کیا سورج اور چاند زلزلے پیدا کر سکتے ہیں؟
اسپیشل فیچر
زلزلے ہمیشہ سے زمین کے سب سے پراسرار اور تباہ کن قدرتی مظاہر میں شمار ہوتے ہیں۔ ماہرینِ ارضیات بتاتے ہیں کہ ان کی بنیادی وجہ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت اور ان کے درمیان جمع ہونے والا بے پناہ دباؤ ہے، لیکن ایک عرصے سے سائنسدان یہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ بعض مخصوص قسم کی زلزلہ نما سرگرمیوں کا تعلق سورج اور چاند کی کششِ ثقل سے بھی ہو سکتا ہے۔پیرس کی پی ایس ایل یونیورسٹی میں یشو ژو (Yishuo Zhou) کی قیادت میں ارضیاتی سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق سورج اور چاند زمین پر صرف سمندری مدوجزر ہی پیدا نہیں کرتے بلکہ ان کی کششِ ثقل زمین کی ٹھوس چٹانوں اور زمینی پرت کو بھی معمولی مقدار میں کھینچتی اور دباتی ہے۔ اگرچہ یہ دباؤ انتہائی کم ہوتا ہے تاہم بعض مخصوص حالات میں یہ پہلے سے دباؤ کا شکار فالٹ کو حرکت دینے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ سائنسدانوں نے ایک ایسے طریقہ کار کی نشاندہی کی ہے جسے گونج (Resonance) کہا جاتا ہے، یہی ممکنہ طور پر اس معمولی دباؤ کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
سورج اور چاند زمین کی ٹھوس چٹانوں کو متاثر کرتے ہیں
عام طور پر جب ہم مدوجزر کا ذکر کرتے ہیں تو ذہن میں سمندر کا پانی آتا ہے۔ چاند کی کششِ ثقل سمندروں کے پانی کو اپنی طرف کھینچتی ہے، جس کے نتیجے میں مدوجزر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی کشش زمین کی ٹھوس پرت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ سورج بھی اپنی بے پناہ کششِ ثقل کے باعث زمین پر اسی نوعیت کے اثرات مرتب کرتا ہے۔تحقیق کے مطابق سورج اور چاند کی وجہ سے زمین کی پرت پر پیدا ہونے والا دباؤ عام طور پر چند کلوپاسکل کے برابر ہوتا ہے۔ بظاہر یہ بہت معمولی مقدار ہے حتیٰ کہ اسے ایک ہلکے ہاتھ سے دبانے کے برابر قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود بعض فالٹس ایسے ہوتے ہیں جو پہلے ہی ٹیکٹونک قوتوں کے باعث انتہائی نازک حالت میں پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ ایسے فالٹ پر ایک معمولی اضافی دباؤ بھی حرکت کا آغاز کر سکتا ہے۔
معمولی دباؤ کیسے بڑا اثر پیدا کر سکتا ہے؟
پی ایس ایل یونیورسٹی پیرس کے ماہرین کی اس تحقیق کا سب سے دلچسپ پہلوResonance کا تصور ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے جھولے کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اگر کسی جھولے کو بے ترتیب انداز میں دھکا دیا جائے تو اس کی حرکت بہت زیادہ نہیں بڑھے گی لیکن اگر ہر بار بالکل مناسب وقت پر دھکا دیا جائے تو چھوٹا سا دھکا بھی جھولے کی حرکت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق فالٹ لائن کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ ہر فالٹ کی اپنی مخصوص خصوصیات ہوتی ہیں، جن میں چٹانوں کے درمیان رگڑ، ان کی حرکت کی رفتار اور رابطے کی حالت شامل ہیں۔ تحقیق میں ایک ایسے ماڈل کا استعمال کیا گیا جس میں فالٹ کے ایک چھوٹے حصے کو سپرنگ اور بلاک کے نظام کی طرح تصور کیا گیا۔اگر مدوجزری دباؤ کی شدت اور اس کا دورانیہ فالٹ کے قدرتی ردِعمل کے وقت کے ساتھ مطابقت پیدا کر لے تو معمولی سا دباؤ بھی فالٹ کی حرکت کو بڑھا سکتا ہے۔اس تحقیق کا تعلق خاص طور پر سست زلزلوں سے ہے۔ عام زلزلوں کے برعکس سست زلزلوں میں توانائی طویل عرصے میں خارج ہوتی ہے۔ بعض اوقات یہ حرکت اتنی آہستہ ہوتی ہے کہ سطحِ زمین پر موجود انسان اسے محسوس ہی نہیں کر پاتے۔ نئی کمپیوٹر ماڈلنگ اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ بعض فالٹس میں یہ تعلق کیوں پیدا ہوتا ہے تاہم ہر فالٹ کا ردِعمل ایک جیسا نہیں ہوتا۔ بعض جگہ معمولی مدوجزری قوت صرف آہستہ حرکت پیدا کر سکتی ہے جبکہ کسی دوسرے فالٹ میں مخصوص شدت اور وقت کے ساتھ یہی قوت نسبتاً تیز حرکت کا سبب بن سکتی ہے۔
کیا اس دریافت سے بڑے زلزلوں کی پیش گوئی ممکن ہو جائے گی؟
یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے لیکن اس کا جواب فی الحال محتاط انداز میں دینا ضروری ہے۔یہ تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ پورے چاند، نئے چاند یا کسی خاص دن کو لازماً بڑا زلزلہ آئے گا۔ اسی طرح یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ سورج اور چاند بڑے تباہ کن زلزلوں کے بنیادی اسباب ہیں۔یہ تحقیق دراصل یہ بتاتی ہے کہ پہلے سے دباؤ میں موجود بعض فالٹس پر مدوجزری قوت ایک محرک کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر سائنسدان زلزلہ نما سرگرمی اور مدوجزری چکروں کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھ لیں تو مستقبل میں فالٹس کی خصوصیات کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔محققین کا خیال ہے کہ مستقبل میں زلزلہ ریکارڈ کرنے والے آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو مدوجزری سرگرمی کے ساتھ ملا کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کسی فالٹ کی رگڑ کتنی مضبوط ہے اور اسے حرکت شروع کرنے کے لیے کتنی قوت درکار ہوتی ہے۔ یہ معلومات بالخصوص ان علاقوں کے لیے اہم ہو سکتی ہیں جہاں بڑی ٹیکٹونک پلیٹیں ایک دوسرے کے نیچے دھنس رہی ہیں اور جہاں مستقبل میں بڑے میگا تھرسٹ زلزلوں کا خطرہ موجود ہے۔