لاہور میں دانشوروں، پالیسی سازوں، صحافیوں، فنکاروں کا تھنک فیسٹ
لاہور: (دنیا نیوز) تھنک فیسٹ 2026 (افکارِتازہ) ایک بھرپور تین روزہ پروگرام کے ساتھ لاہور میں آج سے دوبارہ منعقد ہونے جا رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے ممتاز دانشور، پالیسی ساز، صحافی، فنکار اور سماجی کارکن شرکت کریں گے، یہ فیسٹیول آج سے 25 جنوری تک الحمرا کو مکالمے اور بحث و مباحثے کا مرکز بنا دے گا۔
فیسٹیول میں داخلہ مکمل طور پر مفت ہوگا اور کسی قسم کے پاس کی ضرورت نہیں ہوگی، اس طرح تھنک فیسٹ عوامی شمولیت کی اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پیچیدہ عالمی اور قومی مسائل کو عام فہم انداز میں عوامی گفتگو کا حصہ بناتا رہے گا۔
آج افتتاحی دن جغرافیائی سیاست اور فکری مباحث کا آغاز ہوگا، جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے معروف ماہر تعلیم ولی نصر، رضا رومی کے ساتھ مل کر امریکہ اور چین کے درمیان پاکستان کی پوزیشن پر گفتگو کریں گے۔
بعد ازاں ولی نصر اور نجم سیٹھی کے درمیان غزہ جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی ازسرِ نو تشکیل پر اس کے اثرات پر مکالمہ ہوگا، ماحولیاتی حکمرانی بھی نمایاں موضوع رہے گی، جہاں ذوالفقار علی بھٹو جونیئر اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقوی اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا پاکستان کے ماحولیاتی فریم ورک عملی نتائج دے رہے ہیں یا نہیں؟
ادب اور تاریخ بھی پروگرام کا اہم حصہ ہوں گے، زینب بدوی مورخ عمار علی جان کے ساتھ اپنی کتاب An African History of Africa کی رونمائی کریں گی جبکہ مصنف محمد حنیف برٹش کونسل کے تعاون سے منعقدہ ایک نشست میں ادب کو مزاحمت کے طور پر زیرِ بحث لائیں گے، بچوں کے تحفظ، کم عمری کی شادی اور مغل عسکری تاریخ پر پینلز بھی افتتاحی دن کے ایجنڈے کو مختلف ہالز میں مزید متنوع بنائیں گے۔
کل ہفتہ کے روز پروگرام کا دائرہ تعلیم، میڈیا، معیشت، سفارت کاری اور ٹیکنالوجی تک پھیل جائے گا، اعلیٰ تعلیم کے مستقبل پر ایک اہم نشست میں زینب بدوی، عظمیٰ قریشی، ایس۔ اکبر زیدی، سہیل نقوی اور عدیل ملک شریک ہوں گے، جہاں تیزی سے بدلتی دنیا میں جامعات کے کردار پر سوال اٹھائے جائیں گے، بعد ازاں پاکستان میں میڈیا کی قطبیت (پولرائزیشن) پر گفتگو ہوگی، جس میں صحافی اور براڈکاسٹرز اس بات کا جائزہ لیں گے کہ بیانیوں کی جنگ قومی ہم آہنگی کو کس حد تک متاثر کر رہی ہے؟
معاشی عدم مساوات اور مالیاتی اصلاحات بھی کئی نشستوں کا محور ہوں گی، جن میں تھامس پکیٹی کی عالمی عدم مساوات اور جامع معاشروں پر گفتگو شامل ہے، جبکہ پاکستان کے ٹیکس نیٹ پر مباحثوں میں رشید لنگڑیال، مصدق ذوالقرنین اور سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل شرکت کریں گے، ٹیکنالوجی اور عالمی سلامتی کے باہمی تعلق پر بھی سیشنز ہوں گے، جن میں سمارٹ فون کے دور میں جنگ، مصنوعی ذہانت اور نیا عالمی نظام، اور یوکرین سے گرین لینڈ تک یورپ کے سلامتی چیلنجز شامل ہیں۔
فیسٹیول کے تیسرے اور آخری دن اتوار کو آئینی امور، علاقائی جغرافیائی سیاست اور سماجی انصاف پر خصوصی توجہ رہے گی، نشستوں میں ایران کے سیاسی موڑ، بھارت۔اسرائیل تعلقات میں تبدیلی، اور سچائی و قطبیت کی تشکیل میں میڈیا کے کردار پر بحث ہوگی، قانونی ماہرین 27ویں آئینی ترمیم پر تبادلۂ خیال کریں گے، جبکہ ماہرینِ معاشیات اور پالیسی ساز پاکستان کی مسلسل معاشی مشکلات اور مالیاتی دباؤ کا جائزہ لیں گے۔
افکارِ تازہ میلہ میں ثقافت، تاریخ اور شناخت بھی پروگرام کا لازمی حصہ رہیں گے، مباحث لاہور کی تاریخ کو ڈیجیٹل دور میں بیان کرنے سے لے کر جنوبی ایشیا میں متعدد تقسیموں کی وراثت تک پھیلے ہوں گے، اقلیتی حقوق، ماحولیاتی لچک، جانوروں کے حقوق اور شہری پاکستان میں صوفی درگاہوں پر پینلز فیسٹیول کے کثیر الجہتی کردار کو اجاگر کریں گے۔
اس فیسٹیول میں کتابوں کی رونمائی، ادبی بیٹھکیں اور منتخب ثقافتی نشستیں دن بھر جاری رہیں گی، جو تھنک فیسٹ میں علمی اور تخلیقی اظہار کے امتزاج کو مضبوط بنائیں گی۔
تین دنوں کے دوران تھنک فیسٹ 2026 پاکستان، یورپ، شمالی امریکہ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں سے آنے والی آوازوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے گا، آکسفورڈ، ایل ایس ای، سائنسز پو، جانز ہاپکنز یونیورسٹی، سوآس اور پاکستان کی معروف جامعات سمیت متعدد اداروں کی شرکت کے ساتھ ساتھ برٹش کونسل، یورپی یونین ڈیلیگیشن اور مختلف سفارت خانوں کے تعاون سے یہ فیسٹیول لاہور کو خیالات، مکالمے اور تنقیدی تحقیق کا ایک علاقائی مرکز بنانے کی جانب گامزن ہے۔