کے دوران پیدا ہوئے۔ خود البیرونی نے اپنی کتابوں میں ابن عراق کا تذکرہ کیا ہے اور یہ بیان کیا ہے کہ بعض ایسی تحقیقات کے نتائج اس نے اپنی کتابوں میں شامل کئے جو اس کے کہنے پر اس شیخ کبیر نے شروع کیں۔ البیرونی نے ان دریافتوں پر ابن عراق کی بڑی تحسین کی ہے۔ دوسرے معاونین کے بارے میں بھی البیرونی کا رویہ یہی ہے اور اس نے ابو سہل المسیحی ، ابو علی الحسن بن الجیلی (جو ایک غیر معروف نام ہے) اور ابن سینا وغیرہ کا نہایت عزت و احترام سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اس کے پیش کردہ فلسفیانہ سوالوں کے جوابات فراہم کئے۔البیرونی اور ابن عراق کی معاونت کا اندازہ اوّل الذکر کے اس کام سے لگایا جا سکتا ہے جو اس نے طریق الشمس کے جھکائو کی مقدار کے تعین کے سلسلہ میں کیا ہے۔ اس نے اپنے مشاہدات خوارزم میں 997ء میں اور غزنی میں 1016ء،1019ء اور 1020ء میں ترتیب دیئے۔ اس السرطان اور راس الجدی پر سورج کے پہنچنے کے دن نصف النہار کے وقت سورج کا ارتفاع دریافت کرنے کا قدیم طریقہ استعمال کرتے ہوئے البیرونی نے جھکائو کے زاویے کی مقدار 23درجے 35منٹ نکالی۔ اس کے علاوہ البیرونی کے علم میں محمد بن الصباح کے تجربات آئے جن میں اس نے سورج کے مقام، حیطہ شرقیہ اور نصف النہار سے بعد اقل دریافت کرنے کا طریقہ بیان کیا تھا۔ البیرونی کو اس کے تجربات کی جو نقل وصول ہوئی وہ غلاط سے پر تھی۔ اس نے یہ نقل ابن عراق کو دکھائی اور اس سے درخواست کی کہ اس کی اغلاط کو درست بھی کرے اور ابن الصباح کے طریق کار کا تنقیدی جائزہ بھی لے۔ابن عراق نے ''رسالتہ فی البراہین علیٰ عمل محمد بن الصباح‘‘ لکھا جس میں اس نے ابن الصباح کے طریقہ کا تفصیلی ذکر کیا اور یہ ثابت کیا کہ اس میں ایک حد تک غلطی در آنے کا امکان ہے کیونکہ اس میں طریق الشمس پر سورج کی حرکت کی یکسانی کے نظریہ پر اعتماد کیا گیا ہے۔ ابن الصباح کے نقطہ نظر کے مطابق سال کے ایک موسم کے دوران میں تیس تیس دن کے وقفہ سے سورج کے حیطہ شرقیہ کے تین مشاہدات کی مدد سے انقلابِ شمس کے وقت حیطہ دریافت کیا جا سکتا ہے۔ البیرونی نے ابن عراق کی ابن الصباح کے کام کے بارے میں ان توضیحات کو اپنی کتابوں ''القانون المسعودی‘‘ اور ''تحدید اللساکن‘‘ میں بیان کیا ہے۔ لیکن اس کی اصل دلچسپی سورج کے جھکائو کا زاویہ معلوم کرنے تک رہی اور اس مقصد کیلئے اس نے ابن الصباح کے طریقہ کار کو آسان بنایا۔ چنانچہ اس نے انہی دو فارمولوں کے اندر حیطہ شرقیہ کی تین اور دو قیمتیں لگانے کی جگہ بالترتیب تین یا دو قیمتیں بعد اقل کی لگائیں۔ اس کے بعد البیرونی نے ابن عراق کی تحقیق کی طرف رجوع کیا اور فرق کی وضاحت یوں کی کہ ابن الصباح نے طریق الشمس پر سورج کی حرکت کی یکسانی کے مفروضہ پر عمل کیا۔ نیز اس نے مسلسل Sineاور جذر کا استعمال کیا۔تکونیات کیلئے ابن عراق کی خدمات بالکل راست ہیں۔ طوسی نے قانون حبیب زاویہ کی دریافت تین اشخاص سے منسوب کی ہے۔ یہ تین شخص ابن عراق، ابو الوفاء اور ابو محمود الخجندی ہیں۔یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکا کہ ان تینوں ریاضی دانوں میں سے کون تھا جس نے سب سے پہلے یہ قانون دریافت کیا۔ لو کے نے الخجندی کے خلاف قابل یقین دلیل یہ دی ہے کہ اصلاً وہ ایک عملی ہیئت دان تھا جسے نظری مسائل سے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ ابن عراق اور ابوالوفاء دونوں اس قانون کی دریافت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اگرچہ اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ ان دونوں میں سے کون اس دعویٰ میں حق بجانب ہے۔ تاہم دو باتیں ابن عراق کے حق میں جاتی ہیں۔ اولاً یہ کہ اس نے اس قانون کو ہندسہ اور ہیئت کی بابت اپنی تحریروں میں متعدد بار استعمال کیا ہے۔ یہ قانون اس کی اپنی دریافت ہو یا نہ ہو، لیکن اس نے اس کے استعمال میں بڑی جدت دکھائی ہے۔ ثانیاً ابن عراق نے اس قانون کا اثبات اپنی دو اہم ترین تصانیف ''المجطی الشاہی‘‘ اور ''کتاب فی السموت‘‘ اور دو کم اہم تصانیف ''رسالتہ فی معرفتہ القسی الفلکیتہ‘‘ اور ''رسالتہ فی الجواب عن مسائل ہندسیتہ مسئلہ عنہا‘‘ میں بھی کیا ہے۔

دہلی کے تاریخی مقامات

دہلی کے تاریخی مقامات

ہندوستان کی راجدھانی دہلی میں کئی ایسے مقامات ہیں جن کی تاریخی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔یہ مقامات آج بھی زائرین کو حیران کردیتے ہیں۔ پڑھئے دہلی کے چند تاریخی مقامات کے بارے میں۔ جامع مسجد ہندوستان کی بڑی مسجدوں میں جامع مسجد کا بھی شمار ہوتا ہے۔ اسے مغل شہنشاہ شاہجہاں نے 1644ء سے 1656ء کے درمیان تعمیر کروایا تھا۔ شاہجہاں کے دور حکومت میں کئی شاندار عمارتیں تعمیر کی گئی تھیں۔ اسے سفید سنگ مرمر اور لال پتھروں سے تعمیر کیا گیاتھا۔ مسجد کی تعمیر میں 5 ہزار سے زیادہ مزدوروں نے حصہ لیا تھا۔ اس مسجد کی تعمیر پر اس وقت دس لاکھ روپے لاگت آئی تھی۔ جامع مسجد کا افتتاح بخارا (ازبکستان) کے ایک امام نے کیا تھا۔ مسجد میں بیک وقت25 ہزار مصلیان نماز ادا کر سکتے ہیں۔لال قلعہلال قلعہ کی تعمیر10 سال کے عرصہ میں مکمل ہوئی تھی۔ یہ اس وقت تعمیر کیا گیا تھا جب شاہجہاں نے ہندوستان کا دارالحکومت آگرہ سے دہلی منتقل کیا تھا۔ اسے اس وقت قلعہ مبارک کہا جاتا تھا۔ دراصل اسے لال اور سفید پتھروں سے بنایا گیا تھا۔ تاہم، بعد میں جب پتھروں کا چونا اترنے لگا تو برطانوی حکمرانوں نے اس پر لال رنگ لگا دیا۔قطب مینارہندوستان کے مشہور تاریخی مقامات میں سے ایک قطب مینار ہے جو 73 میٹر بلند ہے۔ مینار میں 379 سیڑھیاں ہیں۔ آپ جیسے جیسے نیچے سے اوپر کی جانب جائیں گے مینار کا قطر کم ہوتا جائے گا۔ دہلی سلطنت کے بانی قطب الدین ایبک نے اس کی تعمیر 1192ء میں شروع کی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے داماد التمش ایبک نے اسے مکمل کروایا۔ قطب مینار کے نیچے قوت الاسلام مسجد بھی واقع ہے۔انڈیا گیٹ دہلی میں دیکھنے کیلئے سب سے مشہور جگہ ہے۔ یہ تاریخی دروازہ راج پتھ پر واقع ہے۔ اس کے آس پاس بہت سے شاندار مقامات ہیں جیسے راشٹرپتی بھون اور وار میموریل۔ انڈیا گیٹ پر صبح سے شام تک لوگوں کا ہجوم دیکھا جاتا ہے۔ زیادہ تر لوگ ویک اینڈ پر یہاں آتے ہیں۔ تہواروں کے دوران بھی انڈیا گیٹ پر بہت سارے سیاح آتے ہیں۔ اگرسین کی باولی ایک محفوظ آثار قدیمہ کی جگہ ہے، جو نئی دہلی میں کناٹ پیلس (سی پی)کے قریب واقع ہے۔ یہ جگہ ایک ڈرائونی جگہ کے طور پر مشہور ہے۔ اس اسٹیپ ویل میں تقریباً105 سیڑھیاں ہیں۔ یہ جگہ دیکھنے میں بہت ہی حیرت انگیز ہے اور یہاں آپ کو دہلی کی ہلچل سے دور سکون دیکھنے کو ملے گا۔ یہاں جانے کیلئے ٹکٹ کی ضرورت نہیں ہے۔    

نمک:بہترین دوا

نمک:بہترین دوا

اللہ عزوجل نے نمک جیسی سستی اور با افراط چیز میں شفا کوٹ کوٹ کربخشی ہے۔ جتنی علم طب میں انسان نے ترقی کی ہے اسی قدر بیکٹیریا، فنگس اور وائرس نے بھی گٹھ جوڑ کر کے انسان پر حملہ آور ہونے کی ٹھان لی ہے۔الحمد للہ ! جو بیماری دیتا ہے وہی شفا بھی بخشتا ہے، لیکن اس ترقی یافتہ دور میں انسان کا دماغ یہ بات بھول چکا ہے کہ ایک سستی چیز سے بھی اس کو اسی طرح شفا نصیب ہو سکتی ہے جس طرح مہنگی دوائیوں کے استعمال سے ہوتی ہے۔ وہ نمک جیسی سستی چیز کو بطور شفا قبول نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں مریضوں کو نمک سے علاج کیلئے پہلے آدھا گھنٹہ تو قائل کرنا پڑتا ہے لیکن وہ اسی انتظار میں رہتا ہے کہ کب اسے مہنگی دوائیوں اورٹیکوں کی پرچی ملتی ہے لہٰذا ہم انہیں اس طرح سمجھاتے ہیں کہ پہلے دس دن آپ نمک سے علاج کرلیں اس کے بعد ہم آپ کو اینٹی بائیو ٹکس اور مہنگی انگریزی دوائی لکھ دیں گے۔ تب جاکر وہ نمک سے علاج کیلئے آمادہ ہوتے ہیں اور دس، پندرہ دنوں بعد مکمل شفا یاب ہو کر آتے ہیں ۔نمک (سوڈیم کلورائیڈ):نمک ایک بہترین اینٹی بائیوٹکس، اینٹی فنگل اور اینٹی وائرل ہے۔ یہ عملاً جراثیموں سے لڑ کر ان کو مارتا نہیں ہے بلکہ اس کا ٹانک یا محلول بنا کر زخم پر ڈالا جائے تو یہ جراثیم، پیپ اور دوسرے زہریلے مرکبات کو چوس کر جسم سے باہر کھینچ نکالتا ہے، نتیجتاً زخم سے پیپ، سوجن اور درد غائب ہو جاتا ہے اور وہ بہتری کے مراحل کیلئے تیار ہو جاتا ہے اور چند ہی روز میں زخم خشک ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی اینٹی بائیوٹکس، اینٹی فنگل اور اینٹی وائرل کریم کی افادیت بڑھانے کیلئے نمک کو اس کے ساتھ ملاکر زخم پر لگایا جا سکتا ہے۔نمک سے جن امراض کا ہم نے ذاتی طور پر علاج کیا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔دْکھتی آنکھیں:ایک صاف رومال پانی میں بھگو کر نچوڑ لیں، اس کو صاف جگہ پھیلا کر دو تین چمچ نمک اس پر پھیلا دیں اب رومال کو اس طرح لپیٹیں کہ نمک سب سے اندر والی تہہ میں رہے۔ اس رومال کو دکھتی ہوئی آنکھوں پر رکھ کر سو جائیں اٹھنے کے بعد آنکھوں میں کافی آرام محسوس ہو گا۔ناک کا بند ہونا:روزانہ کئی مرتبہ ناک میں نمک ملے صاف پانی کے چند قطرے اس طرح ڈالیں کہ ان کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو۔گلا خراب ہونا:نمک کے غرارے کیجئے یا چٹکی بھر نمک آدھی پیالی پانی میں ، نیم گرم دودھ یا چائے میں حل کر کے دن میں دو تین مرتبہ پیئیں۔چہرے کے دانے:ایک صاف شیشے کی بوتل میں تقریباً 6چمچ نمک پانی میں حل کر کے رکھ لیں۔ ہر وضو سے پہلے چہرہ نمک ملے پانی سے دھوئیں۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں جب تک چہرہ بالکل صاف نہ ہوجائے۔پانی میں نمک کی مقدار بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔ جلد کا جل جانا:یہ واقعات تو آئے دن گھروں میں رونما ہوتے رہتے ہیں لہٰذا جلد کسی بھی وجہ سے جل جائے اور ابھی چھالا یانشان نہیں بنا یعنی جلنے کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو ٹھنڈے ٹوتھ پیسٹ میں سوکھا نمک ملا کر جلی ہوئی جلد پر لگا دیں، تقریباً 12گھنٹے لگا رہنے دیں۔ اس کے بعد دھو لیں، اگر زخم باقی ہے تو بار بار نمک کے پانی سے دھوتے رہیں یہاں تک کہ زخم بالکل سوکھ جائے اور جلد نارمل ہو جائے۔پیپ والے دانے اور زخم:پیپ کا دانہ جب تک پھٹتا نہیں ہے، اس پر نمک کا لیپ کر لیں۔ ٹوتھ پیسٹ میں جتنا نمک حل ہو سکے ملالیں۔ پھر اس مکسچر کو دانے کے اوپر اچھی طرح مل لیں۔ تھوڑی دیر میں یہ سوکھ جائے گا۔ یہ اس وقت تک لگا رہے جب تک دانہ پھٹ نہیں جاتا۔ جب یہ پیسٹ بالکل سوکھ جائے تو چند قطرے پانی کے اس کے اوپرڈالیں تاکہ نمک اپنا کام جاری رکھ سکے اور مرض ٹھیک ہو جائے۔٭...٭...٭ 

بہانہ بازی ناکام لوگوں کی نشانی

بہانہ بازی ناکام لوگوں کی نشانی

عام لوگ بھی آپ کی طرح کامیابی کیلئے سوچتے ہیں۔ آپ اشخاص کا مطالعہ بہت ہی احتیاط سے کریں گے تو آپ اپنی دریافت کے حوالے سے کامیابی دینے والے اصول کو اپنی زندگی پر لاگو کریں، تو پھر آپ ٹھیک راستے پر آ جائیں گے۔آپ لوگوں کا مشاہدہ بہت گہرائی سے کریںتو آپ پر انکشاف ہو گا کہ ناکام لوگ بے حسی کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ہم اس بیماری کو محرومی کا نام دیتے ہیں۔ ہر ناکام شخص میں یہ بیماری بہت شدت کے ساتھ ہوتی ہے۔ زیادہ تر متوسط درجے کے لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ کامیاب لوگ علیحدہ ہیں اور ناکام لوگ بہانہ ساز ہیں۔وہ شخص جو کہ زندگی کے بارے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں رکھتا، وہ بہت زیادہ بہانہ ساز ہوتا ہے۔ معمولی حیثیت کے لوگ تو فوراً تشریح کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ تو ایسا کر ہی نہیں سکتے، کیونکہ... وغیرہ وغیرہ۔جب آپ کامیاب لوگوں کی زندگی کا مشاہدہ کرتے ہیں تو آپ پر واضح ہو جاتا ہے کہ تمام بہانہ بازی معمولی حیثیت کے لوگ ہی کرتے ہیں۔ وہ کامیاب ترین لوگ بن سکتے ہیں لیکن وہ کامیابی حاصل کرناہی نہیں چاہتے۔کامیاب ترین انسان جن میں بزنس مین، فوجی افسران، سیلزمین اور پیشہ ور افراد کے علاوہ قائدین بھی شامل ہیں، حالانکہ ان کی زندگی میں ایک یا دو معذوریاں ضرور ہوتی ہیں لیکن ان معذوریوں کا اظہار وہ کبھی نہیں کرتے۔روز ویلٹ ٹانگوں سے معذور تھا، ٹرومین نے کالج میں کوئی تعلیم حاصل نہ کی تھی۔ کینیڈی جب صدر بنا تو بہت کم عمر تھا۔ جانسن اور آئیزن ہاور کو دل کا عارضہ لاحق تھا۔محرومی کا اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ دوسری کسی بھی بیماری سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔وہ کہے گا میں مکمل تندرست نہیں ہوں جتنا کہ مجھے ہونا چاہیے، اپنے آپ کو مطمئن کرنے کیلئے وہ بہانے تلاش کرے گا۔ دیکھیے میری صحت کتنی خراب ہے؟ میری تعلیم بہت کم ہے؟ میری بدقسمتی؟ میری بیوی؟ بس میرے خاندان نے مجھے اس کام پر لگادیا؟اس بیماری کا شکار ایک خوبصورت عذر تلاش کر لیتا ہے اور پھر اسی کے ساتھ چمٹا رہتا ہے۔ وہ اس عذر کی تشریح بھی کرتا ہے ۔ ناکام شخص ہر کہیں یہی عذر کرتا اور آخر یہ بات ا س کے لاشعور میں بیٹھ جاتی ہے۔ خیالات مثبت ہوں یا منفی جب ان کو باربار دہرایا جاتا ہے تو وہ مزید طاقتور ہوتے جاتے ہیں۔ پہلے پہلے تو محرومی کا شکار شخص اپنے اس عذر کو اپنا جھوٹ ہی جانتا ہے لیکن جب وہ اس کو باربار لوگوں کے سامنے دہراتا ہے تو پھر اس کو یہ مکمل سچ ہی سمجھنے لگتا ہے۔ یہی عذر اس شخص کی ناکامی کا اصل سبب ہوتا ہے۔

ہائوس آف پارلیمنٹ لندن کی خوبصورت ترین عمارت

ہائوس آف پارلیمنٹ لندن کی خوبصورت ترین عمارت

مملکت برطانیہ کے ہائوس آف پارلیمنٹ کی خوبصورت عمارت دریائے ٹیمز کے کنارے واقع ہے۔ اس عمارت کو لندن کی خوبصورت ترین عمارت کہا جائے تو ذرا بھر بھی مبالغہ نہ ہو گا۔ ہائوس آف پارلیمنٹ کو ''ویسٹ منسٹر پیلس‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ گیارہویں صدی سے ہی اس عمارت کو انگلستان کے بادشاہوں کی مرکزی رہائش گاہ کی حیثیت حاصل تھی۔ اسی عمارت میں پارلیمنٹ کے اجلاس اور شاہی عدالتیں لگا کرتی تھیں۔ انگلستان کی پہلی پارلیمنٹ کا اجلاس 1295ء میں اسی عمارت میں ہوا۔ اسی عمارت میں پہلی دفعہ16اکتوبر 1834ء اور پھر دوسری بار 1916ء میں آگ بھڑک اٹھی۔ جس سے اس عمارت کی خوبصورتی کو بری طرح نقصان پہنچا۔ بعد میں مرمت کرکے اس کی تزئین و آرائش بحال کر دی گئی۔ جنگ عظیم دوئم کے دوران اسی پارلیمنٹ ہائوس پر دشمن کی ہوائی فوجوں نے چودہ مرتبہ بمباری کی۔ اس شدید بمباری سے دارالعوام چیمبر مکمل طور پر تباہ ہو گیا جسے 1950ء میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ٹیمز کے کنارے کھڑی اس خوبصورت عمارت نے حقیقت میں ٹیمز کے حسن کو بھی نکھار دیا ہے۔ دریائے ٹیمز کو بھی پارلیمنٹ ہائوس کی ہمسائیگی پر ناز ہے۔ پارلیمنٹ ہائوس ہی ملکی سیاست کا محور ہے۔ اسی عمارت سے سیاسی ٹمپریچر کا پتہ چلتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ ملک کی معاشی اور سیاسی سرگرمیوں کا ریموٹ کنٹرول ہے۔پارلیمنٹ کے اندرونی ہال کے دائیں جانب ''ہائوس آف لارڈز‘‘ یعنی ایوان بالا اور بائیں جانب ''ہائوس آف کامنز‘‘یعنی دارالعوام ہے۔ ''ہائوس آف لارڈ‘‘ کا تمام فرنیچر سرخ رنگ جبکہ ''ہائوس آف کامنز‘‘ کا سبز رنگ کا ہے۔ ہائوس آف کامنز کے ہال کا مرکزی دروازہ جہاں سے تمام ارکان پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت کیلئے اندر داخل ہوتے ہیں، لکڑی کا بنا ہوا ہے جس پر نہایت خوبصورت کندہ کاری کی ہوئی ہے۔ یہ دروازہ حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت کو تحفتاً دیا تھا۔ اس کے علاوہ دولت مشترکہ کے دوسرے ممالک یعنی آسٹریلیا نے سپیکر کی کرسی اور کینیڈا نے ایوان کی بڑی میز تحفہ کے طور پر دیں۔موجودہ عمارت جس کی تعمیر 1840ء میں دوبارہ شروع کی گئی،1876ء میں مکمل ہوئی۔ اس عمارت کا ڈیزائن ماہر تعمیرات چارلس بیری نے تیار کیا اور ایک دوسرے ماہر تعمیرات آگسٹس پیوگن نے چارلس بیری کی معاونت کی۔ اس عمارت کا کل رقبہ 1210680مربع فٹ ہے۔ اس عمارت کو یونیسکو نے 1987ء میں عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کیا۔ پیلس آف ویسٹ منسٹر کے تین ٹاور ہیں۔ سب سے بڑا وکٹوریہ ٹاور ہے جو 336فٹ اونچا ہے۔ اس کے 1100 کمرے اور 100زینے ہیں۔ اس کے اندر چلنے والے راستوں کی لمبائی تین میل(4.80کلو میٹر) ہے جو چار منزلوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔گرائونڈ فلور پر دفاتر، ڈائننگ ہال اور بار ہے۔ اس کے بعد پہلی منزل پر لابی، بڑے کمرے اور لائبریری موجود ہے اوپر کی دونوں منزلوں پر دفاتر، کانفرنس روم اور کمیٹی روم ہیں۔ ہر پارلیمنٹ بلڈنگ مستطیل شکل کی ہے جو دریائے ٹیمز کے بالکل متوازی ہے۔ اس عمارت کی تعمیر پر 725000پائونڈ خرچ ہوئے۔برطانیہ کی پارلیمنٹ دو ایوانوں پر مشتمل ہے:-1ہائوس آف لارڈز( ایوان بالا)،-2ہائوس آف کامن( ایوان زیریں یادرالعلوم)''ہائوس آف لارڈز‘‘ کے ممبران کی تعداد 784 ہے، جن میں 26سیٹیں چرچ آف انگلینڈ کی صوابدید پر منحصر ہیں، جبکہ ''ہائوس آف کامنز‘‘ کے ممبران کی تعداد 650مقرر ہے۔پارلیمنٹ کے تقدس کے پیش نظر اس میں تمباکو نوشی ممنوع ہے۔ کوئی ممبر انگلش کے علاوہ کسی اور زبان میں تقریر نہیں کر سکتا اور نہ ہی کاغذ پر لکھا ہوا پڑھ سکتا ہے۔ البتہ نوٹس سے استفادہ کرنے کی ممانعت نہیں۔ کوئی ممبر پارلیمنٹ کے اندر کھا پی بھی نہیں سکتا۔ اخبار کا پڑھنا بھی ممنوع ہے۔ کوئی ممبر آف پارلیمنٹ تقریر کے دوران کسی کو نام لے کر نہیں پکار سکتا اور نہ ہی گالی گلوچ کے الفاظ استعمال کر سکتے ہیں۔