آج کا دن

آج کا دن

اسپیشل فیچر

تحریر :


پاکستان کا بھارت کو سرپرائز
2019ء میں پاکستان ایئر فورس نے بالاکوٹ میں دراندازی کے جواب میں بھارت میں مختلف مقامات پر چھ فضائی حملے کئے۔ 1971ء کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب دونوں ممالک کی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کے پار ایک دوسرے کی سرزمین پر فضائی حملے کیے ۔ بھارت نے بالاکوٹ میں جبکہ پاکستان نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فضائی حملہ کیا۔ بھارتی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے پاکستان ایئر فورس کے طیاروں کا تعاقب کیا۔ ڈاگ فائٹ کے نتیجے میں، پاکستان نے دو ہندوستانی جیٹ طیاروں کو مار گرایا اور ایک ہندوستانی پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو گرفتار کرلیا۔

کاربن 14 کی دریافت
امریکی کیمیا دان مارٹن ڈیوڈ کامن (Martin David Kamen) نے سیم روبن (Sam Ruben)کے ساتھ مل کر 27 فروری 1940ء کو ''آئیسوٹوپ کاربن14‘‘ کی ترکیب دریافت کی۔ کامن پہلا شخص تھا جس نے بائیو کیمیکل سسٹم کا مطالعہ کرنے کیلئے ''کاربن 14‘‘ کا استعمال کیا اور اس کے کام نے بائیو کیمسٹری اور سالماتی حیاتیات میں انقلاب برپا کر دیا، جس سے سائنسدانوں کو مختلف قسم کے حیاتیاتی رد عمل اور عمل کا پتہ لگانے میں مدد حاصل ہوئی۔

بروک جا معائدہ
بروک کا معاہدہ27فروری1560ء کو بروک ٹویڈ میں طے پایا۔ یہ معاہد ہ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ اورل کے نمائندے ڈیوک آف فولک اور سکاٹش رئیسوں کے گروپ ''سکاٹش لارڈز آف دی کانگری گیشن‘‘ کے درمیان طے پایا تھا۔اس معاہدے کا مقصد ان شرائط پر اتفاق کرنا تھا جس کے تحت برطانیہ اپنا ایک بحری بیڑا اور فوج کا کچھ حصہ سکاٹ لینڈ بھیجے گا جو فرانسیسی فوج کو سکاٹ لینڈ سے نکالنے میں سکاٹش فوج کی مدد کرے گا۔ لارڈز فرانسیسیوں کو بے دخل کرنے اور سکاٹش اصلاحات کو نافذ کرنے کی کوششیں کر رہے تھے،جس کی وجہ سے فسادات اور مسلح تصادم کا آغاز ہوا۔

ترکی میں پہلی تصویر کی نمائش
27 فروری 1863ء کوترکی میں سلطان عبدالعزیز خان کے دور حکومت میں پہلی تصویری نمائش کا اہتمام کیا گیا ۔19 ویں صدی کے وسط میں ایسی نمائشوں اور میلوں کا اہتمام ایک روایت بن چکا تھا، جس سے متاثر ہو کرسلطان عبدالعزیز نے نمائش عمومییہ عثمانیہ کے انعقاد کی اجازت دی۔ جس میں فن مصوری کے علاوہ دیگر اہم ایجادات کی بھی نمائش کی گئی۔

سوڈیم سیکرین کی تیاری
امریکی کیمیا دان کونسٹانٹین فالبرگ نے1879ء میں آج کے روز ''سوڈیم سیکرین‘‘ نامی مصنوعی مواد تیار کیا۔ ''سوڈیم سیکرین‘‘ کو آج کل ذیابیطس کے مریضوں کو مصنوعی شکر کے طور پر استعمال کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس مواد کی تیاری کے حقوق 1884ء میں حاصل کئے گئے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
یادرفتگاں: معین اختر:ایک ہمہ جہت شخصیت

یادرفتگاں: معین اختر:ایک ہمہ جہت شخصیت

کچھ فنکار ایسے ہوتے ہیں جن کے فن کی ایک نہیں بلکہ کئی جہتیں ہوتی ہیں۔ قدرت کی طرف سے انہیں جو صلاحیتیں عطا ہوتی ہیں وہ عمر بھر ان کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔ یوں وہ لوگوں کو بہت زیادہ متاثر کرتے ہیں اورلوگ ان جیسا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ معین اختر کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں قدرت نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ ٹی وی، ریڈیو، سٹیج اور فلم کے ایک مزاحیہ اداکار اور ایک باکمال کمپیئر تھے ۔ اس کے علاوہ وہ بطور فلم ہدایتکار، پروڈیوسر، گلوکار اور مصنف بھی اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے تھے۔ ان کا کیرئر45برس سے زائد عرصہ پر محیط ہے۔پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے تعلق رکھنے والے معین اختر 24دسمبر 1950ء کو پیدا ہوئے اوران کا تعلق ایک پڑھی لکھی سادہ فیملی سے تھا،ان کی فیملی کے زیادہ تر لوگ ٹیچنگ کے شعبہ سے وابستہ تھے۔ سکول کے ایک ڈرامہ میں کام کر کے انہوں نے اپنے فنکارانہ کریئر کا آغاز کیا ۔ٹیلی ویژن پر ان کی پہلی انٹری 6 ستمبر 1966ء کو ہوئی۔انہوں نے سرکاری ٹی وی پر ایک ورائٹی شو میں شرکت کی۔ یہ ورائٹی شو پہلا یوم دفاع منانے کیلئے منعقد کیا گیا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے کئی ٹی وی ڈراموں، سٹیج شوز میں کام کرنے کے بعد انور مقصود اور بشریٰ انصاری کے ساتھ ٹیم بنا کر کئی معیاری پروگرام پیش کئے۔ انہوں نے کئی زبانوں میں مزاحیہ اداکاری کی ہے جن میں انگریزی، سندھی، پنجابی، میمن، پشتو، گجراتی اور بنگالی کے علاوہ کئی دیگر زبانیں شامل ہیں اور اردو میں ان کا کام انہیں بچے بڑے، ہر عمر کے لوگوں میں یکساں مقبول بناتا ہے۔وہ ایک بہترین اداکار بھی تھے۔ ٹی وی ڈراموں کے علاوہ انہوں نے کچھ فلموں میں بھی کام کیا۔ انہیں ''روزی‘‘ کا کردار ادا کرنے پر بین الاقوامی شہرت ملی۔ یہ کردار انہوں نے ڈرامہ سیریل میں نبھایا تھا جس سے انہیں ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔اس ڈرامے میں انہوں نے ایک خاتون ٹی وی آرٹسٹ کا کردار ادا کیا۔ یہ ڈرامہ ہالی وڈ کی فلم ''Tootsie‘‘ سے متاثر ہو کر تیار کی گئی تھی جس کا مرکزی کردار ہالی وڈاداکار ڈسٹن ہوفمین (Dustin Hoffman)نے ادا کیا تھا۔ روزی کے کردار کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ ان کے یادگار کرداروں میں سے ایک تھا۔ ان کی دیگر مقبول ٹی وی سیریلز میں ''ڈالر مین‘‘، ''مکان نمبر 47‘‘، ''ہاف پلیٹ‘‘، ''فیملی 93‘‘، ''عید ٹرین‘‘، ''بندر روڈ سے کیماڑی‘‘، ''سچ مچ‘‘ اور ''آنگن ٹیڑھا‘‘ شامل ہیں۔ معین تھیٹر کے بانیوں میں سے ایک تھے اور انہوں نے بیشمار بامقصد ڈراموں میں ضیا محی الدین جیسی شخصیت کے ساتھ ڈرامے کئے ہیں ۔انہوں نے تھیڑ پر شیکسپیئر کے ڈرامے ''مرچنٹ آف وینس‘‘ میں شائی لوک کا کردار ادا کیا۔ہمسایہ ملک بھارت میں ان کے سٹیج ڈرامے ''بکرا قسطوں پر‘‘ اور ''بڈھا گھر پر ہے‘‘ بہت مقبول ہوئے تھے۔وہ ایک باکمال کمپیئر تھے اور ان کے ٹی وی پروگرامز بہت مقبول تھے۔ انہوں نے مشہور لوگوں کے بڑے زبردست انٹرویو کئے۔ ان میں پاکستان کے علاوہ بھارت کی معروف شخصیات بھی شامل ہیں۔ ان کے مداحین میں بالی وڈ کے لیجنڈ دلیپ کمار بھی شامل تھے۔ معین اختر1995ء میں شروع ہونے والے ٹی وی ٹاک شو'' لوزٹاک‘‘ میں 400سے زیادہ بار مختلف کرداروں میں نظر آئے۔ اس میں انور مقصود انٹرویو کرتے تھے اور معین اختر بڑی اہم شخصیات کاروپ دھارتے۔ ان میں لیجنڈ بھارتی اداکار دلیپ کمار، لتا منگیشکر اور مادھوری ڈکشٹ بھی شامل ہیں۔ معین اختر کا بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے ایک کھلاڑی کے روپ میں انور مقصود نے انٹرویو کیا اور ان کی کارکردگی کو انتہائی پسند کیا گیا۔ پھر وہ جاوید میاں داد کے روپ میں بھی سامنے آئے۔ طرح طرح کے کردار ادا کرنے میں انہیں خاصی مہارت حاصل تھی۔''لوزٹاک‘‘ ایک ایسا شو تھا جسے ہر شخص نے پسند کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ معین اختر اور انور مقصود نے اس بات کی طرف بھر پور توجہ دی کہ ناظرین ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہیں۔ معین اختر کبھی کلرک بن کر سامنے آتے اور کبھی کسٹم آفیسر کے روپ میں ناظرین کو حیرت زدہ کر دیتے۔ وہ جس روپ میں بھی سامنے آتے تھے، ان کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ ناظرین انہیں دیکھ کر اس بات پر سوفیصد یقین کر لیں کہ انہوں نے کوئی روپ نہیں دھارا بلکہ وہ ایک حقیقت ہیں۔ معین اختر کچھ دیر کیلئے گیم شو'' کیا آپ بنیں گے کروڑ پتی‘‘ میں میزبان کے طور پر سامنے آئے۔ ان کے مقبول ترین ٹی وی شوز میں ''سٹوڈیو ڈھائی‘‘ اور سٹوڈیو پونے تین‘‘ شامل ہیں۔ معین اختر کی خوبی یہ تھی کہ ان کا مزاح فحاشی سے بالکل پاک تھا۔ یہ مزاح بہت اعلیٰ معیار کا تھا۔ معین اختر نے اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنا پر اپنے مداحین کا ایک وسیع حلقہ بنا لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحیہ اداکاری آسان کام نہیں۔ اگر آپ کی مزاحیہ اداکاری سے لوگوں کی دل آزاری ہو اور وہ آپ کو داد دینے کی بجائے کوسنا شروع کر دیں تو یہ بات اس فنکار کیلئے شرم ناک ہو گی۔ان کی حس مزاح بہت متحرک تھی اور اس کی کئی جہتیں تھیں۔ انہیں مختلف اداکاروں کی نقل اتارنے میں بھی ملکہ حاصل تھا۔ انہوں نے ہالی وڈ کے مشہور اداکار انتھونی کوئن کی نقل اتاری اور پھر سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کی تقریریں انہی کے انداز میں سنائیں۔معین اختر نے کچھ فلموں میں بھی کام کیا جن میں ''کالے چور‘‘ اور '' راز‘‘ شامل ہیں۔ معین اختر کئی بھارتی فنکاروں کے پروگراموں میں کمپیئر کی حیثیت سے سامنے آئے اور ان کے منفرد انداز کو ہمیشہ سراہا گیا۔ دلیپ کمار، متھن چکرورتی، گوندا اور قادر خان ان کے بہت بڑے مداح تھے۔ معین اختر نے بڑے کامیاب شوز کیے اور بڑی اہم شخصیات کو مدعو کیا۔ ان میں اردن کے شاہ حسین، گیمبیا کے وزیراعظم وائودی الجوزا، صدر ضیاء الحق، غلام اسحاق خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل پرویز مشرف، وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور بالی وڈ لیجنڈ دلیپ کمار شامل ہیں۔ ان کے گیتوں اور البمز میں'' چھوڑ کے جانے والے، چوٹ جگر پہ کھائی، رو رو کے دے رہا ہے، تیرا دل بھی یوں ہی تڑپے، درد ہی صرف دل کو ملا، دل رو رہا ہے اور ہوتے ہیں بے وفا‘‘ شامل ہیں۔1972ء میں آپ کی شادی اپنی ایک کزن سے ہوئی، ان کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ انہوں نے حج کی سعادت بھی حاصل کر رکھی تھی۔ انہیں ان کے کام کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے ''پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ اور ''ستارہ امتیاز‘‘ سمیت متعددایوارڈ بھی دیئے گئے۔ 22اپریل 2011ء کو معین اختر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ معین اختر بین الاقوامی شہرت کے حامل فنکارتھے اور پوری دنیا میں ان کے مداح آج بھی موجودہیں۔  

وہ اشیاء جنہیں مستقل ساتھ رکھنے سے گریز کریں

وہ اشیاء جنہیں مستقل ساتھ رکھنے سے گریز کریں

بہت سی چیزیں ہم اپنے ساتھ رکھنا ضروری سمجھتے ہیں جو ہر وقت ہمارے پرس یا جیب میں رہتی ہیں۔ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے میں ہمارا یہ خیال ہوتا ہے کہ ہمیں وہ لازمی اپنے ساتھ رکھنی چاہئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان چیزوں کو اپنے ساتھ رکھنا اکثر خطرناک بھی ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے ان چیزوں کو اپنے ساتھ رکھنے سے گریز کریں۔ وہ چیزیں کونسی ہیں، آئیے ان کے بارے میں بتاتے ہیں۔ پاس ورڈاگر آپ کو پاس ورڈ یاد کرنے میں مشکل ہوتی ہے تو یقیناً آپ انہیں لکھ کر اپنے پاس رکھتے ہوں گے۔ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کے پاس ورڈز اس لیے ان کے بیگ میں محفوظ ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنا بیگ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ آپ اپنا بیگ یا پرس بہت آسانی سے کھو سکتے ہیں۔ اس لیے گزارش ہے کہ کوشش تو یہ کیجیے کہ اپنے پاس ورڈز یاد رکھیں،اگر ایسا نہیں کرسکتے توسمارٹ فون ایپس اس حوالے سے آپ کی بہت مدد کرسکتی ہیں۔ڈیبٹ کارڈکریڈٹ کارڈ کی طرح سکیورٹی نہ ہونے کی صورت میں ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے آپ کو چیزیں خریدتے وقت بہت دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے آپ اپنے خود کے پیسے خرچ کرتے ہیں اور اگر ڈیبٹ کارڈ چوری ہوجائے تو آپ کا فوری طور پر نقصان ہو سکتا ہے ۔ کارڈ کی گمشدگی کی صورت میں فوری طور پر ادارے کو مطلع کرکے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔لیپ ٹاپلیپ ٹاپ شاید آپ کے بیگ میں سب سے زیادہ وزنی شے ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق لیپ ٹاپ کا وزن آپ کے کندھے میں تکلیف کا سبب بنتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ گردن، ریڑھ کی ہڈی اور کاندھے پر چوٹ بھی آسکتی ہے۔ اگر آپ کو اپنا لیپ ٹاپ کہیں لے جانا ہے تو کوشش کیجیے کہ ایسا بیگ استعمال کریں جس کا وزن بیگ خود اٹھاسکے اور آپ کو اسے صرف چلانا ہو۔بغیر لاک موبائل فونبہت سے لوگ اپنے موبائل کو ایک سادہ سا فون سمجھتے ہیں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ ایک موبائل کمپیوٹر ہے جو صرف کال کرنے یا موصول کرنے کیلئے نہیں رہا۔ اپنے فون کو بغیر لاک کیے رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ دوسروں کو اس بات کی اجازت دے رہے ہیں کہ وہ آپ کے فون میں موجود معلومات اور ڈیٹا بآسانی چرا لیں۔ خصوصاً آج کے دور میں موبائل کے اندر اہل خانہ کی ایسی تصاویر بھی ہوتی ہیں جو کسی کے ہاتھ لگنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ ان تصاویر کو فوٹو شاپ میں ایڈٹ کرکے بلیک میلنگ اور غلط مقاصد کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے کوشش کیجیے کہ موبائل میں پیچیدہ پاس ورڈ لگائیں۔چیک بکیہ اہم چیز ہے کیونکہ اگر چیک بک کے ذریعے کوئی آپ کو دھوکا دے تو پیسے کی واپسی کا امکان بہت معدوم ہوجاتا ہے، لیکن اگر آپ کے فراہم کردہ ثبوتوں کی روشنی میں یہ ممکن ہو بھی جائے، تب بھی پیسوں کی واپسی میں ایک ماہ تو لگ ہی جاتا ہے۔ اس لیے کوشش کیجیے کہ چیک بک اپنے ساتھ ہرگز نہ رکھیں۔ یا تو کسی اور تاریخ پر لوگوں کو پیسے دینے کی عادت ڈالیں یا پھر ضرورت کے تحت بس ایک یا دو چیک اپنی جیب میں رکھیں تاکہ نقصان کے امکان کم سے کم رہیں۔شناختی کارڈشناختی کارڈ درحقیقت انسان کیلئے بنیادی ضرورت ہے اور اگر یہ کھوجائے تو آپ کی زندگی کے بہت سارے کام رک جاتے ہیں۔ نہ آپ بینک کا کوئی کام کرسکتے ہیں، نہ سڑک پر گھوم پھرسکتے ہیں کیونکہ کبھی بھی کوئی پولیس والا آپ سے شناختی کارڈ کا تقاضا کرسکتا ہے، لہٰذا ان مشکلات سے بچنے کیلئے کوشش کریں کہ اصل شناختی کارڈ گھر پر ہی رکھیں۔ اگر بہت ضرورت ہے تو فوٹو کاپی ساتھ رکھیں۔پاسپورٹبیرون ملک سفر کرنے کیلئے پاسپورٹ کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔ اس کی اہمیت جتنی زیادہ ہے، اس کا حصول اتنا ہی مشکل ہے اور خرچہ الگ۔ اس لیے ان تمام تر مشکلات سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ پاسپورٹ گھر پر ہی رکھا جائے اور یہ صرف اْسی صورت باہر لے جایا جائے جب اس کے بغیر کام کا انجام پانا ممکن نہ ہو۔

ناصر الدین محمود:درویش صفت بادشاہ

ناصر الدین محمود:درویش صفت بادشاہ

آج سے تقریباً سات سو پچھتر سال قبل دہلی میں غلام خاندان کا ایک شخص تھا جسے 1246ء میں ناصر الدین محمود کے نام سے امراء نے تخت پر بٹھایا جو کہ دراصل شمس الدین التتمش کا پوتا تھا۔ جب التتمش کا بیٹا شہزادہ ناصر الدین لکھنائونی میں منگولوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوا تو اس کی موت کے بعد اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا تھا، جو اس کا سب سے چھوٹا لڑکا تھا، التتمش نے اپنے مرحوم بیٹے سلطان ناصر الدین کی محبت میں اپنے نوزائیدہ پوتے کا نام بھی وہی رکھا۔خاندانی اسباب کی بنا پر التتمش نے یہی چاہا کہ بچے کو اس کا پوتا نہیں بلکہ اس کا بیٹا شمار کیا جائے۔ وہ ایک درویش صفت بادشاہ تھا۔ اس کی خوبی یہ تھی کہ اپنے عہد حکومت میں کبھی سرکاری خزانے کو ہاتھ نہیں لگایا اور قرآن شریف لکھ کر روزی کماتا تھا، اس کی پوری زندگی اولیا اور صالحین کا نمونہ تھی۔ زیادہ تر وقت عبادت اور تلاوت کلام پاک میں صرف کرتا۔ جس وقت دربار لگتا اس وقت وہ شاہی لباس زیب تن کرتا تھا اور دربار برخاست ہونے کے بعد اپنا سادہ لباس پہنتا۔ وہ خاص طور سے اس بات کا خیال رکھتا تھا کہ اس کے لکھے ہوئے قرآن کے نسخے معمولی قیمت پر فروخت ہوں اور کسی کو یہ پتا نہ چلے کہ وہ بادشاہ کے لکھے ہوئے ہیں۔ایک روایت کے مطابق ایک بار اس کی ملکہ کھانا پکا رہی تھی۔ توے سے روٹی اتارتے وقت اس کا ہاتھ جل گیا۔ تکلیف کی وجہ سے وہ سلطان کے پاس حاضر ہوئی بادشاہ اس وقت قرآن کی کتابت کر رہا تھا۔ ملکہ کو تکلیف میں دیکھ کر پوچھا: ''کیا بات ہے ملکہ! ہاتھ میں کیا ہوا‘‘؟بادشاہ نے کتابت چھوڑ دی اور دوا لے کر ملکہ کے جلے ہوئے ہاتھ پر لگا دی۔''جہاں پناہ! گھر میں کوئی نہیں ہے۔ دوسرے کام بھی کرنے ہیں۔ اب کھانا کون پکائے گا؟‘‘ ملکہ نے سوال کیا؟تم فکر نہ کرو، جب تک تمہارا ہاتھ ٹھیک نہیں ہوتا تمہارا ہاتھ میں بٹائوں گا‘‘۔''اپنے آپ پر یہ ظلم نہ کیجئے۔ میری مانیے۔ کچھ عرصے کیلئے ایک خادمہ رکھ لیجئے۔ جب میرا ہاتھ ٹھیک ہو جائے گا تو پھر سارا کام میں خود ہی کر لیا کروں گی‘‘۔''تم جان بوجھ کر انجان بنتی ہو۔ میں اتنی آمدنی کا مالک نہیں ہوں کہ خادمہ رکھ سکوں‘‘ حکومت کے کام سے ہی فرحت کم ملتی ہے۔ چھ ماہ میں مشکل سے ایک کلام پاک کی کتابت کر پاتا ہوں۔ اس ہدیے سے مشکل سے گھر کا خرچ چلتا ہے۔ اب ایسے میں خادمہ کیلئے گنجائش کہاں سے نکالوں‘‘؟''آپ یہ کیا فرما رہے ہیں؟ آپ بادشاہ وقت ہیں۔ شاہی خزانہ آپ کے قبضے میں ہے۔ اگر آپ اپنی واجب ضرورت کیلئے کچھ رقم لے لیں تو اس میں کیا حرج ہے؟‘‘۔''بیگم: شاہی خزانہ رعایا کی امانت ہے۔ اسے خرچ کرنے کا حق مجھے نہیں یہ تو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کیلئے ہے، میں تو صرف ان کا امین ہوں‘‘۔سلطان کا جواب سن کر ملکہ خاموش ہو گئی۔کوئی افسانہ نہیں بلکہ ہندوستان کے ایک نیک دل بادشاہ ناصر الدین محمود کی زندگی کی وہ حقیقت ہے، جس کا بیس سالہ دور حکومت تاریخ ہند میں سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔ اس نے شاہی میں فقیری کی مثال پیش کی۔ اس نے دوسرے بادشاہوں کی طرح اپنے منصب سے ناجائز فائدہ کبھی نہیں اٹھایا۔ وہ تقویٰ،پرہیزگاری، خوش اخلاقی اور سادگی کا پیکر تھا۔ ایک روایت مشہور ہے کہ ایک بار کوئی امیر اس سے ملنے آیا۔ بادشاہ نے اسے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک کتاب دکھائی۔ امیر نے اس میں کچھ غلطیاں نکالیں اور درست کرنے کی التجا کی۔ بادشاہ نے اس کے مشورے پر ان الفاظ کے گرد حلقے بنا دیئے، لیکن جب امیر چلا گیا تو بادشاہ نے وہ حلقے مٹا دیے۔ درباریوں میں سے کسی نے حلقوں کے مٹانے کا سبب پوچھا توبادشاہ نے جواب دیا: ''دراصل یہ غلطیاں نہ تھیں، میرے دوست کو خود غلط فہمی ہوئی۔ چونکہ ایک خیر خواہ کا دل دکھانا مجھے پسند نہ تھا اس لئے ان کے کہنے پر میں نے الفاظ کے گرد حلقے بنا دیئے تھے۔ اب انہیں مٹا دیا‘‘اس دور کے سلطان کے خوش اخلاقی کا یہ حال تھا کہ اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ نبی کریم ﷺ کا احترام اس قدر کرتا تھا کہ بلا وضو آپﷺ کا نام لینا بھی بے ادبی سمجھتا تھا۔ ایک بار اپنے درباری کو جس کا نام محمد تاج الدین تھا، صرف تاج الدین کہہ کر پکارا۔ درباری نے سمجھا کہ لگتا ہے سلطان مجھ سے خفا ہیں۔ اس لئے خوف سے کئی دن دربار میں حاضر نہ ہوا۔ سلطان کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو اسے یقین دلایا کہ میں تم سے بالکل خفا نہیں ہوں۔ اس دن تمہارا پورا نام نہ لینے کی وجہ یہ تھی میں باوضو نہ تھا اور بغیر طہارت کامل کے لفظ''محمد‘‘ میں اپنی زبان سے ادا نہیں کر سکتا تھا۔التتمش کے مرنے کے بعد اس کے بیٹوں، بیٹیوں، پوتوں اور دوسرے دعوے داروں میں تخت و تاج کیلئے کافی کشمکش رہی۔ ناصر الدین محمود طبیعت کا نیک تھا۔ حکومت کی ذمہ داریوں کا پورا احساس رکھتا تھا۔ چنانچہ ان ہنگاموں سے بالکل الگ تھا۔ اس کے باوجود خود غرضوں کے بے جا انتقام کا شکار بنا اور قید کر دیا گیا۔قیدو بند کا زمانہ بھی اس نے صبرو استقلال سے گزارا۔ اس معذوری میں بھی اپنی معاش کیلئے اس نے کسی کا احسان لینا گوارا نہ کیا اور نہ اپنا وقت ہی ضائع ہونے دیا۔ اس تنہائی اور یکسوئی سے فائدہ اٹھا کر اس نے اپنی علمی لیاقت بڑھائی اور خوش نویسی سیکھ لی۔ اس کے بعد کتابیں لکھ کر گزر اوقات کرنے لگا۔ رعایا ایسے پرہیز گار اور خدا ترس بادشاہ سے خوش ہوئی۔ اللہ نے بھی اس کے تقویٰ کی لاج رکھی، اس پر اپنا فضل کیا اور حکومت کے فرائض کو بہتر طریقے سے انجام دینے کے لئے۔ بلبن جیسا مدبر اور فرض شناس وزیر عطا فرمایا۔1266ء میں ہندوستان کا یہ درویش صفت، متقی،عبادت گزار اور سادہ لوح فرماں روا اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس کو مروانے میں غیاث الدین بلبن کا ہی ہاتھ تھا۔ اس کا مزار دہلی میں یہی پال پور کے پاس سلطان غازی کے نام سے مشہور ہے۔

مچھر:انسانوں کا سب سے بڑا قاتل

مچھر:انسانوں کا سب سے بڑا قاتل

32 سال کی عمر میں آدھی سے زیادہ دنیا فتح کرنے والے فاتح سکندراعظم کو '' فاتح عالم‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔تاریخ اس کے کارناموں اور فتوحات کے قصوں سے بھری پڑی ہے۔تاریخ کی کتابوں سے مروی ہے کہ 12 سال کی عمر میں اس نے ایک ایسے جنگلی بدمست گھوڑے کو قابو کر لیا تھا جو بڑے بڑے شہسواروں اور گھوڑے سدھارنے والوں کو اپنے قریب پھٹکنے تک نہیں دیتا تھا۔''بیو سیفیلس‘‘ نامی یہ گھوڑا اس کے بعد ساری عمر اس کے ساتھ رہا۔ اس کی بہادری اور طاقت کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ اس سے کسی نے پوچھا کہ اتنی چھوٹی عمر میں اتنی بڑی دنیا کیسے فتح کر ڈالی ؟۔سکندر اعظم کا جواب تھا '' دشمنوں کو مجبور کیا کہ وہ میرے ساتھ دوستی کر لیں ، اور دوستوں کو یہ جرات ہی نہیں دی کی وہ میرے ساتھ دشمنی کر سکیں ‘‘۔ جہاں تک فاتح عالم سکندر اعظم کی موت کی توجیح کا تعلق ہے،مورخین اس کی مختلف وجوہات بتاتے ہیں۔روایات کے مطابق اس کی موت ایک مچھر کے کاٹنے اور پھر ملیریا بخار میں مبتلا ہونے کے باعث ہوئی تھی۔ کیا یہ مقام حیرت اورمقام عبرت نہیں کہ ایک مچھر جو بظاہر ایک انسانی ناخن سے بھی چھوٹا ہوتا ہے ، چند دنوں کے اندر اندر فاتح عالم کو ، جس کے نام سے دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں کانپ جایا کرتی تھیں، کو بے بس کر کے لقمہ اجل بنا دیتا ہے۔ نیشنل جیو گرافک کی ویب سائٹ نے بھی اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ سکندر اعظم کی موت مچھر کے کاٹنے کے باعث ہوئی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اسی ویب سائیٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ تین امریکی صدور جارج واشنگٹن ، ابراہم لنکن اور یولیسس گرانٹ کا بھی مچھر کاٹنے اور ملیریا کے باعث انتقال ہوا تھا۔مچھر انسانی زندگی کیلئے کتنا خطرناک ؟ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں انسانوں کی ہلاکت کا باعث یہی مچھر ہیں۔اب سے کچھ عرصہ پہلے ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ مچھر دنیا میں انسانوں کا سب سے بڑا قاتل ہے۔سالانہ اس سے متاثرہ افراد کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچتی ہے۔اسی تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباًبیس لاکھ افراد مچھروں سے پیدا ہونے والی بیماریوں ڈینگی، ملیریا اور پیلا بخار سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق مچھروں کی 3500 اقسام پائی جاتی ہیں۔ان میں سے بیشتر اقسام انسانی زندگی کیلئے بے ضرر ہیں کیونکہ یہ پودوں پر رہتے ہیں اور ان کی خوراک پھلوں اور پھولوں کا رس ہوتاہے۔اسی تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان میں سے صرف 6 فیصد مچھروں کی مادہ مچھر ہی اپنے انڈوں کی بڑھوتری کیلئے انسانی خون چوستی ہے۔جبکہ اس تعداد کے نصف کے برابر انسان مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ آگے چل کر اس تحقیق میں یہ وضاحت بھی کی گئی کی اس کے باوجود بھی اس کی 100کے لگ بھگ اقسام ایسی ہیں جو انسانی صحت اور زندگی کیلئے خطرے کا سب بن سکتی ہیں۔ ماہرین اس نقطے پر متفق ہیں کہ دنیا میں پائے جانے والے حشرات میں انسانوں کو سب سے زیادہ خطرات مچھروں سے ہیں۔ ایک تحقیق میں مچھروں کو سب سے زیادہ انسانی ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ان میں سب سے زیادہ تعداد بچوں کی ہوتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق زیکا وائرس کا سب سے زیادہ نشانہ کمسن بچے بنتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے2015ء میں ملیریا وائرس کا باعث بننے والی مچھروں کی ایک خطرناک قسم ''انو فیلیس گینس‘‘ کی نشاندہی کی تھی جو چھ لاکھ انسانوں کی ہلاکت کا باعث بنی تھی۔ اسی طرح مچھروں کی ایک اور خطرناک '' ایڈیس گینس‘‘ نامی قسم کے بارے پتہ چلا ہے کہ یہ قسم بہت تیزی سے مغربی نیل وائرس ، ڈینگی وائرس ، پیلا بخار اور چیکونگونیا وائرس پھیلا رہے ہیں۔ محققین کے مطابق پچھلے تین عشروں کے دوران''ایڈیس البو پیکٹس‘‘نامی مچھروں نے یورپ کے بیس سے زائد ممالک میں بڑی تیزی سے اپنے قدم جمائے ہیں جس کا سبب تیزی سے بڑھتے زمینی درجہ حرارت کو قرار دیا گیا ہے۔گرنیچ یونیورسٹی کے ماہر کا کہنا ہے کہ دنیا کی نصف آبادی کو مچھروں سے پیدا ہونیوالی بیماریوں سے خطرہ ہے۔مچھروں سے جنم لینے والے امراض ہر سال دس لاکھ اموات کا سبب بنتے ہیں۔ مچھروں سے کیسے بچا جائے آسٹریلیا کے ایک جریدے ''دی کنفرمیشن‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ مچھر ہمارے خون سے اہم غذائی اجزاء حاصل کرنے کیلئے انسانوں اور دیگر حیوانوں کو کاٹتے ہیں۔ پھر وہ ان غذائی اجزاء کو اپنے انڈے بنانے کے عمل میں استعمال کرتے ہیں۔ایک خون کی خوراک سے ایک مادہ مچھر تقریباً 100 انڈے دیتی ہے۔درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ممکنہ حد تک مچھروں سے بچا جا سکتا ہے۔٭...اپنے گھروں کے آس پاس اور اندر پانی کو کھڑا نہ ہونے دیں۔یہ مچھروں کی افزائش کا سب سے موزوں اور ترجیحی مقام ہوتا ہے۔٭...مچھروں کے موسم میں بلاضرورت گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں،بالخصوض اندھیرے میں باہر کم سے کم نکلیں۔اس کے علاوہ گھر کے دروازے اور کھڑکیوں پر جالی لگوائیں۔ایک جدید ریسرچ میں اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گہرے اور سیاہ رنگ کے ملبوسات مچھروں کو اپنی طرف جلدی متوجہ کرتے ہیں۔ہلکے رنگ مچھروں کو تذبذب میں ڈال دیتے ہیں کہ آیا ان کا شکار آسان ثابت ہو سکے گا یا نہیں۔وہ ہلکے رنگ کی طرف لپکنے سے گریز کرتے ہیں۔٭...مچھروں کے موسم میں بغیر آستین یا نصف آستین پہننے سے اجتناب برتیں۔مچھر بھگانے کانسخہحال ہی میں میکسیکو سٹیٹ یونیورسٹی کی مالیکیولر ویکٹر فزیالوجی لیبارٹری کی ایک ٹیم نے مچھروں کو بھگانے کے طریقوں بارے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ کی تحقیق کے بعد مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔مچھر صدیوں سے بلکہ قبل از مسیح دور سے انسان کیلئے وبال جان بنا ہوا ہے۔اس بات کا ثبوت تاریخ کی کتابوں میں رومی ، مصری اور میسوپیٹیمیا ادوار میں ملتا ہے جہاں اس دور کے لوگ مچھروں سے بچائو کیلئے دھواں پھیلا کر اور بعض جگہوں پر جسم پر کڑوا تیل ملنے کا طریقہ اختیار کرتے تھے۔ لیکن جدید دور میں مچھروں کو بھگانے کیلئے اگرچہ متعدد نسخے آزمائے جاتے ہیں تاہم سب سے موثر طریقہ مختلف قسم کے ریپیلنٹس ہیں۔جو کوائل، سپرے ، لوشن اور کینڈلز پر مشتمل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ریپیلنٹس مچھروں کی سونگھنے اور چکھنے کی حس کو قابو کرلیتے ہیں جس سے مچھر سست اور نڈھال ہو جاتے ہیں۔''پیکار یڈن‘‘ ( Picaridin)یہ ایک کیمیکل کمپاؤنڈ ہے جس کا استعمال چھ گھنٹے تک مچھروں کو دور رکھتا ہے۔ یہ لوشن کی شکل میں جسم کے نمایاں حصوں یا کپڑوں پر لگایا جاتا ہے جس کی بو سے مچھر کچھ وقت کیلئے بے حس ہو جاتے ہیں۔ یہ کیمیکل سب سے پہلے 1980ء میں متعارف ہوا تھا۔ ڈی ای ای ٹییہ ایک کیمیائی مادے کا نام ہے جسے سب سے پہلے 1950ء میں امریکہ نے اپنی فوج کیلئے استعمال کیا تھا جسے ایک لمبے عرصہ تک جنگلوں میں رہنا تھا۔ یہ مچھر بھگانے کا ایک موثر طریقہ ہے اور اس کا دورانیہ بھی دوسرے کیمیائی مادوں کی نسبت طویل ہے۔ نیو میکسیکو سٹیٹ یونیورسٹی کی یہ رپورٹ تیار کرنے والی ٹیم نے بھی اس طریقہ کار کو زیادہ موثر قراردیا ہے۔ قدرتی تیلمچھر بھگانے کے مصنوعی تیل اور دیگر طریقے جب تک ایجاد نہیں ہوئے تھے اس وقت تک دنیا کے مختلف علاقوں میں قدرتی تیل جسم پر مل کر مچھروں سے محفوظ رہا جاسکتا تھا لیکن ان تیلوں میں قباحت یہ ہوا کرتی تھی کہ یہ مختصر دورانیے تک کارآمد ہوتے تھے۔ ان تیلوں میں دار چینی کا تیل ، لونگ کا تیل اور لیموں کا تیل قابل ذکر ہیں۔ 

حکایت سعدیؒ :اپنے آپ پر بھروسہ کرو

حکایت سعدیؒ :اپنے آپ پر بھروسہ کرو

کسی باغ میں ایک کبوتر نے اپنا آشیانہ بنایا ہوا تھا۔ جس میں وہ دن بھر اپنے بچوں کو دانہ چگاتا۔ بچوں کے بال و پر نکل رہے تھے۔ ایک دن کبوتر دانہ چونچ میں دبائے باہر سے آیا تو سارے بچوں نے انہیں تشویش سے بتایا کہ اب ہمارے آشیانے کی بربادی کا وقت آ گیا ہے۔ آج باغ کا مالک اپنے بیٹے سے کہہ رہا تھا: ''پھل توڑنے کا زمانہ آ گیا ہے۔ کل میں اپنے دوستوں کو ساتھ لاؤں گا اور ان سے پھل توڑنے کا کام لوں گا۔ خود میں اپنے بازو کی خرابی کی وجہ سے یہ کام نہ کر سکوں گا‘‘۔کبوتر نے اپنے بچوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا: '' باغ کا مالک کل اپنے دوستوں کے ساتھ نہیں آئے گا۔ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں‘‘۔اور حقیقتاً ایسا ہی ہوا۔ باغ کا مالک دوسرے روز اپنے دوستوں کے ہمراہ پھل توڑنے نہ آیا۔ کئی روز بعد باغ کا مالک اپنے بیٹے کے ساتھ باغ میں آیا اور کہنے لگا: ''میں اس دن پھل توڑنے نہ آ سکا کیونکہ میرے دوست وعدے کے باوجود نہ آئے لیکن میرے دوبارہ کہنے پر انہوں نے پکا وعدہ کیا ہے کہ کل وہ ضرور آئیں گے اور پھل توڑنے باغ میں جائیں گے‘‘۔ کبوتر نے یہ بات بچوں کی زبانی سن کر کہا:گھبراؤ نہیں، باغ کا مالک اب بھی پھل توڑنے نہیں آئے گا۔ یہ کل بھی گزر جائے گی‘‘۔اسی طرح دوسرا روز بھی گزر گیا اور باغ کا مالک اور اس کے دوست باغ نہ آئے۔ آخر ایک روز باغ کا مالک اپنے بیٹے کے ساتھ پھر باغ میں آیا اور بولا:'' میرے دوست تو بس نام کے ہمدرد ہیں، ہر بار وعدہ کرکے بھی ٹال مٹول کرتے ہیں اور نہیں آتے۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنا کام میں خود کروں گا اور کل باغ سے پھل توڑوں گا‘‘۔کبوتر نے یہ بات سن کر پریشانی سے کہا: '' بچو! اب ہمیں اپنا ٹھکانہ کہیں اور تلاش کرنا چاہیے۔ باغ کا مالک کل یہاں ضرور آئے گا کیونکہ اس نے دوسروں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا ہے‘‘۔حاصل کلامدوسروں پر بھروسہ ہمیشہ نقصان کا باعث بنتا ہے، اپنا کام خود کرنا چاہیے۔

آج کا دن : اہم واقعات

آج کا دن : اہم واقعات

عالمی یوم ارض 22اپریل 1970کو دنیا میں پہلی بار عالمی یوم ارض منایا گیا اور اب ہر سال یہ دن باقاعدگی کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ زمین کے قدرتی سسٹم کو درپیش خطرات سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کا آغاز 1962ء میں ماڈرن انوائرمینٹل موومنٹ سے ہوا تھا، جب اقوام عالم اندھا دھند صنعتیں قائم کر رہی تھی۔ اس باعث عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہونا شروع ہوا اور بڑھتی ہوئی موسمی تبدیلیوں کے باعث زمین کئی علاقے متاثر ہونے لگے۔ اس مقصد کیلئے ہر برس یوم الارض منایا جانے لگا۔اس برس یہ دن ''پلینٹ بمقابلہ پلاسٹک‘‘ کے تھیم کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ ''پیرس معاہدہ‘‘ 2016ء میں آج کے روز ''پیرس معاہدہ‘‘ پر دستخط کئے گئے۔ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ہونے والے اس بین الاقوامی معاہدے کو ''پیرس ایکارڈز‘‘ یا ''پیرس کلائمیٹ ایکارڈز‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ موسمیاتی تبدیلیوں میں تخفیف، موافقت اور مالیات کا احاطہ کرتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن (UNFCCC) کے 195 ارکان اس معاہدے کے فریق ہیں۔ امریکہ 2020ء میں اس معاہدے سے الگ ہو گیا تھا لیکن 2021 میں دوبارہ اس میں شامل ہو گیا تھا۔ معاہدے کے مطابق ترجیحی طور پر اضافے کی حد صرف 1.5ڈگری سینٹی گریڈ ہونی چاہیے۔انڈونیشیا فضائی حادثہ''پین ایم فلائٹ 812‘‘ ہانگ کانگ سے لاس اینجلس کیلئے ایک طے شدہ بین الاقوامی پرواز تھی۔ 22 اپریل 1974ء کو یہ ہانگ کانگ سے 4 گھنٹے 20 منٹ کی پرواز کے بعد انڈونیشیا کے بالی کے ڈینپاسر میں نگورا رائے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گئی۔ جہاز میں سوار تمام 107 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ انڈونیشیاکی سرزمین پر ہونے والا سب سے مہلک فضائی حادثہ قرار دیا جاتا ہے ۔ ''عرب اسرائیل جنگ‘‘ ''عرب اسرائیل جنگ‘‘ جسے ''پہلی عرب اسرائیل جنگ‘‘ بھی کہا جاتا ہے کے دوران 22اپریل 1948ء کویہودی افواج نے حائفہ شہر پر قبضہ کیا جو یروشلم اور تل ابیب کے بعد اسرائیل کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ یہ جنگ فلسطین میں خانہ جنگی کے بعد 1948ء کی فلسطین جنگ کے دوسرے اور آخری مرحلے کے طور پر شروع ہوئی۔جنگ باضابطہ طور پر 1949ء کے جنگ بندی کے معاہدوں کے ساتھ ختم ہوئی۔