تمباکو کا سفر

تمباکو کا سفر

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد اسلم پرویز


تمباکو کا شمار ان پودوں میں ہوتا ہے جنہوں نے انسان کی عادات و اطوار، تہذیب، سماجی ساخت اور حکومتوں کو بدلا ہے۔ انسانی سماج کی تاریخ میںجن پودوں کو عہدساز کہا جا سکتا ہے، ان میں تمباکو بھی شامل ہے۔ تمباکو کے استعمال سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ جلد ہی ہو گیا تھا لیکن اس کے باوجود اس کا چلن بڑھتا ہی گیا۔ 1492ء کے اواخر میں کولمبس کا جہاز کیوبا کے ساحل پر لنگر انداز ہوا۔ اس نے اپنے ترجمان کو ایک رقعہ کے ساتھ خان اعظم کی خدمت میں روانہ کیا۔ اس نے اپنے خط میں گزارش کی تھی کہ وہ اس کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کر لے۔ کولمبس کے ساتھی جب شہر میں داخل ہوئے تو انہوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ سبھی باشندوں کے منہ میں لمبی لمبی نلکیاں لگی ہوئی تھیں جن کے سرے کو وہ منہ میں چبا رہے تھے۔ دوسرے سرے سے دھواں نکل رہا تھا۔ مختلف لوگوں سے بات کرنے پر ان کو بتایا گیا کہ ان نلکیوں کے استعمال سے رنج و غم اور تکالیف نیز تھکان کا احساس کم ہو جاتا ہے۔ کولمبس کیوبا سے تجارتی تعلق تو قائم نہ کر سکا لیکن وہاں سے اس کو بطور تحفہ وہ دھویں والی نلکیاں حاصل ہو گئیں۔ جن کو لے کر وہ سپین واپس لوٹ آیا۔ قدیم چٹانوں پر کھدی ہوئی تصاویر اور دیگر آثارِ قدیمہ کی مدد سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کولمبس کے زمانے سے ایک ہزار سال قبل بھی تمباکو بطور دوا اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کے وقت استعمال ہوتا تھا۔ مایا قبائل کے مذہبی پیشوا بارشیں لانے کے لیے تمباکو پیا کرتے تھے۔ مریضوں کو روحانی علاج کے واسطے تمباکو کی دھونی دی جاتی تھی۔ مقامی قبیلے کے لوگ تمباکو کی پتیوں کو لپیٹ کر جو گول نلکیاں بناتے تھے ان کو وہ ’’ٹباکا‘‘ کہتے تھے۔ اسی لفظ سے انگریزی میں ’’ٹوباکو‘‘ بنا، جس نے اردو میں تمباکو کی شکل اختیار کر لی۔ شمالی امریکا کے انڈین قبائل میں تمباکو کی اتنی اہمیت تھی کہ وہ بطور کرنسی استعمال ہوتا تھا۔ تمباکوکی اچھی پتی اور اچھی قسم کے بدلے میں کوئی بھی چیز خریدی جا سکتی تھی۔ چودہویں اور پندرہویں صدی کے سیاحوں کی تحریروں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس وقت تمباکو کو بطور نسوار ناک میں رکھا جاتا تھا۔ اس کی پتیاں منہ میں چبائی بھی جاتی تھیں اور بطور سگار بھی اس کا دھواں استعمال ہوتا تھا۔ ان سیاحوں نے اپنی تحریروں میں دو اقسام کے تمباکو کا ذکر کیا ہے، جن میں سے ایک کی پتیاں ملائم اوردھواں ہلکا ہوتا تھا۔ جب کہ دوسری قسم کی پتیاں سخت ہوتی تھیں اور دھواں بہت تلخ اور سخت ہوتا تھا۔ کولمبس کے ذریعے تمباکو کی پتیاں سپین پہنچیں تو وہاں بھی اس کا رواج چل نکلا۔ تاریخی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ 1531ء تک سپین میں باقاعدہ دونوں اقسام کے تمباکو کی کاشت شروع ہو چکی تھی۔ شروع شروع میں اس کا استعمال بطور دوا ہوا۔ ہسپانوی جہازوں کے انگریز، فرانسیسی اور ولندیزی عملے میں تمباکو کی پتیاں درد اور تھکان دور کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں اور ان کو ’’مقدس سمجھا جاتا تھا۔ سیاحوں اور تاجروں کی مدد سے یہ پتیاں یورپ کے علاقوں میں پھیلنے لگیں۔ اگرچہ اس وقت کافی کوشش کی گئی کہ ان پتیوں پر صرف معالجوں کا قبضہ رہے، لیکن عوام میں ان کا چلن بڑھنے لگا۔ سولہویں صدی کے وسط میں ایک سیاح برازیل سے تمباکو کے بیج لے کر فرانس پہنچا۔ اس کے چند برس بعد پرتگال میں موجود سفیر فرانس یاں نکوٹ نے تمباکو کے بیج کیتھرائن میڈیسی کی خدمت میں یہ کہہ کر پیش کیے کہ یہ ملکہ کا خاص پودا ہے۔ سفیر کے ذریعے تحفے میں دیے گئے بیج وہاں بہت مقبول ہوئے اور تمباکو کا استعمال عام ہو گیا۔ تمباکو کو پھیلانے میں نکوٹ کے کردارکی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب پودوں اور جانوروں کے سائنسی نام رکھے گئے تو تمباکو کا نام ’’نکوٹیانا‘‘ رکھا گیا۔ سرجان ہاکن نے انگلینڈ میں تمباکو کی کاشت شروع کرائی۔ ملکہ الزبتھ اول کے دربار میں سر والٹر ریلی نے تمباکو پیش کیا اور مقبولیت دلائی۔ باوجود مقامی کاشت کے انگلینڈ میں استعمال ہونے والے تمباکو کی بڑی مقدار سپین ہی سے آتی تھی۔ اس وقت تمباکو چاندی کے ہم وزن بکتا تھا، پھر بھی یہ لوگوں میں مقبول تھا۔ اس مقبولیت کی وجہ سے حکام کو پریشانی لاحق ہوئی کیونکہ اس طرح چاندی ملک سے باہر جا رہی تھی اور سپین کے خزانے کو بھر رہی تھی۔ شاہ جیمز اول نے اس چلن کو روکنے کے لیے تمباکو کی خرید پر ٹیکس لگا دیا۔ مگر تمباکو کا استعمال نہ رک سکا۔ پرتگالیوں نے تمباکو چین میں متعارف کرایا۔ چین میں اس کا استعمال اتنی تیزی سے پھیلا کہ تنگ آ کر چیانگ مملکت کے بادشاہ کانگ سائی نے تمباکو بیچنے والوں کے سر قلم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اس وقت تک تقریباً تمام دنیا میں تمباکو کی پتیاں پھیل چکی تھیں۔ عوام میں پھیلنے والی اس لت سے حکمران پریشان تھے۔ خلافت عثمانیہ کے شاہ مراد رابع تمباکو پینے والوں کو قتل کرا دیتے تھے۔ ایک زار روس نسوار استعمال کرنے والوں کے نتھنے کٹوا دیتا تھا۔ لیکن لوگ چھپ چھپ کر پیتے رہے اور اس کی تجارت جاری رہی۔ پرتگالی اور ہسپانوی سیاحوں نے رفتہ رفتہ سبھی علاقوں میں تمباکو رائج کرا دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
چاند نے سورج کو چھپایا  Earthset نے دل لبھایا

چاند نے سورج کو چھپایا Earthset نے دل لبھایا

NASA نے ''آرٹیمیس II مشن‘‘ کی پہلی تصاویر عام کر دیںخلائی تحقیق کے شائقین اور سائنس کے دلدادہ افراد کیلئے ایک حیرت انگیز لمحہ آیا ہے، جب ناسا (NASA) نے اپنے آرٹیمیس II مشن کی پہلی تصاویر عام کیں۔ ان تصاویر میں سے ایک خاص طور پر دلکش منظر پیش کرتی ہے، جس میں چاند سورج کو جزوی طور پر چھپاتے ہوئے نظر آ رہا ہے، ایک ایسا نادر اور خوبصورت لمحہ جو خلا کی خوبصورتی اور کائنات کے اسرار کو سامنے لاتا ہے۔اس تصویر کے ساتھ Earthset کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جو 1968ء میں اپالو مشن کے دوران کھینچی گئی مشہورEarthrise تصویر کی یاد دلاتا ہے، جب زمین افق سے ابھرتی ہوئی دکھائی دی تھی۔ اس سے نہ صرف خلائی مشنز کی ترقی اور تکنیکی مہارت کی جھلک ملتی ہے بلکہ یہ انسانی جستجو اور خلا کی وسعتوں کو سمجھنے کی لگن کا بھی مظہر ہے۔یہ پہلی بار نہیں ہے کہ انسان نے خلا سے زمین یا سورج کے دلچسپ مناظر دیکھے ہوں، مگر آرٹیمیس II کی یہ تصاویر اس بات کا ثبوت ہیں کہ جدید دور کے خلائی مشن کس حد تک تکنیکی اور بصری اعتبار سے متاثر کن ہیں، اور انسانی تاریخ میں خلا کی تحقیق کے نئے ابواب کھول رہے ہیں۔ناسا نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آرٹیمیس II کے عملے نے 6 اپریل 2026ء کو چاند کے گرد پرواز کرتے ہوئےEarthset کا یہ منظر قید کیا۔ یہ تصویر اس مشہور Earthrise تصویر کی یاد دلاتی ہے جو 58 سال قبل اپالو 8 کے عملے نے لی تھی۔ دوسری تصویر کا عنوانThe Artemis II Eclipse ہے، اور یہ لمحہ دکھاتی ہے جب چاند سورج کو جزوی طور پر چھپاتا ہے۔وائٹ ہاؤس نے ایکس پر اس تصویر کے ساتھ کہاکہ کل وقتی تاریکی، زمین سے باہر۔ چاند کے مدار سے، چاند سورج کو eclipses کرتا ہے، ایک ایسا منظر دکھاتا ہے جو انسانی تاریخ میں بہت کم لوگوں نے دیکھا ہے۔یہ تصاویر اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد جاری کی گئی ہیں کہ جب ناسا کے خلا نوردوں نے پچاس سال بعد پہلی بار چاند کے دور دراز حصے کے گرد سفر کیا۔ تیسری تصویر میںOrientale basin کے حلقے دکھائے گئے ہیں۔ناسا کے مطابق Orientale basin کے 10 بجے کی پوزیشن پر دو چھوٹے گڑھے ہیں، جنہیں آرٹیمیس II کے عملے نے Integrity اور Carroll نام دینے کی تجویز دی ہے۔ چھ گھنٹے کی چاند کی پرواز کے دوران، آرٹیمیس II کے عملے نے زمین سے 252,756 میل (406,771 کلومیٹر) سے زیادہ فاصلہ طے کیا، جو اپالو مشنز کے فاصلے سے زیادہ ہے اور ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔اس دوران، وہ نصف صدی بعد پہلے انسان بن گئے جنہوں نے چاند کے دور دراز حصے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ چاند کی سطح سے 41,072 میل (66,098 کلومیٹر) اوپر سے دیکھا گیا منظر ایسا تھا جیسے چاند آپ کے بازو کے فاصلے پر رکھا گیا باسکٹ بال ہو۔وائٹ ہاؤس نےEarthset تصویر شیئر کرنے کے بعد، سوشل میڈیا صارفین نے اسے بے حد خوبصورت قرار دیا۔ ایک صارف نے کہا:یہ اب تک کی سب سے خوبصورت تصویر ہے جو میں نے دیکھی۔ایک اور صارف نے لکھا: ہم بہت چھوٹے ہیں، یہ واقعی ناقابل یقین ہے۔ ایک صارف نے مزید کہا:انسانیت کو زمین کو یاد رکھنے کیلئے ہمیشہ زمین چھوڑنی پڑتی ہے۔ایک اور نے کہا: بالکل غیر حقیقی،چاند کے مدار سے سورج کو چاند کے پیچھے غائب ہوتے دیکھنا ایک ایسا تجربہ ہے جو صرف چند ہی انسانوں نے دیکھا ہے۔ ایک نے مزاحیہ انداز میں کہا:یہ واقعی دماغ ہلا دینے والا منظر ہے، لگتا ہی نہیں کہ یہ حقیقت ہو۔ یہ بہادر خلا نورد ابھی اپنے خوابوں کی زندگی گزار رہے ہیں، بہت رشک آ رہا ہے۔جب خلا نورد چاند کے دور دراز حصے کے اوپر سے گزرے، تو انہوں نے نیچے کی سطح کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات جمع کیں، تصاویر کھینچیں، خاکے بنائے اور اپنی مشاہدات کی آڈیو ریکارڈنگ بھی کی۔چاند کا دور دراز حصہ زمین سے نظر آنے والے قریب والے حصے سے بالکل مختلف لگتا ہے، یہاں زمین سے دکھائی دینے والے تاریک آتش فشانی میدانوں کی تعداد بہت کم ہے، جبکہ سطح پر گہرے گڑھے اور موٹی کرسٹ نمایاں ہیں۔ جب خلا نورد اوریون کیپسول میں دور دراز حصے کے اوپر سے گزرے، تو انہوں نے دلچسپ جیومیٹری نما نمونے دیکھے، گھومتی ہوئی شکلیں جنہیں انہوں نے ''squiggles‘‘ کہا، اور اونچی ویران سطح پر غیر متوقع سبز اور بھورے رنگ کے شیڈز بھی دیکھے۔اگرچہ مصنوعی سیارے (satellites) چاند کے دور دراز حصے کی تصاویر لے چکے ہیں، لیکن ان خصوصیات کو انسانی آنکھ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔خاص طور پر، خلا نوردوں نے چاند کی سطح پر نئے بنے ہوئے گڑھے دیکھے جو چھوٹے چھوٹے سوراخ کی طرح نمایاں تھے، جیسے کسی لیمپ شیڈ پر چھوٹے سوراخ ہوں۔

 109 سالہ خاتون کی ناقابلِ یقین اڑان!

109 سالہ خاتون کی ناقابلِ یقین اڑان!

ایما کا گرم ہوا کے غبارے میں پرواز کا عالمی ریکارڈ تاحال قائمانسانی عزم، حوصلے اور جستجو کی داستانیں ہمیشہ سے تاریخ کے اوراق کو روشن کرتی آئی ہیں، مگر بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف حیران کن ہوتے ہیں بلکہ انسانی صلاحیتوں کے تصور کو بھی نئی وسعت عطا کرتے ہیں۔109سالہ امریکی خاتون نے گرم ہوا کے غبارے میں پرواز کر نے کا جوعالمی ریکارڈ قائم کیاتھا، جس نے دنیا بھر کے لوگوں کو حیرت اور تحسین میں مبتلا کر دیاتھا، تاحال برقرار ہے۔ اس غیر معمولی کارنامے نے یہ ثابت کیا تھاکہ عمر محض ایک عدد ہے اور اگر ارادے مضبوط ہوں تو آسمان کی بلندیوں کو بھی چھوا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف بزرگ افراد کیلئے ایک نئی امید اور حوصلے کا پیغام بنا بلکہ نوجوان نسل کیلئے بھی ایک روشن مثال تھا کہ خوابوں کی تعبیر کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔کیا آپ نے کبھی ہمت کی ہے کہ زمین سے میلوں بلند فضا میں جائیں اور نیچے پھیلی دنیا کو دیکھیں؟ خیر، گنیز ورلڈ ریکارڈ میں ہمیں یہ دیکھنا بہت پسند ہے کہ لوگ ریکارڈ قائم کرنے کیلئے کس قدر حیرت انگیز بلندیوں تک پہنچتے ہیں۔امریکی ریاست اوٹاوہ سے تعلق رکھنے والی ایما کیرل (Emma Carrol ) نے 27 جولائی 2004ء کو انسانیت کیلئے ایک بڑا قدم اٹھایا۔ انہوں نے خود کو چیلنج کرنے اور کچھ نیا کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی لمحے انہوں نے طے کیا کہ گرم ہوا کے غبارے میں پرواز کرنا اس مقصد کیلئے بہترین انتخاب ہو گا۔ایما کی پیدائش 18 مئی 1895ء کو ہوئی تھی، اور 109 سال اور 70 دن کی عمر میں انہوں نے گرم ہوا کے غبارے میں پرواز کرنے والی دنیا کی معمر ترین شخصیت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس تاریخی موقع پر، ایما تقریباً ایک گھنٹہ فضا میں رہیں اور اپنے آبائی ریاست کے اوپر معلق رہتے ہوئے اس منفرد تجربے سے لطف اندوز ہوئیں۔ایما کے مطابق یہ وہ کام تھا جو میں ہمیشہ سے کرنا چاہتی تھی۔ ایک آدمی اور اس کی بیوی مجھے (پائلٹ برائن بینیٹ کے ساتھ) لے گئے۔ ہم فضا میں آہستہ آہستہ تیر رہے تھے اور مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ہم اتنی بلندی پر ہیں۔ یہ میرے تمام تجربات سے بڑھ کر تھا۔ اگر ممکن ہوتا تو میں یہ دوبارہ ضرور کرتی!۔عمر نے کبھی بھی ایما کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ اپنی 100ویں سالگرہ کے بعد انہوں نے صرف گرم ہوا کے غبارے میں پرواز ہی نہیں کی بلکہ سڑکوں پر موٹر سائیکل کی سواری کا بھی لطف اٹھایا۔ 105 سال کی عمر میں ایما کیرل آئیوا کے وسٹا ووڈز کیئر سینٹر لووا کی رہائشی بن گئیں۔ اگرچہ وہ اپنی زندگی کے سنہری دور میں داخل ہو چکی تھیں، لیکن وہ خود کو مصروف رکھنے کا سلسلہ جاری رکھتی تھیں اور ہفتے میں دو بار نگہداشت مرکز کیلئے تولیے تہہ کرنے میں مدد دیتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے کام کرنا اور اپنے ہاتھوں سے کام کرنا پسند ہے۔ اس سے میرے ہاتھ فعال رہتے ہیں، لچکدار رہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ کام کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔10 جولائی 2007ء کو، 112 سال اور 53 دن کی عمر میں، ایما اسی نگہداشت مرکز میں انتقال کر گئیں، لیکن ان کی یادیں اور کارنامے آج بھی زندہ ہیں۔اتنے برس گزر جانے کے باوجود آج تک کوئی بھی ان کا یہ ریکارڈ نہیں توڑ سکا۔ وہ ہمیشہ اپنی حیرت انگیز فضائی پرواز کے باعث یاد رکھی جائیں گی، جو اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ عمر صرف ایک عدد ہے اور ہمیں ہمیشہ خود کو نئے اور غیر متوقع چیلنجز کیلئے تیار رکھنا چاہیے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!احمد رشدی عظیم پلے بیک گلو کار (1983-1934ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!احمد رشدی عظیم پلے بیک گلو کار (1983-1934ء)

٭...24اپریل 1934ء کو حیدر آباد دکن میں پیداہوئے، پورا نام سید احمد رشدی تھا۔ ٭...ابتداء میں حیدرآباد دکن میں موسیقی کی ایک اکیڈمی میں داخلہ لیا۔بعد میں استاد نتھو خان سے کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔٭...پاکستان آنے کے بعد موسیقی کے پروگرامز میں حصہ لینا شروع کیا۔ پھر ریڈیو پاکستان پر گانا شروع کر دیا۔ ٭...انہوں نے اپنا پہلا غیر فلمی گانا ''بندر روڈ سے کیماڑی‘‘ گایاجو ریڈیو پاکستان کے شو ''بچوں کی دنیا‘‘ میں پیش کیاگیا۔ اس گانے کے بعد انہیں فلموں میں گیت گانے کی پیشکش کی گئی۔٭...1954ء میں انہوں نے دیگر گلوکاروں کے ساتھ پاکستان کا قومی ترانہ ریکارڈ کرایا۔٭...1956ء میں فلم ''انوکھی‘‘ کیلئے احمد رشدی کے گائے ہوئے نغمات بہت مشہور ہوئے۔٭...1959ء میں فلم ''راز‘‘ میں بھی انہوں نے بہت دلکش گیت گائے جن میں ''چھلک رہی ہیں مستیاں‘‘ اور ''چل نہ سکے گی 420‘‘ بہت ہٹ ہوئے۔٭...1961ء میں فلم ''سپیرن‘‘ کا گیت ''چاند سا مکھڑا گورا بدن‘‘ گایا جو بے پناہ مقبول ہوا۔ جس پر انہیں بہترین پلے بیک سنگر کا نگار ایوارڈ ملا۔ ٭...1962ء میں مقبول عام گیت '' گول گپے والا آیا، گول گپے لایا‘‘ گایا،یہ گیت علائو الدین پر فلمبند کیا گیا۔ ٭...1966ء میں فلم '' ارمان‘‘کا گیت ''کوکوکورینا‘‘ گایا۔ اس گیت نے پورے ملک میں دھوم مچا دی۔ ٭...1950ء کی دہائی میں انہیں مقبولیت ملنا شروع ہوئی جو 1980ء تک جاری رہی۔ ٭...وہ پاکستانی سینما کی تاریخ میں سب سے زیادہ فلمی گیت گانے والے گلوکار ہیں۔٭... انہوں نے 583 فلموں کیلئے تقریباً 5ہزار گیت گائے۔ ان میں اردو، انگریزی، پنجابی، بنگالی، سندھی اور گجراتی زبان کے گیت شامل ہیں۔٭...رشدی کو اونچے اور دھیمے سروں میں گانے پر مکمل دسترس حاصل تھی۔ ٭...ان کے گائے ہوئے گیت وحید مراد، ندیم، محمد علی، سنتوش کمار، درپن، حبیب، رحمان، شاہد، قوی خان، غلام محی الدین اور راحت کاظمی پر پکچرائز کئے گئے۔٭...1963ء میں فلم ''جوکر‘‘ کیلئے حبیب جالب کی غزل ''شوق آوارگی‘‘ اور فلم ''خاموش رہو‘‘ میں ''میں نہیں مانتا‘‘ گائی۔ ٭...1970ء میں ندیم کی پہلی فلم ''چکوری‘‘ ریلیز ہوئی۔ احمد رشدی نے روبن گھوش کی موسیقی میں چار گیت گائے جو بہت مقبول ہوئے۔٭...1983ء میں11اپریل کو یہ بے مثل گلوکار 48برس کی عمر میں انتقال کر گیا۔ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ مقبول گیت(1)اے ابر کرم آج اتنا برس کے وہ جا نہ سکیں(2)جان تمنا خط ہے تمہارا(3)کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے(4)زندگی کے سفر میں اکیلے تھے ہم(5)اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم (6)جب رات ڈھلی تم یاد آئے(7)کوئی یوں بھی روٹھتا ہے(8)اے ماں پیاری ماں(9)حسن والوں کا سدا برا انجام ہوتاہے(10)دنیا ریل گاڑی، ہے سانپ کی سواری

آج کا دن

آج کا دن

''ایپل ون‘‘ کمپیوٹر کی ایجادمعروف موبائل ساز کمپنی کا مشہور زمانہ ''ایپل ون‘‘ کمپیوٹر1976ء میں آج کے دن بنایا گیا۔''ایپل ون‘‘ دراصل ایپل کمپیوٹر کے نام سے جاری کیا گیا تھالیکن بعد میں اس کا نام ایپل ون رکھ دیا گیا۔یہ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر تھا۔اسے سٹیو ووزنیاک نے ڈیزائن کیا تھا۔ کمپیوٹر کو فروخت کرنے کا خیال ووزنیاک کے دوست اور شریک بانی سٹیو جابز نے پیش کیا۔'' ایپل ون‘‘ ایپل کمپنی کی پہلی پروڈکٹ تھا اور اس کی تخلیق کیلئے مالی اعانت کیلئے جابز نے اپنی واحد موٹرائزڈمائیکرو بس کو چند سو ڈالر میں فروخت کیا ۔ ''اپالو13‘‘کی چاند کی جانب پرواز 1970ء میں آج کے دن معروف خلائی مشن ''اپالو 13‘‘ نے چاند کی طرف اڑان بھری۔ اس مشن کے دوران خلائی جہاز میں 3خلاباز سوار تھے۔ ''اپالو 13‘‘ کو حادثے کا سامنا اس وقت کرنا پڑاجب اس میں موجود ایک آکسیجن ٹینک میں دھماکہ ہوا۔ٹینک کے پھٹنے سے ''اپالو13‘‘ میں متعدد تکنیکی خرابیاں پیدا ہو گئیں۔ ''اپالو 13‘‘ چھ دن بعد اپنے عملے کے ہمراہ واپس آگیا اور خوش قسمتی سے عملے کے کسی بھی فرد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا قیام 1919ء کو آج کے دن انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا قیام عمل میں آیا۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اقوام متحدہ کا مخصوص ادارہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر مزدوروں کے حقوق اور محنت و مشقت کے متعلق کام کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتے کی کوشش کرتا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی مزدوروں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ کی جائے۔ اس ادارے کا مرکزی دفتر سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں قائم ہے۔ اس کے مرکزی دفتر کے علاوہ سیکرٹریٹ بھی قائم ہے جو عالمی دفتر برائے محنت کے نام سے موسوم ہے۔امریکہ کا بوخن کیمپ پر حملہ دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکہ نے بوخن والڈ حراستی کیمپ پر حملہ کرکے وہاں موجود قیدیوں کو آزاد کروایا۔بوخن والڈ جولائی 1937ء میں جرمنی کے شہر ویمار کے قریب پہاڑی پر قائم کیا گیا ایک نازی حراستی کیمپ تھا۔ اس وقت کی جرمن سرحدوں میں یہ سب سے بڑا حراستی کیمپ تھااور یہاں پر قیدیوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی ۔یہاں پر قید لوگوں کو یورپ اور سوویت یونین سے لایا گیا تھا جن میں زیادہ تر بیمار، معذور اور کمزور افراد تھے۔ ان تمام قیدیوں سے اسلحہ ساز فیکٹریوں میں جبری طور پر کام کروایا جا رہا تھا۔امیر عبداللہ کا تاریخی اقدام1921ء میں عبداللہ اوّل بن الحسین نے نو قائم شدہ برطانوی زیر سرپرستی علاقے ٹرانس جارڈن میں پہلی مرکزی حکومت قائم کی۔ یہ اقدام اس خطے میں باقاعدہ نظم و نسق کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت تھا۔ برطانوی حکومت کی سرپرستی میں قائم ہونے والی اس حکومت نے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط کیا اور مقامی سطح پر حکمرانی کے نظام کو منظم کیا۔ بعد ازاں یہی علاقہ ترقی کرتے ہوئے موجودہ اردن کی شکل اختیار کر گیا، اور امیر عبداللہ اس کے پہلے حکمران اور بانی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔

کوانٹم بیٹری:کیا واقعی لمحوں میں چارج ہوگی؟

کوانٹم بیٹری:کیا واقعی لمحوں میں چارج ہوگی؟

سائنس کی دنیا میں توانائی کے ذخیرے کو ہمیشہ ایک بنیادی چیلنج سمجھا جاتا رہا ہے۔ موبائل فون سے لے کر برقی گاڑیوں تک ہر جگہ بیٹری ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ مگر روایتی بیٹریوں خاص طور پر لیتھیم آئن ٹیکنالوجی کی اپنی حدود ہیں، جیسا کہ چارج ہونے میں وقت، محدود صلاحیت اور وقت کے ساتھ کارکردگی میں کمی۔ ایسے میں حالیہ دنوں سامنے آنے والی کوانٹم بیٹری کی خبر نے عالمی سطح پر سائنسی حلقوں اور ٹیکنالوجی ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔حالیہ تحقیق کے مطابق آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے ایک ایسی تجرباتی کوانٹم بیٹری تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو روایتی اصولوں کے برعکس نہ صرف انتہائی تیزی سے چارج ہو سکتی ہے بلکہ اس کی کارکردگی میں ایک حیران کن خصوصیت بھی دیکھی گئی ہے کہ جتنی بڑی بیٹری اتنی ہی تیز چارجنگ۔ یہ تصور کلاسیکل فزکس کے اصولوں سے بالکل مختلف ہے، جہاں بیٹری کا سائز بڑھنے کے ساتھ چارجنگ وقت بھی بڑھ جاتا ہے۔کوانٹم بیٹری بنیادی طور پر روایتی کیمیائی ردعمل کے بجائے کوانٹم فزکس کے اصولوں پر کام کرتی ہے۔ اس میں توانائی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ایٹمی یا ذیلی ایٹمی سطح پر روشنی اور مادے کے درمیان تعامل کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک خاص قسم کے نظام،جسے مائیکروکیویٹی (microcavity) کہا جاتا ہے،میں روشنی کو قید کر کے توانائی جذب کرنے کا عمل ممکن بنایا۔ اس دوران پولیریٹونز (polaritons) نامی ہائبرڈ ذرات تشکیل پاتے ہیں جو روشنی اور مادے کی مشترکہ خصوصیات رکھتے ہیں اور توانائی کو انتہائی مؤثر انداز میں ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں پہلی بار ایک مکمل چارج-ڈسچارج سائیکل کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ یعنی بیٹری کو نہ صرف چارج کیا گیا بلکہ اس میں محفوظ توانائی کو دوبارہ استعمال بھی کیا گیا۔ اس سے قبل کوانٹم بیٹری کے نظریات تو موجود تھے مگر عملی طور پر توانائی کو خارج (discharge) کرنے کا مرحلہ ایک بڑا مسئلہ تھا۔تقریباً فوری چارجنگ کی اصطلاح اس تحقیق کے تناظر میں استعمال کی جا رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ بیٹری کو انتہائی مختصر وقت حتیٰ کہ فیمٹو سیکنڈز (ایک سیکنڈ کا کھربواں حصہ)میں چارج کیا جا سکتا ہے۔ یہ ممکن ہوتا ہے ایک کوانٹم مظہر کے ذریعے جسے سپر ابسورپشن(super absorption) کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں متعدد ذرات اجتماعی طور پر توانائی جذب کرتے ہیں جس سے چارجنگ کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔تاہم اس ساری پیش رفت کے باوجود یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی تجرباتی مرحلے میں ہے۔ اس وقت جو کوانٹم بیٹری تیار کی گئی ہے وہ نہایت معمولی مقدار میں توانائی ذخیرہ کر سکتی ہے اور وہ بھی صرف چند نینو سیکنڈز کے لیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فی الحال یہ بیٹری کسی بھی عملی استعمال مثلاً موبائل فون یا الیکٹرک گاڑی کو چلانے کے قابل نہیں ۔ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا فوری استعمال ممکنہ طور پر کوانٹم کمپیوٹنگ اور نینو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہو سکتا ہے جہاں انتہائی تیز اور مختصر دورانیے کے توانائی کے پلسز درکار ہوتے ہیں۔ مستقبل میں اگر اس ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دی جائے اور اسے بڑے پیمانے پر قابلِ عمل بنایا جا سکے تو یہ توانائی کے شعبے میں ایک انقلاب برپا کر سکتی ہے۔تصور کریں کہ آپ کا موبائل فون چند سیکنڈز میں مکمل چارج ہو جائے یا الیکٹرک گاڑیوں کو چارج کرنے میں گھنٹوں کے بجائے چند لمحے لگیں۔ یہ سب کچھ فی الحال سائنس فکشن محسوس ہوتا ہے مگر کوانٹم بیٹری کی تحقیق اس سمت میں ایک اہم قدم ضرور ہے۔یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ کوانٹم بیٹری کا تصور گزشتہ ایک دہائی سے سائنسی نظریات کا حصہ رہا ہے مگر اب پہلی بار اس کی عملی جھلک سامنے آئی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوانٹم فزکس نہ صرف نظریاتی میدان تک محدود نہیں بلکہ عملی ٹیکنالوجی کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔نتیجتاً کوانٹم بیٹری کو فی الحال ایک سائنسی پیش رفت کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے نہ کہ فوری طور پر قابلِ استعمال ٹیکنالوجی کے طور پر۔ اس تحقیق نے اگرچہ یہ ثابت کر دیا ہے کہ توانائی کو ذخیرہ کرنے اور استعمال کرنے کے روایتی اصولوں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے مگر اسے روزمرہ زندگی کا حصہ بننے میں ابھی کافی وقت درکار ہوگا۔اگر آنے والے برسوں میں سائنسدان اس ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف توانائی کے شعبے بلکہ پوری ٹیکنالوجی کی دنیا کو ایک نئی سمت دے سکتی ہے۔ فی الحال یہ کہنا درست ہوگا کہ کوانٹم بیٹری مستقبل کی ایک امید ضرور ہے مگر وہ مستقبل ابھی کچھ فاصلے پر ہے۔

ہڑپہ کا سکوت اور لسانیاتی معمہ

ہڑپہ کا سکوت اور لسانیاتی معمہ

کیا تاریخ کے راوی شعوری طور پر مٹا دیے گئے؟برصغیر کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے عظیم الشان آثارِ قدیمہ ہمیشہ کسی 'حادثے‘ کی صورت میں دریافت ہوئے؛ کبھی ریلوے لائن بچھاتے وقت اینٹیں مل گئیں تو کبھی زمین کھودتے ہوئے مہریں۔ لیکن ان دریافتوں سے بڑا المیہ وہ خاموشی ہے جو ہڑپہ کی پانچ ہزار سالہ قدیم تہذیب کے گرد لپٹی ہوئی ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ دہائیوں سے ہمیں یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ تہذیب یا تو طغیانی کی نذر ہوگئی یا کسی نامعلوم حملہ آور کی سفاکیت نے اسے مٹا دیا، یا پھر خشک سالی نے اسے نگل لیا۔ مگر ایک محقق کے طور پر میرا سوال ان تمام نظریات کی بنیادوں کو چیلنج کرتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اتنی بڑی تہذیب کا ایک بھی راوی یا قصہ گو نہ بچا ہو؟تعمیر ِ نو کی جبلت اور ارتقا کا تضادتاریخ گواہ ہے کہ انسان کی جبلت تعمیرِ نو ہے، تخریب نہیں۔ اگر ہڑپہ کا انسان اتنا ایڈوانس تھا کہ اس نے پانی کے بہا ؤکو کنٹرول کر رکھا تھا اور شہر سازی کا وہ نظام وضع کیا جو آج کے جدید شہروں کو ٹکر دیتا ہے تو وہ ذہنی طور پر اتنا پسماندہ نہیں ہو سکتا کہ کسی ایک آفت سے اس کا نام و نشان مٹ جاتا۔ فرض کیجیے کہ دریا کے کنارے میرا گھر ہے اور طغیانی میرا سب کچھ بہا لے جاتی ہے، تو میں بحیثیت ایک ترقی یافتہ انسان جہاں بھی ہجرت کروں گا وہاں اپنے ہنر اور اپنی ضرورت کے مطابق ویسا ہی یا اس سے بہتر گھر تعمیر کروں گا۔مگر ہڑپہ کے بعد ہمیں برصغیر میں ایک طویل عرصے تک صرف کچی بستیوں اور پسماندہ طرزِ زندگی کے آثار ملتے ہیں۔ یہ ارتقانہیں بلکہ تنزلی ہے۔ کیا ایک انجینئر قوم ہجرت کر کے اچانک اپنی پانچ ہزار سالہ مہارت بھول سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ بغداد کی مثال ہمارے سامنے ہے؛ ہلاکو خان نے اینٹ سے اینٹ بجا دی مگر علم، زبان اور تہذیبی اثرات نہیں مرے۔ 1947 ء کے بٹوارے نے لاہور کے باشندوں کو جدا کر دیا مگر لاہور کی روح آج بھی زندہ ہے۔ پھر ہڑپہ کا راوی اتنی صفائی سے غائب کیسے ہو گیا؟لسانیاتی سراغ: ہڑپہ سکرپٹ کے حروف سے جدید الفاظ تکہڑپہ کے سکوت کو توڑنے کے لیے ہمیں ان کی مہروں پر موجود علامات کو بے جان تصویروں کے بجائے زندہ آوازوں کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ اگر ہم تقابلی لسانیات کا سہارا لیں تو ہڑپہ سکرپٹ کی پرتیں کھلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مہروں پر کثرت سے نظر آنے والی مچھلی کی علامت محض ایک نقش نہیں بلکہ ایک صوتی علامت ہے۔ قدیم دراوڑی زبانوں میں اسے مین(Meen) کہا گیا جس کا گہرا تعلق فارسی کی اصطلاح 'چشمِ ماہی سے ملتا ہے۔ اسی طرح مہروں پر موجود آنکھ کی شکل براہِ راست سامی رسم الخط کے حرف عین(Ayin) کی یاد دلاتی ہے جو بصارت اور چشمے دونوں کے لیے مستعمل رہا ہے۔تجارت کے حوالے سے اگر ہم مہروں پر موجود ظرف یا پیالے کی شکل کو دیکھیں تو یہ ہمیں قدیم فارسی کے پیالہ اور سنسکرت کے کمبھ تک لے جاتی ہے۔ یہ نشانات دراصل تجارتی پیمانوں اور ملکیت کی نشاندہی کرتے تھے جن کا ذکر ہمیں میسوپوٹیمیا کے ریکارڈز میں بھی ملتا ہے۔ حتیٰ کہ پیپل کے پتے کا نقش بھی محض عقیدت کا نشان نہیں بلکہ قدیم اصطلاحات پیپل یا امرم کے ذریعے خوراک اور نباتیات کے ایک وسیع نظامِ فکر کو واضح کرتا ہے۔ یہ تمام صوتی جڑیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ ہڑپہ کا انسان اپنی زبان سمیت ہمارے اندر ہی کہیں موجود ہے۔شاہ عالم مارکیٹ کا کلیہ اور قدیم فارسی کا اشتراکہڑپہ محض ایک شہر نہیں اپنے دور کا عالمی تجارتی مرکز تھا۔شاہ عالم مارکیٹ کا مفروضہ یہاں صادق آتا ہے۔ آج کے لاہور کی شاہ عالمی مارکیٹ کی ڈوریاں کابل، تہران اور دہلی سے جڑی ہیں۔ ہڑپہ کی تباہی کا اصل سراغ ہمیں ہڑپہ کی مٹی سے زیادہ میسوپوٹیمیا کے ان قدیم ریکارڈز میں ڈھونڈنا چاہیے جہاں کے تاجروں نے ضرور لکھا ہوگا کہ مشرق کے اس عظیم مرکز سے تانبا یا کپاس آنا کیوں بند ہوئی۔ہڑپہ کی زبان کو سمجھنے کی کلید اُن صوتی مماثلتوں میں ہے جو قدیم فارسی اور سنسکرت میں آج بھی موجود ہیں۔خاندانی رشتے: فارسی کا پدر اور سنسکرت کا پتر،فارسی کا مادراور سنسکرت کا ماترایک ہی اصل سے ہیں۔ اعضائے جسمانی: سرکو فارسی میں شیر اور سنسکرت میں شر جبکہ آنکھ کو فارسی میں چشم اور سنسکرت میں چکشس کہا جاتا ہے۔ ایک تہذیبی قتلِ عام یا شعوری خاموشی؟حقیقت یہ ہے کہ ہڑپہ کی کہانی مٹی نہیں ہوئی بلکہ اسے شعوری طور پر خاموش کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی ہجرت ہے جس کے نقشِ قدم شاید ہم نے جان بوجھ کر نظر انداز کر دیے۔ تاریخ کی یہ خاموشی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ وہ لوگ مرے نہیں تھے بلکہ شاید ہم نے ان کی زبان اور ان کی وراثت کو کسی اور نام سے موسوم کر کے اصل حقیقت پر پردہ ڈال دیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ہڑپہ کو صرف اینٹوں کا ڈھیر نہ سمجھیں بلکہ اس گمشدہ دماغ کو تلاش کریں جو پانچ ہزار سال پہلے بھی ہم سے زیادہ روشن خیال تھا۔