اوپیک کا تیل پیداوار میں یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل پیداوار ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ
جدہ: (دنیا نیوز) متحدہ عرب امارات کے اوپیک سے نکلنے کے بعد تیل برآمد کرنے والے ممالک نے تیل پیداوار میں یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل پیداوار ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ کیا ہے۔
اوپیک کے مطابق سات رکن ممالک سعودی عرب، روس، عراق، کویت، قازقستان، الجزائر اور عمان نے تیل پیداوار میں ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ کیا، اس کے علاوہ مارکیٹ کے استحکام کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
یاد رہے کہ کچھ روز متحدہ عرب امارات نے اوپیک سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا، امارات تقریباً 59 سال تک تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم کا رکن رہا۔
اوپیک پلس کے سات رُکن ممالک سعودی عرب، روس، عراق، کویت، قازقستان، الجزائر اور عمان نے تیل کی منڈی کے استحکام کے لیے اپنی مشترکہ وابستگی کے تحت یہ فیصلہ کیا کہ اپریل 2023 میں اعلان کردہ اضافی رضاکارانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت پیداوار میں یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل رد و بدل کیا جائے گا۔
یہ ایڈجسٹمنٹ جون 2026 میں نافذ العمل ہوگی۔ اپریل 2023 میں اعلان کردہ اضافی رضاکارانہ اقدامات کو مارکیٹ کی تبدیل ہوتی ہوئی صورتِ حال کے مطابق جزوی یا مکمل طور پر بتدریج واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔
یہ تمام ممالک اس بات پر متفق ہوئے کہ وہ منڈی کی صورتِ حال کی مسلسل نگرانی کرنے کے علاوہ اس کا جائزہ لیتے رہیں گے، اور انہوں نے استحکام برقرار رکھنے کی اپنی کوششوں کے تحت محتاط حکمتِ عملی اختیار کرنے اور مکمل لچک برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ ضرورت پڑنے پر پیداوار میں اضافے، وقفے یا کمی کے عمل کو روکا یا واپس بھی کیا جا سکے، جن میں نومبر 2023 میں کیے گئے رضاکارانہ اقدامات کی واپسی بھی شامل ہے۔
ان سات ممالک نے یہ بھی کہا کہ اس اقدام سے شریک ممالک کو تلافی کے اپنے عمل کو تیز کرنے کا موقع ملے گا۔
انہوں نے تعاون کے اعلامیے کی مکمل پاسداری کے عزم کا اعادہ کیا، جس میں اضافی رضاکارانہ پیداوار ایڈجسٹمنٹ بھی شامل ہیں، جس کی نگرانی مشترکہ وزارتی مانیٹرنگ کمیٹی کرے گی، ان ممالک نے یہ تصدیق بھی کی کہ وہ جنوری 2024 کے بعد ہونے والی کسی بھی زائد پیداوار کی مکمل تلافی کریں گے۔
اوپیک پلس کے یہ ساتوں ممالک ہر ماہ اجلاس منعقد کریں گے تاکہ مارکیٹ کی صورتِ حال، معاہدے کی پابندی، اور تلافی کے عمل کا جائزہ لیا جا سکے، ان ممالک کا اگلا اجلاس 7 جون 2026 کو ہوگا۔