سماجی ویورز بڑے بڑے گھونسلے بنانے والا پرندہ

سماجی ویورز بڑے بڑے گھونسلے بنانے والا پرندہ

اسپیشل فیچر

تحریر : خاور گلزار


قدرت نے روئے زمین پر اشرف المخلوقات کے علاوہ بہت سے دیگر جاندار پیداکر رکھے ہیں جن میں طرح طرح کے جنگلی جانور ، زمین کے اوپر اور اندررینگنے والے حشرات جن کی تعداد انسانوں کئی گنازیادہ ہے۔ اس کے علاوہ پرندوں کی کئی اقسام بھی ہوائوں میں اڑتی نظر آتی ہے۔ آج ہم یہاں بات کریں گے پرندوں کی کرہ ارض پر پرندوں کی لاتعداد اقسام موجود ہیں۔ مختلف قسم کے پرندو ں کا رہن سہن ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہیں۔ کئی پرندے درختوں پر گھونسلے بناتے ہیں کئی چٹانوں میں اپنے مسکن بنا کر زندگی بسر کرتے ہیں گو کہ قدرت کے کرشموں سے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور خدائے بزرگ و برتر کی وحدانیت اور عظمت پر یقین اور پختہ ہوجاتا ہے۔
عام طور پر، پرندے گھونسلا بنانے والے سب سے زیادہ ہنر مند ہوتے ہیں، حالانکہ پرندے کی تمام اقسام گھونسلے نہیں بناتے، کچھ اپنے انڈے براہ راست چٹان کے کناروں یا مٹی پر ڈالتے ہیں، پرندوں کے بنائے گئے گھونسلے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور شکار کے خطرات کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ کچھ پرندے ایسے بھی ہے جو براہ راست اپنے بچوں کی پرورش نہیں کرتے، اپنے بچوں کو گلنے والے پودوں کے ٹیلے میں سینکتے ہیں۔ پرندوں کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو اپنے انڈوں کو گرم رکھنے کیلئے جیوتھرمل گرمی سے گرم ہونے والی آتش فشاں ریت کا استعمال کرتی ہے۔ گھونسلے بنانے والے پرندوں میں بہت سے پرندے شامل ہیں۔ زیادہ تر پرندوں کے گھونسلے درختوں کی شاخوں کے درمیان ہوتے ہیں ان گھونسلوں میں زیادہ تر مٹی، ٹہنیاں پتے اور پنکھوں کا استعمال کرتے ہوئے کپ کی شکل کے گھونسلے بناتے ہیں۔ کچھ پرندے، جیسے فلیمنگو اور سوئفٹ، اپنے گھونسلے جوڑنے کیلئے تھوک کا استعمال کرتے ہیں۔کچھ پرندوں کا گھونسلہ مکمل طور پر کیچڑ اور فضلے پر مشتمل ہوتا ہے،اور سورج کی تپش سے گھونسلے کا ڈھانچہ مضبوط ہو جاتا ہے۔کچھ پرندے اپنے گھونسلے کی جگہوں کو ڈھانپنے کیلئے پتوں کو ایک ساتھ سلائی کرتے ہیں۔
ان پرندوں میں سے ایک پرندہ ایسا بھی ہے کہ جو درختوں کی شاخوں پر اس خوبصورتی اورمہارت سے اپنا گھونسلا بناتا ہے کہ تیز آندھی بھی اس گھونسلے کو نقصان نہیں پہنچاتی اور یہی نہیں وہ اپنے گھونسلے میں روشنی کیلئے جگنو کا استعمال بھی کرتا ہے۔ انہیں پرندوں میںبالڈ ایگلز ایک ایسا پرندہ ہے جس نے فلوریڈا کے علاقے میں ایک گھونسلہ بنایا جس کی گہرائی 6 میٹر اور چوڑائی 2.9 میٹر تھی اور اس کا وزن 2 ہزار 722 کلو گرام تھا۔
آج تک روئے زمین پر کسی نے پرندے کا اتنا بڑا گھونسلہ نہیںدیکھا۔بے شک قدرت کے ایسے کرشمے انسانی عقل وشعور کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی جنوبی افریقہ میں پایا جانے والا ایک پرندہ جسے ملنسار ویور ز کہا جاتا ہے ۔ ملنسار ویورکے بارے میں سب سے پہلے 1790ء میں تجزیہ کیا گیا۔یہ پرندہ 5.5 انچ کا ہوتا ہے اور اس کا وزن ایک سے سوا اونس کے درمیان ہوتا ہے۔یہ پرندہ جنوبی افریقہ کے شمالی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
ملنسار ویورز تمام پرندوں سے منفردایسا گھونسلہ بناتا ہے جس میں لکڑیوں کے بڑے بڑے ٹکڑے اور خشک گھاس استعمال کی جاتی ہے اور یہ گھونسلا اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اس میں 400 سے 500 کے قریب پرندے رہ سکتے ہیں اور اس بڑے گھونسلے کے اندر مختلف چیمبر بنے ہوتے ہیں جیساکہ ایک بڑی حویلی میں مختلف رہائشی کمرے ہوں۔ گھونسلے کا داخلی راستہ نچلے حصہ میں ہوتا ہے جو ایک راہ داری میں جاتا ہے اسی راہ داری سے گزر کر پرندے اپنے اپنے چیمبرز میں جاتے ہیں۔ ان بڑے گھونسلوں کو ملنسار بنکرز یا نوآبادیاتی گھونسلے بھی کہا جاتا ہے۔
ان ملنسار بنکرز کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے کا بھی مکمل انتظام رکھا جاتا ہے تا کہ زیادہ گرمی اور زیادہ سردی اثر انداز نہ ہو سکے۔ سماجی ویورزاپنے گھونسلے درختوں اور دیگر اونچی جگہوں جیسے بجلی اور ٹیلی فون کے کھمبوں پر بناتے ہیں یہ پرندہ مختلف جگہوں سے ٹہنیاں اکٹھی کر تے ہیں اور گھونسلے کو ٹہنی سے ٹہنی جوڑ بناتے ہیں۔ ان بڑے گھونسلوں کے اندر الگ کمرے ہوتے ہیں جنہیں مختلف پرندوں کے پنکھوں اور نرم گھاس کے استعمال سے آرام دہ بنایا جاتا ہے۔ ایک انفرادی گھونسلے کا وزن 2ہزار پاؤنڈ تک ہوسکتا ہے اور اس میں 100 سے زیادہ چیمبر ہوتے ہیں۔ گھونسلے کے داخلی راستے تقریباً 250 ملی میٹر لمبے اور 76 ملی میٹر چوڑے بنائے گئے ہیں اور ان پر تیز دھار لاٹھیاں لگائی گئی ہیں تاکہ سانپوں سمیت شکاریوں کے داخلے کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ گھونسلے بہت مضبوط ہوتے ہیں ۔ بجلی کے کھمبوں پر بنائے گئے گھونسلے گرمیوں میں آگ اور برسات کے موسم میں شارٹ سرکٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ اور کئی مرتبہ بارشوں کے باعث گھونسلے میں اس قدر پانی میں بھر جاتا ہے کہ درخت یا کھمبا گر جاتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
کیچووے دنیا کے پہلے ماحولیاتی انجینئر

کیچووے دنیا کے پہلے ماحولیاتی انجینئر

ذرا غور کریں تو معلوم ہو گا کہ نظام قدرت کا استحکام بلاسبب نہیں ہے۔ انسان تو انسان کوئی بھی کیڑا مکوڑا، چرند، پرند قدرت نے بلاسبب پیدا نہیں کیا۔ ہر مخلوق کی اہمیت اور افادیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ یہ الگ بات ہے تاحال انسانی تحقیق وہاں تک نہ پہنچ سکی ہو۔ بہت سارے حشرات الارض ایسے ہیں، بادی النظر میں جنہیں ہم کراہت اور نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن درحقیقت، درپردہ یہ انسانی زندگی کے محسن ہیں۔یہ انکشاف شاید بہت سارے لوگوں کیلئے نیا ہو کہ اس روئے زمین پر 24 گھنٹے کام کرنے والا ''دنیا کا سب سے پہلا ماحولیاتی انجینئر‘‘ ایک ایسا کیڑا تھا جو عمومی طور پر مٹی کے اندر رہتا ہے۔ اس کی سب سے پہلی گواہی قدیم مصریوں نے دی تھی۔ جنہوں نے اس کیڑے کو ''چھوٹے خدا‘‘ کا درجہ دیا ہوا تھا۔ قدیم مصریوں کا یہ لقب بلاسبب نہیں تھا انہوں نے جب دیکھا کہ یہ ننھے کیڑے دریائے نیل میں سیلاب کے بعد زرخیز مٹی زمین تک لاتے رہتے ہیں تو انہوں نے انہیں اپنا محسن گردانتے ہوئے ''چھوٹا خدا‘‘ کا لقب دے ڈالا۔ قدیم مصریوں کیلئے دریائے نیل ایک مقدس دریا یوں تھا جو ان کی زراعت اور تجارت کے ساتھ ساتھ نقل و حمل کا اہم ذریعہ بھی تھا۔ جدید سائنس بھی اس نقطے پر متفق ہے کہ ''دریائے نیل میں سیلاب کے بعد زرخیز مٹی زمین تک لانے کا سہرا ان زیر زمین کیڑوں کے سر تھا جنہیں عرف عام میں ''کیچوے‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ مصر کی زمینوں کی زرخیزی کیچووں کے بغیر ویسی قطعاً نہ ہوتی جو عام طور پر ہوا کرتی ہے‘‘۔کیچووں کی اہمیت کا اندازہ چارلس ڈارون کی 1881ء کی اس تحقیق سے بخوبی ہو جاتا ہے جس میں اس نے کہا تھا، ''اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ دنیا کی تاریخ میں اس سادہ سی مخلوق (کیچووں) سے زیادہ انسانوں کیلئے اہم کردارکسی اور جانور نے ادا کیا ہو‘‘۔کیچوے دراصل ہیں کیا ؟کیچوا، جسے انگریزی میں ''ارتھ ورم‘‘ کہتے ہیں بنیادی طور پر سرخ رنگ کا کیڑا ہوتا ہے جو عمومی طور پر برسات میں گیلی زمین میں پیدا ہوتے ہیں۔ عام طور پرزمین کے اندر چھپے اس کیڑے بارے لوگوں کی بیشتر تعداد انہیں مچھلیوں کی غذا سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہے یا مچھلی کے شکاری اس معصوم کیڑے کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر استعمال کرتے ہیں۔ کیچوے اتنے اہم کیوں ہیں کیچوے زیر زمین اپنی رہائشی کالونیاں بنا کر مٹی کی ساخت کو بہتر بناتے ہیں۔یہ نامیاتی مواد اور مٹی کو اپنی خوراک کا حصہ بنا کر ایک طرف تو خوردبینی جرثوموں کا کام آسان بناتے رہتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ پودوں کے غذائی اجزا پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ پودے بھی وہاں بہتر پرورش پاتے ہیں جہاں زیر زمین کیچووں کی کالونیاں ہوتی ہیں۔ جرمن سنٹر فار انٹیگریٹیو بائیو ڈائیورسٹی ریسرچ سنٹر سے وابستہ ڈاکٹر ہیلن فلپس کا کہنا ہے کہ بہت کم لوگوں کو اس حقیقت کا علم ہے کہ کیچوے زرعی پیداوار بڑھانے اور زمین کو ہوادار رکھنے میں انتہائی مددگار ہیں، بدقسمتی سے اس انسان دوست کیڑے کو بری طرح نظر انداز کیاجارہا ہے۔ کیچوے چوبیس گھنٹے مٹی کھاتے رہتے ہیں اور بدلے میں انسانوں کو کمپوسٹ (نامیاتی کھاد)، جسے ماہرین '' بلیک گولڈ ‘‘ کہتے ہیں مہیا کرتے ہیں۔کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ ایک طرف تو نم مٹی میں بل بنا کر رہنے والی یہ مخلوق زمین کی زرخیزی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف عالمی طور پر اس انسان دوست مخلوق بارے نہ صرف معلومات محدود ہیں بلکہ ان کی بقا کیلئے آج تک کبھی غور ہی نہیں کیا گیا۔اب سے کچھ عرصہ پہلے ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سمندری جڑی بوٹیوں کی مدد سے تیار کی گئی نامیاتی کھاد زمین میں کیچوے پیدا کرتے ہیں ، جو بنجر اور کمزور زمین کی مٹی کو اپنی خوراک کا حصہ بنا کر ایسا مواد خارج کرتے ہیں جو زمین کی زرخیزی بڑھا دیتے ہیں۔کیچوے زمین کی چند انچ کی اوپری سطح سے نیچے جاتے ہیں اور زمین کو نرم کرتے رہتے ہیں جس سے زمین کی قدرتی اور پیداواری صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔جس سے بنجر اور ناکارہ زمینیں بھی قابل کاشت بن جاتی ہیں۔ اسی تحقیق میں سائنس دانوں نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ کیچوے زمین کے اندر چار فٹ کی گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں اور اپنا کام بلا تعطل جاری رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ زمین دس انچ کی بجائے چالیس سے پچاس انچ تک قابل استعمال ہو جاتی ہے ، نتیجتاً اس قدرتی کھاد سے فصل میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ کیچووں بارے جدید تحقیق کچھ عرصہ پہلے دنیا بھر کے سائنسدانوں کی طرف سے کیچووں پر ایک تحقیقاتی رپورٹ میگزین '' سائنس‘‘ میں شائع ہوئی تھی ، جس میں دنیا بھر کے 57 ممالک میں کیچووں کی موجودگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا تھا۔یہ تحقیق دراصل ممکنہ طور پر 14 عشرے قبل ڈارون کے نظرئیے کے تناظر میں کی گئی تھی۔ تحقیق میں انٹارکٹکا کے علاوہ تمام براعظموں کے 57 ممالک کے 140 محققین نے حصہ لیا۔ اس میں 7000 سے زائد مقامات سے کیچووں کا ڈیٹا ، موسمیاتی اور ماحولیاتی صورتحال کاجائزہ لیا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دنیا میں پہلا موقع تھا کہ ایک چھوٹے سے کیڑے کی خاطر دنیا بھر میں اس وسیع پیمانے پر اس قدر منظم تحقیق کا اہتمام کیا گیا ہو۔جس سے اس کیڑے (کینچوا ) کی اہمیت کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان کی حیاتیاتی تنوع معتدل موسموں والے علاقوں میں گرم موسم والے علاقوں کی نسبت زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری دریافت یہ سامنے آئی کہ عالمی طور پر کیچوے زیر زمین اپنی کالونیاں بارش اور زمینی درجہ حرارت کو مدنظر رکھ کر بناتے ہیں۔اسی تحقیق میں سائنسدانوں نے دنیا بھر کے انسانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ زیر زمین اس انسان دوست معصوم کیڑے کی بقا کیلئے اپنا کردار اداکریں جو خاموشی سے بلاتعطل انسانی فلاح کیلئے مصروف کار رہتا ہے۔جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کیچووں کی 6 ہزار اقسام پائی جاتی ہیں۔ایک مربع میٹر زمین پر اوسطاً 150 کیچوے پائے جاتے ہیں۔جہاں تک ان کی لمبائی کا تعلق ہے عام طور پر یہ چند سنٹی میٹرلمبے ہوتے ہیں جبکہ اکثر علاقوں میں ان کی لمبائی تین میٹر تک بھی دیکھی گئی۔  

موسم گرما اور پھلوں کا بادشاہ آم

موسم گرما اور پھلوں کا بادشاہ آم

ہمارا خطہ کرہ ارض کے ایسے حصہ پر واقع ہے جہاں پر بسنے والے مختلف موسموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہاں سال میں چار موسم تبدیل ہوتے ہیں اور ہر موسم اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ خوشنما پھولوں اور خوش ذائقہ پھلوں کے ساتھ زندگیوں کو سرشار کرتے ہیں۔ تمام موسم اپنی اپنی الگ ہی پہچان رکھتے ہیں۔ موسم گرما جہاں دھوپ اور تمازت لئے جلوہ گر ہوتا ہے وہیں پر اس موسم کے پھل خصوصاً آم جسے پھلوں کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے دنیا بھرمیں پسند کیا جاتا ہے۔بعض لوگ آم کو کھاتے ہوئے بہت نفاست کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ہاتھ گندے نہ ہوں ویسے کانٹے سے کھانا بھی شاید آم کی توہین ہے۔ کیونکہ آم اور پائے کھاتے ہوئے جب تک ہاتھ گندے نہ ہوں تو مزہ ہی نہیں آتا۔ بد تہذیبی کے ساتھ کھانے سے ہی آم کا مزہ دوبالا ہوتا ہے۔موسم گرما شروع ہوتے ہی آموں کی مٹھاس اور دل کو لبھانے والا ذائقہ ہر ایک کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ پاکستان میں چونسہ ، سندھڑی ، لنگڑا اور انور راٹھور ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں اور یہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں بھی بہت پسند کئے جاتے ہیں۔ بیرون ملک مقیم اپنے پیاروں کو تحفے کے طورپر ہزاروں میل دور پارسل کیا جاتا ہے۔ ویسے دنیا کے بہت سے خطوں میں آم کی پیداوار ہوتی ہے مگر پاکستانی آموں کی ایک الگ ہی پہچان ہے۔ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی اپنے وطن کے آموں کی خوشبو سے سرشار ہوجاتے ہیں۔ دبئی میں تو یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کسی جنرل سٹور والے نے پاکستانی آم منگوائے ہوں تو وہ دکان پر آنے سے پہلے ہی فروخت ہوجاتے ہیں۔ موسم گرما میں جب سورج اپنی تمازت کا بھرپور جلوہ دکھاتا ہے اور شہر لاہور کا درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے تو لاہور کے منچلے ہی نہیں بچے ،بوڑھے ،جوان اور خواتین بھی نہر کا رخ کرتی ہیں اور نہر کے کنارے کنارے ایک میلے کا سماں ہوتا ہے۔ یہاں پر مینگو پارٹی کااہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ لوگ نہر کے پانی میں آموں کو ٹھنڈا کرتے ہیں یا پھر ایک بڑے برتن میں پانی ڈال کر اس کو دو یا تین گھنٹے کیلئے رکھ دیا جاتا ہے یا پھر برف میں لگا کر آم کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔آموں سے بھرے برتن کو نہر کنارے بیٹھ کر درمیان میں رکھ کر خوش ذائقہ آموں سے لطیف اندوز ہوتے ہیں۔پاکستانی آموں کی مقبولیت کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ آنجہانی ملکہ برطانیہ کیلئے خاص طورپر پاکستانی آم منگوائے جاتے تھے۔ اومان کے سلطان مرحوم سلطان بن قابوس پاکستانی آموں کے بہت شوقین تھے۔ 1968 ء میں پاکستانی وزیر خارجہ شریف الدین پیر زادہ چین کے دورے پرگئے جہاں ان کی ملاقات چینی رہنما مائوزے تنگ سے طے تھی ۔ اس دورے پر روانہ ہونے سے پہلے شریف الدین پیزادہ اپنے ساتھ 40 پیٹیاں آم بھی لے گئے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اب چین آموں کی پیداوار میں ایشیا کے بہت سے ممالک کو پیچھے چھوڑ چکا ہوں۔پاکستانی وزیر خارجہ شریف الدین پیر زادہ کی آموں کو بطور تحفہ دینے کی روایت آج کے دور میں بھی جاری و ساری ہے۔ماضی اور حال میں پاکستانی حکمران جب بھی بیرون ملک سرکاری دوروں پر جاتے ہیں تو پاکستانی آموں کو بطورتحفہ ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ موسم گرما کے آتے ہی پاکستان سمیت مختلف ممالک میں پاکستانی آموں کی نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے۔آم پاکستان کے علاوہ ہندوستان اور فلپائن کا بھی قومی پھل ہے۔ آم کی پیداوار کیلئے جنوب ایشیائی ممالک کی آب و ہوا موزوں ترین ہے۔ دنیا کا 70 فیصد آم ایشیا میں پیدا ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت میں 1500 سے زیادہ اقسام کے آم پائے جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں225 قسم کے آموں کی پیداوار کی جاتی ہے۔صرف سندھ میں ہی 150 قسم کے آموں کی پیداوار کی جاتی ہے۔ موسم گرما کے شروع ہوتے ہیں آم کے آنے سے پہلے ہی پاکستان میں کے عوام پرجوش ہو جاتے ہیں سوشل میڈیا پر بھی اس پھل کے بارے میں پوسٹیں اور وی لاگز شیئر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔آم کی کوئی بھی قسم ہو یہ عام آدم سے لے کر خواص تک سب کے دل کو خوش کرتا ہے۔آم کے ٹھیلے کے قریب سے گزرتے ہوئے آم کسی بھی قسم کا ہو اس کی مخصوص خوشبو، ذائقہ اور رنگت دیکھ کر آپ کے منہ میں پانی آ ہی جاتا ہے۔دنیا کا مہنگا ترین آمجب آموں کی بات کی جائے تو جاپان میں ا گنے والے نایاب آم کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ زیادتی ہوگا۔ جاپان کے شہر میازاکی میں آموں کی ایک ایسی نایاب قسم کی پیداوار ہوتی ہے جوکہ دنیا کی مہنگی ترین قسم ہے۔یہ آم پیلے رنگ کی بجائے سرخ یا بینگنی مائل سرخ ہوتے ہیں۔بین الاقوامی منڈیوں میں، یہ پریمیم آم 800 ڈالر سے 900 ڈالر فی کلوگرام میں فروخت ہوتے ہیں، جو پاکستان میں اڑھائی سے تین لاکھ روپے کے برابر ہے۔آموں کی اس نایاب نسل کی جاپان، فلپائن ، تھائی لینڈ کے علاوہ پاکستان اور بھارت میں بھی پیداوار کی جاتی ہے۔ 

آج کا دن

آج کا دن

کارلوکی لڑائی 25مئی 1798ء کو آئر لینڈ کے شہر کارلو میں لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب کارلو باغی 1798ء کی بغاوت کی حمایت میںاٹھ کھڑے ہوئے۔یہ بغاوت کائونٹی کلڈیرے میں ایک دن پہلے شروع ہوئی تھی۔ کارلو میں یونائیٹڈ آئرش مین آرگنائزیشن کی قیادت ایک نوجوان کر رہا تھا جس کا نام مک ہیڈن تھا۔ اس نوجوان کو پچھلے رہنما پیٹر آئورز کی گرفتاری کے بعد قیادت دی گئی تھی۔ سابق رہنما کو مارچ میں اولیور بانڈ کے گھر سے متحدہ آئرلینڈ کے کئی دیگر سرکردہ افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔گرفتاری سے قبل وہ اپنے رضاکاروں کے ساتھ کاؤنٹی ٹاؤن پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے اور ان کی تعدا1200کے قریب پہنچ چکی تھی۔انقلاب مئی25مئی 1810ء کو ایک ہفتہ تک جاری رہنے والا ''انقلاب مئی‘‘ اختتام پذیر ہوا۔ انقلاب مئی ریو ڈی لا پلاٹا کے وائسرائیلٹی کے دارالحکومت بیونس آئرس میں 18 سے 25 مئی تک ہونے والے واقعات کا ایک طویل سلسلہ تھا۔ اس ہسپانوی کالونی میں تقریباً موجودہ ارجنٹائن، بولیویا، پیراگوئے، یوراگوئے اور برازیل کے کچھ حصے شامل تھے۔ نتیجتاً 25 مئی کو وائسرائے بالتاسر ہائیڈالگو ڈی سیسنیروس کی برطرفی ہوئی اور ایک مقامی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔اسے وہاں سے نکال دیا گیا اور اس کی حکوت کو صرف ان علاقوں تک محدود کر دیا گیاجو ارجنٹائن سے تعلق رکھتے تھے۔اسلحہ ڈپو میں دھماکہ 25 مئی 1865 کو جنوبی ریاست ہائے متحدہ میں الاباما میں ایک اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ہوا جس میں تقریباً 300 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ امریکی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد، فاتح افواج کے شہر پر قبضے کے دوران پیش آیا۔یہ ڈپو بیورگارڈ اسٹریٹ پر ایک گودام تھا جہاں فوجیوں نے تقریباً 200 ٹن گولے اور پاؤڈر رکھے ہوئے تھے۔ 25 مئی کی دوپہر کے وقت سیاہ دھویں کا بادل ہوا میں اٹھا اور زمین گڑگڑانے لگی۔ آگ کے شعلے آسمان کی طرف اٹھے اور پورے شہر میں گولہ باری کی آوازیں سنی گئیں۔ قریبی ندی میں دو بحری جہاز ڈوب گئے ،دھماکے سے کئی مکانات بھی منہدم ہوگئے۔ایکسپلورر32''ایکسپلورر32‘‘یا ''Atmosphere Explorer‘‘ ناسا کی جانب سے بھیجے جانے والا سیٹلائٹ تھا جسے زمین کے اوپری ماحول کا جائزہ لینے کیلئے لانچ کیا گیا تھا۔ ایکسپلورر32 کو 25 مئی 1966ء کوڈیلٹاC1وہیکل کیپ کینورل کے ذریعے لانچ کیاگیا۔ اس سے پہلے ایکسپلورر17لانچ کیا گیا تھا اگرچہ اسے خرابی کی وجہ سے توقع سے زیادہ مدار کے قریب رکھا گیا تھا۔ اپنی لانچ وہیکل پر دوسرے مرحلے میں، ایکسپلورر 32 نے ناکام ہونے سے پہلے دس ماہ تک ڈیٹا بھیجا۔ 

اٹلانٹا سیاہ فاموں کا صاف ترین شہر

اٹلانٹا سیاہ فاموں کا صاف ترین شہر

دنیا میں جہاں کہیں شہری حقوق کی بحالی کیلئے جدوجہد کا ذکر چھڑے گا تو وہاں مارٹن لوتھرکنگ کا ذکر ضرور آئے گا اور جب مارٹن لوتھرکنگ کا ذکر آئے گا تو وہاں اٹلانٹا شہر کا ذکر ضرور آئے گا۔ امریکہ میں شہری حقوق کی بحالی کیلئے تحریک کا آغاز اٹلانٹا کی گلیوں اور بازاروں سے ہوا اور اس تحریک کے ہر اوّل دستے کا روح رواں ایک سیاہ فام سٹوڈنٹ لیڈر مارٹن لوتھر کنگ تھا۔ مارٹن لوتھر کنگ کی جائے پیدائش اٹلانٹا ہے۔ جہاں سے مارٹن لوتھر کنگ نے امریکہ میں بسنے والے سیاہ فاموں کے حقوق منوانے کیلئے ایک بہت بڑی تحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک کے جیالوں نے وہ مقاصد حاصل کر لیے جس کی خاطر انہوں نے قربانیاں دیں جن میں تحریک کے سالار اعلیٰ مارٹن لوتھر کنگ کی جان کی قربانی بھی شامل ہے۔اٹلانٹا امریکی ریاست جارجیا کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت ہے۔ یہ واحد شہر ہے جو امریکہ میں دریائے مس سس پسی کے مشرق میں واقع سب سے بلند شہر ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی 1010فٹ ہے۔ا س کا رقبہ 133مربع میل ہے۔ امریکہ کے ٹاپ ٹین شہروں میں اٹلانٹا کا نواں نمبر ہے۔ اس کے علاوہ اٹلانٹا امریکہ کا صاف ستھرا شہر ہے، حالانکہ راقم نے دیکھا کہ نیویارک شہر کے اکثر علاقے جہاں پر سیاہ فام کی اکثریت آباد ہے۔ گندے ترین علاقے شمار کئے جاتے ہیں، اس کے باوجود اٹلانٹا میں جہاں ایک کثیر تعداد سیاہ فام کی آباد ہے، اسے صاف ترین شہر کہا جاتا ہے۔اٹلانٹا کا شہر سیاہ فام آبادی کے لحاظ سے امریکہ کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ اٹلانٹا کی سوا چار لاکھ کی آبادی میں 54فیصدسیاہ فام لوگ رہ رہے ہیں جبکہ سفید فام 38فیصد، ہسپانوی5فیصد اور ایشیائی 3فیصد ہیں۔ اٹلانٹا امریکہ کا ایک کلچرل فنی اور اقتصادی لحاظ سے بہت بڑا مرکز ہے۔ تعلیم کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ایک اہم شہر بھی ہے۔ معاشی لحاظ سے اٹلانٹا امریکی شہروں کی رینکنگ میں چھٹے اور دنیا کے شہروں کی رینکنگ میں پندرھویں نمبر پر ہے۔ اس شہر کی ترقی کا اندازہ اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ 1892ء میں اس شہر میں فلک بوس عمارتیں تعمیر ہونا شروع ہو چکی تھیں۔ 1966ء کے سمر اولمپکس کی میزبانی کا موقع بھی اٹلانٹا کو مل چکا ہے۔اٹلانٹا کیسے آباد ہوا؟انیسویں صدی کے وسط میں جب امریکہ کے جنوب مشرق اور مغربی علاقہ میں ریلوے کا جال بچھایا جانے لگا تو اس وقت کسی ایسے مقام کی ضرورت محسوس ہوئی جو چاروں اطراف کے شہروں کو آپس میں ملانے کا کام دے۔ تب ماہرین کی نظر انتخاب اٹلانٹا کی موجودہ جگہ پر پڑی۔ پھر اس جگہ کو ریل کے ایک جنکشن کے طور پر بسایا گیا اور اس شہر میں امریکہ کی قومی ریلوے کے علاوہ روڈ ٹرانسپورٹ کی کمپنی گرے ہائونڈ کے بہت بڑے اسٹیشن قائم ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بلکہ دنیا کی ٹاپ کلاس ایئر لائن ڈیلٹا ایئر لائن کا ہیڈ کوارٹر بھی اٹلانٹا ہی میں ہے۔ اس وقت اٹلانٹا شہر کا امریکہ کے دوسرے اہم شہروں سے درمیانی فاصلہ کچھ اس طرح ہے۔جنوب میں ریاست فلوریڈا کے شہر میامی کا فاصلہ 661میل ،واشنگٹن ڈی سی کا 636میل،نیویارک کا 869 میل، لاس اینجلس کا 2237میل، ریاست ٹیکساس کے شہرہیوسٹن کا 800میل ہے۔ملک کی اہم شاہرائیں ''آئی 20‘‘، ' 'آئی 75‘‘ اور ''آئی 85‘‘ اٹلانٹا سے ہو کر گزرتی ہیں۔ ان شاہرائوں کا رابطہ ملک کے ہر کونے تک ہے۔ 1906ء میں اٹلانٹا میں جو سب سے پہلے 17 منزلہ فلک بوس عمارت تعمیر ہوئی وہ کوکا کولا کمپنی کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ امریکہ کے مالیاتی اداروں اور اہم بنکوں کے بڑے بڑے دفاتر بھی اٹلانٹا میں موجود ہیں جو نہ صرف اٹلانٹا بلکہ امریکہ کی معیشت میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ جب 1837ء میں اٹلانٹا کا ریلوے ٹرمینل کے طور پر انتخاب عمل میں آیا تو اس کو ایک طرح کے ریلوے ٹائون کے طور پر ترقی دی جانے لگی اس کے ارد گرد ریلوے ٹائون کا نام اس وقت جارجیا کے گورنر کی بیٹی مارتھا لمپکن (Martha Lumpkin) کے نام پر ''مارتھاولے‘‘ (Martha Ville)رکھا گیا۔ لیکن 1847ء میں ''مارتھاولے‘‘ کا نام بدل کر موجودہ نام اٹلانٹا رکھ دیا گیا۔ شاید مارتھا ولے کا نام شہریوں کے دل میں پذیرائی حاصل نہ کر پایا اور اس وقت جارجیا کا گورنر بھی بدل چکا ہو گا۔ اس لئے شہر کی انتظامیہ نے بحر اٹلانٹک کی مناسبت سے نیا نام اٹلانٹا تجویز کیا ہو۔ اٹلانٹا کو 1847ء میں شہر کا درجہ دیا گیا اور 1868ء میں اسے ریاست جارجیا کا دارالخلافہ بنا دیا گیا۔اٹلانٹا شہر کے نمایاں پہلوملک کی سیاہ فام آبادی والا تیسرا بڑا شہر ہے،اٹلانٹا میں54فیصدسیاہ فام مقیم ہیں۔ اقتصادی لحاظ سے اٹلانٹا امریکہ کا چھٹا اور دنیا کا پندرھواں بڑا شہر ہے۔ عالمی سطح پر شہرت پانے والا مشروب،کوکا کولا سب سے پہلے اٹلانٹا ہی میں متعارف کروایا گیا۔1996ء کے عالمی اولمپک مقابلوں کا میزبان بھی اٹلانٹا کا شہر ہی تھا۔ممتاز ٹیلی ویژن چینل''سی این این‘‘اور موسم کے حوالے سے مشہور Weater Channel کی نشریات کی ابتدا بھی اٹلانٹا سے ہوئیں۔ امریکہ کے جنوب مشرق کا سب سے بڑا ہوٹل Marriott Marquisبھی اٹلانٹا ہی میں ہے۔ اس ہوٹل کے 1674 کمرے ہیں۔ اٹلانٹا میں درخت اتنے زیادہ ہیں کہ فضا سے سوائے فلک بوس عمارتوں کے سبزہ کی وجہ سے شہر ڈھکا ہوا رہتا ہے۔ اس لئے اٹلانٹا کو ''گرینسٹ سٹی ان یو ایس اے ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ ٹورازم کے حوالہ سے اٹلانٹا امریکہ کا ساتواں بڑا شہر ہے۔ اٹلانٹا کا ورلڈ کانگریس سینٹر دنیا کا دوسرا بڑا کنونشن سینٹر ہے۔ سپورٹس کی چار بڑی ٹیمیں بیس بال، فٹ بال، باسکٹ بال اور ہاکی کا مرکزی شہر اٹلانٹا ہی ہے۔آب و ہوااٹلانٹا کی آب و ہوا گرم مرطوب ہے۔ گرمیوں کے موسم میں یہاں کا درجہ حرارت 31سینٹی گریڈ سے 38سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے اور سردیوں میں 3/4سینٹی گریڈ سے کم از کم منفی7سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے۔ برف بھی دو تین انچ تک پڑ جاتی ہے۔ بارش کی سالانہ اوسط 50انچ ہے۔ اٹلانٹا میں مارچ1993ء میں ایک زبردست طوفان آیا وہ طوفان اتنا شدید تھا کہ اسے '' ''The Storm of the centuary‘‘کہا جاتا ہے۔

ہر فن مولا لیونارڈوڈاونسی

ہر فن مولا لیونارڈوڈاونسی

دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوئے ہیں جنہیں ''ہر فن مولا‘‘ کہا جا سکے تاہم انسانیت کی معراج یہ ہے کہ ہم زندگی کی ہر راہ میں توازن حاصل کر لیں۔ اگر کسی انسان کا ذہن ایسا ہو کہ وہ سائنس کے علاوہ آرٹ کا ذوق بھی رکھتا ہو۔ اس میں تخلیق کا مادہ بھی موجود ہو، جس کا جسم توانا اور خوبصورت ہو اور جس کی طبیعت میں رفعت کوٹ کوٹ کر بھری ہو تو ایسے آدمی کو آپ کیا کہیں گے، یہی کہ اس نے انسانیت کی معراج حاصل کر لی لیونارڈوڈا ونسی اسی قسم کا انسان تھا۔ وہ دنیا بھر میں متعدد صلاحیتوں کیلئے مشہور ہے اور اس کی زندگی یقیناً قابل رشک تھی۔آیئے آپ کو ماضی کے دھندلکوں میں لے چلیں۔ فلورنس کے شہر میں شام پڑ چکی ہے۔ لوگ سستا رہے ہیں۔ ماہر فن کار، سنگ تراش، سائنس دان، فلسفی۔ سب کے سب جمع ہیں لیکن کوئی بول نہیں رہا ہے۔ وہ سب خاموش ہیں۔ وہ ایک نوجوان کی باتیں سن رہے ہیں جس کے سنہری بالوں اور کھلتے ہوئے رنگ نے اس کے حسین چہرے کو اور بھی خوبصورت بنا دیا ہے۔اس نوجوان کا نام لیونارڈوڈا ونسی ہے اور وہ سارے فلورنس میں اپنے خدادادحسن اور ذاتی وجاہت کے علاوہ اپنی ذہانت کیلئے بھی مشہور ہے۔ وہ موسیقی کا ماہر ہے، شاعر ہے، باکمال پینٹر ہے، سنگ تراش ہے اور سائنسدان بھی۔ اسے انجینئرنگ سے بھی لگائو تھا اور سائنس کے میدان میں اس نے گیلیلو، نیوٹن، بیکن، ہاروے، واٹ اور فلٹن کیلئے نئی راہیں قائم کیں۔ وہ ہر فن میں کمال رکھتا تھا۔دنیا میں ایسا باذوق آدمی پھر پیدا نہ ہوا۔یہ شخص 1552ء میں اٹلی کے ایک خوبصورت گائوں''ونسی‘‘ میں پیدا ہوا۔ اسی وجہ سے اس کے خاندان کے ساتھ ونسی کا اضافہ ہوا۔ اس کا باپ ایک وکیل تھا لیونارڈو نے بچپن ہی میں اپنی طبیعت کے جوہر دکھانے شروع کر دیئے تھے۔ اسے تھیٹک میں کمال حاصل تھا۔ وہ بعض ساز بڑی اچھی طرح بجاتا تھا لیکن اسے ڈرائنگ، مجسمہ سازی کا زیادہ شوق تھا۔1470ء میں وہ فلورنس کے ایک مشہور آرسٹ کا شاگرد ہو گیا اور جلد ہی اس نے پینٹنگ میں اتنی مہارت حاصل کر لی کہ اس کا استاد دنگ رہ گیا۔لیونارڈو کو علم و ہنر سے بے پناہ عشق تھا۔ اس کی پیاس کسی صورت نہیں بجھتی تھی۔ اس نے اس قدیم دور میں روشنی کا تفصیلی مطالعہ کیا اور آنکھ کی اندرونی بناوٹ کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس نے لہروں کے بنیادی اصول سیکھے اور ان کا اطلاق روشنی کے علاوہ آواز پربھی کیا۔ پینٹنگ اور سنگتراشی کے شوق نے اس پر علم کے کئی اور دروازے کھول دیئے۔ اس نے انسانوں اور جانوروں کے جسم کی اندرونی ساخت کا معائنہ کیا اور اعصابی حرکات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ وہ پہلا سائنسدان تھا جس نے فزیالوجی اور علم نباتات کا باقاعدہ مطالعہ کیا۔ اس تحقیق میں اس نے اپنی عمر کے چالیس سال گزارے۔1482ء میں لیونارڈو میلان گیا۔ اس زمانے میں وہاں سفورزا کی حکومت تھی۔ یہ فرمانروا لیونارڈو کے فن کا اس قدر دلدادہ ہوا کہ آئندہ سترہ سال اس عظیم انسان نے اسی کے دربار میں گزار دیئے۔ اس نے ملٹری سائنس اور طریق جنگ تک میں اصلاح کی۔1845ء میں میلان میں پلیگ نے بڑی تباہی مچائی۔ بادشاہ کو ایک نیا شہر بسانے کا خیال آیا جس میں صفائی ستھرائی کا خاص لحاظ رکھا جائے۔لیونارڈو نے اس شہر کا نقشہ اور نمونہ تیار کیا۔ اس کے علاوہ وہ اقلیدس، ہیئت ریاضیات اور کئی دوسرے علوم کے مطالعے میں بھی مصروف رہا۔1494ء میں اس نے آبپاشی اور پانی کی بہم رسانی کا ایک حیرت انگیز نظام تیار کیا۔ اس کے علاوہ اس نے طوفانوں اور برق پر بھی تحقیقات کیں۔ میلان کے دوران قیام میں لیونارڈو نے پینٹنگ کے ایسے شاہکار تیار کئے جو اپنی نفاست اور کمال کی بنا پر آج تک مشہور ہیں اور دنیا کی مشہور آرٹ گیلریوں میں محفوظ ہیں۔1499ء میں لیونارڈو وینس گیا۔ اس نے ریاضیات کا مزید مطالعہ کیا۔1500ء میں اسے جغرافیہ پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اب وہ اپنے وطن فلورنس آ چکا تھا۔اس نے مدو جزر کا مشاہدہ کیا اور اٹلی کے اتنے اچھے نقشے تیار کئے کہ وہ آج تک قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ہمیں یہاں اس باکمال شخص کے آرٹ پر تفصیل سے کچھ نہیں کہنا ہے۔ ہم اس کے سائنسی کمالات کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ مختصر طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر اس کے مرنے پر اس کی چھوڑی ہوئی تحریریں شائع کردی جاتیں تو سائنسدانوں کو ان میں اتنا مواد مل جاتا کہ بعد میں صدیوں تک انہیں وہ محنت نہ کرنی پڑتی جو انہوں نے کی۔ انیسویں صدی میں کسی نے ضرورت محسوس نہ کی کہ لیونارڈو کی چھوڑی ہوئی چیزوں پر ایک نظر ڈال لیتا۔ بعد میں لوگوں کو یہ علم ہوا کہ اس باکمال شخص نے علم و سائنس کا کوئی گوشہ اپنی تحقیقات سے خالی نہیں چھوڑا تھا۔بیکن سے ایک صدی پہلے لیونارڈو نے تجرباتی سائنس کے وہ اصول بنائے تھے جو بیکن بھی وضع نہ کر سکا۔ لیونارڈوڈاونسی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے سب سے پہلے ہوائی جہاز کے متعلق پیش گوئی کی اور اگر اس وقت تک اس کا انجن ایجاد ہو گیا ہوتا تو ہوائی جہاز کے موجد ہونے کا شرف لیونارڈو ہی کو حاصل ہوتا۔اس کے علاوہ لیونارڈو نے بھاپ کی قوت کی طرف اشارہ کیا، بھاپ سے جلنے والی توپ کا خاکہ تیار کیا اور جہازوں کیلئے چپوئوں کے نمونے بنائے۔ اس کی بنائی ہوئی بعض مشینیں ابھی تک استعمال کی جا رہی ہیں۔ اس نے پانی کی قوت کا اندازہ لگایا، تصویر کشی کا تصور پیش کیا اور ایک طرح کا کیمرہ بھی بنایا، اسے پانی کی کیمیاوی بناوٹ کا اندازہ تھا، وہ یہ جانتا تھا کہ روشنی اور آواز لہروں کی شکل میں چلتی ہیں، اس نے پھولوں اور کچھ نباتات پر بھی تحقیقات کیں، سائنس دان ہونے کے علاوہ وہ ایک عظیم فلسفی بھی تھا۔ مئی 1519ء میں اس یکتائے روزگار انسان کا انتقال ہوا جو بیک وقت سائنسدان بھی تھا، فلسفی بھی ، فنکار بھی، سنگتراش بھی، معمار بھی، انجینئر بھی اور اچھا انسان بھی۔

آج کا دن

آج کا دن

بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام میرٹھ فرقہ وارانہ فسادات کے دوران ہندوستان کی ریاست اتر پردیش میں میرٹھ کے قریب 22 مئی 1987ء کو پولیس نے 50 مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ پراونشل آرمڈ کانسٹیبلری کے 19 اہلکاروں نے شہر کے ہاشم پورہ محلہ سے 42 مسلم نوجوانوں کو پکڑ کر شہر کے مضافات میں لے جا کر گولیاں ماریں اور ان کی لاشیں قریبی آبپاشی نہر میں پھینک دیں۔ چند روز بعد لاشیں نہر میں تیرتی ہوئی ملیں اور قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ بالآخر، 19 اہلکاروں پریہ فعل انجام دینے کا الزام عائد کیا گیا۔کراچی :فضائی حادثات2020ء میں آج کے روز لاہور سے کراچی جانے والی پی آئی اے کی پرواز 3803 کو ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی دوسری کوشش کے دوران حادثہ پیش آیا اور جہاز ایک تین منزلہ گھر کی پانی کی ٹینکی سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں عملے کے اراکین سمیت 97 افراد ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوئے تھے۔22 مئی 2010ء کو جنوبی بھارت میں ایک مسافر طیارہ اترنے کے دوران تباہ ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں 158 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔جرمن اٹلی معاہدہجرمنی اور اٹلی کے درمیاں سٹیل کا معاہد ہ ہوا جسے عام طور پر دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور اتحاد کے معاہدے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ اٹلی اور جرمنی کے درمیان ایک فوجی اور سیاسی اتحاد بھی تھا۔جس پر 22 مئی 1939 کو اٹلی کے وزرائے خارجہ گیلیازو سیانو اور جرمنی کے یوآخم وون ربینٹرپ نے دستخط کیے تھے۔چلی اور چین میںبدترین زلزلے22 مئی 1960ء کو چلی میں اس کی تاریخ کا شدید ترین زلزلہ آیا۔ جس کی ریکٹر سکیل پر شدت 9.5 ریکارڈ کی گئی تھی۔ مجموعی طور پر اس آفت میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ڈھائی ہزار سے چھ ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے جبکہ اس میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ 5.8 ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔1927ء میں آج کے دن چین کے علاقے نین شین میں بھی شدید ترین زلزلے نے بے پناہ تباہی مچائی، 8.3 کی شدت سے آنے والے اس زلزلے سے دو لاکھ افراد اس زلزلہ کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔