تمباکو کا سفر

تمباکو کا سفر

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد اسلم پرویز


تمباکو کا شمار ان پودوں میں ہوتا ہے جنہوں نے انسان کی عادات و اطوار، تہذیب، سماجی ساخت اور حکومتوں کو بدلا ہے۔ انسانی سماج کی تاریخ میںجن پودوں کو عہدساز کہا جا سکتا ہے، ان میں تمباکو بھی شامل ہے۔ تمباکو کے استعمال سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ جلد ہی ہو گیا تھا لیکن اس کے باوجود اس کا چلن بڑھتا ہی گیا۔ 1492ء کے اواخر میں کولمبس کا جہاز کیوبا کے ساحل پر لنگر انداز ہوا۔ اس نے اپنے ترجمان کو ایک رقعہ کے ساتھ خان اعظم کی خدمت میں روانہ کیا۔ اس نے اپنے خط میں گزارش کی تھی کہ وہ اس کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کر لے۔ کولمبس کے ساتھی جب شہر میں داخل ہوئے تو انہوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ سبھی باشندوں کے منہ میں لمبی لمبی نلکیاں لگی ہوئی تھیں جن کے سرے کو وہ منہ میں چبا رہے تھے۔ دوسرے سرے سے دھواں نکل رہا تھا۔ مختلف لوگوں سے بات کرنے پر ان کو بتایا گیا کہ ان نلکیوں کے استعمال سے رنج و غم اور تکالیف نیز تھکان کا احساس کم ہو جاتا ہے۔ کولمبس کیوبا سے تجارتی تعلق تو قائم نہ کر سکا لیکن وہاں سے اس کو بطور تحفہ وہ دھویں والی نلکیاں حاصل ہو گئیں۔ جن کو لے کر وہ سپین واپس لوٹ آیا۔ قدیم چٹانوں پر کھدی ہوئی تصاویر اور دیگر آثارِ قدیمہ کی مدد سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کولمبس کے زمانے سے ایک ہزار سال قبل بھی تمباکو بطور دوا اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کے وقت استعمال ہوتا تھا۔ مایا قبائل کے مذہبی پیشوا بارشیں لانے کے لیے تمباکو پیا کرتے تھے۔ مریضوں کو روحانی علاج کے واسطے تمباکو کی دھونی دی جاتی تھی۔ مقامی قبیلے کے لوگ تمباکو کی پتیوں کو لپیٹ کر جو گول نلکیاں بناتے تھے ان کو وہ ’’ٹباکا‘‘ کہتے تھے۔ اسی لفظ سے انگریزی میں ’’ٹوباکو‘‘ بنا، جس نے اردو میں تمباکو کی شکل اختیار کر لی۔ شمالی امریکا کے انڈین قبائل میں تمباکو کی اتنی اہمیت تھی کہ وہ بطور کرنسی استعمال ہوتا تھا۔ تمباکوکی اچھی پتی اور اچھی قسم کے بدلے میں کوئی بھی چیز خریدی جا سکتی تھی۔ چودہویں اور پندرہویں صدی کے سیاحوں کی تحریروں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس وقت تمباکو کو بطور نسوار ناک میں رکھا جاتا تھا۔ اس کی پتیاں منہ میں چبائی بھی جاتی تھیں اور بطور سگار بھی اس کا دھواں استعمال ہوتا تھا۔ ان سیاحوں نے اپنی تحریروں میں دو اقسام کے تمباکو کا ذکر کیا ہے، جن میں سے ایک کی پتیاں ملائم اوردھواں ہلکا ہوتا تھا۔ جب کہ دوسری قسم کی پتیاں سخت ہوتی تھیں اور دھواں بہت تلخ اور سخت ہوتا تھا۔ کولمبس کے ذریعے تمباکو کی پتیاں سپین پہنچیں تو وہاں بھی اس کا رواج چل نکلا۔ تاریخی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ 1531ء تک سپین میں باقاعدہ دونوں اقسام کے تمباکو کی کاشت شروع ہو چکی تھی۔ شروع شروع میں اس کا استعمال بطور دوا ہوا۔ ہسپانوی جہازوں کے انگریز، فرانسیسی اور ولندیزی عملے میں تمباکو کی پتیاں درد اور تھکان دور کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں اور ان کو ’’مقدس سمجھا جاتا تھا۔ سیاحوں اور تاجروں کی مدد سے یہ پتیاں یورپ کے علاقوں میں پھیلنے لگیں۔ اگرچہ اس وقت کافی کوشش کی گئی کہ ان پتیوں پر صرف معالجوں کا قبضہ رہے، لیکن عوام میں ان کا چلن بڑھنے لگا۔ سولہویں صدی کے وسط میں ایک سیاح برازیل سے تمباکو کے بیج لے کر فرانس پہنچا۔ اس کے چند برس بعد پرتگال میں موجود سفیر فرانس یاں نکوٹ نے تمباکو کے بیج کیتھرائن میڈیسی کی خدمت میں یہ کہہ کر پیش کیے کہ یہ ملکہ کا خاص پودا ہے۔ سفیر کے ذریعے تحفے میں دیے گئے بیج وہاں بہت مقبول ہوئے اور تمباکو کا استعمال عام ہو گیا۔ تمباکو کو پھیلانے میں نکوٹ کے کردارکی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب پودوں اور جانوروں کے سائنسی نام رکھے گئے تو تمباکو کا نام ’’نکوٹیانا‘‘ رکھا گیا۔ سرجان ہاکن نے انگلینڈ میں تمباکو کی کاشت شروع کرائی۔ ملکہ الزبتھ اول کے دربار میں سر والٹر ریلی نے تمباکو پیش کیا اور مقبولیت دلائی۔ باوجود مقامی کاشت کے انگلینڈ میں استعمال ہونے والے تمباکو کی بڑی مقدار سپین ہی سے آتی تھی۔ اس وقت تمباکو چاندی کے ہم وزن بکتا تھا، پھر بھی یہ لوگوں میں مقبول تھا۔ اس مقبولیت کی وجہ سے حکام کو پریشانی لاحق ہوئی کیونکہ اس طرح چاندی ملک سے باہر جا رہی تھی اور سپین کے خزانے کو بھر رہی تھی۔ شاہ جیمز اول نے اس چلن کو روکنے کے لیے تمباکو کی خرید پر ٹیکس لگا دیا۔ مگر تمباکو کا استعمال نہ رک سکا۔ پرتگالیوں نے تمباکو چین میں متعارف کرایا۔ چین میں اس کا استعمال اتنی تیزی سے پھیلا کہ تنگ آ کر چیانگ مملکت کے بادشاہ کانگ سائی نے تمباکو بیچنے والوں کے سر قلم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اس وقت تک تقریباً تمام دنیا میں تمباکو کی پتیاں پھیل چکی تھیں۔ عوام میں پھیلنے والی اس لت سے حکمران پریشان تھے۔ خلافت عثمانیہ کے شاہ مراد رابع تمباکو پینے والوں کو قتل کرا دیتے تھے۔ ایک زار روس نسوار استعمال کرنے والوں کے نتھنے کٹوا دیتا تھا۔ لیکن لوگ چھپ چھپ کر پیتے رہے اور اس کی تجارت جاری رہی۔ پرتگالی اور ہسپانوی سیاحوں نے رفتہ رفتہ سبھی علاقوں میں تمباکو رائج کرا دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مسجد خواجہ اویس کھگہ

مسجد خواجہ اویس کھگہ

ملتان میں فن تعمیر کا شاہکارملتان جو صدیوں سے صوفیا کرام اور اسلامی ثقافت کا مرکز رہا ہے، اپنے تاریخی مقامات اور صوفیانہ ورثے کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں متعدد مساجد اور مزار ایسے ہیں جو نہ صرف مذہبی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ فن تعمیر کا شاندار نمونہ بھی پیش کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک نمایاں مقام خواجہ اویس کھگہ مسجد ہے جو مغلیہ دور کے فن تعمیر کی منفرد خصوصیات کی حامل ہے اور صوفی بزرگ خواجہ اویس کھگہ کے مزار کے ساتھ واقع ہے۔خواجہ اویس کھگہ مسجد کی تاریخ کے بارے میں مصدقہ تاریخی معلومات کی کم دستیاب ہیں لیکن مورخین کا اندازہ ہے کہ یہ مسجد غالباً سولہویں سے اٹھارہویں صدی کے دوران تعمیر کی گئی ۔ اس مسجد کے فن تعمیر میں وہ تمام عناصر نمایاں ہیں جو مغلیہ دور کے حسنِ تعمیر کی پہچان ہیں۔ اس کے بلند گوشہ دار مینار، آرائشی کام اور محرابیں عکاسی کرتی ہیں کہ یہ عمارت مغلیہ فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔خواجہ اویس کھگہ مسجد میں سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہاں کوئی گنبد موجود نہیں، اس کے بجائے مسجد کے گوشوں میں بلند و بالا مینار نصب کیے گئے ہیں جو چھوٹے چھوٹے پویلین یا چتریوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ یہ تکنیک عمارت کے حجم کو بڑا اور باوقار دکھاتی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے تاج محل میں بڑے پیمانے پر اس کا استعمال ہوا ہے۔ اس کی بناوٹ اور حجم کی ترتیب مسجد کو نہ صرف دیکھنے میں دلکش بناتی ہے بلکہ کشادہ اور کھلے ماحول کا احساس بھی دلاتی ہے جو روحانی سکون اور عبادت کے لیے موزوں ہے۔مسجد کے اندر کا منظر بھی دلکش ہے۔ محراب نہایت نفیس اور خوبصورت کام سے مزین ہے۔محراب کی آرائش اس بات کا ثبوت ہے کہ مسجد کی تعمیر میں چھوٹی چھوٹی تفصیلات پر بھی کس قدر توجہ دی گئی ہے۔ محراب کے ارد گرد کی دیواروں پر نقش و نگار اور جیومیٹریکل نمونے مسجد کے اندرونی حصے کو روحانی اور جمالیاتی تاثر دیتے ہیں، جو ہر زائر کو متاثر کرتا ہے۔خواجہ اویس کھگہ مسجد کی موجودہ حالت اور مرمت کی صورتحال بھی قابلِ ذکر ہے۔کچھ سال پہلے مسجد کی جزوی مرمت کی گئی ہے۔ مرمت کے کام کو نہایت نفاست اور اصل فن تعمیر کی مکمل احتیاط کے ساتھ انجام دیا گیا۔ مرمت کے دوران مسجد کے فن تعمیر کے تمام عناصر کو برقرار رکھا گیا جس سے مسجد کی تاریخی اور جمالیاتی اہمیت محفوظ رہی۔ اس عمل نے نہ صرف عمارت کی حفاظت کی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی تاریخی ورثے کو برقرار رکھا۔خواجہ اویس کھگہ مسجد کا جغرافیائی محل وقوع بھی اس کی اہمیت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ مسجد ملتان سے ملحقہ بستی دائرہ میں صوفی بزرگ خواجہ اویس کھگہ کے مزار کے بالکل نزدیک واقع ہے۔ مزار کے قرب میں واقع ہونے کی وجہ سے مسجد میں آنے والے زائرین کو عبادت کے ساتھ ساتھ صوفیانہ ماحول کا بھی تجربہ ہوتا ہے جو ملتان کی صوفیانہ روایت کو اجاگر کرتا ہے۔مسجد کا فن تعمیر جو آج بھی زائرین اور تاریخ کے شائقین کو اپنی طرف کھینچتا ہے، مغلیہ دور کے ثقافتی اور مذہبی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں استعمال ہونے والا مواد، آرائش کے انداز اور تعمیراتی تکنیک اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دور میں عمارت سازی محض فعالیت کے لیے نہیں بلکہ جمالیات اور روحانیت کے امتزاج کے لیے کی جاتی تھی۔ مسجد کے کھلے صحن، بلند مینار، اور محراب کی نفاست ایک ایسا توازن پیدا کرتے ہیں جو عبادت کرنے والے کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔خواجہ اویس کھگہ مسجد نہ صرف مذہبی حوالے سے بلکہ تاریخی اور ثقافتی حوالے سے بھی اہم ہے۔ یہ مسجد اس بات کا ثبوت ہے کہ مغلیہ فن تعمیر کی خصوصیات صرف بڑی شاہی عمارتوں تک محدود نہیں ، صوفیاکے مقامات میں بھی یہ حسن و جمال موجود ہے۔ آج کے دور میں جہاں تاریخی عمارتوں کی حفاظت اور مرمت ایک چیلنج بنی ہوئی ہے خواجہ اویس کھگہ مسجد ایک مثال ہے کہ کس طرح مہارت اور توجہ کے ساتھ تاریخی ورثے کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ملتان کی تاریخی اور روحانی فضا میں خواجہ اویس کھگہ مسجد ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ نہ صرف شہر کے ماضی کی یاد دلاتی ہے بلکہ موجودہ دور میں بھی لوگوں کو روحانی سکون اور جمالیاتی لطف فراہم کرتی ہے۔ اس مسجد کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی فن تعمیر میں جمالیات، اور روحانیت کس قدر اہمیت رکھتے ہیں۔ زائرین، تاریخ کے شائقین اور فن تعمیر کے ماہرین کے لیے یہ مسجد ایک لازمی مقام ہے جہاں وہ مغلیہ دور کے فن تعمیر کی باریکیاں اور صوفیانہ ماحول کو بیک وقت محسوس کر سکتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ خواجہ اویس کھگہ مسجدایک منفرد تاریخی عمارت ہے جو مغلیہ دور کے فن تعمیر کے اہم عناصر، صوفیانہ روحانیت اور خوبصورتی کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ مسجد کا کھلا صحن ہو، بلند مینار ہوں یا نفیس محراب، ہر عنصر اپنے اندر ایک کہانی سناتا ہے جو ملتان کی تاریخی اور روحانی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔یہ مسجد آنے والی نسلوں کے لیے ایک ثقافتی اور تاریخی ورثہ ہے جو مغلیہ فن تعمیر کی عظمت اور صوفیانہ روایت کی گہرائی کو واضح کرتی ہے۔

عالمی یومِ سماجی خدمت

عالمی یومِ سماجی خدمت

معاشرتی بہتری میں سماجی کارکنوں کا کرداردنیا بھر میں ہر سال مارچ کے تیسرے ہفتے میں ورلڈ سوشل ورک ڈے منایا جاتا ہے۔ اس سال یہ دن 17 مارچ کو منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد سماجی کارکنوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور معاشرے میں انسانی ہمدردی، سماجی انصاف اور باہمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ سماجی کارکن وہ افراد ہوتے ہیں جو معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کی مدد کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں اور انہیں بنیادی حقوق اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں سماجی خدمت کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت، بے روزگاری، تعلیم کی کمی، صحت کی سہولیات کی قلت اور دیگر سماجی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں سماجی کارکن معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتے ہیں اور ضرورت مند افراد تک مدد پہنچانے کے لیے مختلف اداروں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔پاکستان میں سماجی خدمت کا تصور نیا نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہماری مذہبی اور ثقافتی روایات میں موجود ہیں۔ اسلام میں انسانیت کی خدمت کو بہت بڑی نیکی قرار دیا گیا ہے۔ زکوٰۃ، صدقات اور فلاحی سرگرمیوں کی صورت میں پاکستانی معاشرے میں مدد اور تعاون کی روایت ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تنظیمیں بھی سماجی خدمات کے میدان میں سرگرم ہیں۔پاکستان میں کئی معروف سماجی اور فلاحی تنظیمیں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں غریب اور نادار افراد کو طبی سہولیات، تعلیم، خوراک اور مالی مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات کے دوران بھی امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتی ہیں۔ ان اداروں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ سماجی خدمت کے جذبے کے ساتھ اگر منظم انداز میں کام کیا جائے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔پاکستان میں سماجی کارکنوں کو کئی چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وسائل کی کمی، بڑھتی ہوئی آبادی، قدرتی آفات اور بعض علاقوں میں سماجی مسائل کی پیچیدگی ان کے کام کو مشکل بنا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ پیشہ ورانہ تربیت اور حکومتی سطح پر مضبوط پالیسیوں کی کمی بھی سماجی شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس کے باوجود ہزاروں سماجی کارکن خاموشی سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے امید کی کرن بنے ہوئے ہیں۔عالمی یومِ سماجی خدمت ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم سماجی کارکنوں کی خدمات کو سراہیں اور ان کے کام کی اہمیت کو تسلیم کریں۔ یہ دن اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ معاشرے کی بہتری صرف حکومت یا چند اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کو اپنی سطح پر کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر ہر شخص اپنے اردگرد موجود ضرورت مند افراد کی مدد کرے اور سماجی مسائل کے حل میں حصہ لے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔پاکستان میں نوجوان آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں، اگر انہیں سماجی خدمت کی طرف راغب کیا جائے تو یہ ملک کے لیے ایک بڑی طاقت ثابت ہو سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں رضاکارانہ سرگرمیوں کو فروغ دینا، کمیونٹی سروس کے پروگرام متعارف کرانا اور سماجی شعور بیدار کرنا اس سلسلے میں اہم اقدامات ہو سکتے ہیں۔ اس طرح نوجوان نسل نہ صرف معاشرے کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکے گی بلکہ ان کے حل میں عملی کردار بھی ادا کرے گی۔ سماجی خدمت دراصل انسانیت کی خدمت ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں بہت سے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، وہاں سماجی کارکنوں کی خدمات بے حد قیمتی ہیں۔ عالمی یومِ سماجی خدمت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمدردی، تعاون اور سماجی انصاف کے اصولوں کو فروغ دے کر ہم ایک زیادہ منصفانہ اور خوشحال معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

رمضان کےمشروب و پکوان

رمضان کےمشروب و پکوان

چکن قیمہ کچوریاجزا:میدہ: 2 کپ،گھی یاتیل: 3،4 کھانے کے چمچ،نمک: آدھا چائے کا چمچ،چکن کا قیمہ: 250 گرام،پیاز (باریک کٹی ہوئی): 1 عدد،ادرک لہسن پیسٹ: ایک چائے کا چمچ،لال مرچ (پسی ہوئی): ایک چائے کا چمچ،زیرہ، دھنیا (بھنا اور کٹا ہوا): ایک چائے کا چمچ،ہرا دھنیا،ہری مرچ: حسب ذائقہ،تیل: فرائی کے لیےترکیب: میدے میں گھی اور نمک ملا کر اچھی طرح مکس کریں، سخت آٹا گوندھ کر 30 منٹ کے لیے ڈھانپ دیں۔ پین میں تیل گرم کر کے پیاز اور ادرک لہسن بھونیں۔ قیمہ اور تمام مصالحے ڈال کر قیمہ گلنے تک پکائیں۔ آخر میں ہرا دھنیا ڈال کر ٹھنڈا کر لیں۔ گوندھے ہوئے آٹے کے پیڑے بنائیں، انہیں بیلن سے بیلیں، درمیان میں فلنگ بھریں اور کناروں کو اچھی طرح بند کر دیں۔ کڑاہی میں درمیانی آنچ پر تیل گرم کریں اور کچوریوں کو ہلکی آنچ پر سنہری ہونے تک تل لیں۔منٹ مارگریٹااجزا :تازہ پودینہ ایک چھوٹی گٹھی،لیموں کا رس : چار چائے کے چمچ ، کالا نمک : حسبِ ذائقہ،چینی : چھ چائے کے چمچ ( حسبِ ذائقہ زیادہ یا کم بھی کی جاسکتی ہے)،سیون اپ یا سپرائٹ : تین گلاس،برف (چھوٹی ٹکڑیوں کی صورت میں ضرورت کے مطابق)۔ترکیب: پودینے کے پتے الگ کر لیںاور انہیں اچھی طرح دھو لیں۔ پھر بلینڈر میں پودینے کے پتے، لیموں کا رس، چینی اور برف ڈال دیں اور اچھی طرح بلینڈکر لیں۔ جب پودینہ بالکل باریک ہو جائے تو بلینڈر میں تین گلاس سیون اپ یا سپرائٹ جو بھی ہے ڈال کر دوبارہ بلینڈ کر لیں۔تقریباًچار گلاس منٹ مارگریٹا تیار ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

سینٹ پیٹرک ڈے17 مارچ کو منایا جانے والا سینٹ پیٹرک ڈے آئرلینڈ کے سینٹ پیٹرک کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق سینٹ پیٹرک کا انتقال 17 مارچ 461ء کو ہوا تھا اور اسی نسبت سے یہ دن ان کے نام سے منسوب ہو گیا۔ یہ دن صرف ایک مذہبی یادگار تک محدود نہیں رہا بلکہ آئرلینڈ کی قومی اور ثقافتی شناخت کی علامت بن گیا۔ اس دن آئرلینڈ میں جلوس، مذہبی تقریبات اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ لوگ سبز لباس پہنتے ہیں جو آئرلینڈ کی علامتی رنگت ہے۔ اٹلی کے اتحاد کا اعلان17 مارچ 1861ء کو متحدہ اٹلی کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس دن ساردینیا کے بادشاہ وکٹر ایمانوئل دوم کو متحدہ اٹلی کا بادشاہ تسلیم کر لیا گیا اور ایک نئی قومی ریاست وجود میں آئی۔انیسویں صدی کے آغاز تک اٹلی کئی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم تھا۔ اس صورتحال نے اطالوی قوم پرست رہنماؤں کو متحدہ اٹلی کے قیام کی تحریک شروع کرنے پر مجبور کیا۔ اس تحریک کو ریسورجیمنٹو کہا جاتا ہے۔17 مارچ 1861ء کو اطالوی پارلیمنٹ نے متحدہ مملکتِ اٹلی کے قیام کا اعلان کیا۔ اگرچہ روم اور وینس بعد میں اس ریاست کا حصہ بنے لیکن یہ دن اطالوی اتحاد کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ چین میں ثقافتی انقلاب 17 مارچ 1966ء کو چین میں ایک سیاسی مہم کا آغاز ہوا جسے بعد میں ثقافتی انقلاب کے ابتدائی مرحلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ تحریک چینی رہنما ماؤ زے تنگ کی قیادت میں شروع ہوئی اور اس کا مقصد کمیونسٹ نظریات کو مزید مضبوط بنانا اور پارٹی کے اندر موجود مخالف عناصر کو ختم کرنا تھا۔اس تحریک کے دوران چینی معاشرے میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ثقافتی انقلاب تقریباً ایک دہائی تک جاری رہا اور اس نے چین کی سیاست، تعلیم اور معاشرت پر گہرے اثرات مرتب کیے ، چین کی معیشت اور سماجی ڈھانچے میں بھی بڑی تبدیلیاں آئیں۔ دلائی لامہ کی منتقلی 17 مارچ 1959ء کو تبت کی تاریخ میں ایک اہم موڑ آیا جب تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے دارالحکومت لہاسا چھوڑ دیا۔چین نے 1950ء میں تبت پرکنٹرول قائم کیا تھا لیکن تبتی عوام اور مذہبی قیادت اس صورتحال سے مطمئن نہیں تھی۔ مارچ 1959ء میں لہاسا میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا ۔ اسی وجہ سے 17 مارچ کو انہوں نے خفیہ طور پر لہاسا چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ دشوار گزار پہاڑی راستوں سے سفر کرتے ہوئے چند دن بعد بھارت پہنچ گئے۔ مصر اسرائیل امن معاہدہ17 مارچ 1979ء کو اسرائیل کی پارلیمنٹ نے مصر کے ساتھ امن معاہدے کی منظوری دی۔یہ معاہدہ امریکی صدر جمی کارٹر کی ثالثی میں ہونے والے کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کا نتیجہ تھا۔ مصر کے صدر انور سادات اور اسرائیل کے وزیر اعظم بیگن نے مذاکرات کے بعد امن معاہدے پر اتفاق کیا۔اسرائیلی پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد 26 مارچ 1979ء کو واشنگٹن میں اس معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

مسجد گوہر شاہ: تیموری عہد کا عظیم شاہکار

مسجد گوہر شاہ: تیموری عہد کا عظیم شاہکار

ایران کے شہرمشہد میں واقع مسجد گوہر شاہ اسلامی فن تعمیر، روحانیت اور تاریخ کا ایک شاندار سنگم ہے۔ یہ عظیم الشان مسجد دراصل امام رضا کے روضہ مبارک کے وسیع و عریض احاطے میں واقع ہے اور اسے خطے کی اہم ترین مذہبی اور تاریخی عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس مسجد کی تعمیر 15ویں صدی میں تیموری سلطنت کے دور میں ہوئی اور اس کی بنیاد تیموری فرمانروا شاہ رخ کی اہلیہ بیگم گوہر شاہ نے رکھی تھی، جن کے نام پر اس مسجد کو گوہر شاہ یا گوہرشاد مسجد کہا جاتا ہے۔گوہرشاہ بیگم اپنے دور کی نہایت بااثر اور صاحب ذوق خاتون تھیں۔ انہوں نے 1418ء میں اس مسجد کی تعمیر کا حکم دیا تاکہ زائرین حرم کو عبادت کیلئے ایک وسیع اور خوبصورت مقام میسر آسکے۔ اس مسجد کی تعمیر کیلئے اس دور کے ممتاز معمار شیرازی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ استاد شیرازی کی زیر نگرانی یہ مسجد بارہ سال میں مکمل ہوئی۔ مسجد سمر قندی طرز تعمیر سے تیار کی گئی۔تیموری دور اسلامی فن تعمیر کے عروج کا زمانہ تھا، چنانچہ مسجد کی تعمیر میں اس دور کی جمالیاتی روایات پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں نظر آتی ہیں۔ خط کوفی میں قرآنی آیات اتنی خوشخطی سے تحریر کی گئی ہیں کہ چھ صدیاں گزرنے کے بعد بھی زمانے کے حوادث ان کی آب و تاب میں سرموفرق نہیں لا سکے۔ گوہر شاہ مسجد کا فن تعمیر اپنی دلکشی اور نفاست کے باعث بے مثال سمجھا جاتا ہے۔ مسجد کا وسیع صحن، بلند و بالا ایوان، دلکش گنبد اور باریک و نفیس نیلی ٹائلوں کی آرائش دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہے۔ پیازی طرز کا گنبد مسجد کی شان ہے۔ گنبد کا رنگ فیروزی ہے، مسجد کا کل رقبہ 101292مربع فٹ ہے اور صحن 180فٹ لمبا اور 160فٹ چوڑا ہے۔ مسجد کے صحن میں سنگ مر مر استعمال کیا گیا ہے صحن کے تینوں اطراف میں برآمدے بنائے گئے ہیں۔ مسجد کے دو مینار ہیں جو 131فٹ بلند ہیں۔ گنبد کا قطر49فٹ اور اس کا محیط207فٹ ہے صحن سے مسجد کے اندر ہال میں داخل ہونے کیلئے نو محرابی دروازے ہیں۔ گنبد کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ دہری تہہ میں بنایا گیا ہے۔ مسجد کی تعمیر میں سرخ اینٹوں، ٹائلوں اور سنگ مر مر کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس مسجد کے چار بڑے ایوان ہیں جو ایرانی طرزِ تعمیر کی کلاسیکی روایت کی عکاسی کرتے ہیں۔ مسجد کے گنبد اور دیواروں پر بنے نقش و نگار، قرآنی آیات اور خطاطی کے نمونے اسلامی فنونِ لطیفہ کی اعلیٰ مثالیں پیش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ مسجد کے اندرونی حصے میں موجود محراب اور منبر بھی نہایت خوبصورتی سے آراستہ ہیں۔ مسجد کا منبر اخروٹ کی لکڑی سے تیار کیا گیا ہے۔ منبر کی تیاری میں کہیں بھی لوہے کی میخ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ رنگین ٹائلوں، جیومیٹرک نقشوں اور نفیس خطاطی کے امتزاج نے اس مسجد کو فن تعمیر کا ایک زندہ عجائب گھر بنا دیا ہے۔چونکہ یہ مسجد امام رضا کے روضہ مبارک کے قریب واقع ہے، اس لیے یہاں دنیا بھر سے آنے والے زائرین بڑی تعداد میں نماز اور عبادت کیلئے حاضر ہوتے ہیں۔ صدیوں سے یہ مسجد نہ صرف عبادت کا مرکز رہی ہے بلکہ اسلامی ثقافت، تعلیم اور روحانی اجتماع کا بھی اہم مقام رہی ہے۔ رمضان المبارک، محرم اور دیگر مذہبی مواقع پر یہاں خصوصی اجتماعات اور عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔مسجد کے ہال میں ہاتھ سے تیار کردہ خوبصورت ایرانی قالین بچھائے گئے ہیں۔ مسجد سے ملحق ایک بڑی لائبریری ہے جس میں 35ہزار کتب رکھی گئی ہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ مسجد زلزلوں اور بعض سیاسی ہنگاموں سے متاثر بھی ہوئی، تاہم ہر بار اس کی مرمت اور بحالی کا کام کیا گیا۔ ایرانی حکومت اور مذہبی اداروں نے اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کیلئے مسلسل اقدامات کیے ہیں تاکہ یہ آئندہ نسلوں کیلئے بھی باقی رہے۔ صفوی حکمران شاہ عباس نے مسجد گوہر شاہ کی مرمت اور تزئین و آرائش پر خاص توجہ دی۔1803ء میں زلزلے نے اس مسجد کے کچھ حصے کو نقصان پہنچایا جس کی بعد میں مرمت کر دی گئی۔مسجد گوہر شاہ نہ صرف ایک عبادت گاہ ہے بلکہ اسلامی تہذیب، فن تعمیر اور روحانی روایت کی عظیم علامت بھی ہے۔ اس کی دلکش عمارت، تاریخی پس منظر اور مذہبی اہمیت اسے عالم اسلام کی ممتاز مساجد میں شامل کرتی ہے۔ آج بھی جب زائرین اس مسجد کے صحن میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں تاریخ، روحانیت اور فن کے حسین امتزاج کا دلنشیں منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔

رمضان کے پکوان

رمضان کے پکوان

ڈیٹ ڈئیلائٹ اجزاء :کھجوریں دو پیالی( درمیان میں سے گٹھلی نکال کر گودا بنالیں) ۔ میری بسکٹ ایک پیکٹ، ناریل گری آدھی پیالی ،چینی آدھی پیالی، فریش کریم ایک پیالی۔ مارجرین چار کھانے کے چمچترکیب :سب سے پہلے ایک دیگچی میں مارجرین کو ہلکا سا گرم کریں، پھر اس میں کھجوروں کا گودا ڈال کر ہلکا سا بھون لیں۔ تاکہ اچھاسا پیسٹ بن جائے پھر شکر اور ناریل کی گری ڈال کر پانچ سے دس منٹ تک بھونیں بسکٹ کو توڑ کر چورا کرلیں پھر سب چیزوں کے ساتھ بسکٹ بھی ڈال دیں۔ دوتین منٹ بھون کر ایک تھالی میں ذرا سی چکنائی لگاکر کھجور اور بسکٹ کے آمیزے کو پھیلا کر رکھ دیں۔ ٹھنڈا ہونے دیں فریش کریم کو خوب پھینٹیں، جب وہ گاڑھی ہو جائے تو اس کے اوپر ڈال دیں، چوکور ٹکڑے کاٹ کر پیش کریں۔ نوٹ:یہ ڈش چار سے چھ افراد کے لیے کافی ہے۔ منچ ویج کباباجزاء : قیمہ آدھا کلو،شملہ مرچ ایک عدد ، گاجر ایک عدد، آلو 3 عدد، نمک ایک ٹیبل سپون، کالی مرچ ایک ٹیبل سپون،کٹی لال مرچ ایک ٹیبل سپون، لہسن ادرک 2 ٹیبل سپون، انڈا ایک عدد ، ڈبل روٹی کا چور آدھا کپترکیب:آلو ابال کر میش کرلیں۔گاجر کو بھی باریک چوپ کر کے ابال لیں۔شملہ مرچ کو بھی باریک کٹ لگا لیں۔اب تما م سبزیوں میں سارے مصالحے ڈا ل کر مکس کریں۔انڈا اور چورا ڈال کر مکس کریں اور کباب بنا کر پیش کریں۔