کیا سورج اور چاند زلزلے پیدا کر سکتے ہیں؟

کیا سورج اور چاند زلزلے پیدا کر سکتے ہیں؟

اسپیشل فیچر

تحریر : وقاص ریاض


زلزلے ہمیشہ سے زمین کے سب سے پراسرار اور تباہ کن قدرتی مظاہر میں شمار ہوتے ہیں۔ ماہرینِ ارضیات بتاتے ہیں کہ ان کی بنیادی وجہ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت اور ان کے درمیان جمع ہونے والا بے پناہ دباؤ ہے، لیکن ایک عرصے سے سائنسدان یہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ بعض مخصوص قسم کی زلزلہ نما سرگرمیوں کا تعلق سورج اور چاند کی کششِ ثقل سے بھی ہو سکتا ہے۔پیرس کی پی ایس ایل یونیورسٹی میں یشو ژو (Yishuo Zhou) کی قیادت میں ارضیاتی سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق سورج اور چاند زمین پر صرف سمندری مدوجزر ہی پیدا نہیں کرتے بلکہ ان کی کششِ ثقل زمین کی ٹھوس چٹانوں اور زمینی پرت کو بھی معمولی مقدار میں کھینچتی اور دباتی ہے۔ اگرچہ یہ دباؤ انتہائی کم ہوتا ہے تاہم بعض مخصوص حالات میں یہ پہلے سے دباؤ کا شکار فالٹ کو حرکت دینے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ سائنسدانوں نے ایک ایسے طریقہ کار کی نشاندہی کی ہے جسے گونج (Resonance) کہا جاتا ہے، یہی ممکنہ طور پر اس معمولی دباؤ کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
سورج اور چاند زمین کی ٹھوس چٹانوں کو متاثر کرتے ہیں
عام طور پر جب ہم مدوجزر کا ذکر کرتے ہیں تو ذہن میں سمندر کا پانی آتا ہے۔ چاند کی کششِ ثقل سمندروں کے پانی کو اپنی طرف کھینچتی ہے، جس کے نتیجے میں مدوجزر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی کشش زمین کی ٹھوس پرت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ سورج بھی اپنی بے پناہ کششِ ثقل کے باعث زمین پر اسی نوعیت کے اثرات مرتب کرتا ہے۔تحقیق کے مطابق سورج اور چاند کی وجہ سے زمین کی پرت پر پیدا ہونے والا دباؤ عام طور پر چند کلوپاسکل کے برابر ہوتا ہے۔ بظاہر یہ بہت معمولی مقدار ہے حتیٰ کہ اسے ایک ہلکے ہاتھ سے دبانے کے برابر قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود بعض فالٹس ایسے ہوتے ہیں جو پہلے ہی ٹیکٹونک قوتوں کے باعث انتہائی نازک حالت میں پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ ایسے فالٹ پر ایک معمولی اضافی دباؤ بھی حرکت کا آغاز کر سکتا ہے۔
معمولی دباؤ کیسے بڑا اثر پیدا کر سکتا ہے؟
پی ایس ایل یونیورسٹی پیرس کے ماہرین کی اس تحقیق کا سب سے دلچسپ پہلوResonance کا تصور ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے جھولے کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اگر کسی جھولے کو بے ترتیب انداز میں دھکا دیا جائے تو اس کی حرکت بہت زیادہ نہیں بڑھے گی لیکن اگر ہر بار بالکل مناسب وقت پر دھکا دیا جائے تو چھوٹا سا دھکا بھی جھولے کی حرکت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق فالٹ لائن کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ ہر فالٹ کی اپنی مخصوص خصوصیات ہوتی ہیں، جن میں چٹانوں کے درمیان رگڑ، ان کی حرکت کی رفتار اور رابطے کی حالت شامل ہیں۔ تحقیق میں ایک ایسے ماڈل کا استعمال کیا گیا جس میں فالٹ کے ایک چھوٹے حصے کو سپرنگ اور بلاک کے نظام کی طرح تصور کیا گیا۔اگر مدوجزری دباؤ کی شدت اور اس کا دورانیہ فالٹ کے قدرتی ردِعمل کے وقت کے ساتھ مطابقت پیدا کر لے تو معمولی سا دباؤ بھی فالٹ کی حرکت کو بڑھا سکتا ہے۔اس تحقیق کا تعلق خاص طور پر سست زلزلوں سے ہے۔ عام زلزلوں کے برعکس سست زلزلوں میں توانائی طویل عرصے میں خارج ہوتی ہے۔ بعض اوقات یہ حرکت اتنی آہستہ ہوتی ہے کہ سطحِ زمین پر موجود انسان اسے محسوس ہی نہیں کر پاتے۔ نئی کمپیوٹر ماڈلنگ اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ بعض فالٹس میں یہ تعلق کیوں پیدا ہوتا ہے تاہم ہر فالٹ کا ردِعمل ایک جیسا نہیں ہوتا۔ بعض جگہ معمولی مدوجزری قوت صرف آہستہ حرکت پیدا کر سکتی ہے جبکہ کسی دوسرے فالٹ میں مخصوص شدت اور وقت کے ساتھ یہی قوت نسبتاً تیز حرکت کا سبب بن سکتی ہے۔
کیا اس دریافت سے بڑے زلزلوں کی پیش گوئی ممکن ہو جائے گی؟
یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے لیکن اس کا جواب فی الحال محتاط انداز میں دینا ضروری ہے۔یہ تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ پورے چاند، نئے چاند یا کسی خاص دن کو لازماً بڑا زلزلہ آئے گا۔ اسی طرح یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ سورج اور چاند بڑے تباہ کن زلزلوں کے بنیادی اسباب ہیں۔یہ تحقیق دراصل یہ بتاتی ہے کہ پہلے سے دباؤ میں موجود بعض فالٹس پر مدوجزری قوت ایک محرک کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر سائنسدان زلزلہ نما سرگرمی اور مدوجزری چکروں کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھ لیں تو مستقبل میں فالٹس کی خصوصیات کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔محققین کا خیال ہے کہ مستقبل میں زلزلہ ریکارڈ کرنے والے آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو مدوجزری سرگرمی کے ساتھ ملا کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کسی فالٹ کی رگڑ کتنی مضبوط ہے اور اسے حرکت شروع کرنے کے لیے کتنی قوت درکار ہوتی ہے۔ یہ معلومات بالخصوص ان علاقوں کے لیے اہم ہو سکتی ہیں جہاں بڑی ٹیکٹونک پلیٹیں ایک دوسرے کے نیچے دھنس رہی ہیں اور جہاں مستقبل میں بڑے میگا تھرسٹ زلزلوں کا خطرہ موجود ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
47 سال میں زمین کی 12 ٹریلین ٹن برف پگھل گئی

47 سال میں زمین کی 12 ٹریلین ٹن برف پگھل گئی

سیٹلائٹ نے خطرے کی نئی تصویر دکھا دیزمین کے قطبی علاقوں میں برف کا پگھلنا کوئی نئی بات نہیں لیکن ایک تازہ تحقیق نے اس مسئلے کی شدت اور رفتار کے بارے میں ایسی تصویر پیش کی ہے جو تشویش میں اضافہ کرتی ہے۔ٹفٹس یونیورسٹی اور ورجینیا ٹیک کے محققین کی اس تحقیق کے مطابق گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا کے برف زاروں میں1979ء سے 2023ء کے درمیان مجموعی طور پر تقریباً ساڑھے بارہ ٹریلین ٹن برف ختم ہو گئی۔ اتنی بڑی مقدار میں برف کا خاتمہ محض قطبی علاقوں تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے سمندروں اور ساحلی آبادیوں کے لیے ایک اہم خطرہ بن رہا ہے۔یہ نتائج 27 مختلف سیٹلائٹ مشنز سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار اور برفانی علاقوں کے 42 الگ الگ سرویز کو یکجا کرکے حاصل کیے گئے ہیں۔ اس طویل مدتی ریکارڈ نے سائنسدانوں کو تقریباً نصف صدی کے دوران برف میں ہونے والی تبدیلیوں کو زیادہ واضح انداز میں سمجھنے کا موقع دیا ہے۔برف کے ضیاع کا حیران کن پیمانہگرین لینڈ اور انٹارکٹیکا دنیا کی سب سے بڑی برفانی علاقے ہیں۔ یہاں موجود برف میں دنیا کے تازہ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ منجمد حالت میں موجود ہے۔ جب یہ برف پگھل کر سمندر میں شامل ہوتی ہے تو سطح سمندر میں اضافہ ہوتا ہے۔ٹفٹس یونیورسٹی اور ورجینیا ٹیک کی اس تحقیق کے مطابق 1979ء سے 2023ء تک ان دونوں برفانی علاقوں سے ضائع ہونے والی برف سے عالمی سطح سمندرمیں تقریباً تین سنٹی میٹر اضافہ ہوا ۔ بظاہر تین سینٹی میٹر کا اضافہ بہت معمولی محسوس ہوسکتا ہے لیکن ساحلی علاقوں کے لیے اس کے اثرات بہت زیادہ ہیں کیونکہ سطح سمندر میں ہر ایک سینٹی میٹر اضافے کے ساتھ سیلاب کے سالانہ خطرات سے بیس سے تیس لاکھ مزید افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قطبوں سے دور رہنے والے ممالک بھی اس تبدیلی سے محفوظ نہیں۔ دنیا کے ساحلی شہر، بندرگاہیں، جزائر اور نشیبی علاقے بڑھتی ہوئی سطح سمندر کے باعث مستقبل میں زیادہ شدید سیلاب، ساحلی کٹاؤ اور نمکین پانی کے اندرونی علاقوں تک پہنچنے کے خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ 1990کے بعد تشویشناک اضافہتحقیق نے یہ بھی ظاہر کیا کہ برف کا پگھلنا ہر دور میں ایک جیسا نہیں رہا۔ 1970ء، 1980ء اور 1990ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں صورتحال نسبتاً مستحکم تھی لیکن اس کے بعد برفانی پگھلاؤ میں اضافہ شروع ہوا اور 2010ء کی دہائی میں یہ عمل خاص طور پر تیز ہوگیا۔یہی رفتار سائنسدانوں کے لیے زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ اگر برف مسلسل زیادہ تیزی سے پگھلتی رہی تو مستقبل میں سطح سمندر میں اضافے کی رفتار بھی بڑھ سکتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ 2020ء سے 2023ء کے دوران انٹارکٹیکا میں برف کے پگھلنے کی رفتار بظاہر کچھ کم دکھائی دی۔ تاہم محققین اسے عالمی حدت میں کمی نہیں سمجھتے۔ مشرقی انٹارکٹیکا میں غیر معمولی برف باری نے عارضی طور پر برف کے نقصان کو متوازن کیا جبکہ موسم کی مختصر مدتی تبدیلیوں نے بھی اعداد و شمار کو متاثر کیا۔ محققین کے مطابق 2023ء کے بعد کے مشاہدات دوبارہ تیزی سے جاری برفانی نقصان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔مستقبل میں سمندروں پر اثرات؟ٹفٹس یونیورسٹی اور ورجینیا ٹیک کی اس تحقیق کی اہمیت صرف ماضی کے برفانی نقصان کو شمار کرنے تک محدود نہیں، سائنسدانوں کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آنے والی دہائیوں میں یہ عمل کس رفتار سے جاری رہے گا۔گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور سمندر بھی اس اضافی حرارت کا بڑا حصہ جذب کررہے ہیں۔ اگر سمندر مزید گرم ہوتے ہیں تو گلیشیئرز کے سمندر کی طرف بہاؤ میں مزید تیزی آسکتی ہے۔ یہ عمل سطح سمندر میں اضافے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ برفانی چادروں کی تبدیلیاں بعض اوقات عالمی درجہ حرارت میں تبدیلی کے کئی برس یا دہائیاں بعد نمایاں ہوتی ہیں۔ اس لیے اگر دنیا آج گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائے تو برفانی علاقوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات فوری طور پر ختم نہیں ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ 27 سیٹلائٹ مشنز اور درجنوں سرویز پر مشتمل یہ طویل مدتی ریکارڈ اہم ہے۔ اس سے سائنسدانوں کو نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کتنی برف ضائع ہوچکی ہے بلکہ یہ بھی سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ برفانی چادریں گرم ہوتی ہوئی دنیا کے ساتھ کس طرح ردعمل ظاہر کررہی ہیں۔ گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا کی برف صرف قطبی علاقوں کا قدرتی منظر نہیں، یہ زمین کے آب و ہوا کے نظام اور سمندروں کے مستقبل کا ایک اہم حصہ ہے اور اس میں 12 ٹریلین ٹن سے زیادہ برف کا خاتمہ ایک ایسا انتباہ ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ آنے والے برسوں میں دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ بڑھتے ہوئے سمندروں کے ساتھ صرف مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کرے گی یا عالمی حدت کی بنیادی وجوہات کو کم کرنے کے لیے زیادہ مؤثر اقدامات بھی کرے گی۔

آج کا دن

آج کا دن

جنگِ یومِ کپور6 اکتوبر 1973ء کو مصر اور شام نے اسرائیل کے خلاف مربوط فوجی کارروائی کی۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کی اہم ترین جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ مصر نے نہرِ سویز عبور کرکے جزیرہ نما سینا میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا جبکہ شام نے گولان کی پہاڑیوں کے محاذ پر اسرائیلی افواج کے خلاف کارروائی شروع کی۔ یہ حملہ یہودی تہوار یومِ کپور کے موقع پر کیا گیا اس لیے اس جنگ کو یومِ کپور جنگ کہا جاتا ہے۔ عرب دنیا میں اسے جنگِ اکتوبر بھی کہا جاتا ہے۔اس جنگ کا بنیادی مقصد 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل کے قبضے میں جانے والے علاقوں کو واپس حاصل کرنا تھا۔ اس جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، عرب اسرائیل تعلقات اور عالمی سفارت کاری پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ فلائٹ 455 کا سانحہ 6 اکتوبر 1976ء کو کیوبا کی فضائی کمپنی کیوبانا ڈی ایویاسیون کی فلائٹ 455 بم حملے کا نشانہ بنی۔ یہ طیارہ بارباڈوس سے جمیکا کے راستے کیوبا جا رہا تھا۔ پرواز کے کچھ ہی دیر بعد طیارے میں دھماکا ہوا اور طیارے میں موجود تمام 73 افراد ہلاک ہوگئے۔ اس واقعے نے کیوبا اور اس کے مخالف سیاسی عناصر کے درمیان جاری شدید کشیدگی کو مزید نمایاں کیا۔یہ سانحہ عالمی ہوابازی کی تاریخ میں دہشت گردی کے بدترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس واقعے نے فضائی سفر میں سکیورٹی کے اقدامات اور مسافروں کی جانچ پڑتال کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ صدر انور سادات کا قتل6 اکتوبر 1981ء کو مصر کے صدر انور سادات کو قاہرہ میں فوجی پریڈ کے دوران قتل کر دیا گیا۔ یہ پریڈ 1973ء کی جنگ میں مصر کی نہرِ سویز عبور کرنے کی یاد میں منعقد کی گئی تھی۔ سادات فوجی پریڈ کے دوران مہمانوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ فوجی وردی میں ملبوس مسلح حملہ آوروں نے پریڈ میں شامل ایک فوجی گاڑی سے نکل کر صدارتی سٹیج پر حملہ کردیا۔ فائرنگ اور دستی بموں کے حملے میں سادات شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں دم توڑ گئے۔انور سادات مصر کی تاریخ کی ایک نمایاں سیاسی شخصیت تھے۔ وہ جمال عبدالناصر کے بعد مصر کے صدر بنے ۔ سادات کی موت کے بعد نائب صدر حسنی مبارک نے اقتدار سنبھالا۔گینگ آف فور کی گرفتاری 6 اکتوبر 1976ء کو چین کی سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ آیا جب گینگ آف فور کے نام سے معروف چار بااثر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ماؤ زے تنگ کی ستمبر 1976ء میں وفات کے بعد چین کی قیادت میں طاقت کی کشمکش تیز ہوگئی اور نئی قیادت نے گینگ آف فور کے سیاسی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔اس کارروائی میں اس وقت کے چینی رہنما ہوا گو فینگ نے اہم کردار ادا کیا۔گینگ آف فور کی گرفتاری نے چین میں تقریباً ایک دہائی سے جاری ثقافتی انقلاب کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔ اس کے بعد چین کی سیاسی سمت بتدریج تبدیل ہوئی اور آنے والے برسوں میں معاشی اصلاحات اور ماڈرنائزیشن کی پالیسیوں نے ملک کی ترقی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔انسٹاگرام کی لانچنگ6 اکتوبر 2010ء کو انسٹاگرام نے ایپل کے ایپ سٹور پر اپنے سفر کا آغاز کیا۔ کیون سسٹروم اور مائیک کریگر کی تیار کردہ اس ایپ کا بنیادی مقصد موبائل فون کے ذریعے تصاویر کو آسانی سے شیئر کرنا تھا۔ اس کا تصور نسبتاً سادہ تھا: صارف تصویر بنائے، اسے فلٹر کے ذریعے بہتر کرے اور اپنے دوستوں یا دوسرے صارفین کے ساتھ شیئر کرے۔ لانچ کے پہلے ہی دن اس ایپ نے خاصی توجہ حاصل کی۔انسٹاگرام نے سوشل میڈیا کے انداز کو نمایاں طور پر تبدیل کیا۔ اس سے پہلے سوشل نیٹ ورکنگ کا بڑا حصہ تحریری پوسٹس اور پیغامات کے گرد گھومتا تھا لیکن انسٹاگرام نے تصویر کو رابطے اور اظہار کا بنیادی ذریعہ بنا دیا۔ بعد میں اس میں ہیش ٹیگز، ویڈیوز، سٹوریز، لائیو ویڈیو اور دیگر خصوصیات شامل ہوتی گئیں۔

قدیم مقبرہ، جدید دور کا خوف

قدیم مقبرہ، جدید دور کا خوف

فرعون کی آخری آرام گاہ کے پراسرار حصارکا راز آج بھی برقرارقدیم مصر کے فرعون توتن خامن کا مقبرہ صرف آثارِ قدیمہ کی ایک حیرت انگیز دریافت نہیں بلکہ صدیوں پرانے اسراراور پراسرار کہانیوں کا مرکز بھی بن چکا ہے۔ 1922ء میں ہاورڈ کارٹر کی جانب سے اس مقبرے کی دریافت نے دنیا کو حیرت زدہ کر دیا تھا، مگر اس کے بعد مقبرے سے وابستہ ''فرعون کی لعنت‘‘ کی داستان نے لوگوں کے تجسس کو مزید بڑھا دیا۔ مقبرے کی دریافت کے بعد بعض افراد کی اموات اور بدقسمتی کے واقعات کو توتن خامن کی مبینہ لعنت سے جوڑا گیا، اگرچہ ان دعوؤں کے سائنسی شواہد موجود نہیں۔ اب ماہرین آثارِ قدیمہ کی جانب سے مقبرے کے اندر ممکنہ پوشیدہ حصوں کی تلاش اور ملکہ نیفرتیتی سے متعلق قیاس آرائیوں نے اس قدیم راز کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اس غیر معمولی دریافت کے ساتھ آثارِ قدیمہ کی ایک ایسی داستان بھی جنم لیتی گئی جو آج تک لوگوں کے تجسس کا باعث ہے۔ کھدائی سے وابستہ افراد میں بیماریوں، حادثات اور بعض غیر متوقع اموات کے واقعات سامنے آنے کے بعد یہ دعوے کیے جانے لگے کہ کم عمر فرعون کی آخری آرام گاہ کسی مہلک لعنت کے حصار میں ہے۔اب ماہرین آثارِ قدیمہ مقبرے کے اندر ممکنہ طور پر موجود پوشیدہ کمروں کی تلاش کیلئے ڈرلنگ پر غور کر رہے ہیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ ان خفیہ حصوں میں ملکہ نیفرتیتی کا طویل عرصے سے گمشدہ مقبرہ موجود ہو سکتا ہے۔ اس امکان نے توتن خامن کے مقبرے سے وابستہ پراسرار کہانیوں اور نام نہاد ''فرعون کی لعنت‘‘ کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔مقبرہ کھلنے کے صرف پانچ ماہ بعد ایک اہم شخص کو مبینہ طور پر اس لعنت کا پہلا شکار قرار دیا گیا۔ اس منصوبے کے اہم مالی معاون لارڈ کارناروون5 اپریل 1923ء کو خون میں زہریلے جراثیم پھیلنے اور نمونیا کے باعث انتقال کر گئے۔ ان کے چہرے پر مچھر کے کاٹنے کا زخم انفیکشن کا شکار ہوگیا تھا۔ تاہم بعض لوگوں نے دعویٰ کیا کہ فرعون کے مقبرے میں موجود جراثیمی ذرات یا پھپھوندی کے بیضے سانس کے ذریعے اندر جانے سے بھی ان کی بیماری اور موت میں کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔ان افواہوں کو معروف مصنف سر آرتھر کونن ڈوئل کے بیان سے بھی تقویت ملی۔ شرلاک ہومز کے خالق نے گلاسگو ہیرالڈ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اس خیال کا اظہار کیا کہ ممکن ہے کسی ''شرپسند مافوق الفطرت قوت‘‘ نے لارڈ کارناروون کی مہلک بیماری کا سبب بنی ہو۔ ان کے مطابق اس دور میں موجود مافوق الفطرت قوتوں کی نوعیت کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم قدیم مصری شاید ان معاملات کے بارے میں ہم سے کہیں زیادہ جانتے تھے۔توتن خامن کے مقبرے کا دورہ کرنے والے ایک اور شخص جسے ''لعنت‘‘ کا مبینہ شکار قرار دیا گیا، جارج جے گولڈ تھا، جو ایک دولت مند امریکی سرمایہ کار تھا۔ اس نے 1923ء میں لارڈ کارناروون کی دعوت پر مقبرے کا دورہ کیا، لیکن وہاں سے واپسی کے تقریباً فوراً بعد بیمار پڑ گیا۔ وہ صحت یاب نہ ہو سکا اور چند ماہ بعد نمونیا کے باعث انتقال کر گیا۔آرتھر میس بھی ان ماہرین آثارِ قدیمہ میں شامل تھا جنہوں نے مقبرے کے خزانے کو صاف کرنے، محفوظ کرنے اور ان کی فہرست مرتب کرنے میں مدد کی۔ مقبرے میں کام کرنے کے بعد اس کی صحت مسلسل خراب ہوتی گئی اور 53 سال کی عمر میں نمونیا سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث اس کا انتقال ہوگیا۔اس سلسلے میں ایک زیادہ پراسرار واقعہ ماہر آثارِ قدیمہ ہیگ ایولین وائٹ کی موت کا ہے، جو مقبرے کے تدفینی حجرے میں داخل ہوا تھا۔ اس نے 1924ء میں اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ حیرت انگیز طور پر ''لعنت‘‘ کے بعض مبینہ شکار ایسے افراد بھی تھے جنہوں نے مقبرے میں قدم تک نہیں رکھا تھا۔ لارڈ کارناروون کے سوتیلے بھائی آبری ہربرٹ بھی 1923ء میں، مقبرہ کھلنے کے کچھ عرصے بعد، دانتوں کے علاج کے بعد خون میں زہریلے جراثیم پھیلنے کے باعث انتقال کر گئے۔ اس واقعے نے کارناروون خاندان کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی اور بعض لوگوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ صرف لارڈ کارناروون سے خاندانی تعلق کی وجہ سے مبینہ لعنت کا شکار ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ فرعون کے مقبرے کی مبینہ لعنت کا ایک اور شکار آرون ایمبر تھا، جو 1926ء میں ہلاک ہوا۔ اگرچہ وہ براہِ راست مقبرے کی کھدائی میں شامل نہیں تھا، تاہم اس ماہر مصریات کی کھدائی کرنے والی ٹیم کے بعض ارکان سے دوستی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ قدیم مصری عقائد سے متعلق ایک قلمی نسخے کو بچانے کی کوشش کے دوران گھر میں لگنے والی آگ کی لپیٹ میں آکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔مقبرہ دریافت کرنے والے ماہرِ آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر بظاہر ایسی کسی پراسرار نحوست سے متاثر نہیں ہوئے، تاہم ان کے بعض دوستوں کے بارے میں بھی ایسی کہانیاں مشہور ہیں۔اشاعتی صنعت سے وابستہ معروف شخصیت سر بروس انگریم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہاورڈ کارٹر نے انہیں ایک حنوط شدہ ہاتھ بطور تحفہ دیا تھا، جسے وہ کاغذات دبانے کیلئے بطور پیپر ویٹ استعمال کرتے تھے۔ کچھ ہی عرصے بعد مبینہ طور پر ان کے گھر میں آگ لگ گئی، اور تعمیر نو کے دوران عمارت سیلاب سے بھی متاثر ہوئی۔توتن خامن: قدیم مصر کا پراسرار فرعونتوتن خامن مصر کے 18ویں شاہی خاندان کا فرعون تھا، جس نے 1332 قبل مسیح سے 1323 قبل مسیح تک حکومت کی۔وہ فرعون اخناتون کا بیٹا تھا اور تقریباً 9 یا 10 سال کی عمر میں تخت نشین ہوا۔توتن خامن کا انتقال تقریباً 18 سال کی عمر میں ہوا، تاہم اس کی موت کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ 1907ء میں لارڈ کارناروون نے انگریز ماہر آثارِ قدیمہ اور مصریات کے ماہر ہاورڈ کارٹر کو وادیِ ملوک میں کھدائی کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی۔4 نومبر 1922ء کو ہاورڈ کارٹر کی ٹیم نے ایسی سیڑھیاں دریافت کیں جو توتن خامن کے مقبرے تک جاتی تھیں۔ کارٹر نے تدفینی حجرے کو کھولنے سے پہلے کئی ماہ تک مقبرے کے ابتدائی حصے میں موجود اشیا کی فہرست اور درجہ بندی کا کام کیا۔ فروری 1923ء میں تدفینی حجرہ کھولا گیا اور وہاں توتن خامن کا تابوت دریافت ہوا۔مقبرے کے اندر بے شمار قیمتی اور تاریخی اشیا موجود تھیں، جن کی کثرت کے باعث کارٹر اور اس کی ٹیم کو مقبرے کے تمام خزانے کو محفوظ کرنے، دستاویزات مرتب کرنے اور باہر نکالنے میں دس سال لگے۔ بہت سے لوگوں کیلئے توتن خامن قدیم مصر کی عظمت اور شان و شوکت کی علامت بن گیا، کیونکہ اس کا مقبرہ ایسی چمکتی دمکتی دولت اور قیمتی اشیا سے بھرا ہوا تھا جو 18ویں شاہی خاندان کی خوشحالی اور عظمت کی عکاسی کرتی تھیں۔

سلام، معمارانِ قوم کو

سلام، معمارانِ قوم کو

اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی تحریرکسی بھی قوم کی ترقی کا سفر صرف بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی خوشحالی سے طے نہیں ہوتا بلکہ اس کے حقیقی معمار وہ لوگ ہوتے ہیں جو نئی نسل کے ذہنوں کو علم، شعور اور کردار کی روشنی سے منور کرتے ہیں۔ استاد اسی عظیم فریضے کا امین ہے۔ ماں کی گود سے سیکھنے کا آغاز کرنے والا بچہ جب درسگاہ میں قدم رکھتا ہے تو استاد اس کی صلاحیتوں کو جِلا بخشتا، اس کی سوچ کو وسعت دیتا اور اسے زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ استاد صرف کتاب کے اسباق نہیں پڑھاتا بلکہ وہ اپنے کردار، رویے اور رہنمائی سے شاگرد کی شخصیت تشکیل دیتا ہے۔ اسی لیے استاد کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے، کیونکہ آج کے طالب علم ہی کل کے سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئر، ادیب، محقق، منتظم اور رہنما بنتے ہیں۔ اساتذہ کا عالمی دن ہمیں ان عظیم ہستیوں کی خدمات، محنت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور معاشرے میں ان کے مقام و احترام کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔مُعَلّمِی وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام میں نہیں بلکہ ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے بھی استاد کی قدر کی وہ دنیا بھر میں سرفراز ہوئی۔ امریکہ، برطانیہ، جاپان، فرانس، ملائیشیا، اٹلی سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں جو عزت اور مرتبہ استاد کو حاصل ہے، وہ ان ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کو بھی نہیں دیا جاتا کیوں کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ استاد مینار نور ہے، جو اندھیرے میں ہمیں راہ دکھلاتا ہے۔ ایک سیڑھی ہے، جو ہمیں بلندی پر پہنچا دیتی ہے۔ ایک انمول تحفہ ہے، جس کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حضورﷺ کو بحیثیت معلم بیان کیا اور خود نبی کریمﷺ نے بھی ارشاد فرمایا کہ ''مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود ان کے دل میں کوئی حسرت ہے، تو آپؓ نے فرمایا کہ ''کاش میں ایک معلم ہوتا‘‘۔ استاد کا کردار معاشرے میں بہت اہم ہے۔ ہر سال 5اکتوبر کو ''اساتذہ کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ نے 1994ء میں یہ دن منانے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ پاکستان میں 2007ء سے یہ دن ''سلام ٹیچرز‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔استاد کی عظمت و اہمیت اور معاشرے میں اس کے کردار پر علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒکہتے ہیں کہ ''استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں، کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انہیں کے سپرد ہے‘‘۔معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی، تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سر چشمہ اس کی محنت ہے۔ معلم فروغ علم کا ذریعہ ہے لیکن اس کے علم سے فائدہ وہ نیک بخت اٹھاتے ہیں۔ جن کے سینے ادب و احترام کی نعمت سے مالا مال ہوں، کیونکہ ''ادب ایک درخت ہے اور علم اس کا پھل۔ اگر درخت ہی نہ ہو تو پھل کیسے لگے گا؟‘۔‘ میری نظر میں سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلموں کی کارگزاری ہے۔ خلیفہ چہارم امیر المومنین حضرت علی ؓ نے فرمایا! ''جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا میں اسے استادکا درجہ دیتا ہوں۔ ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں کہ !''عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کیلئے کھڑے ہو جاؤ‘‘۔ہارون الرشید کے دربار میں کوئی عالم تشریف لاتے تو بادشاہ ان کی تعظیم کیلئے کھڑا ہو جاتا۔ درباریوں نے کہا کہ اس سے سلطنت کا رُعب جاتا رہتا ہے تو اس نے جواب دیا کہ اگر علمائے دین کی تعظیم سے رعب سلطنت جاتا ہے تو جائے۔ہارون الرشید نے اپنے بیٹے مامون کو علم و ادب کی تعظیم کیلئے امام اصمعیؒ کے سپرد کر دیا تھا ایک دن ہارون اتفاقاً ان کے پاس جا پہنچا۔ دیکھا کہ اصمعیؒ اپنے پاؤں دھو رہے ہیں اور شہزادہ پاؤں پر پانی ڈال رہا ہے۔ ہارون الرشید نے برہمی سے کہا میں نے تو اسے آپ کے پاس اس لئے بھیجا تھا کہ آپ اس کو ادب سکھائیں گے۔ آپ نے شہزادے کو یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ ایک ہاتھ سے پانی ڈالے اور دوسرے ہاتھ سے آپ کے پاؤں دھوئے۔استاد : عالمی شخصیات کی نظر میں٭...استاد کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ تخلیقی اظہار اور علم میں مسرت جگا دے۔( البرٹ آئن سٹائن)٭...تعلیم زندگی میں کامیابی کی بنیادی اکائی ہے اور استاد کا شاگردوں پر اثر آخر تک رہتا ہے۔ (سولومن آرٹز)٭...میں زندگی کیلئے باپ کا مشکور ہوں اور میں اچھی زندگی کیلئے اپنے استاد کا مشکور ہوں۔( سکندر اعظم)٭...اچھا استاد امید جگاتا ہے اور سیکھنے کی لگن پیدا کرتا ہے۔( براڈ ہنری)٭...اچھا استاد جانتا ہے کہ شاگرد کے اندر کی صلاحیت کو باہر کیسے لانا ہے۔ (چارلس کورالٹ)٭...تمام علم کی صرف ایک علامت تدریس کی طاقت ہے۔( ارسطو)٭...اچھے استاد کے اندر ایک بچہ بیٹھا ہوتا ہے جو ہاتھ اٹھا اٹھا کر اور سر ہلا ہلا کر بتاتا جاتا ہے کہ بات سمجھ میں آئی کہ نہیں۔(مشتاق احمد یوسفی)٭...تخلیقی اظہار اور علم کی روشنی ذہنوں میں منور کرنا استاد کا اعلیٰ فن ہے۔(ولیم آرتھر وارڈ)٭...اگر کسی ملک کو بدعنوانی سے پاک اور اعلیٰ خطوط پر معیاری قوم بنانا ہے تو مجھے شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں تین شخصیات تبدیلی لاسکتی ہیں۔ وہ باپ، ماں اور استاد ہیں۔(ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام)٭...ٹیکنالوجی صرف ایک آلہ ہے۔ بچوں کو ایک ساتھ کام کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے سلسلے میں استاد ہی سب کچھ ہے۔(بل گیٹس)٭...اگر آپ کامیاب ہوتے ہیں تو آپ کی کامیابی کا راز آپ کے اساتذہ میں ہی مضمر ہے‘‘۔(براک اوباما)٭...جو شخص تعلیم کا راستہ اختیار کرتا ہے، وہ معاشرے کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔(افلاطون)

طنز و مزاح:عید ملنا!

طنز و مزاح:عید ملنا!

مرزا صاحب ہمارے ہمسائے تھے، یعنی ان کے گھر میں جو درخت تھا اس کا سایہ ہمارے گھر میں بھی آتا تھا۔ اللہ نے انہیں سب کچھ وافر مقدار میں دے رکھا تھا۔ بچے اتنے تھے کہ بندہ ان کے گھر جاتا تو لگتا اسکول میں آگیا ہے۔ ان کے ہاں ایک پانی کا تالاب تھا جس میں سب بچے یوں نہاتے رہتے کہ وہ تالاب میں پانچ سو گیلن پانی بھرتے اور سات دن بعد 550 گیلن نکالتے۔ وہ مجھے بھی اپنے بچوں کی طرح سمجھتے، یعنی جب انہیں مارتے تو ساتھ میں مجھے بھی پیٹ ڈالتے، انہیں بچوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا سخت ناپسند تھا۔ حالانکہ ان کی بیگم سمجھاتیں کہ مسلمان بچے ہیں، آپس میں نہیں لڑیں گے تو کیا غیروں سے لڑیں گے۔ ایک روز ہم لڑ رہے تھے، بلکہ یوں سمجھیں رونے کا مقابلہ ہو رہا تھا۔ یوں بھی رونا بچوں کی لڑائی کا ٹریڈ مارک ہے۔ اتنے میں مرزا صاحب آگئے۔''کیوں لڑ رہے ہو؟‘‘ہم چپ! کیونکہ لڑتے لڑتے ہمیں یہ بھول گیا تھا کہ کیوں لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیں خاموش دیکھا تو دھاڑے، ''چلو گلے لگ کر صلح کرو۔‘‘ وہ اتنی زور سے دھاڑے کہ ہم ڈر کر ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔ اس بار جب میں نے عید پر لوگوں کو گلے ملتے دیکھا تو یہی سمجھا کہ یہ سب لوگ بھی ہماری طرح صلح کر رہے ہیں۔عید کے دن گلے ملنا، عید ملنا کہلاتا ہے۔ پہلی بار اس دن انسان گلے ملا، جب خدا نے اسے ایک سے دو بنایا۔ یوں آج بھی گلے ملنے کا عمل دراصل انسان کے ایک نہ ہونے کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ عمل ہمیں دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتا ہے کہ وہ گلے پڑ تو سکتے ہیں، گلے مل نہیں سکتے۔ہمارے ہاں عید ملنا، عید سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ دکاندار گاہکوں سے، کلرک سائلوں سے اور ٹریفک پولیس والے گاڑی والوں کو روک روک کر ان سے عید ملتے ہیں۔ بازاروں میں عید سے پہلے اتنا رش ہوتا ہے کہ وہاں سے گزرنا بھی عیدملنا ہی لگتا ہے۔ کچھ نوجوان تو لبرٹی اور بانو بازار میں عید ملنے کی ریہرسل کرنے جاتے ہیں۔عید کے دن میں خوشبو لگا کر عید گاہ کا رخ کرتا ہوں۔ واپسی پر کپڑوں سے ہر قسم کی خوشبو آ رہی ہوتی ہے سوائے اس خوشبو کے جو لگاکر جاتا ہوں۔ عید مل مل کر وہی حال ہوجاتا ہے جو سومیٹر کی ریس جتنے کے بعد ہوتا ہے۔ اوپر سے گوجرانوالہ کی عید ملتی مٹی ایسی کہ جب واپس آکر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں تو گھر والے گردن نکال کر پوچھتے ہیں،''جی! کس سے ملنا ہے؟‘‘سیاست دان تو عید یوں ملنے نکلتے ہیں، جیسے الیکشن کمپین پر نکلے ہوں۔ جیتنے سے پہلے عید تو وہ آگے بڑھ کر ملتے ہیں اور جیتنے کے بعد عید مل کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پنجاب کے ایک سابق گورنر کا عید ملنے کا انداز نرالہ ہوتا تھا۔ ان کا حافظہ ہمارے ایک ادیب دوست جیسا تھا جو ایک ڈاکٹر سے اپنے مرض نسیان کاعلاج کروا رہے تھے، دو ماہ کے مسلسل علاج کے بعد ایک دن ڈاکٹر نے پوچھا،''اب تو نہیں بھولتے آپ؟‘‘''بالکل نہیں، مگر آپ کون ہیں اور یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘وہ سابق گورنر بھی عید پر معززین شہر سے عید ملنا شروع کرتے، ملتے ملتے درمیان تک پہنچتے تو بھول جاتے کہ کس طرف کے لوگوں سے مل لیا اور کس طرف کے لوگوں سے ابھی ملنا ہے۔ یوں وہ پھر نئے سرے سے عید ملنے لگتے۔ ایسے ہی ایک صاحب تیز دریا عبور کرنے کی کوشش میں تھے مگر عین دریا کے درمیان سے واپس پلٹ آئے۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے، دراصل جب میں دریا کے درمیان پہنچا تو بہت تھک گیا تھا سو واپس لوٹ آیا۔شاعر وہ طبقہ ہے جو خوشی غمی ہر دوموقعوں پر شعر سناتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سکھ کرپان کے بغیر، بنگالی پان کے بغیر اور شاعر دیوان کے بغیر گھر سے نہیں نکلتا۔ اس لیے شاعر عید ملنے کیلئے بھی مشاعرے ہی کرتے ہیں۔ یوں مشاعروں کو لفظوں کا عید ملنا کہہ لیں اگرچہ وہ ہوتی تو لفظوں کی ہاتھا پائی ہے۔بچے پیار سے عید کو عیدی کہتے ہیں۔ اس لیے ان کو عیدی ملناان کا عید ملنا ہے۔ عورتیں بھی اکٹھی ہوکر عید ملتی ہیں، لیکن جہاں چار عورتیں اکٹھی ہوں وہاں وہ ایک دوسری سے نہیں، پانچویں سے خوب خوب ملتی ہیں۔ اور کوئی وہاں سے اٹھ کر اس لیے نہیں جاتی کہ جانے کے بعد وہاں بیٹھی رہنے والیاں اس سے ''عید ملنا‘‘ نہ شروع کردیں۔عید کے روز امام مسجد سے عید ملنے کا یہ طریقہ ہے کہ اپنی مٹھی مولوی صاحب کی ہتھیلی پر یوں رکھیں کہ ان کے منہ سے جزاک اللہ کی آواز نکلے۔ چھوٹے شہروں میں نوجوانوں کی اکثریت سنیما گھروں میں بھی عید ملنے جاتی ہے۔ بکنگ کے سامنے وہ عید ملن ہوتی ہے کہ جو سفید سوٹ پہن کر آتا ہے وہ براؤن سوٹ بلکہ کبھی کبھی تو کالے سوٹ میں لوٹتا ہے، اکثر بنیان میں بھی واپس آتے ہیں۔ عید ملنا وہ ورزش ہے جس سے وزن بہت کم ہوتا ہے۔ میرا ایک دوست بتاتا ہے کہ بیرون ملک میں نے عید پر سو پونڈ کم کیے۔

حکایت سعدیؒ:باپ اور بیٹی

حکایت سعدیؒ:باپ اور بیٹی

ایک رات میں (شیخ سعدیؒ) اس ارادے سے سو گیا کہ صبح سویرے قافلے کے ساتھ مل کر سفر کروں گا۔ اچانک رات کو ایسا بگولا آیا کہ اندھیرا ہی اندھیرا ہو گیا۔ میں نے راستے میں دیکھا ایک چھوٹی سی بچی اپنے دوپٹے کے ساتھ باپ کے چہرے سے گرد صاف کر رہی تھی۔ باپ اپنی بیٹی کو پیار کرتے ہوئے دیکھ کر رو پڑا اور کہنے لگا! بیٹی ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے کہ ان آنکھوں میں اس قدر مٹی بھر جائے گی کہ جو اوڑھنیوں سے صاف نہ ہو سکے گی۔ سعدیؒ فرماتے ہیں ہر شخص کی روح قبر کی طرف سرکش گھوڑے کی طرح بھاگ رہی ہے جس کو روکا نہیں جاسکتا۔ موت آکر جسم کی رکاب توڑ دے گی جس سے جسم کا تعلق روح سے ٹوٹے گا اور بالآخر جسم گڑھے میں گر جائے گا۔ اس حکایت سے سبق ملتا ہے کہ دنیا میں انسان خود کو جتنا بھی مٹی سے بچاتا پھرے لیکن قبر میں جا کر اس کا جسم مٹی سے ضرور بھر جائے گا۔ لہٰذا اس وقت کی تیاری کرنی چاہیے۔