مصر میں اہراموں کی تعمیر

مصر میں اہراموں کی تعمیر

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد سلمان


مصر کے تین اہرام صحرا میں سینہ تانے اس طرح کھڑے ہیں جیسے تین سنتری کھڑے ہوئے پہرہ دے رہے ہیں۔ وہ یہ فرض گزشتہ تقریباً پونے پانچ ہزار سال سے ادا کر رہے ہیں۔ اتنے طویل عرصہ کے بعد بھی وقت ان کا کچھ نہ بگاڑسکا۔ یہ تینوں آج بھی اسی مضبوطی سے اپنی جگہ پرجمے ہوئے ہیں جیسے اپنی تعمیر کے وقت تھے۔
ان تینوں میں جو اہرام سب سے بڑا ہے۔ اس میں فرعون ''خوفو‘‘ کی ممی محفوظ ہے۔ خوفو کو یونانی زبان میں '' کیو پس‘‘ Cheops))کہا جاتا ہے۔ یہ عظیم اہرام قدیم دنیا کے ان سات عجائبات میں سے ایک ہے جن میں سے چھ وقت کی دستبرد سے محفوظ نہ رہ سکے۔ یہ عظیم اہرام چونے کے پتھر اورگرینائٹ کے بلاکوںسے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کی تعمیر میں کم از کم بیس لاکھ پتھر کے بلاک استعمال ہوئے ہیں جن میں سے کچھ کا وزن پندرہ ٹن سے بھی زائد ہے۔ اپنی بنیاد سے یہ ہرم تقریباً 147 میٹر یا 480فٹ بلند ہے۔ اگر ہم غور کریں تو یہ بات بڑی حیران کن معلوم ہو گی کہ اتنے قدیم زمانے میں اس قدر بلندی پرپتھر کے 15ٹن وزنی بلاک کیسے پہنچائے جاتے تھے؟۔
یہ اہرام فراعنہ مصرکی تاریخ کے قدیم بادشاہت والے دور میں چوتھے خاندان کے فراعنہ نے تعمیر کرائے تھے۔قدیم بادشاہت کا زمانہ شان و شوکت کی پانچ صدیوں پر محیط ہے۔ اس زمانے کے مصر میں زندگی کے ہر گوشہ میں ترقی ہوئی۔ خصوصاً آرٹ کو تو قابل رشک حد تک فروغ حاصل ہوا۔ مجسمہ سازی اس کمال کو پہنچی کہ بعد کے زمانے اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر رہے۔ اہرام بھی اس زمانے میں فن تعمیر کے لحاظ سے انتہا کو پہنچے۔
چوتھے خاندان کے دوسرے حکمران خوفو نے جب 2675ق م میں اپنے عظیم ہرم کی تعمیر کا آغاز کیا تواس کام پر ایک لاکھ سے زائد مزدورلگائے۔ ہیروڈوٹس نے لکھا ہے کہ ایک ایک لاکھ مزدوروں( غلاموں) کا ایک گروپ تین ماہ کیلئے کام کرتا تھا۔ ہر تین ماہ کے بعد یہ گروپ بدل جاتا۔ یوں دارالحکومت ممفس سے ہرم تک جانے والی شاہراہ کی تعمیر پر دس سال کا عرصہ لگا۔ اس کے بعد ہرم کی تعمیر میں مزید 20 سال لگے۔
مصریات کی ایک جدید محقق ومورخ ڈاکٹر مارگریٹ مرے لکھتی ہیں کہ وہ تین مہینے جب معماروں کو اہرام کی تعمیر کے کام پر لگایا جاتا۔ نیل کی طغیاتی کے مہینے ہوتے تھے۔ ان مہینوں میں مصر میں کھیتوں میں زراعت کے تمام کام معطل ہو جاتے اور کاشتکار بے کار بیٹھ جاتے۔ ایسے میں خوفو نے اپنی رعایا کی بھلائی کیلئے عظیم ہرم کی تعمیر کا آغاز کیا جس سے سال کے خراب ترین مہینوں میں ایسا روزگار میسر آتا جو کھیتی باڑی سے بھی زیادہ بار آور تھا۔
خوفو کی طرح اس کا جانشین''خافرا‘‘ بھی اپنی تعمیر کردہ عمارات اور اپنے ہی مجسموں کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔ یہ امر بھی فرعونوں میں مشترک ہے کہ ان دونوں سے مصر کا مذہبی طبقہ یعنی پروہت بے زار تھے۔ ہیروڈوٹس کو اس کی سیاحت مصر کے دوران پروہتوں نے بتایا کہ ان دونوں فرعونوں کے عہد میں مندروں پر تالے پڑ گئے اور کسی کو دیوتائوں کی پرستش کرنے کی اجازت نہ رہی تھی۔ہیروڈوٹس نے اپنی سیاحت ہی کے دوران خافرا کے اہرام کے دروازے پرمصری زبان میں نصب ایک کتبہ دیکھا تھا جس میں لکھا تھا کہ ہرم کی تعمیر کے دوران معماروں اور مزدوروں کیلئے جو مولیاں، پیاز اور لہسن روزانہ فراہم کیا جاتا تھا اس پر سولہ سوٹیلنٹ (تقریباً اڑھائی لاکھ روپیہ) کا خرچہ اٹھتا تھا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جب صرف لہسن پر سولہ سو ٹیلنٹ چاندی کا خرچہ اٹھتا تھا تو تعمیر کے دیگر اخراجات کتنے وسیع ہوں گے۔
باقی دو اہراموں کی طرح تیسرا اہرام بھی چوتھے خاندان ہی کے فرعون منکورا (Myceriuns)نے تعمیر کرایا تھا۔ ہیروڈوٹس کے بقول منکورا ایک عدل پسندفرعون تھا۔ اس نے اپنے پیش روئوں کے عہد میں بند ہو جانے والے مندروں کے دروازے کھلوا دیئے اور لوگوں کو دیوتائوں کی پرستش کی اجازت دے دی تھی۔ اس طرح وہ پروہتوں کے دل بھی جیتنے میں کامیاب ہو گیا۔غزہ کے یہ تینوں اہرام آج بھی ان تینوں فرعونوں کی انمٹ یادگاروں کے طور پر باقی ہیں۔ بظاہر پتھروں کا ڈھیر نظر آنے والے یہ اہرام دراصل اس عہد میں علم ریاضی کی ترقی یافتہ صورت کے بہترین مظاہر ہیں۔ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ صرف بڑے ہرم کے پتھروں سے سارے فرانس کے گرد تین فٹ اونچی اور ایک فٹ چوڑی دیوار تیار کی جا سکتی ہے۔ صرف اس بات سے آپ کو قدیم مصری قوم کی محنت اور عظمت کا اندازہ بخوبی ہو سکتا ہے۔
کیوپس کا ہرم مکمل طور پر مخروطی شکل کا مثلث نما چہار پہلومینار ہے۔ اس کی کسی سمت میں بھی دروازہ نہیں رکھا گیا ہے۔ اس کی سب سے نچلی منزل ایک مربع چبوترے کی مانند ہے۔ جس کا ہر ضلع 763 فٹ طویل ہے۔ اس چبوترے کی اونچائی 4 فٹ 8 انچ ہے۔ اس چبوترے پر اسی اونچائی کا ایک دوسرا چبوترا تعمیر کیا گیا ہے، جس کی لمبائی چوڑائی پہلے سے کم ہے۔ اس طرح مینار کی چوٹی تک دو سو کے قریب چبوترے مسلسل چلے گئے ہیں۔ ان چبوتروں کے بتدریج گھٹنے سے نیچے سے اوپر تک سیڑھیاں بن گئی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس بڑے اہرام میں پانچ کروڑ مکعب فٹ پتھر لگا ہے ۔
820ء تک اس اہرام کی اندرونی کیفیت کسی کو معلوم نہ تھی۔ اس سال خلیفہ مامون الرشید نے مہینوں کی محنت اور بڑا کثیر سرمایہ صرف کرکے اس کو شمال کی سمت سے کھلوایا۔ جب یہ حصہ کھلا تو شگاف کے پاس ہی مامون کو اس قدر زر نقد رکھا ہوا ملا جتنا اس عظیم عمارت کو کھلوانے میں صرف ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ شاید اہرام تعمیر کرنے والے منجموں نے اپنے علم نجوم سے ہزاروں برس پہلے ہی یہ بات معلوم کر لی تھی کہ اسے فلاں سن میں فلاں بادشاہ کھلوائے گا اور اس کا کس قدر زر اس کام پر صرف ہوگا۔ شاید انہیں وہ سمت بھی معلوم تھی جس سمت سے اس اہرام کو کھولا جانا تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے پہلے ہی وہ محنتانہ رکھ دیا تھا۔
ایسی ہی ایک روایت علامہ شبلی نعمانی نے اپنے سفر نامے میں رقم کی تھی کہ 593ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے بیٹے ملک العزیز نے بعض عاقبت اندیشوں کے مشورہ پر اس اہرام کو مسمار کرانا چاہا مگر لاکھوں روپے کے زیاں کے بعد بھی صرف اوپری سطح کو نقصان پہنچ سکا۔ مجبوراً اسے کام بند کروانا پڑا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
عید کی چھٹیوں میں سیاحت کا روڈ میپ

عید کی چھٹیوں میں سیاحت کا روڈ میپ

عید کے تین دن ایک اضافی چھٹی کے ساتھ آپ کو میسر ہیں ؟ مختصر فراغت شائد آپ کو سیاحت کیلئے اُکسائے اور بچے گھر سے دور جانے پر بضد ہوں تو اپنی تفریحی منصوبہ بندی کو اس طرح ترتیب دیں کہ کم وقت اور معقول خرچ میں زیادہ سے زیادہ سیاحتی و تفریحی افادہ حاصل ہو سکے۔ آپ کم درجہ حرارت اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو پاکستان کا شمال آپ کو خوش آمدید کہتا ہے۔ وقت کم ہے تو ایک یا دو دن نتھیا گلی کے بھیگے ہوئے موسم میں گزارے جا سکتے ہیں۔ دور دارز کے شہروں سے بذریعہ جہاز اسلام آباد آئیں اور دو گھنٹے کی مسافت کے بعد مری یا نتھیا گلی کے موسم سے لطف لیں۔ یہ قریب ترین ہل اسٹیشن کم وقت رکھنے والے سیاحوں کیلئے کافی ہیں۔ یہ دونوں علاقے مہنگی تفریحی اور لوگوں کے ہجوم کے سبب شائد آپ کا شوق سیاحت نگل جائیں۔اگر آپ کے پاس چار روز ہیں تو مری اور نتھیا گلی کے بجٹ میں آپ مظفر آباد ، شاردہ ، کیرن ، اڑنگ کیل ، تاؤ بٹ اور رتی گلی کی جھیل تک جا سکتے ہیں۔ دریائے نیلم کے کنارے متعدد آبشاروں کی روانی آپ کو ناقابل فراموش منظر دینے کیلئے منتظر ہے۔ وادیٔ نیلم میں رہائش سستی اور تفریحی افادہ بہت زیادہ ہے۔ نئی تعمیر شدہ سڑکیں محتاط ڈرائیونگ کا تقاضا کرتی ہیں۔ دریائے نیلم کے قریب جانے سے گریز کرنا ہی محفوظ سفر کی ضمانت ہے۔ تین سے چار روز وادیٔ کالام ، مالم جبہ اور سوات ویلی کے موسم بھی دلفریب ہیں۔ مینگورہ شہر تک پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی موجود ہے۔ یہ وادی بھی مختصر سیاحت کیلئے موزوں ہے۔اگر چار یا پانچ دن آپ فطرت سے ہم کلام ہونا چاہتے ہیں تو ایم ون سے ہزارہ ایکسپریس وے کی طرف مڑ جائیں، یہ خوبصورت موٹروے آپ کو شاطے موڑ پر چھوڑنا پڑے گا۔ چند کلومیٹر بعد بالا کوٹ میں دریائے کنہار آپ کا استقبال کرے گا۔ بالا کوٹ پاکستان کے شمال کا دروازہ بھی کہلاتا ہے۔ آپ کیوائی آبشار سے شوگران کی پیالہ نما وادی میں جا کر، دھند میں گم بھی ہو سکتے ہیں۔ شوگران سے سری پائے بھی دور نہیں ، اور سری پائے منی دیوسائی کہلاتا ہے۔ وادیٔ کاغان میں ناران اب مری کے بعد ملک کا دوسرا مصروف ہل اسٹیشن بن چکا ہے، یہاں مہنگائی بھی مری کے برابر ہے، اس لئے کم بجٹ والے سیاح بٹہ کنڈی یا شہر سے دور کسی ہوٹل میں رہائش اختیار کریں ، شور و غل ، آلودگی اور غلاظت سے محفوظ رہیں گے۔ وادیٔ کاغان میں آپ جھیل سیف الملوک کی طرف مت جائیں، وہاں کی گندگی آپ کو مایوس کر دے گی۔ لالہ زار ، دودی پت اور لو لو سر جھیل آپ کی تسکین کیلئے کافی ہیں۔ کبھی جھیل سیف الملوک پاکستان کی قدرتی اور زندہ جھیل تھی مگر پھر اسے سوداگروں کے ہاتھوں نیلام کر دیا گیا۔ آپ اسلام آباد سے بذریعہ ہوائی جہاز گلگت یا سکردو پہنچ سکتے ہیں تو پھر یہی پاکستان کا شمال ہے۔ آپ نانگا پربت اور کے ٹو کے فضائی مناظر دیکھ لیں گے ، پاکستان کا برفیلا وجود بھی آپ کی نگاہوں کے نیچے جہاز کی کھڑکی سے جھانکتا ہو گا مگر براستہ سٹرک بابو سر ٹاپ کی غلام گردشیں اور جھرنے کون دیکھے گا۔ ہر قدم پر ایک نیا منظر تو صرف براستہ سٹرک ہی اپنا آپ سیاحوں پر کھولتا ہے۔ آپ گلگت جا رہے ہیں تو خدارا قراقرم ہائی وے پر گاڑی دوڑانے کو سیاحت نہ سمجھ لینا۔ ضلع نگر میں راکا پوشی کے سفید معبد تک ضرور جانا، بیس کیمپ تک رنگ ہی رنگ بکھرے ہیں۔ قدرتی کرکٹ سٹیڈیم بھی ایک عجوبہ ہے۔ نگر کا اوشو تھنگ ہوٹل روایتی کھانوں کا واحد مرکز ہے۔ خنجراب تک جانے والے شمشال کو جانتے ہی نہیں کہ اطراف میں کیسی کیسی شاندار وادیاں پڑی ہیں اور سیاح حضرات عطا آباد جھیل میں کشتی رانی کر کے واپس لوٹ آئے ہیں۔ گلگت کی دوسری طرف چترال روڈ پر غذر اور پھنڈر کا جنت کدہ ہے۔ جہاں خلطی جھیل ہے ، پھنڈر جھیل ہے ، دریائے غذر اور گوپس ویلی ہے۔ آپ سکردو میں ہیں تو صرف کچورا جھیلوں تک محدود نہ رہیں۔ شگر روڈ کی طرف نکلیں اور ٹھنڈا صحرا بھی دیکھیں، اندھی جھیل اور دریائے برالدو کے گدلے پانی بھی دیکھیں۔خپلو تک خوبانیاں کھائیں ، دریائے شیوق کی طغیانی پر اپنی یادداشتیں رقم کریں۔ دنیا کی چھت دیوسائی پر پھولوں کی قالین پر قدم دھریں اور جھیل شیوسر کے کنارے بیٹھ کر کافی پئیں ، جہاں جھیل کے پانی میں نانگا پربت کا عکس ناچتا ہے۔اگر آپ مہم جو ہیں تو پھر جھیل کرومبر تک لازمی جائیں۔ یہ جھیل درہ درکوٹ کے اس پار چترال اور گلگت کی سرحد پر واقع ہے۔ شمال کے آخری گاؤں اسکولے سے ہوتے ہوئے کنکورڈیا اور پھر کے ٹو ٹریک پر بیس کیمپ تک جائیں۔ مگر آپ تو صرف عید کی تعطیلات کے دوران سیر و تفریح کیلئے گھر سے نکلے تھے اور میں آپ کو کہاں لے چلا ، مگر میں خود بھی تو ایسے ہی ناران تک آیا تھا اور اب استور سے آگے منی مرگ اور ڈومیل تک جا پہنچا ہوں۔ دو دن پہلے نانگا پربت کے سامنے فیری میڈو کے ایک ہٹ میں میرا قیام تھا۔ میں بھی بارہ سال پہلے ایک عید کی چار چھٹیاں گزارنے ناران تک ہی آیا تھا اور پھر پہاڑ خود اپنے دروازے کھولتے گئے۔

ناظمہ پانی پتی:برصغیر کی معروف فلمی شخصیت

ناظمہ پانی پتی:برصغیر کی معروف فلمی شخصیت

آپ نے شاید وہ گیت نہ سنا ہو جو 1948ء میں ریلیز ہونے والی فلم''مجبور‘‘میں شامل تھا۔اس گیت کے بول تھے ''دل میرا توڑا مجھے کہیں کا نہ چھوڑا،تیرے پیار نے‘‘۔ اس گیت کی موسیقی موسیقار اعظم ماسٹر غلام حیدر نے ترتیب دی تھی ۔ یہ گیت نغمہ نگار اور کہانی نویس ناظم پانی پتی نے لکھا تھا۔ ماسٹر غلام حیدر نے اس گیت کی طرز بمبئی کے ریلوے سٹیشن پر ایک بینچ پر بیٹھ کر ماچس کی ڈبیا کی تھاپ پر بنائی تھی۔ ماسٹر غلام حیدر بمبئی کی فلم انڈسٹری پر چھائے ہوئے تھے۔ وہ موسیقی میں نئے نئے تجربے کرنے کے بہت شائق تھے اور نئی آوازوں کے متلاشی رہتے تھے۔ ان دنوں ہدایت کار نذیر اجمری بمبئے ٹاکیز کیلئے اردو فلم ''مجبور‘‘بنا رہے تھے۔جس کی موسیقی ماسٹر غلام حیدر مرتب کر رہے تھے۔اس فلمی ادارے کے میوزک روم میں ماسٹر صاحب کے ساتھ نذیر اجمری اور یونٹ سے تعلق رکھنے والے دیگر لوگ بھی بیٹھے تھے۔ ماسٹر صاحب کے سامنے ہارمونیم پڑا تھا۔سامنے کرسی پر ایک دھان پان سی لڑکی بیٹھی تھی، کچھ سہمی اور کچھ خاموش سی۔بائیں طرف وہ ابھرتا ہوا نغمہ نگار براجمان تھا جو ناظم پانی پتی کے نام سے شہرت حاصل کر رہا تھا۔ماسٹر غلام حیدر نے مسکرا کر ناظم کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ لڑکی آپ ہی کے گیت سے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز کرے گی اور چند روز میں سارے گلوکاروں پر چھا جائے گی ۔ اس کا نام لتا ہے،لتا منگیشکر۔ نذیر اجمری نے ''مجبور‘‘کی ایک سچویشن ناظم پانی پتی کو سمجھائی۔ انہوں نے اس سچویشن پر ایک دو مکھڑے کہے جن میں سے یہ مکھڑا پسند کر لیا گیا ''دل میرا توڑا مجھے کہیں کا نہ چھوڑا، تیرے پیار نے‘‘۔ جب گیت کی ریکارڈنگ شروع ہوئی تو سب لوگ جھوم رہے تھے۔ لتا منگیشکر نے ناظم صاحب کی طرف دیکھ کر کہا ''آپ کا مجھ پر بڑا احسان ہے ، آپ نے میرے چانس کیلئے ایسا گیت لکھا جس کی مدد سے میں اپنی آواز سوز اور درد کو سروں میں ڈھال سکی ہوں‘‘۔اس گیت نے جہاں لتا کو شہرت کی بلندی پر پہنچا دیا وہاں ناظم پانی پتی کو بھی صف اوّل کے گیت نگار میں شامل کر دیا ۔ اس دور کے ایک بہت بڑے اداکار اور فلمساز سہراب مود نے اپنی اگلی فلم ''شیش محل‘‘کیلئے ناظم صاحب کو تمام گیت لکھنے کیلئے بک کر لیا۔جس گیت نے ناظم صاحب کو فلم بینوں سے بھرپور انداز میں متعارف کرایا وہ محمد رفیع کا گایا ہوا تھا، اس کے بول تھے:جگ والا میلہ یار تھوڑی دیر داہنسدیا ں رات لنگے پتا نیئں سویر دا یہ گیت پنجابی فلم ''لچھی‘‘کیلئے لکھا گیا تھا۔ جس سے ناظم صاحب کو اتنی مقبولیت ملی کہ فلمی دنیا میں اس کا طوطی بولنے لگا۔ناظم پانی پتی نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز لاہور سے کیا ۔ ان کے بڑے بھائی نامور فلمساز و ہدایت کار ولی صاحب گرامو فون کمپنیوں کے لئے گیت لکھا کرتے تھے ۔ ناظم صاحب نے بھی گیت لکھنے شروع کر دئیے۔ان کمپنیوں میں ہنر ماسٹر وائس ، اومیگا، کولمبیا اور جینو فون تھے۔ ان کمپنیوں کے موسیقار ماسٹر غلام حیدر ، ماسٹر جھنڈے خاں ، بھائی لال محمد ، ماسٹر عنایت حسین اور جی اے چشتی تھے۔ گیت نگاروں میں ولی صاحب ، عزیز کاشمری اور ناظم پانی پتی نمایاں شامل تھے۔لاہور میں بننے والی پنجابی فلم ''یملا جٹ‘‘بنی جو بے حد مقبول ہوئی۔ اس کے بعد لاہور ہی میں خزانچی ، منگتی، خاندان، دلا بھٹی، زمیدار، پونجی، چوہدری اور داسی جیسی فلمیں بنیں۔ ان فلموں نے ہندوستان میں مسلمان فنکاروں کی دھوم مچا دی ۔ ناظم پانی پتی بطور گیت نگار ، سکرین پلے رائٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ان تمام فلموں سے منسلک رہے ۔نامور صحا فی سعید ملک نے ناظم پانی پتی کا ان کی زندگی میں ایک طویل انٹرویو لیا جو انگریزی روزنامے میں پانچ قسطوں میں چھپا تھا۔ اس میں ناظم صاحب نے بعض بڑی دلچسپ باتیں بیان کی تھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ میں بمبئی علاقے باندرہ میں رہتا تھا۔ گھر کے قریب ایک پارک تھا۔ وہاں میں کبھی کبھار اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرنے چلا جاتا تھا۔ وہاں بدر الدین نام کا ایک نوجوان مجھ سے بڑی عقیدت اور ادب کے ساتھ پیش آتا تھا ، مجھے سگریٹ لا کر دیتا ، کبھی کبھی سر کی مالش بھی کیا کرتا تھا ۔ بدر الدین اس زمانے کے مشہور اداکاروں کی کامیاب نقل اتارا کرتا تھا ۔ ایک روز اس نے مجھ سے فلم میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، میں اسے ایک مقامی سٹوڈیو میں لے گیا جہاں جیل سے قیدیوں کا جیل سے فرار کا منظر فلمایا جا رہا تھا ۔ یہ فلم ''بازی‘‘تھی ۔ڈائریکٹر نے میری سفارش پر بدر الدین کو ایک شرابی کا رول دے دیا ۔ اس نے یہ رول اس خوبی سے ادا کیا کہ سب حیران رہ گئے ۔ اس دن سے وہ فلمی دنیا میں جانی واکر کے نام سے مشہور ہو گیا ۔ فلم میں اس کے ہاتھ میں جانی واکر شراب کی بوتل تھی ۔ شاید اسی مناسبت سے اور اس واقعہ سے اس نے اپنا یہ نام جانی واکر رکھ لیا۔نامور ڈانسر ہیلن کو بھی ناظم صاحب نے اپنے بھائی کی فلموں سے متعارف کرایا۔ بمبئی میں نام کمانے کے بعد 1952ء میں وہ اپنے بڑے بھائی ولی صاحب کے ساتھ لاہور آگئے اور ان کی تیار کردہ فلموں ''گڈی گڈا‘‘،''سوہنی کمیارن‘‘ اور ''مٹی دیاں مورتاں‘‘ سے منسلک ہو گئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر فلموں کیلئے بھی گیت لکھنے شروع کئے ۔ بالخصوص ان کی لکھی فلم ''لخت جگر‘‘کی لوری''چندا کی نگری سے آجا ری نندیا‘‘ پاکستان کی مقبول ترین لوریوں میں شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے شباب کیرا نوی کی فلم ''آئینہ‘‘ اور ''انسانیت‘‘کیلئے بھی گیت لکھے ۔ ایس ایم یوسف کی فلم''سہیلی‘‘اور رضا میر کی فلم ''بیٹی‘‘ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور کہانی نویس تھے۔پاکستان میں ٹیلی ویژن کے آنے پر موسیقی کے ابتدائی ہفتہ وار پروگرام ''جھنکار‘‘کیلئے انہوں نے متعدد گیت لکھے۔1966ء میں ریڈیو پاکستان سے جب کمرشل پروگرام اور اشتہارات شروع ہوئے تو ناظم صاحب اشتہاری کمپنیوں سے بطور سکرپٹ اور کاپی رائٹر منسلک ہو گئے ۔ یہاں بھی انہوں نے بہت نام کمایا اور یادگار سلوگن لکھے جن میں ''ہم تو جانے سیدھی بات، صابن ہو تو سات سو سات‘‘ اور''اٹھ میرے بیلیا پاڈان تیرے کول اے‘‘ شامل ہیں ۔ناظم پانی پتی کے قریبی دوستوں میں موسیقار خیام، نصیر انور، گلوکار سلیم رضا، اداکار ساقی، بھارتی فلمساز و ہدایتکار راجند بھاٹیہ، گلوکار جی ایم درانی ، سید شوکت حسین رضوی ، آغا جی اے گل ، رضا میر اور سعاد ت حسن منٹو شامل تھے ۔ یاد رہے کہ منٹو کو ان کی وفات پر ناظم صاحب نے ہی آخری غسل دیا اور کفنانے کا فریضہ ادا کیا۔ناظم پانی پتی نے زندگی کے آخری سال خاموشی اور گمنامی میں گزارے ۔ عمرہ ادا کیا اور واپسی پر یہ شعر موزوں کیا:پڑا رہ مدینے کی گلیوں میں ناظم تو جنت میں جا کر بھلا کیا کرے گا اپنی وفات (18 جون 1998 ء، لاہور) سے چند روز قبل ناظم پانی پتی نے میری ذاتی ڈائری پر اپنے ہاتھ سے یہ بند لکھا جو ان کی زندگی کی آخری تحریر اور تخلیق ثابت ہوئی :چراغ کا تیل ختم ہو چکا ہے زندگی کا کھیل ختم ہو چکا ہے سانس ہو رہے ہیں آزاد عرصہ جیل ختم ہو چکا ہے

آج کا دن

آج کا دن

روسی خلائی جہاز ''ووستوک 6‘‘ کی لانچنگ16 جون 1963ء کو روسی خلائی جہاز ''ووستوک 6‘‘ کو لانچ کیا گیا۔ اس خلائی سفر پر روانہ ہونے والی روسی خلانورد ویلنتینا تراش کوووا کو پہلی خاتون خلا نورد ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس سے قبل خلائی جہاز ''ووستوک 5‘‘ تکنیکی مسائل کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو گیا تھا جبکہ ''ووستوک 6‘‘ کی لانچنگ بغیر کسی دقت کے آگے بڑھی۔ مشن کے دوران خلائی پرواز کے دوران خواتین کے جسم کے ردعمل پر تحقیق کی گئی۔مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کیلئے نوبیل انعام1964ء میں آج کے دن امریکی سیاہ فاموں کے حقوق کے علمبردار مارٹن لوتھر کنگ کو نوبیل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر ایک امریکی پادری، حقوق انسانی کے علمبردار اور افریقی امریکی شہری حقوق کی مہم کے اہم رہنما تھے۔وہ نوبیل انعام حاصل کرنے والے سب سے کم عمر شخص تھے۔ 1968ء میں اپنے قتل سے پہلے انہوں نے غربت کے خاتمے اور جنگ ویتنام کی مخالفت کیلئے کوششیں کی اور دونوں کے حوالے سے مذہبی نقطہ نظر سامنے لائے۔ 4 اپریل 1968ء کو انہیں قتل کر دیا گیا۔بھوٹان پہلا ''نوسموکنگ ملک بنابھوٹان آج کے روز تمباکو پر مکمل پابندی لگانے والا پہلا ملک بنا۔''تمباکو کنٹرول ایکٹ ‘‘کو بھوٹان کی پارلیمنٹ نے 6 جون 2010ء کو اپنے ملک میں نافذ کیا اور 16 جون سے اس پرعملدرآمد شروع ہوا۔ اس ایکٹ میں یہ بھی لازمی قرار دیا گیا کہ بھوٹان کی حکومت تمباکو کے خاتمے میں سہولت اور علاج فراہم کرنے کی ذمہ دار ہو گی۔بھوٹان میں آئینی بادشاہت ہے، جس میں ایک بادشاہ ریاست کا سربراہ اور وزیر اعظم حکومت کے سربراہ کے طور پر ہوتا ہے۔

ان گرمیوں سے کہ دو کہیں دورجاپڑیں

ان گرمیوں سے کہ دو کہیں دورجاپڑیں

ابھی ہم ٹھنڈ گُزیدہ لوگ جاڑوں کی زم حریریوں اور ان کے آفٹر شاکس سے بمشکل سنبھل پائے تھے کہ گرمی کے عذاب نے آن لیا ۔سردی میں بھی تنگ رہے ،اب گرمی سے بھی نالاں ہیں ۔ یوں ہم کوئی بھی موسم سہنے کے لائق ہی نہیں رہے ۔جب جنوری میں سردی سے پالا پڑتا ہے تو ہر مرد وزن ،پیرو جواں یخ یخاہٹ،دندناہٹ اور کپکپاہٹ میں مبتلا رہتا ہے۔ شاعروں اور عاشقوں کے واسطے سردیاں نعمت جبکہ عمر رسیدہ جوڑوں اور عوام کیلئے زحمت بن جاتی ہیں۔سب نے ٹھنڈ کو اتنا برا بھلا کہا،اتنی بد دعائیں دیں کہ مئی میں وہ ہم کو بے رحم گرمی کے سپرد کرکے نو دو گیارہ ہوئی ۔گرمی سے تو عشاق اور شعراء بھی تنگ ہوتے ہیں ۔گرمی دانے اور موسلا دھار پسینے عاشق و معشوق دونوں کو نا قابل دید بنا دیتے ہیں اور کسی سے لَو لگ جانے کے باوجود لُو لگنے کے خوف سے صحرانوردی ناممکن ٹھہرتی ہے۔ اندر کی آتش ِعشق پر جون کی دھوپ نارِ جہنم کا استعارہ نہیں تو کیا ؟یخ بستہ فروری میں جو بات پینتالیس،چھیالیس اور سینتالیس تک پہنچی تھی اب مئی جون میں اڑتالیس سے بھی آگے دِکھ رہی ہے ۔پورا زمستاں بغیر نہائے گزارنے والے آج ٹیوب ویلوں، کھالوں اور جوہڑوں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ۔سردیوں میں مقوی ٹوٹکے آزمانے والے احباب اب راتوں کو آلو بخار ا، املی اور کاسنی بھگو کر رکھ رہے ہوتے ہیں۔ گرم انڈوں کے دلدادہ آج قلفی،تربوزاور گنے کا رس ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔البتہ اشرف المشروبات( چائے) ایسی ہے کافرہے جو اس دوزخ نما ماحول میں بھی منہ سے لگی نہ چھوٹے۔ بہت سے جوان دستِ حسرت ملتے ہیں کہ ان کے اجداد بٹوارے کے وقت روس کی ٹرین میں کیوں نہ بیٹھے۔ارے ان پاکستانی سردیوں سے مرے پڑوں کو بتلائو کہ روس میں ٹمپریچرمنفی چالیس تک گر جاتا ہے۔کچھ دانشوروں کی رائے ہے کہ مئی جون اورجولائی کو کیلنڈر سے نکالنے پر گرمی میں افاقہ ہو سکتا ہے ۔چند مردو زن کو شکوہ ہے کہ کپڑے دھوئیں تو فوراَ سوکھ جاتے ہیں اور پہن لیں تو اسی وقت گیلے ہو جاتے ہیں۔ سردی، خصوصاً دسمبر کی مدح میں شاعروں نے بہت کچھ لکھا مگر گرمیوں سے فقط گلہ ہی کیا ۔لگتا ہے میر تقی میر نے یہ شعر مئی جون میں ہی لکھا تھا ، گور کس دل جلے کی ہے یہ فلکشعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے البتہ حسرت موہانی کو دوپہر کی کڑکتی دھوپ میں محبوب کا ننگے پائوں چھت پر آنا مرتے دم تک یاد رہا ۔گرمیوں میں شاعروں کو محبوبائوں کے ساتھ ساتھ کالی گھٹائوںکا انتظار بھی رہتا ہے، جیسے!تپتے ہوئے صحرا سے جو بن برسے گزر جائیں ایسی بھی نہ مغرور ہوں ساون کی گھٹائیںگویا سردی وگرمی ہمیں راس نہیں،برسات سے ہمارے مکانوں کی دیواروں کا گرنا لوگوں کے رستوں پر منتج ہوتا ہے ۔خزاں ویسے کم نصیب موسم ہے ۔باقی رہا موسم بہار ،جو ہماری کج ادائی اور نازک ومتلون مزاجی کے موجب مکھی مچھر اور پولن الرجی کی آماجگاہ ہے، لہٰذاہماراکسی حال اور کسی موسم میں خوش نہ رہنا ہمارا بنیادی حق اور قومی مزاج بنتا جا رہا ہے۔ موسموں کی سختی پہلے بھی ایسے ہی ہوا کرتی تھی۔ ہمارے بچپن میں راتوں کو گرم لُوچلا کرتی اور سردیوں میں میدانی کھالوں میں پانی جم جایا کرتا تھا، مگر اس وقت وسائل کی کمی کے باعث ہمارا لائف سٹائل پُر تعیش نہ تھا۔ہر چیز قابلِ برداشت تھی ۔میعار زندگی بہت بہتر ہونے اور سائنسی ایجادات و سہولیات کی بھرمار نے ہمیں کاہل اور کم ہمت بنا دیا ہے (شایداسی لیے مولوی سائنس کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں)۔ اوپر سے درختوں اور فصلوں کی جگہ رہائشی سکیموں کا رجحان دیس کو صحرا بنانے کے مترادف ہے۔ آم کے ہزاروں باغات کا '' قتلِ آم ‘‘ قومی المیہ ہے۔ فطرت سے دور بھاگنے کا خطرناک کھیل جاری ہے۔یاد رکھو فطرت بہترین دوست ہے مگر بد ترین دشمن بھی بن سکتی ہے ۔طرز حیات بہتر ہوگا تو کارخانوں، ٹریفک وغیرہ کے اثرات بھی بھگتنا ہوں گے۔ صفائی نصف ایمان والی بات تو ویسے ہی قصہ پارینہ ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خوشحالی کے باوجود ہم تکلیف دہ زندگی گزار نے پر ہیں ۔پرانے دور میں سہولیات کم تھیں تو مدافعت بھی بہتر تھی۔ اب معاملات حیات میں اعتدال،ٖ فضول خرچی کی روک تھام اور ڈھیر ساری شجر کاری ہمارے مسائل کا دیر پا حل ہیں۔ آٹھ بڑے درخت نہ صرف آکسیجن کی بڑی فیکٹری ہیں بلکہ ایک ائیر کنڈیشنر کے برابر ماحول کو ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں ۔ ایسی قانون سازی لازم ہے کہ ملک میں ہر گھر اپنے سامنے دو درخت لگاکر پروان چڑھائے ورنہ جرمانہ عائد ہو ۔اگر ہم اپنی کاہلی اور مجرمانہ غفلت کی روش نہ بدلی اور صرف بے کار وبے کیف ترقی و خوشحالی میں مست رہے تو واقعی ہم کسی موسم میں خوش رہنے کے قابل نہیں رہیں گے ۔پھر بہادر شاہ ظفر جیسا بادشاہ اور شاعر کبھی'' ان سردیوں سے کہہ دو کہیں دور جا بسیں‘‘ لکھا کرے گا تو کبھی یوں رقم طراز ہوگا ! ان گرمیوں سے کہہ دو کہیں دور جا پڑیں اتنی سکت کہاں ہے طبعِ ریگزار میں 

جھیل سرال تک مشکل کے بعد حیرت

جھیل سرال تک مشکل کے بعد حیرت

کئی دن برف مزید رکاوٹ بنی رہتی تو ہم وہ تمام جھیلیں اور چراگاہیں دیلھ لیتے جنہیں چھوڑ کر ہم کبھی خلطی جھیل تک چلے جاتے ہیں اور کبھی پھنڈر لیک ہماری منزل ہوتی ہے۔ ناران میں طویل قیام ہمیں جھیل سرال تک لئے جاتا ہے کیونکہ اس سے آگے ہمیں بابوسر کی برف جانے نہیں دیتی۔ آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کی حدود پر واقع جھیل سرال اپنے قریب آنے والے سیاحوں کو کئی بار مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ پہلی مشکل تو یہ ہے کہ جھیل سرال تک کیسے پہنچا جائے۔ براستہ ناران یا پھر مظفر آباد سے شاردہ، یہ دوسری مشکل ہے۔ تیسرا امتحان وہاں تک ہائیکنگ کرنا ہے۔ خوبصورت منزل تک پہنچنا جتنا مسرور کرتا ہے اس سے زیادہ لطف تو راستے کی دشواریوں سے ملتا ہے۔ حسن فطرت تک جاتے جاتے جو مراحل طے ہوتے ہیں وہ بھی کم د لکش نہیں ہوتے۔ اسلام آباد سے گلگت جانے والے ہوائی مسافر جانتے ہیں کہ جہازی کپتان جن جھیلوں کا تعارف کرواتا ہے ان میں ایک جھیل سرال بھی ہے جو دن کی روشنی میں نگینے کی طرح گزرتے جاتے مناظر میں سے کچھ لمحے آنکھ میں ٹھہرتی ہے اور پھر اوجھل ہو جاتی ہے۔ یہ جھیل دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن چکی نیلگوں جھیلوں کے درمیان پہاڑی دیواروں کے بیچ یوں رکھی ہوئی ہے جیسے انگوٹھی میں نگینہ جڑا ہو۔ جھیل سیف الملوک ، آنسو جھیل ، دودی پت لیک اور رتی گلی کے پہلو میں موجود جھیل سرال اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ ناران سے بابو سر جانے والے سیاح جلکھڈ سے بذریعہ جیپ سرگن تک جا سکتے ہیں۔ سرگن سے نوری ٹاپ ٹریک پر جیپ چھوڑ کر پیدل چلتے ہوئے تین سے چار گھنٹے کی ہائیکنگ کے بعد تیرہ ہزار آٹھ سو فٹ بلند جھیل سرال آپ کے سامنے ہو گی۔جھیل کے ساتھ پہاڑی حصار تیرہ ہزار چھ سو فٹ سے بھی زیادہ بلند ہیں۔ سرال جھیل اور رتی گلی جھیل کے درمیان صرف نوری ٹاپ کا جیپ ٹریک اور پانچ گھنٹے کی پیدل مسافت ہے۔ جھیل سرال سے نانگا پربت کا بیس کیمپ بھی دور نہیں۔ آزاد کشمیر کی وادی نیلم کے گاؤں شاردہ سے تیتس کلومیٹر جبکہ وادی کاغان کی بستی جل کھڈ سے سترہ کلومیٹر دور یہ جھیل وادی کشمیر کی جھیل تسلیم کی جاتی ہے ، جس کے پاس جو چراگاہیں ہیں وہ ہر وقت گھوڑوں ، خچروں اور گدھوں کا رزق بنتی ہیں۔ قدرتی حسن سے بھرپور یہ جھیل برف لہجوں کے ساتھ اپنے کناروں پر اترنے والے کو خوش آمدید کہتی ہے۔ جون کے آخری ہفتے سے لے کر اگست کے آخری عشرے تک یہ جھیل اپنا نقاب ہٹاتی ہے۔ جھیل کے اطراف میں پھول ایسے کہ انہیں کم انسانی آنکھ نے دیکھا ہو گا اور رنگ اتنے کہ شمار سے باہر۔ جھیل کا بدن دور سے گول مٹول نظر آتا ہے اور قریب سے بے ترتیب بکھر چکا حسن۔ بیشمار جھیلوں کے لمس سے ذرا مختلف احساس اس جھیل کا ہے ، وہ اس لئے کہ یہاں بہت کم لوگ پہنچتے ہیں اور جو پہنچتے ہیں ان کے پاس پھیلانے کیلئے گند بہت کم ہوتا ہے۔ جس جس قدرتی شاہکار کی رسائی عام ہوئی لوگوں نے اس وادی کو دھندلا دیا۔ جھیل سیف الملوک جیسی پاکیزہ لیک کو آلودہ کرنے والے اگر گاڑیاں اور جیپیں لے کر سرال جھیل پہنچ جائیں تو جھیل کے پہلو میں آباد بے شمار رنگوں والے پھولوں کو مسل ڈالیں اور زعفرانی گھاس کچلی جائے۔ پاکستان میں گندگی اور آلودگی سے محفوظ وہی چراگاہیں اور جھیلیں رہ گئی ہیں جہاں تک راستہ آسان نہیں ہے ، ورنہ لوگوں نے تو فیری میڈوز کو بھی ریلوئے سٹیشن کی انتظار گاہ میں بدل ڈالا ہے۔ سرال لیک اب تک اس لئے قدرتی حسن سے مالا مال ہے کہ یہاں تک پہنچنا مشکل اور بدن توڑ کام ہے۔      

سیچوان کاتاریخی خزانہ

سیچوان کاتاریخی خزانہ

چین میں 3ہزار قبل دریائے مین جن کے کنارے سان ژن ژوئی تہذیب آباد تھی۔مشہور ہے کہ اس تہذیب کی نسل نے بھاری خزانہ کہیں چھپا رکھا تھا۔ اس خزانے کا معمولی سا حصہ چین کے صوبے سیچوان (Sichuan) میں بھی دریافت ہوا ہے۔وہاں قیمتی پتھروں ، ہاتھی کے دانتوں سے بنے ہوئے خوبصورت نمونوں اور کانسی کی اشیاء سے بھرے ہوئے ''صندوق‘‘ملے ہیں۔خزانے کے پہلے حصے کی دریافت 1939ء میں اور پھر 1986ء میں ہوئی تھی۔ ان کے نزدیک یہ نمونے اہم نہیں، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ یہ کس نسل نے، کس تہذیب کے لوگوں نے کب بنائے؟ماہرین آثار قدیمہ کواس بارے میںصحیح طور پر کچھ بھی معلوم نہیں۔وہ صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاید ان کا تعلق دریائے من چن پر آباد ترقی یافتہ من چن قوم سے ہو سکتا ہے، دریا کے کنارے ہی انہوں نے ترقی کی پھر اچانک صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ وہ کیوں غائب ہوئے ، کوئی نہیں جانتا۔ ماہرین آثار قدیمہ اور تاریخ دان اس تہذیب کے خاتمے کی وجوہات کو روایتی جنگوں یا خشک سالی میں تلاش کرتے رہتے ہیں مگر دریا کے قریب آباد قوم قحط کا شکار کیسے ہوئی؟ قرین قیاس یہی ہے کہ یہ قوم جنگجو قبیلوں پر مشتمل تھی اور علاقائی جنگوں کا شکار ہو کرمر مٹ گئی ۔ چند برس قبل ماہرین نے زلزلے کو بھی اس قوم کی تباہی کی وجہ قرار دیا ہے۔ زلزلوں کے خوفناک جھٹکوں نے دریائے من چن کو لینڈ سلائیڈ سے بھر دیا، یوں یہ قوم یا قبائل پانی کی تلاش میں نقل مکانی کر گئے۔