سہیل آفریدی کی پنجاب اسمبلی آمد پر ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز
لاہور: (دنیا نیوز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی پنجاب اسمبلی آمد پر ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔
اسمبلی ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب نے ہنگامہ آرائی کی رپورٹ پر مزید کارروائی کیلئے کاپی محکمہ داخلہ پنجاب کو بھی ارسال کر دی، رپورٹ کی روشنی میں مزید اداروں سے بھی شواہد اکٹھے کئے جائیں گے۔
آئی جی آفس نے رپورٹ پر کارروائی کے حوالے پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کو آگاہ کر دیا۔
اس سے قبل سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی جانب سے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ آئی پنجاب کو ارسال کی گئی تھی، آئی جی پنجاب کو ارسال کی گئی رپورٹ میں وڈیو شواہد بھی موجود تھے۔
اسمبلی ذرائع کے مطابق آئی پنجاب کو ارسال کی گئی رپورٹ میں قانونی کارروائی کی استدعا بھی کی گئی تھی، رپورٹ میں معاملے کی تفتیش میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد لینے کی تجویز دی گئی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ کے پی کی آمد پر اپوزیشن نے ساتھ آنے والے مہمانوں کی صرف ناموں پر مشتمل فہرست دی، اپوزیشن کی جانب سے دی گئی نا کافی لسٹ کے باعث شناخت میں مشکلات پیش آئیں، مطیع اللہ برقی نام شخص نے جھوٹ بول کر اسمبلی میں داخلے کی کوشش کی، مطیع اللہ برقی نے کہا کے وہ خیبرپختونخوا پی کے 89 سے ایم پی اے اشفاق ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبائی وزیر کے پی مینا خان نے اس بات کی تصدیق بھی کی کے مطیع اللہ برقی ایم پی اے اشفاق نہیں، مطیع اللہ برقی کو باہر جانے کا کہنے پر انہوں نے اسمبلی سکیورٹی کے ساتھ ہاتھا پائی کی اور گالم گلوچ کیا۔
اپوزیشن نے لسٹ حوالے کرتے وقت یقین دہانی کرائی کے شناخت کے لئے 2 پی ٹی آئی ارکان مین گیٹ پر رہیں گے، جو نہ ہو سکا، اپوزیشن ارکان کی جانب سے دی گئی لسٹ میں شناختی کارڈ نمبر، تصاویر، گاڑیوں کے نمبر میں سے کچھ نہ تھا جس کے باعث شناخت میں مشکلات آئیں۔
رپورٹ کے مطابق اسمبلی سکیورٹی نے سب کو تحمل سے شناخت کی گزارش کی جس پر قافلے نے گالم گلوچ اور دھکم پیل کی،اپوزیشن کی جانب سے دی گئی لسٹ میں سزا یافتہ حیدر مجید کا نام بھی شامل تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسمبلی سیکرٹریٹ نے موقع پر موجود اسمبلی سکیورٹی کے بیانات بھی قلم بند کئے۔