انتقام کے بجائے رحم و کرم کا دن

تحریر : مولانا رضوان اللہ پشاوری


مکہ کی فتح عرب سے مشرکین کے مکمل خاتمے کی ابتدا ء ثابت ہوئی

قرآن حکیم فرقان حمید میں اللہ تعالیٰ نے سورہ النصر میں ارشاد فرمایا ’’جب اللہ کی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے ہیں تو اپنے رب کی ثناء کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کرو اور اس سے بخشش چاہو بے شک وہ ہی توبہ قبول کرنے والا ہے ۔‘‘قرآن کریم کی اس سورہ میں فتح مکہ کی نوید سنائی گئی ہے فتح مکہ  8 ہجری میں ہوئی رسول اکرمؐ 8 سال قبل اسی شہر پاک مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تھے۔صرف8 سال بعد اللہ رب العزت نے اپنے محبوبؐ کو ایسی طاقت اور غلبہ عطا فرمایاکہ وہی مکہ مکرمہ جہاں سے غریب اور نادار مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے تھے آج محبوب خداؐاس شان شوکت کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہورہے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ 

صلح حدیبیہ 10 سال کیلئے ہوئی تھی مگر 630ء کے بالکل شروع میں مشرکینِ مکہ کے اتحادی قبیلہ بنو بکر نے مسلمانوں کے اتحادی قبیلہ بنو خزاعہ پر حملہ کیا اور کئی آدمی قتل کر دئیے ۔ اس دوران مکہ کے مشرک قریش نے چہرے پر نقاب ڈال کر بنو بکر کی مدد بھی کی مگر یہ بات راز نہ رہ سکی۔ یہ صلح حدیبیہ کا اختتام تھا۔ مسلمان اس وقت تک بہت طاقتور ہو چکے تھے ۔ ابوسفیان نے بھانپ لیا تھا کہ اب مسلمان اس بات کا بدلہ لیں گے ،اس لیے اس نے صلح کو جاری رکھنے کی کوشش کے طور پر مدینہ کا دورہ کیا۔ ابوسفیان اپنی بیٹی امِ حبیبہ کے گھر پہنچا، جو اسلام لے آئی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی زوجہ تھیں۔ جب اس نے بستر پر بیٹھنا چاہا تو ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ نے بستر اور چادر لپیٹ دی اور ابوسفیان کو بیٹھنے نہ دیا۔ اس نے حیران ہو کر پوچھا کہ بستر کیوں لپیٹا گیا ہے تو حضرت ام حبیبہؓ نے جواب دیا آپ مشرک ہیں اور نجس ہیں اس لیے میں نے مناسب نہ سمجھا کہ آپ رسول اللہ صلی علیہ و آلہٖ وسلم کی جگہ پر بیٹھیں۔ جب ابوسفیان نے صلح کی تجدید کیلئے حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے رجوع کیا تو آپؐ نے کوئی جواب نہ دیا پھر اس نے کئی بزرگوں کی وساطت سے کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوا۔ سخت غصے اور مایوسی میں اس نے تجدیدِ صلح کا یکطرفہ اعلان کیا اور مکہ واپس چلا گیا۔قبیلہ بنو خزاعہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے فریاد کی تو انہوں نے مکہ فتح کرنے کا فیصلہ کیا۔ بنو خزاعہ نے اپنے ایک شاعر عمرو ابن خزاعہ کو بھیجا تھا جس نے دردناک اشعار پڑھے اور بتایا کہ وہ ’’وتیرہ‘‘ کے مقام پر رکوع و سجود میں مشغول تھے تو قریش نے ان پر حملہ کر دیا اور ہمارا قتلِ عام کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے اس کو کہا ’’ہم تمہاری مدد کریں گے ۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے روانگی کا مقصد بتائے بغیر اسلامی فوج کو تیار کیا اور مدینہ اور قریبی قبائل کے لوگوں کو بھی ساتھ ملایا۔ لوگوں کے خیال میں صلحِ حدیبیہ ابھی قائم تھی اس لیے کسی کے گمان میں نہ تھا کہ یہ تیاری مکہ جانے کیلئے ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مدینہ سے باہر جانے والے راستوں پر نگرانی بھی کروائی تاکہ یہ خبریں قریش کا کوئی جاسوس باہر نہ لے جائے ۔ حضور اکرم ؐنے دعا بھی کی ، 10 رمضان 8ھ کو روانگی ہوئی۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہاں جانا ہے ۔ ایک ہفتے میں مدینہ سے مکہ کا فاصلہ طے ہو گیا۔ مکہ سے کچھ فاصلے پر ’’مرالظہران‘‘ کے مقام پر لشکرِ اسلام خیمہ زن ہو گیا۔ لوگوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ مکہ کا ارادہ ہے ۔ 

حدیبیہ کے صلح نامہ میں منجملہ شرائط ایک شرط یہ بھی تھی کہ قبائل عرب میں سے کوئی بھی قبیلہ فریقین میں سے کسی کے ساتھ بھی معاہدہ کرسکتا ہے ۔ اس شرط کے مطابق بنو بکر قریش کے حلیف ہوئے اور بنوخزاعہ مسلمانوں کے حلیف قرار پائے ۔ بنوبکر اور بنوخزاعہ کے درمیان سخت دشمنی تھی، بنوبکر اپنی پرانی عداوت کی وجہ سے بنو خزاعہ سے انتقام لینے کیلئے قریش سے مل کر اُن پر حملہ آور ہوئے ، اس حملے میں قریش کے سرداروں نے بنو خزاعہ کے خلاف قتل عام کے لئے آدمی اور اسلحہ فراہم کیا۔ حملے کی وجہ سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ عملی طور پر قریش کی جانب سے ٹوٹ گیا ، بنو خزاعہ سرکار دوعالمؐ کی خدمت میں فریادی ہوئے اور آپؐ سے مدد طلب کرنے لگے ۔ حضور اکرمؐ نے قریش کے پاس پرامن 3 شرائط روانہ فرمائیں کہ وہ کوئی ایک شرط قبول کریں:(1) بنو خزاعہ کے مقتولین کا خون بہا اداکیا جائے۔(2) قریش بنوبکر کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں۔(3) حدیبیہ کے معاہدہ کی برخواستگی کا اعلان کیا جائے ۔قریش کے نمائندوںنے جواب دیا کہ ہم آخری شرط منظور کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔ قریش نے قاصد کو جواب دیتے وقت تو بڑی بے باکی سے اعلان کیا لیکن قاصد واپس جانے کے بعد سردارانِ قریش نادم و پشیمان ہوئے اور سب نے ابوسفیان سے کہا کہ تم جاکر معاہدے کی تجدید کرلو ورنہ اس کا انجام بہت خطرناک ہوسکتا ہے ابوسفیان نے مدینہ طیبہ پہنچ کر گفتگو کرنے کی بہت کوشش کی لیکن بات نہ بنی، بالآخر معاہدے کی تجدید کئے بغیر لوٹنا پڑا۔

حضور پاکؐ نے صحابہ کرامؓ کو جہاد کی تیاری کا حکم فرمایا اور حلیف قبائل کو تیاری کیلئے حکم نامہ بھیجا، مگر کسی سے یہ نہیں فرمایا کہ کس سے جہاد کرنا ہے؟ یہاں تک کہ آپؐ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے بھی نہیں فرمایا، خاموشی کے ساتھ معرکہ کی تیاری ہوتی رہی۔10 رمضان المبارک کو نبی اکرمؐ 10 ہزار کا لشکر لے کر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہوئے راستہ میں اور 2ہزار افراد شامل ہوگئے جملہ12ہزار کا لشکر مکہ مکرمہ روانہ ہوا۔ مکہ مکرمہ سے ایک منزل کے فاصلے پر مقام ’’مرالظہران‘‘ پہنچ کر لشکر نے پڑاؤ ڈالا حضور پاکؐ نے حکم فرمایا ’’ ہر شخص اپنا الگ چولہا جلائے جب 12ہزار صحابہ کرامؓ نے الگ الگ چولہا جلایا تو مرالظہران کے وسیع و عریض میدان میں میلوں دور تک آگ ہی آگ نظر آنے لگی۔ حضرت عباسؓ راستے ہی میں حضورؐ کی خدمت میں پہنچ چکے تھے ۔ قریش نے تحقیق خبر کیلئے ابوسفیان، بدیل بن ورقاء اور حکیم بن حزام کو بھیجا، یہ تینوں تحقیق کیلئے نکلے اور مرالظہران میں جل رہی آگ دیکھ کر حیران رہ گئے ۔

فتح مکہ ایک شاندار فتح تھی ،جس میں چند ایک کے علاوہ کوئی قتل نہ ہوا۔ فتح کے بعد حضور ﷺنے سب کو عام معافی دے دی۔ کافی لوگ مسلمان ہوئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے ان سے شرک نہ کرنے ، بدکاری اور چوری نہ کرنے کی تاکید پر بیعت لی اور انہیں اپنے اپنے بتوں کو توڑنے کا حکم دیا۔ مکہ کی فتح عرب سے مشرکین کے مکمل خاتمے کی ابتدا ء ثابت ہوئی۔ 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

پی ایس ایل11: تنازعات کا شکار

نظم وضبط کاشکنجہ یا انتظامی سختی؟کھلاڑیوں کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر انتظامیہ کے سخت فیصلے :فخرزمان کو بال ٹمپرنگ پر دو میچوں کی پابندی اور حسن علی کوکوڈآف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیاگیا:نسیم شاہ کو متنازع ٹوئٹ پر دو کروڑ روپے اورسکندر رضا کے مہمانوں کی ہوٹل آمد پر شاہین آفریدی کو جرمانہ

پی ایس ایل11کے ریکارڈز

کراچی کنگز سب سے اوپر

بچوں کا ادب :غفلت کا شکار اہم شعبہ

کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہوتا ہے، اور بچوں کی فکری و اخلاقی تربیت میں ادب بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

غرور کا انجام

گھنے جنگل کے بیچوں بیچ بہت بڑی اور گہری نیلگوں جھیل تھی۔ مگرمچھ کو جھیل کا حکمران منتخب کیا گیا تھا۔

شمالی افریقا کی قوم۔۔۔ بَر بَر

بَر بَر شمالی افریقا کی ایک سفید فام قوم ہے جو مصر سے لے کر بحرِ اوقیانوس کے ساحل تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ علاقہ بر بر کہلاتا ہے اور ان کی زبان بربری ہے۔

’’کوے ہیں سب دیکھے بھالے‘‘

کوے ہیں سب دیکھے بھالےچونچ بھی کالی ، پر بھی کالے