یادرفتگاں: سنتوش کمار

یادرفتگاں: سنتوش کمار

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد ارشد لئیق


لاثانی رومانوی ہیرونے پاکستان فلم انڈسٹری کی آبیاری میں نمایاں کردار ادا کیا
اداکار مصطفی قریشی نے ایک بار کہا تھا کہ لفظ ''ہیرو‘‘ بنا ہی سنتوش کمار کیلئے ہے۔ ان کی اس بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا، واقعی سنتوش کمار ایک لاثانی رومانوی ہیرو تھے، جنہوں نے پاکستانی فلمی صنعت کی آبیاری میں نمایاں کردار ادا کیا۔ پاکستان کے ابتدائی دور میں وہ، سدھیر کے بعد دوسرے مقبول ترین فلمی ہیرو تھے۔
سنتوش کمار پاکستانی فلمی صنعت کے ایک انتہائی باوقار اور پرکشش شخصیت کے حامل اداکار تھے۔اس دور کی متعدد یادگار فلموں میں کردارنگاری کرنے والے سنتوش کمار 25دسمبر1925ء کو لاہور میں پیدا ہوئے،اصل نام سید موسیٰ رضا تھا۔ انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے گریجویشن کی۔ ان کی پہلی فلم ''آہنسا‘‘ 1947ء میں ریلیز ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کی پہلی فلم ''بیلی‘‘تھی جو 1950ء میں سینما گھروں کی زینت بنی۔ پاکستان کی پہلی سلور جوبلی فلم '' دو آنسو‘‘ کے ہیرو بھی سنتوش کمار تھے، جس کے ہدایتکار انور کمال پاشا تھے ۔ سنتوش نے انور کمال پاشا کی متعدد فلموں میں کام کیا۔ اس جوڑی کی فلمیں ''قاتل‘‘ اور ''سرفروش‘‘ سپر ہٹ ثابت ہوئیں۔
وہ فطری اداکاری کرتے تھے اور انہوں نے کبھی اوور ایکٹنگ کا سہارا نہیں لیا۔ گانوں کی عکسبندی میں بھی ان کا کوئی جواب نہیں تھا۔ سنتوش کمار اپنے دور کے سپر سٹار تھے۔ انہوں نے زیادہ تر صبیحہ خانم کے ساتھ کام کیا جن کے ساتھ انہوں نے شادی بھی کی۔ صبیحہ اور سنتوش کی جوڑی اس زمانے میں مشہور ترین جوڑی تھی۔ جب کبھی پاکستانی فلمی صنعت کا کوئی وفد بیرون ملک جاتا تو سنتوش کو لازمی طور پر ساتھ بھیجا جاتا کیونکہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔
سنتوش کمار نے بطور پروڈیوسر ایک فلم ''شام ڈھلے‘‘بھی بنائی مگر وہ اس میدان میں کامیابی نہ سمیٹ سکے ۔ ڈبلیوزیڈ احمد کی یادگار فلم ''وعدہ‘‘ میں سنتوش کمار نے لا جواب اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ خاص طور پر اس کے گانوں کی پکچرائزیشن میں انہوں نے حیران کن صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس فلم کا ایک گیت ''تیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوں، جب ترے شہر سے گزرتا ہوں‘‘تو آج تک اپنی شہرت برقرار رکھے ہوئے ہے۔یہ گیت گلو کار شرافت حسین کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ سنتوش کمار کو ''وعدہ‘‘ میں بہترین اداکاری کرنے پر پہلا نگار ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے جن فلموں میں بھی کام کیا وہ اپنی بے مثال اداکاری کے نقوش چھوڑتے گئے۔ ''سرفروش‘‘ میں ان کے بولے گئے مکالمے ''چوری میرا پیشہ ہے، نماز میرا فرض ہے‘‘نے بہت شہرت حاصل کی۔ اداکارہ شمی کے ساتھ ان کی پنجابی فلم ''شمی‘‘ بھی کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔اس فلم کیلئے عنایت حسین بھٹی کے گائے ہوئے ایک گیت ''نی سو ہے جوڑے والیے ‘‘کو لازوال شہرت حاصل ہوئی۔
سنتوش کمار کی ایک اور یادگار فلم ''عشق لیلیٰ‘‘ تھی جس کے ہدایتکار منشی دل تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں جو فلم ریلیز ہوئی اس کا نام تھا ''لیلیٰ مجنوں‘‘۔ دونوں فلموں کا موضوع ایک ہی تھا اب یہ فیصلہ شائقین نے کرنا تھا کہ وہ کس فلم کو قبولیت کی سند عطا کرتے ہیں۔ لوگوں نے ''عشق لیلیٰ‘‘ کے حق میں فیصلہ دیا اور اس فلم میں سنتوش کمار کی اداکاری کو سو میںسے سو نمبر دیئے۔ سنتوش کمار نے مجنوں کا کردار ادا کیا تھا جبکہ صبیحہ خانم لیلیٰ کے روپ میں جلوہ گر ہوئی تھیں۔ ''عشق لیلیٰ‘‘ کے گیتوں نے بھی ہر طرف دھوم مچا دی تھی۔ خاص طور پر یہ گانا ''پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جائو‘‘ اقبال بانو نے جس خوبصورتی سے گایا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس فلم میں عنایت حسین بھٹی نے بھی ایک اعلیٰ درجے کا گیت گایا تھا جسے سنتوش کمار پر پکچرائز کیا گیا تھا۔ اس گیت کے بول تھے ''جگر چھلنی ہے دل گھبرا رہا ہے‘‘ محبت کا جنازہ جا رہا ہے‘‘۔ ان کی ایک اور فلم ''انتظار‘‘ کا ذکر نہ کرنا صریحاً نا انصافی ہوگی۔ اس فلم میں ان کی ہیروئن میڈم نور جہاں تھیں۔ میڈم نور جہاں نے جتنے اعلیٰ درجے کے گیت اس فلم میں گائے ان کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔ سنتوش کمار نے اس فلم میں ڈبل رول ادا کیا تھا اور اپنی خداداد صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا جس پر تمام فلمی پنڈت ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے لگے۔
سنتوش کمار نے 1965ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی رنگین فلم ''نائیلہ‘‘ میں بھی شاندار اداکاری کی۔ ان کی سنجیدہ اور جذباتی اداکاری نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کی دیگر مشہور فلموں میں ''چن وے، شہری بابو، نذرانہ، حمیدہ، سات لاکھ، مکھڑا، ناجی، موسیقار، گھونگھٹ، دامن، چنگاری، انجمن، پاک دامن اور مس ہپی‘‘ شامل ہیں۔
کریکٹر ایکٹر کی حیثیت سے بھی انہوں نے اپنے فن کا سکہ جمایا۔ ان کے بھائی عشرت عباس المعروف درپن بھی فلمی ہیرو تھے۔ ایک بھائی ایس سلیمان پاکستانی فلمی صنعت کے مشہور ہدایتکار تھے۔ جنہوں نے بے شمار کامیاب فلمیں بنائیں۔ ایک اور بھائی منصور بھی فلموں میں اداکاری کرتے رہے۔ 11 جون 1982ء کو جب سنتوش کمار عالم جاوداں کو سدھار گئے تو پوری پاکستانی فلمی صنعت غم کے سمندر میں ڈوب گئی۔ سنتوش کمار کا نام پاکستانی فلمی صنعت کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ان گرمیوں سے کہ دو کہیں دورجاپڑیں

ان گرمیوں سے کہ دو کہیں دورجاپڑیں

ابھی ہم ٹھنڈ گُزیدہ لوگ جاڑوں کی زم حریریوں اور ان کے آفٹر شاکس سے بمشکل سنبھل پائے تھے کہ گرمی کے عذاب نے آن لیا ۔سردی میں بھی تنگ رہے ،اب گرمی سے بھی نالاں ہیں ۔ یوں ہم کوئی بھی موسم سہنے کے لائق ہی نہیں رہے ۔جب جنوری میں سردی سے پالا پڑتا ہے تو ہر مرد وزن ،پیرو جواں یخ یخاہٹ،دندناہٹ اور کپکپاہٹ میں مبتلا رہتا ہے۔ شاعروں اور عاشقوں کے واسطے سردیاں نعمت جبکہ عمر رسیدہ جوڑوں اور عوام کیلئے زحمت بن جاتی ہیں۔سب نے ٹھنڈ کو اتنا برا بھلا کہا،اتنی بد دعائیں دیں کہ مئی میں وہ ہم کو بے رحم گرمی کے سپرد کرکے نو دو گیارہ ہوئی ۔گرمی سے تو عشاق اور شعراء بھی تنگ ہوتے ہیں ۔گرمی دانے اور موسلا دھار پسینے عاشق و معشوق دونوں کو نا قابل دید بنا دیتے ہیں اور کسی سے لَو لگ جانے کے باوجود لُو لگنے کے خوف سے صحرانوردی ناممکن ٹھہرتی ہے۔ اندر کی آتش ِعشق پر جون کی دھوپ نارِ جہنم کا استعارہ نہیں تو کیا ؟یخ بستہ فروری میں جو بات پینتالیس،چھیالیس اور سینتالیس تک پہنچی تھی اب مئی جون میں اڑتالیس سے بھی آگے دِکھ رہی ہے ۔پورا زمستاں بغیر نہائے گزارنے والے آج ٹیوب ویلوں، کھالوں اور جوہڑوں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ۔سردیوں میں مقوی ٹوٹکے آزمانے والے احباب اب راتوں کو آلو بخار ا، املی اور کاسنی بھگو کر رکھ رہے ہوتے ہیں۔ گرم انڈوں کے دلدادہ آج قلفی،تربوزاور گنے کا رس ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔البتہ اشرف المشروبات( چائے) ایسی ہے کافرہے جو اس دوزخ نما ماحول میں بھی منہ سے لگی نہ چھوٹے۔ بہت سے جوان دستِ حسرت ملتے ہیں کہ ان کے اجداد بٹوارے کے وقت روس کی ٹرین میں کیوں نہ بیٹھے۔ارے ان پاکستانی سردیوں سے مرے پڑوں کو بتلائو کہ روس میں ٹمپریچرمنفی چالیس تک گر جاتا ہے۔کچھ دانشوروں کی رائے ہے کہ مئی جون اورجولائی کو کیلنڈر سے نکالنے پر گرمی میں افاقہ ہو سکتا ہے ۔چند مردو زن کو شکوہ ہے کہ کپڑے دھوئیں تو فوراَ سوکھ جاتے ہیں اور پہن لیں تو اسی وقت گیلے ہو جاتے ہیں۔ سردی، خصوصاً دسمبر کی مدح میں شاعروں نے بہت کچھ لکھا مگر گرمیوں سے فقط گلہ ہی کیا ۔لگتا ہے میر تقی میر نے یہ شعر مئی جون میں ہی لکھا تھا ، گور کس دل جلے کی ہے یہ فلکشعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے البتہ حسرت موہانی کو دوپہر کی کڑکتی دھوپ میں محبوب کا ننگے پائوں چھت پر آنا مرتے دم تک یاد رہا ۔گرمیوں میں شاعروں کو محبوبائوں کے ساتھ ساتھ کالی گھٹائوںکا انتظار بھی رہتا ہے، جیسے!تپتے ہوئے صحرا سے جو بن برسے گزر جائیں ایسی بھی نہ مغرور ہوں ساون کی گھٹائیںگویا سردی وگرمی ہمیں راس نہیں،برسات سے ہمارے مکانوں کی دیواروں کا گرنا لوگوں کے رستوں پر منتج ہوتا ہے ۔خزاں ویسے کم نصیب موسم ہے ۔باقی رہا موسم بہار ،جو ہماری کج ادائی اور نازک ومتلون مزاجی کے موجب مکھی مچھر اور پولن الرجی کی آماجگاہ ہے، لہٰذاہماراکسی حال اور کسی موسم میں خوش نہ رہنا ہمارا بنیادی حق اور قومی مزاج بنتا جا رہا ہے۔ موسموں کی سختی پہلے بھی ایسے ہی ہوا کرتی تھی۔ ہمارے بچپن میں راتوں کو گرم لُوچلا کرتی اور سردیوں میں میدانی کھالوں میں پانی جم جایا کرتا تھا، مگر اس وقت وسائل کی کمی کے باعث ہمارا لائف سٹائل پُر تعیش نہ تھا۔ہر چیز قابلِ برداشت تھی ۔میعار زندگی بہت بہتر ہونے اور سائنسی ایجادات و سہولیات کی بھرمار نے ہمیں کاہل اور کم ہمت بنا دیا ہے (شایداسی لیے مولوی سائنس کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں)۔ اوپر سے درختوں اور فصلوں کی جگہ رہائشی سکیموں کا رجحان دیس کو صحرا بنانے کے مترادف ہے۔ آم کے ہزاروں باغات کا '' قتلِ آم ‘‘ قومی المیہ ہے۔ فطرت سے دور بھاگنے کا خطرناک کھیل جاری ہے۔یاد رکھو فطرت بہترین دوست ہے مگر بد ترین دشمن بھی بن سکتی ہے ۔طرز حیات بہتر ہوگا تو کارخانوں، ٹریفک وغیرہ کے اثرات بھی بھگتنا ہوں گے۔ صفائی نصف ایمان والی بات تو ویسے ہی قصہ پارینہ ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خوشحالی کے باوجود ہم تکلیف دہ زندگی گزار نے پر ہیں ۔پرانے دور میں سہولیات کم تھیں تو مدافعت بھی بہتر تھی۔ اب معاملات حیات میں اعتدال،ٖ فضول خرچی کی روک تھام اور ڈھیر ساری شجر کاری ہمارے مسائل کا دیر پا حل ہیں۔ آٹھ بڑے درخت نہ صرف آکسیجن کی بڑی فیکٹری ہیں بلکہ ایک ائیر کنڈیشنر کے برابر ماحول کو ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں ۔ ایسی قانون سازی لازم ہے کہ ملک میں ہر گھر اپنے سامنے دو درخت لگاکر پروان چڑھائے ورنہ جرمانہ عائد ہو ۔اگر ہم اپنی کاہلی اور مجرمانہ غفلت کی روش نہ بدلی اور صرف بے کار وبے کیف ترقی و خوشحالی میں مست رہے تو واقعی ہم کسی موسم میں خوش رہنے کے قابل نہیں رہیں گے ۔پھر بہادر شاہ ظفر جیسا بادشاہ اور شاعر کبھی'' ان سردیوں سے کہہ دو کہیں دور جا بسیں‘‘ لکھا کرے گا تو کبھی یوں رقم طراز ہوگا ! ان گرمیوں سے کہہ دو کہیں دور جا پڑیں اتنی سکت کہاں ہے طبعِ ریگزار میں 

جھیل سرال تک مشکل کے بعد حیرت

جھیل سرال تک مشکل کے بعد حیرت

کئی دن برف مزید رکاوٹ بنی رہتی تو ہم وہ تمام جھیلیں اور چراگاہیں دیلھ لیتے جنہیں چھوڑ کر ہم کبھی خلطی جھیل تک چلے جاتے ہیں اور کبھی پھنڈر لیک ہماری منزل ہوتی ہے۔ ناران میں طویل قیام ہمیں جھیل سرال تک لئے جاتا ہے کیونکہ اس سے آگے ہمیں بابوسر کی برف جانے نہیں دیتی۔ آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کی حدود پر واقع جھیل سرال اپنے قریب آنے والے سیاحوں کو کئی بار مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ پہلی مشکل تو یہ ہے کہ جھیل سرال تک کیسے پہنچا جائے۔ براستہ ناران یا پھر مظفر آباد سے شاردہ، یہ دوسری مشکل ہے۔ تیسرا امتحان وہاں تک ہائیکنگ کرنا ہے۔ خوبصورت منزل تک پہنچنا جتنا مسرور کرتا ہے اس سے زیادہ لطف تو راستے کی دشواریوں سے ملتا ہے۔ حسن فطرت تک جاتے جاتے جو مراحل طے ہوتے ہیں وہ بھی کم د لکش نہیں ہوتے۔ اسلام آباد سے گلگت جانے والے ہوائی مسافر جانتے ہیں کہ جہازی کپتان جن جھیلوں کا تعارف کرواتا ہے ان میں ایک جھیل سرال بھی ہے جو دن کی روشنی میں نگینے کی طرح گزرتے جاتے مناظر میں سے کچھ لمحے آنکھ میں ٹھہرتی ہے اور پھر اوجھل ہو جاتی ہے۔ یہ جھیل دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن چکی نیلگوں جھیلوں کے درمیان پہاڑی دیواروں کے بیچ یوں رکھی ہوئی ہے جیسے انگوٹھی میں نگینہ جڑا ہو۔ جھیل سیف الملوک ، آنسو جھیل ، دودی پت لیک اور رتی گلی کے پہلو میں موجود جھیل سرال اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ ناران سے بابو سر جانے والے سیاح جلکھڈ سے بذریعہ جیپ سرگن تک جا سکتے ہیں۔ سرگن سے نوری ٹاپ ٹریک پر جیپ چھوڑ کر پیدل چلتے ہوئے تین سے چار گھنٹے کی ہائیکنگ کے بعد تیرہ ہزار آٹھ سو فٹ بلند جھیل سرال آپ کے سامنے ہو گی۔جھیل کے ساتھ پہاڑی حصار تیرہ ہزار چھ سو فٹ سے بھی زیادہ بلند ہیں۔ سرال جھیل اور رتی گلی جھیل کے درمیان صرف نوری ٹاپ کا جیپ ٹریک اور پانچ گھنٹے کی پیدل مسافت ہے۔ جھیل سرال سے نانگا پربت کا بیس کیمپ بھی دور نہیں۔ آزاد کشمیر کی وادی نیلم کے گاؤں شاردہ سے تیتس کلومیٹر جبکہ وادی کاغان کی بستی جل کھڈ سے سترہ کلومیٹر دور یہ جھیل وادی کشمیر کی جھیل تسلیم کی جاتی ہے ، جس کے پاس جو چراگاہیں ہیں وہ ہر وقت گھوڑوں ، خچروں اور گدھوں کا رزق بنتی ہیں۔ قدرتی حسن سے بھرپور یہ جھیل برف لہجوں کے ساتھ اپنے کناروں پر اترنے والے کو خوش آمدید کہتی ہے۔ جون کے آخری ہفتے سے لے کر اگست کے آخری عشرے تک یہ جھیل اپنا نقاب ہٹاتی ہے۔ جھیل کے اطراف میں پھول ایسے کہ انہیں کم انسانی آنکھ نے دیکھا ہو گا اور رنگ اتنے کہ شمار سے باہر۔ جھیل کا بدن دور سے گول مٹول نظر آتا ہے اور قریب سے بے ترتیب بکھر چکا حسن۔ بیشمار جھیلوں کے لمس سے ذرا مختلف احساس اس جھیل کا ہے ، وہ اس لئے کہ یہاں بہت کم لوگ پہنچتے ہیں اور جو پہنچتے ہیں ان کے پاس پھیلانے کیلئے گند بہت کم ہوتا ہے۔ جس جس قدرتی شاہکار کی رسائی عام ہوئی لوگوں نے اس وادی کو دھندلا دیا۔ جھیل سیف الملوک جیسی پاکیزہ لیک کو آلودہ کرنے والے اگر گاڑیاں اور جیپیں لے کر سرال جھیل پہنچ جائیں تو جھیل کے پہلو میں آباد بے شمار رنگوں والے پھولوں کو مسل ڈالیں اور زعفرانی گھاس کچلی جائے۔ پاکستان میں گندگی اور آلودگی سے محفوظ وہی چراگاہیں اور جھیلیں رہ گئی ہیں جہاں تک راستہ آسان نہیں ہے ، ورنہ لوگوں نے تو فیری میڈوز کو بھی ریلوئے سٹیشن کی انتظار گاہ میں بدل ڈالا ہے۔ سرال لیک اب تک اس لئے قدرتی حسن سے مالا مال ہے کہ یہاں تک پہنچنا مشکل اور بدن توڑ کام ہے۔      

سیچوان کاتاریخی خزانہ

سیچوان کاتاریخی خزانہ

چین میں 3ہزار قبل دریائے مین جن کے کنارے سان ژن ژوئی تہذیب آباد تھی۔مشہور ہے کہ اس تہذیب کی نسل نے بھاری خزانہ کہیں چھپا رکھا تھا۔ اس خزانے کا معمولی سا حصہ چین کے صوبے سیچوان (Sichuan) میں بھی دریافت ہوا ہے۔وہاں قیمتی پتھروں ، ہاتھی کے دانتوں سے بنے ہوئے خوبصورت نمونوں اور کانسی کی اشیاء سے بھرے ہوئے ''صندوق‘‘ملے ہیں۔خزانے کے پہلے حصے کی دریافت 1939ء میں اور پھر 1986ء میں ہوئی تھی۔ ان کے نزدیک یہ نمونے اہم نہیں، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ یہ کس نسل نے، کس تہذیب کے لوگوں نے کب بنائے؟ماہرین آثار قدیمہ کواس بارے میںصحیح طور پر کچھ بھی معلوم نہیں۔وہ صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاید ان کا تعلق دریائے من چن پر آباد ترقی یافتہ من چن قوم سے ہو سکتا ہے، دریا کے کنارے ہی انہوں نے ترقی کی پھر اچانک صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ وہ کیوں غائب ہوئے ، کوئی نہیں جانتا۔ ماہرین آثار قدیمہ اور تاریخ دان اس تہذیب کے خاتمے کی وجوہات کو روایتی جنگوں یا خشک سالی میں تلاش کرتے رہتے ہیں مگر دریا کے قریب آباد قوم قحط کا شکار کیسے ہوئی؟ قرین قیاس یہی ہے کہ یہ قوم جنگجو قبیلوں پر مشتمل تھی اور علاقائی جنگوں کا شکار ہو کرمر مٹ گئی ۔ چند برس قبل ماہرین نے زلزلے کو بھی اس قوم کی تباہی کی وجہ قرار دیا ہے۔ زلزلوں کے خوفناک جھٹکوں نے دریائے من چن کو لینڈ سلائیڈ سے بھر دیا، یوں یہ قوم یا قبائل پانی کی تلاش میں نقل مکانی کر گئے۔  

آج کا دن

آج کا دن

برطانوی افواج نے ہتھیار ڈالےدوسری عالمی جنگ کے دوران 12جون 1940ء میں برطانیہ اور فرانس کے 13ہزار فوجیوں نے جرمن جرنیل اریرون رومیل جسے صحرائی لومڑی بھی کہا جاتا تھا کہ سامنے ہتھیار ڈا ل دئیے۔ اتنی بڑی تعداد میں ہتھیار ڈالنے کے بعد افواج کا مورال زوال پذیر ہو گیا۔سینٹ ویلری کے مقام پر جرمنی نے فرانسیسی افواج کو شکست سے دوچار کیا اور اس کے فوراً بعد اس علاقے پر قبضہ کر لیا گیا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران یہ اتحادی افواج کی بہت بڑی شکست تھی۔سری لنکا میں قتل عام12جون 1991ء کو سری لنکا کے مشرقی صوبے کے قصبے بٹیکالوا کے قریب گاؤں کوکڈی چچولائی میں لنکن تامل شہریوں کا قتل عام کیا گیا۔ اس قتل عام سے سری لنکا میں امن و اما ن کی صورتحال بگڑنے لگی جس کے بعد قتل عام کی تحقیقات کیلئے ایک تحقیقاتی صدارتی کمیشن بنا یا گیا۔ جس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ قتل عام کی وجہ کمانڈنگ افسر کی لاپرواہی اور اپنے اہلکاروں کو قابومیں نہ رکھنا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے بعداسے عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔قتل عام میں ملوث دیگر 19 اہلکاروں کی نشاندہی کرنے کے بعد ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی گئی۔روس کا قومی دنیومِ روس کو 2002ء سے پہلے ریاستی خودمختاری کے اعلان کو اپنانے کا دن کہا جاتا ہے، ان دن قومی تعطیل بھی منائی جاتی ہے۔ یہ دن 1992 ء سے ہر سال 12 جون کو منایا جاتا ہے۔ 12 جون 1990 کو روسی سوویت فیڈریٹو سوشلسٹ ریپبلک (RSFSR) کے ریاستی خودمختاری کے اعلان کو اپنانے کی یاد میں مناجاتا ہے۔ عوامی نمائندوں کی پہلی کانگریس کے اس اعلامیے کی منظوری نے روسی سوویت ریاست میں آئینی اصلاحات کا آغاز کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس دن جدید روس کی بنیاد رکھی گئی تو بالکل غلط نہ ہو گا۔فرانس کے فضائی حادثاتدو ایئر فرانس ڈگلس ڈی سی ۔4 طیارے جون 1950 میں دو دن کے وقفے سے ایک دوسرے سے چند میل کے فاصلے پر ایک ہی طرح کے حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوئے۔ یہ دو حادثات، 12 اور 14 جون کو اس وقت ہوئے جب طیارے سائیگون سے پیرس جا رہے تھے۔دونوں طیارے کراچی ایئرپورٹ پر رکے تھے اور بحرین جاتے ہوئے سمندر میں گر کر تباہ ہو گئے۔دونوں حادثات میں کل 86 مسافر اور عملہ ہلاک ہوئے۔ 12 جون کو 46 اور 14 جون کو 40افراد ہلاک ہوئے۔12 جون کو 6 اور 14 جون کو 13افراد زندہ بچ گئے ۔

دہشت گرد اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی لسٹ آف شیم

دہشت گرد اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی لسٹ آف شیم

غزہ کی وزارت صحت نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ سات اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی جارحیت اور ہٹ دھرمی کے باعث کم از کم 36731 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں (بدقسمتی سے یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے ) جس میں کثیر تعداد میں عورتوں کے ساتھ ساتھ 15ہزار 500 بچے بھی شامل ہیں۔اسرائیل کے سمندری ، زمینی اور فضائی حملوں میں اب تک 85ہزار530 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق شمالی غزہ میں قحط کی وجہ سے مسلسل بچے ہلاک ہو رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ ہفتے غزہ میں کم از کم پانچ میں سے چار بچے 72 گھنٹوں میں پورا ایک دن خوراک کے بغیر رہے ہیں۔فلسطینی حکومت کے ایک بیان کے مطابق کم از کم 32 افراد جن میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی اس جاری جنگ کے آغاز میں خوراک کی عدم دستیابی کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔اگرچہ نہتے فلسطینیوں پراسرائیلی مظالم کی کارروائیاں ایک عرصے سے جاری ہیں جس کے تناظر میں گزشتہ 15 سالوں سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم '' ہیومن رائٹس واچ‘‘سمیت متعدد عالمی تنظیمیں اقوام متحدہ پر دبائو ڈالتی آ رہی ہیں کہ اسرائیل کی اس علاقائی دہشتگردی کو فی الفور روکا جائے اور اسے '' لسٹ آف شیم‘‘ میں بھی شامل کرے۔ حسب معمول اقوام متحدہ جو امریکی آشیرباد کا شکار ہے دنیا بھر کی امن پسند تنظیموں کی اپیلوں کو نظر انداز کرتا رہا ہے جس کی وجہ سے اسرائیلی مظالم اور دیدہ دلیری کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی ہے۔لیکن اب پچھلے چند سالوں سے عالمی برادری کے مسلسل دباو نے جب اقوام متحدہ کی غیرت کو جھنجھوڑا تو 2022ء میں اقوام متحدہ کو مجبوراً اسرائیل کو یہ تنبیہ جاری کرنا پڑی کہ اگر اس نے انسانی حقوق بالخصوص بچوں کے حقوق کی پامالی کا سلسلہ بند نہ کیا تو اسے '' لسٹ آف شیم‘‘ کا حصہ بنا دیا جائے گا۔ امریکی سرپرستی کے نشے میں بدمست اسرائیل نے نہ تو عالمی انسانی تنظیموں کی تنبیہ کی پرواہ کی اور نہ ہی اقوام متحدہ کی۔بالآخر اقوام متحدہ نے چند روز قبل بچوں کو خطرے سے دوچار کرنے والی ریاستوں اور مسلح تنظیموں کی عالمی فہرست میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے اسرائیل کو ''لسٹ آف شیم‘‘ میں شامل کر لیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل کے نمائندہ برائے اقوام متحدہ گیلاد اردان کو باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کے اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے حالانکہ اس لسٹ پر بحث اور اس کا اجراء ابھی زیر التوا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس دونوں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور اپنی اپنی جنگ میں بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے اسرائیل غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید بین الاقوامی تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ابھی چند ہفتے قبل اسرائیل کے ہوائی حملوں میں متعدد بے گناہ شہری بشمول بچوں کے جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس کارروائی کے فوری بعد اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر یہ جنگ جاری رہی تو غزہ میں دس لاکھ سے زائد فلسطینی اگلے ماہ کے وسط تک بھوک کی بلند ترین سطح کا سامنا کر سکتے ہیں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے اقوام متحدہ شام، یمن ، داعش ، بوکو حرام ، افغانستان ، صومالیہ اور روس کو بھی اس فہرست میں شامل کر چکا ہے۔ قاعدے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اس حوالے سے ہرسال سلامتی کونسل کو ایک فہرست بھیجتے ہیں اور پھر سلامتی کونسل کی ایک کمیٹی ان الزامات کا بنظر غائر جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کرتی ہے کہ آیا ان الزامات کی روشنی میں متعلقہ ملک ، ممالک یا تنظیموں پر کارروائی کا جواز بنتا ہے کہ نہیں۔سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران ہیں جن میں سے ایک امریکہ بھی ہے جو اپنے دیرینہ اتحادی ملک اسرائیل کے خلاف کارروائی سے گریز کرتا ہے۔اسی طرح روس بھی اسی سلامتی کونسل کا ایک مستقل ممبر ہے۔جب گزشتہ سال اقوام متحدہ نے روسی افواج کو یوکرین میں بچوں کو قتل کرنے، سکولوں اور ہسپتالوں پر حملوں کے الزام میں اس کا نام '' لسٹ آف شیم‘‘ میں ڈالا تو سلامتی کونسل اس پر کوئی کارروائی نہ کر سکی تھی۔ گزشتہ سال اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ کے دیباچے میں لکھا تھا کہ یہ فہرست بچوں کے قتل اور معذوری، عصمت دری اور بچوں کے خلاف ہونے والے جنسی تشدد کی دیگر اقسام، سکولوں ، سپتالوں اور عام شہریوں پر حملے کے دو فریقوں پر مشتمل ہے ۔ اس سال کی فہرست مرتب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ایک ترجمان سٹیفن دوجارک نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر گیلاد اردان کو فون پر مطلع کر دیا گیا ہے کہ اسرائیل کا نام لسٹ آف شیم میں شامل کیا گیا ہے جبکہ حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد گروپوں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے۔لسٹ میں شامل ممالک کا ردعمل اسرائیل نے اس اعلان کے بعد انتہائی غصے کے ساتھ اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندہ گیلاد اردان نے اقوام متحدہ کے متعلقہ سربراہ کو ڈانٹ ڈپٹ کی ایک ویڈیو بھیجی اور اسے ''ایکس‘‘پر پوسٹ بھی کر دیا۔ گیلاد نے اپنے بیان میں لکھا ''حماس سکولوں اور ہسپتالوں کا استعمال مزید جاری رکھے گا کیونکہ سیکرٹری جنرل کے اس شرمناک فیصلے ( لسٹ آف شیم ) سے حماس کو صرف زندہ رہنے اور جنگ کو بڑھانے اور مصائب کو بڑھانے کی امید ملے گی۔ جواباً اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا ''یہ کال ان ممالک کیلئے تھی جو رپورٹ کے ضمیمہ پر نئے درج ہوئے ہیں‘‘۔ ''ایکس ‘‘ پر اس ریکارڈنگ کی جزوی ریلیز حیران کن اور ناقابل قبول ہے اور واضح طور پر میں نے اپنے 24 سالوں میں اس تنظیم کی خدمت کرتے ہوئے کبھی اس طرح کا عمل نہیں دیکھا ‘‘۔ اس لسٹ میں شمولیت پر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن یاہو کا رد عمل اس طرح تھا ، ''اقوام متحدہ نے خود کو آج تاریخ کی بلیک لسٹ میں ڈال دیا ہے‘‘۔ اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر نے کہا '' اسرائیل کو لسٹ آف شیم ‘‘ میں شامل کرنے سے ہمارے ہزاروں بچے تو واپس نہیں آ سکتے جو کئی دہائیوں میں اسرائیل کے ہاتھوں مارے گئے تھے تاہم یہ ایک درست سمت میں اہم قدم ہے۔لسٹ آف شیم ہے کیا ؟ '' لسٹ آف شیم‘‘ کی اصطلاح بہت سارے لوگوں کیلئے شاید نئی ہو اس لئے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس اصطلاح کا مقصد کیا ہے؟۔ لفظی طور پر تو اس فہرست بارے یہی کہا جا سکتا ہے کہ اقوام عالم کی نظروں کے سامنے عالمی انسانی حقوق اور قوانین کی سرعام بے حرمتی کرنے والے ممالک کو '' شرم دلانے والی فہرست ‘‘۔ یا ''کالے کرتوتوں والی فہرست ‘‘۔ لیکن اقوام متحدہ کی طرف سے متعارف کردہ یہ فہرست صرف بچوں پر ڈھائے گئے مظالم اور ان کو حاصل تمام بنیادی حقوق کی پامالی کا احاطہ کرتی ہے۔ بنیادی طور پر اقوام متحدہ کے امن بحال کرنے والے ادارے سارا سال دنیا بھر میں جاری جنگوں ، کشیدگی اور جاری تخریبی کارروائیوں میں بچوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خصوصی نظر رکھے ہوتے ہیں۔بچوں کیخلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی صورت میں وہ متعلقہ ملک یا تنظیم کو بار بار تنبیہ کرتے ہیں اور باز نہ آنے کی صورت میں سال کے اختتام پر ان کا نام ''لسٹ آف شیم ‘‘ نامی فہرست میں ڈال دیتے ہیں۔  

آج کا دن

آج کا دن

ووہان کی جنگ''ووہان کی جنگ‘‘ کو چین کے لوگ ووہان کے دفاع کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ یہ چین اور جاپان کی دوسری بڑی جنگ تھی۔اس جنگ کے دوران جاپان نے چین کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا اور کئی صوبوں میں افواج داخل کرنے کی کوشش کی ۔جنگ کے دوران ووہان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی تو چین کی جانب سے کئی رضاکار فوجیوں نے بھی اس میںحصہ لیا۔ جاپان کو سوویت فضائیہ کے پائیلٹس کی مدد بھی حاصل تھی۔جنگ کا آغاز 11جون 1938ء کو ہوا۔ووہان جنگ کے دوران دونوں جانب سے بھاری جانی نقصان ہوا ،ایک محتاط اندازے کے مطابق اس لڑائی میں تقریباً12لاکھ فوجی اور عام شہری ہلاک ہوئے۔ موٹر سپورٹس کا مہلک ترین حادثہ11جون 1955ء کو سوئٹزرلینڈ میں موٹر سپورٹس کا مہلک ترین حادثہ پیش آیا۔ لی مینس موٹر ریس کے دوران حادثہ اس وقت پیش آیا جب جیگوار کے ڈرائیور نے آسٹن ہلی کے ڈرائیور کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کی۔ غٓڑیاں آپس میں ٹکرا کر الٹ گئیں اورٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں۔ گاڑیوں کے ٹکڑے ہجوم میں جا کر گرے جس سے 83 تماشائی اور فرانسیسی ڈرائیور پیئر لیویگ ہلاک اور 120 کے قریب افراد زخمی ہوئے۔ یہ موٹر اسپورٹس میں اب تک کا سب سے مہلک حادثہ ہے۔ جس نے سوئٹزرلینڈ کو ملک بھر میں موٹر اسپورٹس پر مکمل پابندی عائد کرنے پر مجبور کیا جو 2022ء تک جاری رہا۔براڈ سٹریٹ ہنگامے11جون1837ء کو بوسٹن میساچوٹس میں آئرش امریکیوں اور یانکی فائر فائٹرز کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق اس لڑائی میں تقریباً800 افراد شامل تھے۔اس لڑائی کو دیکھنے والوں کی تعدادتقریباً10ہزار تھی ۔ اس ہنگامے کے دوران آس پاس کے گھروں میںتوڑ پھوڑ کی گئی اور عام لوگوں کومارا پیٹا بھی گیا۔دونوں اطراف سے لوگوں نے ایک دوسرے پر حملے کئے لیکن اس لڑائی میں کوئی بھی جانی نقصان نہیںہوا۔کئی گھنٹوں کے ہنگاموں کے بعد شہر کے مئیر نے پولیس کی اضافی نفری منگوائی جس کے بعداس پر قابو پا لیا گیا۔لائم لائٹ سٹوڈیولائم لائٹ کو دنیا کے قدیم ترین فلم سٹوڈیوز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کا آغاز 11جون 1898ء کو ہوا تھا۔ اس کو ابتدائی طور پر میلبورن، آسٹریلیا میں سالویشن افواج کے ذریعے چلایا گیا۔ لائم لائٹ ڈیپارٹمنٹ تقریباً19سال کام کرتا رہا او ر اس دوران اس میں 300سے زائد فلمیں بنائی گئیںجو اپنے وقت کی مقبول اور بڑی فلمیں مانی جاتی ہیں۔لائم لائٹ کو فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا کیونکہ یہاں ہر شعبے میں بہترین کام کرنے والے لوگ موجود تھے۔اس سٹوڈیو کو اس دو ر کی تمام جدید سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔۰