بھارت کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک
نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارت کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ کڈنکولم سے متعلق حساس معلومات مبینہ طور پر ڈارک ویب پر لیک کر دی گئی ہیں، جس کے بعد پلانٹ کی سائبر سکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق رینسم ویئر گروپ ورلڈ لیکس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ریلائنس گروپ سے حاصل کردہ ڈیٹا ڈارک ویب پر جاری کیا ہے، لیک ہونے والی معلومات میں تنصیبات کے بعض حصوں کے نقشے، سپلائرز کی تفصیلات، اجلاسوں اور معائنوں کا ریکارڈ، آلات کے جائزے اور انشورنس پالیسیوں سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کڈنکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ بھارتی ریاست تمل ناڈو میں واقع ہے اور یہ بھارت کے سات جوہری پاور پلانٹس میں سب سے بڑا ہے، یہ منصوبہ وزیراعظم نریندر مودی کے ملک میں جوہری توانائی کی صلاحیت بڑھانے کے پروگرام کا اہم حصہ ہے۔
پلانٹ کے یونٹ 3 اور یونٹ 4 کی تعمیر کا ٹھیکہ انیل امبانی کے ریلائنس گروپ کے پاس ہے۔ ریلائنس نے رائٹرز کو جاری بیان میں تصدیق کی کہ ڈیٹا سینٹر سروس فراہم کرنے والی کمپنی یوٹا کے سرور پر موجود ریلائنس کے ڈیٹا میں جزوی دراندازی ہوئی ہے اور اس بارے میں حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم کمپنی نے متاثرہ ڈیٹا کی نوعیت ظاہر نہیں کی۔
نیوکلیئر تھریٹ انیشیٹو کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ نے خبردار کیا ہے کہ یہ ڈیٹا لیک پلانٹ کی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ اس سے معاون نظاموں، سپلائرز اور ممکنہ سکیورٹی کمزوریوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق لیک ہونے والی 8 لاکھ 58 ہزار فائلوں میں سے تقریباً 19 ہزار فائلیں انتہائی حساس نوعیت کی ہیں اور ورلڈ لیکس کی ویب سائٹ پر موجود ہیں، ان میں یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے وینٹیلیشن اور کولنگ سسٹمز کے نقشے، ایک کنٹرول روم کا نقشہ، سپلائرز کی تجاویز، منظور شدہ سپلائرز کی فہرست اور 2024 میں نیوکلیئر پاور کارپوریشن اور ریلائنس کے مشترکہ معائنے سے متعلق اجلاسوں کا ریکارڈ شامل ہے۔
دستاویزات کے مطابق ریلائنس انفراسٹرکچر اور نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے ایک انشورنس پالیسی بھی حاصل کر رکھی ہے، جس کے تحت اگر یونٹ 3 یا یونٹ 4 دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں تو 112 ملین ڈالر تک معاوضہ دیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریلائنس انفراسٹرکچر نے 2018 میں یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے انفراسٹرکچر ڈیزائن اور تعمیر کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔ دونوں یونٹس تاحال زیر تعمیر ہیں اور 2027 تک فعال ہونے کی توقع ہے، جہاں سے مجموعی طور پر 2 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔
رائٹرز کے مطابق ورلڈ لیکس اس سے قبل نائکی اور ٹاٹا گروپ کو بھی نشانہ بنا چکا ہے، یہ گروپ عموماً تاوان کی عدم ادائیگی پر چوری شدہ ڈیٹا ڈارک ویب پر جاری کر دیتا ہے، جون میں گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ٹاٹا گروپ سے 15 لاکھ ڈالر تاوان طلب کیا تھا، تاہم مطالبہ مسترد ہونے پر مبینہ طور پر خفیہ فائلیں بھی جاری کر دی گئی تھیں۔
سائبر سکیورٹی کمپنی سرف شارک کے مطابق ڈیٹا لیک کے واقعات کے حوالے سے بھارت دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments