جنگ بندی میں اسرائیلی فوج کو لبنان میں نقل و حرکت کی آزادی نہیں دی جانی چاہئے: حزب اللہ
بیروت: (دنیا نیوز) لبنانی کی مزاحمت تنظیم حزب اللہ نے کہا کہ جنگ بندی کے دوران اسرائیلی فوج کو لبنان میں نقل و حرکت کی آزادی نہیں دی جانی چاہئے۔
حزب اللہ نے لبنان اسرائیل سیز فائر پر ردعمل میں کہا کہ لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی مزاحمت کا حق فراہم کرتی ہے، ایسی جنگ بندی قبول نہیں جو دو مارچ سے پہلے کی صورتحال میں واپس لے جائے۔
یاد رہے کہ سپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف کا بھی کہنا ہے لبنان میں جنگ بندی امریکا ایران جنگ بندی جتنی اہم ہے، ایران نے دشمنوں کو مستقل جنگ بندی پر مجبور کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں 10 روز کیلئے جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے، انہوں نے کہا لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ انتہائی شاندار گفتگو کی ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے اپنے ممالک کے درمیان امن کے حصول کے لئے 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے جو منگل کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق شام 5 بجے سے نافذ ہوگی۔
انہوں نے بتایا تھا کہ منگل کے روز واشنگٹن ڈی سی میں اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں کی 34 سال بعد پہلی ملاقات ہوئی، جس میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے۔
ٹرمپ کے مطابق انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ڈین کین کو ہدایت دی ہے کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے ساتھ مل کر دیرپا امن کے لئے کام کریں۔
امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ وہ دنیا بھر میں 9 جنگوں کے خاتمے میں کردار ادا کر چکے ہیں اور یہ ان کی 10ویں کوشش ہے، جسے وہ مکمل کرنے کے خواہش مند ہیں۔