پی ایس ایل11: تنازعات کا شکار

تحریر : زاہداعوان


نظم وضبط کاشکنجہ یا انتظامی سختی؟کھلاڑیوں کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر انتظامیہ کے سخت فیصلے :فخرزمان کو بال ٹمپرنگ پر دو میچوں کی پابندی اور حسن علی کوکوڈآف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیاگیا:نسیم شاہ کو متنازع ٹوئٹ پر دو کروڑ روپے اورسکندر رضا کے مہمانوں کی ہوٹل آمد پر شاہین آفریدی کو جرمانہ

پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل)کا گیارہواں ایڈیشن جہاں کرکٹ کے میدانوں میں سنسنی خیز مقابلوں کے لیے یاد رکھا جانا تھا، وہیں بدقسمتی سے یہ ٹورنامنٹ آغاز سے ہی کھلاڑیوں کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں اور انتظامیہ کے سخت ترین فیصلوں کی وجہ سے خبروں کی زینت بن گیا ہے۔ خالی سٹیڈیمز اور تماشائیوں کی عدم موجودگی کے سائے میں جاری اس میگا ایونٹ نے پی سی بی اور فرنچائزز کے نظم و ضبط پر کئی سوالیہ نشانات کھڑے کر دئیے ہیں۔

ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا دھماکہ اس وقت ہوا جب پاکستان کے سٹار فاسٹ بولر نسیم شاہ پر سینٹرل کنٹریکٹ اور سوشل میڈیا گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کی پاداش میں 2 کروڑ روپے کا خطیر جرمانہ عائد کیا گیا۔ یہ کارروائی افتتاحی تقریب کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی آمد پر کیے گئے ایک متنازع ٹوئٹ کے تناظر میں کی گئی۔سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں نسیم شاہ کا کہنا تھا کہ میرے اکائونٹ سے کی گئی پوسٹ میری مینجمنٹ ٹیم کی جانب سے کی گئی تھی، وہ پوسٹ میرے خیالات کی عکاسی نہیں کرتی۔ میں اپنے پلیٹ فارم کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں، آئندہ ایسا نہ ہو اس کیلئے درکار ضروری تبدیلیاں کی جاچکی ہیں۔ میں پلیٹ فارم کے غلط استعمال سے متاثر ہونے والے تمام افراد سے دلی معذرت کرتا ہوں۔

 اگرچہ نسیم شاہ نے غیر مشروط معافی مانگی اور اپنے سوشل میڈیا ایڈوائزر کو بھی فارغ کر دیا، لیکن پی سی بی کی ڈسپلنری کمیٹی نے اسے ایک سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ترین سزا سنائی۔ یہ فیصلہ کھلاڑیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر محتاط استعمال ان کے کیریئر اور جیب دونوں پر بھاری پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ کی خلاف ورزی پر وارننگ  دی ہے۔ کرکٹرز میڈیا ڈپارٹمنٹ کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پوسٹس نہیں کریں گے اور کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ کے قواعد پر عمل کی ہدایت کی گئی ہے۔ کرکٹرز کے منیجرز کو بھی گائیڈ لائنز سے آگاہ کردیا گیا ہے اور پی سی بی نے واضح کردیا ہے کہ سیاسی پوسٹس ہر گز برداشت نہیں کی جائیں گی۔ متنازع پوسٹ کرنے پر کم از کم ایک کروڑ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔

لاہور قلندرز کے کیمپ میں بھی سب کچھ ٹھیک دکھائی نہیں دے رہا۔ کپتان شاہین شاہ آفریدی پر فرنچائز کی جانب سے 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جانا کرکٹ حلقوں کیلئے حیران کن تھا۔ واقعہ ایک فائیو سٹار ہوٹل میں سکیورٹی پروٹوکولز کی خلاف ورزی سے متعلق ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ زمبابوین سٹار سکندر رضا نے اس معاملے کی تمام ذمہ داری اپنے سر لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شاہین صرف ان کے اہل خانہ کی مدد کر رہے تھے اور یہ سب کچھ ’’من مانی‘‘ نہیں بلکہ لاعلمی اور غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔ تاہم، پنجاب پولیس اور پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ کی مزاحمت کے باوجود مہمانوں کو ’’زبردستی‘‘اندر لے جانے کے الزام نے نظم و ضبط کے سوال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ قلندرز کی انتظامیہ کا اپنے ہی کپتان کے خلاف ایکشن لینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب فرنچائزز سکیورٹی معاملات پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔

میدان کے باہر کے تنازعات کے ساتھ ساتھ میدان کے اندر بھی کھیل کی روح کو نقصان پہنچانے والے واقعات سامنے آئے۔ تجربہ کار بیٹر فخر زمان پر بال ٹمپرنگ کے الزام میں میچ ریفری روشن مہاناما نے دو میچوں کی پابندی عائد کی۔ اگرچہ فخر زمان نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی، لیکن پی ایس ایل کی ٹیکنیکل کمیٹی نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اپیل مسترد کر دی اور سزا برقرار رکھی۔ ایک سینیئر کھلاڑی سے اس نوعیت کی حرکت کی توقع نہیں کی جا رہی تھی، جس نے قلندرز کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے کراچی کنگز کے فاسٹ بولر حسن علی کو کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیا گیا۔ حسن علی نے میچ ریفری کے سامنے اپنی غلطی تسلیم کی، میچ ریفری نے ان پر میچ فیس کا10 فیصد جرمانہ کیا۔ فاسٹ بولر نے کوڈ آف کنڈکٹ کی لیول ون کے آرٹیکل 2.5 کی خلاف ورزی کی۔یہ خلاف ورزی میچ میں آئوٹ کرنے کے بعد اکسانے کیلئے غلط زبان استعمال کرنے، ایکشن اور نامناسب اشارے کرنے کے حوالے سے ہے۔واضح رہے کہ کراچی کنگز کے حسن علی نے 19 ویں اوور میں لاہور قلندرز کے حسیب اللہ کو آوٹ کرنے کے بعد کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی تھی۔

پی ایس ایل 11 کا ایک اور افسوسناک پہلو تماشائیوں کی عدم دلچسپی ہے۔ خالی کرسیوں کے سامنے کھیلے جانے والے میچز ٹورنامنٹ کے گلیمر کو ماند کر رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کھلاڑیوں کی توجہ کھیل سے زیادہ تنازعات پر ہونا اور پی سی بی کا غیر معمولی سخت رویہ ایونٹ کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے۔تاہم موجودہ صورتحال میں یہ واضح ہے کہ پی سی بی اور فرنچائزز ’’زیرو ٹالرنس‘‘ پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ لیکن کیا اتنے بھاری جرمانے اور پابندیاں کھلاڑیوں کی اصلاح کریں گی یا ان کے اعتماد میں کمی کا باعث بنیں گی؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ پی ایس ایل کو کامیاب بنانے کیلئے ڈسپلن ضروری ہے، مگر تماشائیوں کو واپس لانے اور کرکٹ پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے بورڈ کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

پی ایس ایل11کے ریکارڈز

کراچی کنگز سب سے اوپر

بچوں کا ادب :غفلت کا شکار اہم شعبہ

کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہوتا ہے، اور بچوں کی فکری و اخلاقی تربیت میں ادب بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

غرور کا انجام

گھنے جنگل کے بیچوں بیچ بہت بڑی اور گہری نیلگوں جھیل تھی۔ مگرمچھ کو جھیل کا حکمران منتخب کیا گیا تھا۔

شمالی افریقا کی قوم۔۔۔ بَر بَر

بَر بَر شمالی افریقا کی ایک سفید فام قوم ہے جو مصر سے لے کر بحرِ اوقیانوس کے ساحل تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ علاقہ بر بر کہلاتا ہے اور ان کی زبان بربری ہے۔

’’کوے ہیں سب دیکھے بھالے‘‘

کوے ہیں سب دیکھے بھالےچونچ بھی کالی ، پر بھی کالے

سنہری باتیں

٭…تم خدا کو راحت میں نہ بھولو، وہ تمہیں مصیبت میں نہیں بھولے گا۔٭…ایمان کے ساتھ صبر کی وہی حیثیت ہے جو سر کی تن کے ساتھ۔