عقاب:پرندوں کا بادشاہ

عقاب:پرندوں کا بادشاہ

اسپیشل فیچر

تحریر : اسد بخاری


عقاب پرندوں میں سب سے بڑا شکاری پرندہ سمجھا جاتا ہے۔یہ ان چند پرندوں میں شامل ہے جنہیں قدرت نے ان گنت صفات سے مالا مال کر رکھا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ عقاب کو دنیا بھر میں پرندوں کا بادشاہ اور بادشاہوں کا (پسندیدہ ) کا پرندہ کہا جاتا ہے۔
آئیے!آج آپ کو پرندوں کے اس بادشاہ کے تین دلچسپ پہلوؤں بارے بتاتے ہیں۔
عقاب ایک روحانی پرندہ
''مااوچی کپوتا‘‘ امریکہ کی ریاست کولوراڈو کا ایک قدیم قبیلہ ہے۔جس کے روحانی سربراہ اور رابطہ کار ہینلے فراسٹ ہیں۔یہ قبیلہ ''ریڈ انڈین‘‘قبائل پر مشتمل ہے۔ ہینلے فراسٹ ان بہت سارے قبائلی عمائدین میں سے ایک ہیں جو اپنے قبیلے کی مذہبی رسومات کی ادائیگی میں پیش پیش رہتے ہیں۔''ما اوچی کپوتا‘‘ قبیلے کے لوگ صدیوں سے عقاب کو نہ صرف مقدس جانتے ہیں بلکہ ان کے نزدیک عقاب کی روحانی اہمیت ایک مسلمہ حقیقت کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔اس قبیلے کے ماننے والوں کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ عقاب ایک مقدس پرندہ ہی نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی طاقت کا مالک بھی ہے۔ہمارا پختہ یقین ہے کہ عقاب چونکہ بلندیوں تک پرواز کر سکتا ہے اس لئے ہماری دعائیں جنت تک پہنچانے کی یہ پوری پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ بہت دور تک دیکھنے کی قوت کا حامل پرندہ ہے جبکہ اس کے پر اور پنکھ اس پرندے کو کہیں بھی لے جا سکتے ہیں جہاں یہ جانا چاہے۔
''ما اوچی‘‘ قبیلے کے روحانی سربراہ ہینلے فراسٹ کا کہنا ہے کہ عقاب کے پر (پنکھ ) بابرکت ہوتے ہیں اسی لئے قدرت نے ان کے اندر بیماروں کیلئے شفا رکھی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس کی ہڈیوں سے ایک مخصوص قسم کی سیٹی بنائی جاتی ہے جو مختلف مذہبی رسومات میں استعمال ہوتی ہے۔
عقاب کی اہمیت امریکہ کے کچھ مخصوص قبائل ہی میں نہیں بلکہ عقاب کو امریکہ کے قومی پرندے کا درجہ بھی حاصل ہے۔ امریکہ میں اس پرندے کی بھلا اس سے بڑھ کر اہمیت اور کیا ہوگی کہ یہ امریکہ کی آزادی کی علامت کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ اس کی شبیہ نہ صرف امریکی فوج کے جھنڈوں پر موجود ہے بلکہ امریکی کرنسی ڈالر پر بھی اس پرندے کی تصویر کو نمایاں کیا گیا ہے۔
یہ حقیقت شاید بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگی کہ امریکہ میں لوگوں کیلئے عقاب زندہ یا مردہ حالت میں رکھنا یا اسے تکلیف پہنچانا غیر قانونی عمل گردانا جاتا ہے۔ چنانچہ اس جانور کی بقاء کیلئے امریکہ میں 1940ء سے ''بالڈ اینڈ گولڈن ایگل پروٹیکشن ایکٹ‘‘ کے نفاذکے بعد کسی عقاب کے جسم سے علیحدہ ہو جانے والا پر یا پنکھ کو اٹھانا بھی خلاف قانون ہے (سوائے چند مخصوص مقامات کے جہاں اس قانون میں نرمی ہے)۔

یہاں امریکی حکومت کیلئے اس قانون کے نفاذ پر سختی سے عمل کرانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی تھا کیونکہ بیشتر امریکی ریاستوں میں صدیوں سے آباد مقامی امریکیوں بالخصوص الاسکا کے باسیوں کیلئے عقاب ایک مقدس اور روحانی پرندے کا درجہ رکھتا ہے۔ جبکہ بیشتر قبائل کی مذہبی اور روحانی تقاریب اور رسومات کی ادائیگی عقاب کے پر اور اس کے جسم کے مختلف حصوں کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتی۔ اس مسئلہ کے حل کیلئے امریکی حکومت نے 1970ء میں ''یو ایس فش اینڈ وائلڈ لائف سروس‘‘ کے زیر نگرانی ''نیشنل ایگل ریپوزیٹری‘‘ نامی ایک ادارہ قائم کیا تھا جس کا کام ملک بھر سے روزانہ کی بنیاد پر تیس سے چالیس مردہ عقاب اکٹھے کر کے ضروری چھان بین کے بعد ملک کے 573 وفاقی مراکز میں بالحاظ طلب تقسیم کرنا ہوتا ہے۔ یہاں یہ امر باعث اطمینان ہے کہ 1994ء میں اس ادارے کی فعالیت میں اس وقت اور اضافہ ہو گیا جب اس وقت کے صدر بل کلنٹن نے ایک میمورنڈم کی منظوری دی جس کے تحت تمام مرے ہوئے عقابوں کو مذکورہ مرکز میں پہنچانا قانوناً لازمی قرار دے دیا گیا تھا۔
عقابوں کی منصفانہ تقسیم کیلئے مذکورہ ادارے کی جانب سے مقامی قبائلیوں سے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں جس میں درخواست گزار کا وفاق سے بحیثیت منظور شدہ قبیلے کا رکن ہونا ضروری ہونے کے ساتھ ساتھ 18 سال عمر سے زائد ہونا بنیادی شرط ہے۔ مذکورہ ادارے کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ انہیں اس مقصد کیلئے ہر ماہ پانچ سو کے لگ بھگ درخواستیں وصول ہوتی ہیں۔ جس کا مقصد مقامی امریکی قبائلیوں کی مذہبی رسومات کی تکمیل میں مدد فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ادارے کے رکن نے مزید بتایا کہ ہر رکن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پورا عقاب یا اس کا کوئی مخصوص حصہ کسی بھی مخصوص عمر اور قسم کے ساتھ طلب کر سکتا ہے۔
پاسپورٹ ہولڈر عقاب
عقابوں کی غیر معمولی اہمیت کا ذکر چھڑا ہے تو آپ کے ساتھ عقابوں کی ایک دلچسپ خبر شئیر کرتے چلیں۔آ ج سے لگ بھگ سات سال قبل عقابوں بارے سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ اور عجیب و غریب تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں 80 کے قریب عقابوں کو ایک طیارے کی اکانومی کلاس میں درمیان کی نشستوں پر بیٹھا دکھایا گیاتھا۔جہاز کی کھڑکیوں والی چند سیٹوں پر عربی لباس پہنے چند خدمت گار بھی نظر آرہے تھے۔تصویر بھیجنے والے نے بغیر کسی وضاحت کے صرف اتنا لکھا تھا کہ اسے یہ تصویر ایک ہوائی جہاز کے کیپٹن کے ایک دوست نے بھجوائی ہے۔
جہاں تک جانوروں کے پبلک طیاروں میں سفر کرنے کا معاملہ ہے تو کچھ ہوائی کمپنیاں مسافروں کے ساتھ ساتھ جانوروں خصوصاً پالتو پرندوں کو سفر کرنے کی اجازت دیتی ہیں مگر اس کیلئے خصوصی جنگلے یا پنجرے بنے ہوتے ہیں جو مسافروں سے الگ تھلگ جگہ پر رکھے جاتے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ بعض ہوائی کمپنیاں محدود حد تک مسافروں کے کیبن میں پرندوں کو بٹھانے کی اجازت دیتی ہیں، جن میں قطر ائیر لائنز بھی شامل ہے۔ اسی طرح اتحاد ایئر لائنز عقاب کو ضروری دستا ویزات کے ساتھ مسافر کیبن میں دبئی سے پاکستان تک بیٹھنے کی اجازت دیتی ہے۔ جرمنی کی ایئر لائنز لوفتھینزا اور برطانوی ایئر لائنز برٹش ایئر ویز بھی چند شرائط کے ساتھ عقابوں کو مسافر کیبن میں بیٹھنے کی اجازت دیتی ہیں۔
ہوائی جہازوں میں سفر کرنے والے عقابوں کو بیشتر ممالک خصوصی پاسپورٹ جاری کرتے ہیں۔ خلیجی ممالک کیلئے پاکستان کے میدان بہترین شکار گاہوں کا درجہ رکھتے ہیں اس لئے زیادہ تر پاسپورٹ عقابوں کو ہر سال خلیجی ممالک کی حکومتیں جن میں دبئی سرفہرست ہے، جاری کرتے ہیں۔
ٹریکر لگے عقاب
سائبیریا کسی دور میں عقابوں کا پسندیدہ علاقہ ہوا کرتا تھا لیکن جب روس اور وسطی ایشیائی ممالک میں کچھ وجوہات کی وجہ سے عقاب کی نسل معدومیت کے خطرے سے دو چار ہونے لگی تو روس کے جنگلی حیات کے تحفظ کے ادارے '' وائیلڈ اینیمل ری ہیب سینٹر ‘‘ نے سائبیریا کے '' مِن‘‘نامی ایک عقاب کا تحقیق کیلئے انتخاب کیا۔جس کے جسم پر ٹرانسمیٹر لگا کر اسے آزاد کر دیا گیا تاکہ اس ٹرانسمیٹر کی مدد سے بذریعہ ایس ایم ایس اس خصوصی ٹیم کو یہ معلوم ہوتا رہے کہ یہ پرندہ اس وقت کہاں پہنچا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ٹیم کوسیٹلائٹ کے ذریعے یہ بھی پتہ چلتا رہے کہ آیا یہ پرندہ محو پرواز ہے یا کسی محفوظ مقام پر پہنچ چکا ہے یا خطرے کی حالت میں ہے۔
اس عقاب نے اپنے سفر کا آغاز جنوبی روس اور پھر قازقستان سے کیا تھا۔اس تحقیقاتی ٹیم کو اس وقت مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑ گیا جب قازقستان کے بعد یک دم '' مِن‘‘نے پیغام بھیجنا بند کر دئیے۔وجہ اس کی یہ تھی کہ یہ نیٹ ورک کی رینج سے باہر جا چکا تھا۔تحقیقاتی ٹیم کو اس وقت حیرت ہوئی جب ''مِن‘‘ ان کی توقعات کے برعکس ایران کی حدود میں داخل ہوا تو اس کے ٹرانسمیٹر کا رابطہ نیٹ ورک کے ساتھ بحال ہوا اور یوں رکے ہوئے پیغامات دھڑا دھڑ انہیں موصول ہونا شروع ہو گئے۔
اس تحقیقاتی ٹیم کو ایک مشکل صورت حال کا اس وقت سامنا کرنا پڑا جب مالی مشکلات کے سبب عقابوں پر نصب ٹرانسمیٹرز کی وجہ سے ٹیم کو ڈیٹارومنگ چارجز کی مد میں بھاری رقم ادا کرنا پڑ گئی۔ کیونکہ قازقستان سے روس آنے والے ایک ایس ایم ایس کی قیمت پاکستانی کرنسی کے مطابق 36 روپے کے برابر تھی جبکہ یہی ایس ایم ایس ایران کے ذریعے آنے سے فی پیغام پاکستانی کرنسی کے ایک سو بیس روپوں کے برابر تھی۔
چنانچہ اپنے محدود وسائل کی وجہ سے اس تحقیقاتی ٹیم کو سوشل میڈیا پر ''عقاب کا موبائل ٹاپ اپ کیجئے‘‘کے نام سے ایک مہم کاآغاز کرنا پڑا جس کے نتیجے میں اس ٹیم نے وصول شدہ عطیات کی وجہ سے باآسانی موبائل کمپنی کا 1223 پاؤنڈ کا بل ادا کر دیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
پرندے جو معدوم ہو رہے ہیں!

پرندے جو معدوم ہو رہے ہیں!

پرندوں کو عام طور پر ہماری زمین کی صحت کا پیمانہ بھی کہا جاتا ہے۔یہ ماحولیاتی نظام کے ''انجینئر‘‘ ہوتے ہیں جو پودوں کی افزائش کیلئے بیج پھیلاتے ہیں، زیرگی کرتے ہیں اور مردہ جانداروں کو کھا کر ماحول کو صاف رکھتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ چرند پرند ہمارے ماحول کا حسن بھی ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اس خوبصورت اور انسان دوست مخلوق کی فلاح اور بقا کیلئے بحیثیت اشرف المخلوقات ہم نے کیا کیا؟ اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ اس معصوم، بے زبان اور بے ضرر مخلوق کوسب سے زیادہ خطرہ ہم انسانوں اور ہمارے رویوں سے ہے۔اقوام متحدہ کی سال گزشتہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ چرند پرند اور ہماری زمین خطرے کی حالت میں ہے۔ آٹھ میں سے ایک پرندے کی نسل کو معدومیت کا خطرہ لاحق ہے اور دنیا بھر میں پرندوں کے حوالے سے صورت حال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ہجرتی آبی پرندوں کی متعدد انواع کو سب سے زیادہ خطرے کا سامنا ہے۔ انہیں سب سے زیادہ خطرہ شمالی کرہ میں موسم گرما کے نسل کشی کے مقامات اور جنوب میں خوراک کے حصول کی جگہوں کے مابین سالانہ دو طرفہ ہجرتوں کے دوران ہوتا ہے۔اقوام متحدہ ہی کی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حیاتیاتی تنوع کا نقصان اس وقت دنیا کو درپیش سب سے بڑے ماحولیاتی مسائل میں سے ایک ہے۔ اسی رپورٹ میں 2019ء کے بین الحکومتی سائنسی پالیسی پلیٹ فارم (آئی پی بی ای ایس ) کے ایک عالمی سروے کا حوالہ بھی دیا گیا تھا جس کے تحت عالمی برادری کو متنبہ کیا گیا تھا کہ انسان حیاتیاتی تنوع کو تیزی سے کھورہا ہے۔ اگر اس نے اپنے رویوں میں نظر ثانی نہ کی تو مستقبل قریب میں جانداروں کی دس لاکھ انواع کو معدومیت کے خطرے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ اسی رپورٹ میں ایسا ہی ایک انکشاف جنگلی جانوروں کی ہجرتی انواع کے تحفظ کے حوالے سے بھی کیا گیا تھا۔ جس میں اس خدشہ کا اظہار کیا گیا تھا کہ جانوروں کی 73 فیصد انواع ایسی ہیں جو ماحولیاتی تبدیلیوں اور دیگر وجوہات کے باعث معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔چرند پرند ہجرت کیوں کرتے ہیں ؟جہاں تک چرند پرند کی ہجرت کا تعلق ہے تو یہ بات طے ہے کہ انسانی ہجرت اور چرند پرند کی ہجرت کے اسباب کسی نہ کسی حد تک ملتے جلتے ہیں، جن میں خوراک کی دستیابی اور موسمیاتی تبدیلیاں سرفہرست ہیں۔ تاریخی حوالوں سے انسانی ہجرت کے شواہد تو زمانہ قدیم کے انسان کے غاروں سے نکل کر میدانی علاقوں کارخ کرنے کے ساتھ ہی سامنے آ گئے تھے جبکہ پرندوں کی ہجرت کا,سب سے پہلا ذکر 3000سال قبل ارسطو کے دور سے ملتا ہے۔ پرندوں کی موسمیاتی ہجرت کی باقاعدہ دستاویزاتی شروعات کا ثبوت 1749ء میں فن لینڈ کے ایک ماہر ماحولیات جوہانس لیچے کے حوالے سے ملتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آخر پرندے ہجرت کیوں کرتے ہیں؟ایک خطے سے دوسرے خطے کی جانب پرندوں کی اڑان ہزاروں سالوں سے جاری ہے۔ ہزاروں میل کا یہ سفر اب ان کی جین میں شامل ہو چکا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی نئی نسل جب پرواز کا آغاز کرتی ہے تو وہ بھٹکے بغیر اسی مقام پر پہنچ جاتی ہے جہاں ان کے آبائواجداد آیا کرتے تھے۔ عمومی طور پر اس ہجرت کی دو وجوہات ہیں ایک تو تلاش رزق اور دوسرا برفانی علاقوں سے سردی کے موسموں میں یہ پرندے میدانی علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور جب موسم بدلنا شروع ہوتا ہے تو یہ واپس برفانی علاقوں کی طرف جانا شروع ہو جاتے ہیں۔جب تک پرندوں کی ہجرت پر کی گئی وسیع تحقیق کے نتائج سامنے نہیں آئے تھے، اس وقت تک یہ تصور رائج تھا کہ پرندے زیادہ تر اپنی نسل کی بقا کیلئے ہجرت کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہجرت کا مقصد حصول خوراک، ساتھی کی تلاش اور شکاریوں سے بچاؤ بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہوتا تھا۔ جدید تحقیق میں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ شہروں میں بڑھتی آبادی سے پرندے تیزی سے اپنی رہائشیں کھوتے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف گلوبل وارمنگ کے باعث موسمیاتی تبدیلی بھی انہیں ہجرت پر مجبور کر دیتی ہے۔ اگرچہ عمومی طور پر صرف پرندوں کی نقل مکانی کو ہی ہجرت سے تعبیر کیا جاتا تھا لیکن بہت سارے جانور بھی ایسے ہیں جو پرندوں کی مانند ہجرت کرتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر افریقہ کا ایک جانور ولڈر بیسٹ، خشک موسموں کے دوران تازہ گھاس کے حصول کیلئے ایک عرصے سے ایک گروہ کی شکل میں ہجرت کرتا آ رہا۔ اسی طرح آبی مخلوق ہمپ بیک کے بارے بھی پتہ چلا ہے کہ سردیوں کے موسم میں یہ اپنی افزائش کیلئے گرم پانیوں کا رخ کرتی ہے۔ اسی طرح بہت سارے دیگر جانور جن میں پہاڑی ریچھ، ہرن، چیتا وغیرہ بھی موسمیاتی تبدیلیوں اور خوراک کی تلاش کے سلسلے میں مسلسل ہجرت کرتے رہتے ہیں۔زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟جن بزرگوں نے پچھلا دور دیکھا ہے وہ اکثر کہتے سنے گئے ہیں کہ گئے زمانوں میں علی الصبح لوگوں کی آنکھ ہی پرندوں کی سریلی آواز اور چہچہاہٹ سے کھلا کرتی تھی لیکن کہاں گئے وہ انسان دوست پرندے؟ انہیں زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟ ماہرین ماحولیات اس کا جواب شہری علاقوں میں آبادی کے بے ہنگم اضافے کو قرار دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کی 55 فیصد سے زائد آبادی شہروں میں رہتی ہے اور جس تیزی سے اس میں اضافہ ہو رہا ہے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 2050ء تک دنیا بھر کی 70فیصد آبادی شہروں میں منتقل ہو چکی ہو گی۔ وقت گزرتا گیا اور ہمارے ارد گرد بلند اور بالا عمارتوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ میدان اور کھیت کنکریٹ کے جنگلوں میں بدلتے چلے گئے، ہری بھری جھاڑیاں اور پیڑ ختم ہوتے چلے گئے اور یوں چڑیوں کی سُریلی آوازیں شہروں سے رخصت ہوئی چلی گئیں۔ چڑیا، مینا، بلبل، ہُد ہُد ایک ایک کر کے شہروں سے مہاجرت پر مجبور ہو گئیں۔پرندے تیزی سے معدومیت کی طرف کیوں؟ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال اربوں پرندے شہروں کی بلند و بالا عمارتوں سے، ان کی کھڑکیوں کے شفاف اور چمکدار شیشوں سے ٹکرا کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔کیونکہ مہاجر پرندے رات کے وقت عموماً ستاروں کی مدد سے اپنے راستے کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن ان عمارتوں کی مصنوعی روشنیاں انہیں اپنی راہ سے بھٹکا دیتی ہیں کیونکہ انہیں یوں لگتا ہے کہ وہ کسی ستارے کی روشنی کی جانب محو پرواز ہیں۔ جس کے باعث یہ اکثر عمارتوں کے شیشوں سے ٹکرا کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔اسی طرح پرندوں کی ایک کثیر تعداد بجلی سپلائی کی بڑی تاروں، بڑے بڑے اونچے کھمبوں اور ٹاورز سے ٹکرا کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ شکار کی انسانی ہوس سے بھی دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں کروڑوں پرندے ہلاک ہو رہے ہیں، جن میں تیزی سے معدوم ہوتے پرندوں کی نسلیں بھی شامل ہیں۔لمبی اور اونچی اڑان والے پرندےپرندوں کی ہجرت کا ذکر چھڑا ہے تو آپ کو یہ دلچسپ تحقیق بتاتے چلیں، جس کے مطابق سب سے لمبی اڑان کا ریکارڈ ''آرکیٹک ٹرن‘‘ نامی پرندے کے پاس ہے جو ہر سال سردیوں میں قطب شمالی سے قطب جنوبی تک مسلسل 35 ہزار کلومیٹر کا دو طرفہ سفر کرتا ہے۔ یہ راستے میں موریطانیہ، گھانا اور جنوبی افریقہ اور کچھ دیگر ممالک میں مختصر قیام بھی کرتا ہے۔اگر بات مسلسل طویل سفر کی کی جائے تو پرندوں میں یہ ریکارڈ ''مرغ باراں‘‘ نامی پرندے کے پاس ہے جس نے الا سکا سے نیوزی لینڈ تک 12200کلومیٹر سفر بلا رکے متواتر دس دن میں طے کیا تھا۔

کھیوڑہ،ایک عجوبہ

کھیوڑہ،ایک عجوبہ

پاکستان کا شمار دنیا کے ان خوش قسمت ممالک میں ہوتا ہے جنہیں قدرت کی بے شمار نعمتیں نصیب ہوئیں۔ انہی میں سے ایک نعمت کھیوڑہ ہے، اسے عجوبہ روزگار بھی کہا جاتا ہے۔ کھیوڑہ میں دنیا کی سب سے بڑی نمک کی کانیں ہیں۔ یہ کانیں ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان میں واقع ہیں۔ لاہور سے موٹر وے کے ذریعے جائیں تو یہ سفر 260 کلومیٹر ہے۔ کلر کہار انٹر چینج کا راستہ طے کرتے وقت تین گھنٹے لگتے ہیں، جہاں سے ایک چھوٹی سڑک آپ کو دنیا کی سب سے بڑی نمک کی کان تک پہنچانے میں معاون بنتی ہے۔ ان کانوں میں تقریباً 220 ملین ٹن نمک محفوظ ہے۔کھیوڑہ کی لمبائی 300 کلومیٹر (186 میل)، چوڑائی 8تا 30 کلو میٹر اور اونچائی 2200 فٹ ہے۔ کھیوڑہ میں نمک کی دریافت 326 قبل مسیح میں اس وقت ہوئی جب دریائے جہلم کے کنارے سکندر اعظم اور راجہ پورس کی فوجوں کے مابین جنگ لڑی گئی۔ سکندر اعظم کے فوجیوں کے گھوڑے اس علاقے میں چرنے کے دوران پتھروں کو چاٹتے پائے گئے جس کے بعد فوجیوں کے ذہن میں اس کی وجہ معلوم کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ جب ان چٹانوں کو چکھا گیا تو یہاں پر نمک کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ تب سے اب تک یہاں سے نمک حاصل کیا جا رہا ہے۔ یہ دنیا میں نمک کا اہم ترین اور بڑا ذخیرہ ہے۔اس وقت کھیوڑہ کی کانوں میں 17 منزلوں سے نمک نکالا جا رہا ہے۔ سائنسی اصولوں کے مطابق کان سے پچاس فیصد نمک نکال کر پچاس فیصد بطور ستون چھوڑ دیا جاتا ہے جو کہ کان کی مضبوطی کو قائم رکھتا ہے۔ اب حالات یہ ہیں کہ کھدائی کے بعد 17 سرنگیں یہاں پر موجود ہیں۔ گراؤنڈ لیول جہاں پر سیاح جاتے ہیں، اس چٹان کی چھٹی منزل ہے جس کے اوپر پانچ منزلیں اور اس کے نیچے گیارہ منزلیں موجود ہیں۔ گراؤنڈ لیول دراصل وہ جگہ ہے جہاں سے کان کنی کا آغاز کیا گیا تھا اور جہاں پر اب پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے لوگوں کی آمد و رفت کا بندوبست کر رکھا ہے۔سرنگ کے آغاز پر بنائے جانے والے راستے کے اوپر جہاں کھیوڑہ سالٹ مائن تحریر ہے وہاں پر 1916ء کا سال تحریر کیا گیا ہے۔ سرنگ کے اندر جانے کیلئے الیکٹرک ٹرام استعمال کی جاتی ہے۔ اس سرنگ کے اندر جگہ جگہ بلب لگا کر روشنی کی گئی ہے۔ سرنگ کے آغاز پر ہی جہاں ٹرام پہلے سٹاپ پر رکتی ہے اسے بانو بازار لاہور کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ سرنگ کے اندر موجود کئی جگہوں کو پاکستان کے مشہور شہروں، بازاروں اور عمارتوں سے منسوب کیا گیا ہے۔ ان میں لاہور کا مال روڈ اور راولپنڈی کا چاندنی چوک شامل ہیں۔سرنگ کے اندر بادشاہی مسجد، شملہ پہاڑی اور شیش محل بھی بنائے گئے ہیں۔ ایک اسمبلی ہال بھی سرنگ کے اندر موجود ہے جو کہ 240 فٹ اونچا 200 فٹ لمبا اور 50 فٹ چوڑا ہے۔ اس ہال میں کئی ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ سرنگ کے اندر ہی ایک ہسپتال بھی بنایا گیا جہاں پر دمے کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ان کمروں کے بنانے کیلئے جو اینٹیں استعمال کی گئی ہیں وہ اسی نمک کی بنی ہوئی ہیں جن سے روشنی کا گزر ہوتا ہے تو مختلف رنگ دلکش انداز میں نظر آتے ہیں۔ مسجد جسے بادشاہی مسجد کا نام دیا گیا ہے، کے میناروں میں سوراخ کر کے ان کے اندر بلب لگائے گئے ہیں جن کے جلنے سے نمک کے خوبصورت رنگ دکھائی دیتے ہیں۔جہاں سے بھی نمک نکالا گیا ہے وہاں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ پہاڑ کی مضبوطی متاثر نہ ہو۔ اس لیے ہر منزل پر کمرے کے اوپر کمرہ اور ستون کے اوپر ستون رکھا گیا۔ یہیں پر موجود ایک کمرے کے بارے میں گائیڈ حضرات کہتے ہیں کہ اگر لوگ یہاں پر پتھر پھینک کر کوئی منت مانیں تو پوری ہوتی ہے۔ ان کمروں میں موجود پانی اس قدر شفاف ہے کہ اگر ان میں پتھر پھینکا جائے تو وہ تہہ تک جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پہاڑ کے اندر شیش محل کے قریب ہی 30 فٹ لمبا ایک تنگ پل بھی موجود ہے۔ جسے پل صراط کا نام دیا گیا ہے جسے کسی ستون کے سہارے کے بغیر بنایا گیا ہے۔ پل صراط کو عبور کر کے اندر جائیں تو مینار پاکستان اور علامہ اقبال کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ سرنگ کے اندر تازہ ہوا کے اندر آنے کیلئے خاص انتظام ہے۔ اس کیلئے 2500 فٹ لمبا ایک راستہ بنایا گیا ہے جو پہاڑی کی چوٹی تک نکلتا ہے۔ جہاں سے تازہ ہوا کا گزر پہاڑ کے اندر آئے ہوئے سیاحوں کیلئے آکسیجن فراہم کرتا ہے۔ اگر اس جگہ کی مناسب دیکھ بھال کی جائے تو پاکستان یہاں سے کثیر زر مبادلہ سیاحت کے ذریعے کما سکتا ہے۔ اس طرف وزارتِ سیاحت کے حکام کو خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

عظیم مسلم سائنسدان اسحاق ابن حنین

عظیم مسلم سائنسدان اسحاق ابن حنین

اسحاق کی اصل وجہ شہرت وہ ترجمے ہیں جو اس نے یونانی اور سریانی زبانوں سے کئے۔ اس کام میں اس کی معاونت عیسیٰ ابن یحییٰ اور جبیش ابن الحسن العاسم( جو اسحاق کا عمزاد تھا) نے کی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ دونوں حضرات یونانی زبان سے نابلد تھے۔ طب سے متعلق کتابوں کا ترجمہ اسحاق نے اپنے والد کی مدد سے کیا۔ اسحاق نے ریاضیاتی رسالوں کے جو تراجم کئے ان کی نظرثانی کا کام ثابت ابن قرہ نے کیا۔ حسنین کے مطابق اسحاق نے جالینوس کی بہت سی کتابوں کا نہ صرف عربی بلکہ سریانی زبان میں بھی ترجمہ کیا۔ جالینوس کی کتابوں کے جو خلاصے لکھے گئے اسحاق نے ان کے تراجم بھی کئے۔ان کا پورا نام یعقوب اسحاق بن حنین ہے۔ ان کا سنہ پیدائش معلوم نہیں۔ اس کی وفات بغداد میں 910ء میں ہوئی۔ وہ طبی علوم کے ماہر تھے، لیکن ان کی اصل وجہ شہرت ایک سائنسی مترجم کی حیثیت سے ہے۔اسحاق ابن حنین عربی النسل تھا اور عراق کے ایک علاقے الحیرہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے مذہب کے متعلق کہا جاتا ہے کہ شروع میں وہ ایک نسطوری عیسائی تھا، لیکن الیسقی اور بعض دوسرے سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ بعد میں اس نے اپنا آبائی مذہب ترک کرکے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اسحاق کی مادری زبان سریانی تھی، لیکن وہ یونانی زبان بھی اچھی طرح جانتا تھا۔ القفطی کا کہنا ہے کہ عربی زبان میں وہ اپنے والد سے بھی زیادہ مہارت رکھتا تھا۔ اسحاق کا والد بھی اگرچہ عربی اور سریانی زبانوں کا ماہر تھا، تاہم اپنی تحریروں کیلئے وہ موخر الذکر زبان کو ترجیح دیتا تھا۔اسحاق پیشے کے اعتبار سے اپنے والد حنین کی طرح ایک طبیب تھا۔ اس نے اپنے والد کی زیر نگرانی یونانی علوم اور ترجمہ نگاری کے فن کی تربیت حاصل کی۔ اسحاق کا بھائی دائود ابن اسحاق ایک مترجم بنا، جبکہ حنین ابن اسحاق ابن حنین نے طبیب کا پیشہ اختیار کیا۔اسحاق کے دور حیات میں بغداد میں ترجمہ نگاری کی تحریک اپنے عروج پر تھی۔ اس تحریک کا آغاز مامون الرشید کے عہد 813ء۔833ء میں ہوا تھا، جب اس نے اس مقصد کیلئے دارالحکمت قائم کیا۔ یوں تو شاہی طبیب ہونے کے باعث اسحاق اور اس کے والد کو عباسی خلفاء کی سرپرستی حاصل تھی، تاہم اسحاق المعتمد 870ء۔892ء اور المعتقد892۔902ء کا منظور نظر تھا۔ اسحاق کا نام بعض اوقات علماء کے اس وفد کے ساتھ بھی لیا جاتا ہے، جس نے شیعہ عالم دین الحسن ابن النوبخت سے ملاقات کی تھی۔اسحاق کی طبع زاد تحریریں بہت کم ہیں۔ اس کی کتابیں on simple medicines اور outline of medicineنایاب ہیں، جبکہ ''تاریخ الاطباء‘‘ اب تک محفوظ ہے۔ موخر الذکر کتاب کو اسی نام سے جان فلوپونس نے تحریر کیا تھا اور اسحاق کی تحریر اسی اصل کتاب کی ترمیم شدہ حالت ہے۔ فلوپونس نے اس کتاب میں اطباء کی جو فہرست مرتب کی تھی، اسحاق نے اس میں تھوڑی بہت واقعہ نگاری کے ساتھ ان فلسفیوں کے ناموں کا اضافہ کیا ہے، برطبیب کی زندگی میں موجود ہے معالجین کا یہ تذکرہ فلوپونس کے دور تک ہی محدود ہے۔ ان تصانیف کے علاوہ ارسطو کی De animaکا ایک خلاصہ بھی اگرچہ اسحاق سے منسوب کیا جاتا ہے، لیکن یہ بات دورازقیاس ہے۔اسحاق کے ریاضیاتی تراجم خصوصی اہمیت کے حامل ہیں ان میں اقلیدس کی تصانیف اولیات اور بطلیموس کی الجسط، ارشمیدس کی onthe sphere and cylinder، مینیلاس کی sphericsکے علاوہ Autol ycusاور Hypsiclesکی کتابیں بھی شامل ہیں۔ اولیات، optiosاور الجسط کے تراجم پر بعد میں ثابت ابن قرہ نے نظرثانی کی اور انہیں ریاضیاتی لحاظ سے بہتر بنایا۔ ''اولیات‘‘ اور ''الجسط‘‘ کے عربی تراجم اور تقاریظ نے علمی دنیا پر جو اثرات مرتب کئے، ان کا اسلامی ریاضی اور فلکیات کی تاریخ میں کہیں کوئی جائز نہیں لیا گیا۔ چونکہ مسلمہ حیثیت کے حامل مستون کی تعداد بہت تھوڑی ہے، اس لئے فی الحال مختلف روایات کی تخصیص ممکن نہیں ہے۔ 

مقبرہ خالدولید

مقبرہ خالدولید

جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان کی تاریخ ہزاروں برس پرانی ہے۔یہ ہر دور میں تبلیغ اسلام کی غرض سے اولیاء و صوفیاء کرام کامسکن رہا اور انہی کی وجہ سے آج ملتان مدینتہ الاولیاء کے نام سے مشہور ہے۔ان بزرگان دین نے مختلف علاقوں میں خانقاہیں اور تربیت گاہیں قائم کیں جہاں پر بلا امتیاز مذہب و ملت عوام کی روحانی و اخلاقی تربیت کی جاتی تھی۔ان بزرگان دین کی وفات کے بعد اس وقت کے حکمرانوں نے ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ان کے عظیم الشان مزارات و مقبرے تعمیر کروائے۔ جن میں سے کئی مزارات ومقبرے ارباب اختیار کی عدم توجہی کا شکار ہو نے کی وجہ سے رفتہ رفتہ معدوم ہوتے جارہے ہیں۔ متی تل اور سرائے سدھوکے راستے دہلی تک جانے والی قدیم جرنیلی سڑک پر ملتان سے تقریبا 35 کلومیٹردور، سڑک سے قریب ڈیڑھ کلومیٹر مغرب کی جانب مسلم فن تعمیر کا انوکھا شاہکار ایسا ہی مقبرہ اپنی وجاہت کی جھلک اور ارباب اختیار کی عدم دلچسپی کا پتہ دے رہا ہے۔کبیروالا سے 20 کلومیٹر دورشمال کی جانب واقع ساڑھے آٹھ سو سال پرانا یہ مقبرہ حضرت خالد ولیدؒ المعروف خالق ولی کے نام سے مشہور ہے ۔ بین الاقوامی ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق اس کا ڈیزائن حضرت شاہ رکن عالم ملتانیؒ کے مقبرے سے مماثلت رکھتا ہے ۔جنوبی ایشیاء میں دریافت ہونے والی قدیمی مساجد و مزارات میں سب سے قدیم مانے جانے والے اس مقبرے کے گنبد کی اونچائی 75 فٹ ہے۔اور یہ گنبد دور سے ہی دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ سطح زمین سے مقبرے کی اونچائی 27فٹ ہے جبکہ مزارکی کل بلندی 75 سے 80 فٹ ہے۔یہ عظیم الشان عمارت دو مربہ کنال پر محیط ہے ۔اس کی فصیل نما دیوارکے چاروں کونوں پر گول برج بنے ہوئے ہیںجبکہ مغرب کے علاوہ باقی تینوں اطراف درمیان میں بھی برج تعمیر ہیں۔ مغربی سمت میںدس فٹ چوڑی فصیل کے درمیان میںایک محراب واقع ہے جسکی گولائی میںخط کوفی سے آیت الکرسی ، اسم محمد اور خلفائے راشدین کے نام گلابی اینٹوں پر کندہ کئے ہوئے ہیں۔ مقبرے کے مشرقی و شمالی اطراف میںبڑی بڑی محراب نما بغیر دروازوں والی کھڑکیاں تعمیر ہیںجبکہ مزارکا فرش اور قبر کچی ہیں۔مقبرہ خالد ولیدؒ کے بارے میں مختلف محققین کی مختلف آراء ہیں ۔سید اولاد علی گیلانی نے اپنی کتاب''مرقع ملتان‘‘ میں اس مزار کی تعمیر چودھویں صدی عیسوی میں شروع ہونے کا ذکر کیاہے۔ جبکہ بشیر حسین ناظم نے اپنی کتاب ''اولیائے ملتان‘‘میں اسکی تعمیر کا ذکر مغل بادشاہ شاہجہاں کے دور میں کیا۔شیخ اکرام الحق نے اپنی کتاب''ارض ملتان‘‘ میں اس تعمیر کا حوالہ مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیرکے دور سے دیا۔دیگرماہرین آثار قدیمہ کے مطابق اسکی تعمیر محمود غزنوی کے دور میں ہوئی۔لیکن زیادہ تر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اسکی تعمیرغوری عہد میں ملتان کے ایک گورنر علی بن کرماغ نے1175ء سے 1185ء کروائی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ قبر مشرقی دروازے کے بالکل قریب ہے جبکہ قبر کی لمبائی19 فٹ سے زائد اور چوڑائی 4 فٹ ہے۔اور قبر سے مغربی دیوار کا فاصلہ بہت زیادہ ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس گورنر نے یہ مقبرہ تعمیر کروایا تھا شاید اس نے اپنی قبر کے لئے جگہ رکھوائی ہولیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔زمین سے مزارتک پہنچنے کا ایک ہی زینوں والا راستہ ہے جسکی 30 سیڑھیاں ہیں۔ 1980ء میں اسلامی طرز تعمیر پر تحقیق کرنے کیلئے ایک امریکی طالبہ ہنس ہوی رچرڈ اس مقبرے پر آئی تو وہ اس نے مقبرے کی بہتری کیلئے امریکہ، برطانیہ اور پاکستان کے کئی انگریزی اخبارات میںمضامین شائع کرائے جس کے نتیجے میں محکمہ آثار قدیمہ نے یہاں اپنا بورڈ آویزاں کیا اورکئی ٹھیکیداروں نے مقبرے کی تزئین و آرائش کیلئے کام شروع کروایا مگر کچھ دن کے بعد کام روک دیا گیا۔ مزار کے شمال و مشرقی اطراف میں کچے پکے مکانات ہیں جہا ں پر کئی صدیوں سے لوگ آباد ہیں اور مقبرے کی جنوب مغربی سمت میںچند ایکڑ کے فاصلے قبرستان کے قریب ایک تاریخی سراں مسجد واقع ہے جسے لوگ بابری مسجد کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔1958 ء میں ڈاکٹرمہر عبدالحق نے ایک مضمون میں خیال ظاہر کیا کہ کسی بادشاہ یا مہاراجہ نے اپنا خزانہ یہاں دفنا کر یہ عالی شان عمارت بنا کر مزار کا نام دے دیا ہو ۔تاہم محققین نے اس خیال کو غلط قرار دیا۔ مقبرہ خالد ولید کے بارے میںتاریخ میں خاص مواد نہیں ملتا ۔یہاں آنے کیلئے باقاعدہ سڑک نہیں بلکہ لوگوں کو زرعی رقبے میں سے پیدل چل کر آنا پڑتا ہے۔ 1988 ء تک یہاں تین روزہ میلہ لگتا تھا مگر 25 سال سے یہ مقبرہ زبوں حالی کا شکار ہے۔اگر حکومت دلچسپی لے تو یہاں تفریحی پارک اور پختہ سڑک بنا کر سیاحوں کیلئے آسانی پیدا کرسکتی۔

پاکستان ریلوے میں اول اول

پاکستان ریلوے میں اول اول

پاکستان ریلوے کا پہلا نامپاکستان ریلوے کا پہلا نام ''نارتھ ویسٹرن ریلوے‘‘ تھا۔ فروری 1961ء میں ریلوے کا نیا نام ''پاکستان ویسٹرن ریلوے‘‘ اور سقوط مشرقی پاکستان کے بعد مئی 1974ء میں ''پاکستان ریلوے‘‘ رکھا گیا۔پاکستان ریلوے کا قیام 1961ء میں کراچی اور کوٹری کے درمیان عمل میں آیا تھا۔ اس کے کل سات ڈویژن کراچی، سکھر، ملتان، کوئٹہ، لاہور اور پشاور کے علاوہ مغل پورہ لاہور میں ریلوے ورکشاپ ہے۔پاکستان ریلوے کا جال پورے ملک کے 877487 کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کے 907 ریلوے اسٹیشن اور 77 ٹرین ہالٹ ہیں۔ریلوے, پاکستان کا ایک بہت بڑا ادارہ ہے۔ ڈیفنس کے بعد اس کا دوسرا نمبر ہے۔ اس کے ملازمین کی تعداد 133214 ہے۔ 1984ء میں اس کے پاس 914 ریلوے انجن تھے جو 1989ء میں کم ہو کر 773 رہ گئے۔ کراچی، ملتان، پشاور، سیالکوٹ، کوئٹہ، لاہور، راولپنڈی اور سکھر میں ریلوے کی خشک گودیاں ہیں۔ریلوے کے پہلے جنرل منیجرریلوے کے پہلے جنرل منیجر مسٹر ایف ایم خان تھے۔ ان کا تقرر2 اگست 1947ء کو ہوا۔ریلوے لائنموجودہ پاکستان میں ریلوے پٹڑی مردان اور چارسدہ کے مابین بچھائی گئی۔ اس کا درمیانی فاصلہ 17 میل ہے۔مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) میں پہلی ریلوے لائن کا اجراء جیسور اور دارسنا کے مابین اپریل 1951ء میں ہوا۔ اس کا کل فاصلہ 43.25 میل ہے۔بھارت اور پاکستان کے مابین ریلوے رابطہپاکستان اور بھارت میں پہلا رابطہ یکم اگست 1955ء کو حیدرآباد (پاکستان) اور مونابائو (بھارت) کے درمیان براہ راست قائم ہوا۔ اس ریلوے سروس کے ذریعے ایک براہ راست کوچ حیدرآباد اور اجمیر کے درمیان چلائی گئی۔پہلے طویل ترین ریلوے رابطہ کی تکمیل14 اپریل 1973ء کو ریلوے حکام نے کوٹ ادو، ڈیرہ غازی خان، کشمور ریل رابطے کی تکمیل کا اعلان کیا گیا۔ 190 میل کا یہ سیکشن تقریباً 14 کروڑ روپے کی لاگت سے پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔سرکلر ریلوےپاکستان میں پہلی سرکلر ریلوے کراچی میں تعمیر کی گئی۔ اس کے پہلے مرحلے کی تعمیر میں ڈرگ کالونی جنکشن اور وزیر مینشن کے مابین ریلوے اسٹیشن شامل کئے گئے تھے۔ اس کی لمبائی 17.60 میل ہے اور اس پر تین کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ سرکلر ریلوے کے اسٹیشنوں کی تعداد 13 تھی اس میں 25 پھاٹک ،6 بڑے اور 37 چھوٹے پل بھی شامل تھے۔ اس کا افتتاح مغربی پاکستان کے وزیر تعمیرات مواصلات نے 10 نومبر 1964ء کو کیا۔انہوں نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ حکومت کے دیگر کارناموں کی طرح سرکلر ریلوے کی تعمیر بھی صدر ایوب کی قابل قدر قیادت اور عوام کی فلاح و بہبود ہے ۔بیرون ملک پھل لے جانے والی پہلی گاڑیبرآمدی اشیاء لے کر ایران جانے والی گاڑی پاکستان کی پہلی گاڑی تھی جو تیس ڈبوں پر تین لاکھ روپے کی مالیت کے کنو لے کر 12 مارچ 1973ء کو ایران گئی۔ ریلوے پلیٹ فارم ٹکٹوں کی بذریعہ کمپیوٹر فروخت21 مئی 1974ء کو پاکستان ریلوے کی تاریخ میں پہلی بار ریلوے پلیٹ فارم پر ٹکٹوں کی فروخت کمپیوٹر کے ذریعے شروع ہوئی۔ پلیٹ فارم ٹکٹ کی عبارت یہ تھی PWRPLATEFORM TICKTLAHORE CITYVALID 2 HOURSتھوڑا سا فاصلہ چھوڑ کر اس پر وقت کا اندراج اس طرح کیا گیا''Time 18:00‘‘ اس کے نیچے ٹکٹ کی قیمت اور ٹکٹ کا نمبر درج تھا۔ 

حکایت سعدیؒ : باپ کی نصیحت

حکایت سعدیؒ : باپ کی نصیحت

بیان کیا جاتا ہے، ایک عالم دین نے اپنے باپ سے کہا،یہ متکلم باتیں تو بہت لچھے دار کرتے ہیں لیکن ان کا عمل ان کے قول کے مطابق نہیں ہوتا۔ دوسروں کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ دنیا سے دل نہیں لگانا چاہیے لیکن خود مال و دولت جمع کرنے کی فکر سے فارغ نہیں ہوتے۔ ان کا حال تو قرآن مجید کی اس آیت کے مطابق ہے کہ (ترجمہ): ''تم لوگوں کو تو بھلائی اختیار کرنے کی تاکید کرتے ہو لیکن اپنی حالت پر کبھی غور نہیں کرتے‘‘۔ باپ نے کہا۔اے بیٹے ! اس خیال کو ذہن سے نکال دے کہ جب تک کوئی عالم باعمل نہیں ملے گا تو نصیحت پر کان نہ دھرے گا۔ بھلائی اور نیکی کی بات جہاں سے بھی سنے اسے قبول کر۔ اس نابینا شخص جیسا بن جانا مناسب نہیں جو کیچڑ میں پھنس گیا تھااور کہہ رہا تھا کہ اے برادران اسلام ! جلدی سے میرے لیے ایک چراغ روشن کر دو۔ اس کی یہ بات سنی تو ایک خاتون نے کہا کہ جب تجھے چراغ ہی دکھائی نہیں دیتا تو اس کی روشنی سے کسی طرح فائدہ حاصل کرے گا؟ اے بیٹے ! واعظ کی محفل بازار کی دکان کی طرح ہے کہ جب تک نقد قیمت ادانہ کی جائے، جنس ہاتھ نہیں آتی۔ اسی طرح عالم کے ساتھ عقیدت شرط اوّل ہے۔ دل میں عقیدت نہ ہو گی تو اس کی بات دل پر اثر نہیں کرے گی۔ نصیحت تو دیوار پر بھی لکھی ہوئی ہو تو قابل قبول ہوتی ہے۔ ہر نصیحت بگوش ہوش سنو ،دیکھو دیوار پر لکھا کیا ہے یہ نہ دیکھو کہ کون کہتا ہے۔غور اس پر کرو کہ کون کہتاکیا ہے!حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں اصلاح نفس کیلئے یہ زریں گر بتایا ہے کہ جن لوگوں سے کچھ حاصل کرنا ہو، ان میں عیب تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ علم حاصل کرنے کا انحصار تو کلیہ عقیدت اور ادب پر ہی ہے۔ نصیحت بھی اس وقت تک دل پر اثر نہیں کرتی جب تک سننے والا عقیدت سے نہ سنے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہمہ وقت ذہن میں رکھنے کے قابل ہے کہ بے عیب ذات تو صرف اللہ پاک کی ہے۔ عیب ڈھونڈ نے کی نظر سے دیکھا جائے تو اچھے سے اچھے آدمی میں بھی کوئی خامی نکل آئے گی۔ ٭...٭...٭